میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 28 اکتوبر، 2017

گردوں کا کاروبار



فہد حجاب نام کا ایک سعودی شخص سعودی ائیرلائین کی ایک پرواز سے لاہور ائیرپورٹ پر لینڈ کرتا ہے۔ فہد وہیل چئیر پر اُترتا ہے تو اُسے چند پاکستانی ائیرپورٹ پر خوش آمدید کہتے ہیں اور باہر ایک ایمبولینس کھڑی ہوتی ہے جس میں اُسےلٹا کر ایک نامعلوم منزل کی طرف لے جانا شروع کردیا جاتا ہے۔ ایمبولینس لاہور کے ایک بڑے ہوٹل کی پارکنگ میں رُکتی ہے جہاں فہد کا کمرہ بُک ہوتا ہے۔ پاکستانی باشندوں میں ایک عربی بولنے والا مترجم بھی ہوتا ہے جو فہد کے ساتھ ہی ہوٹل کے ایک الگ کمرے میں رہائش اختیار کرلیتا ہے۔
پاکستان کی خفیہ ایجنسیز جب فہد حجاب کو ائیرپورٹ سے وہیل چئیر پر باہر آتے دیکھتی ہیں تو اُنہیں کچھ شک گزرتا ہے کہ یہ فہد نہ تو پاکستان بزنس کے سلسلے میں آیا ہے اور نہ ہی یہ سیاح ہوسکتا ہے کیونکہ اسکی تو اپنی حالت اتنی ٹھیک نہیں ہے اور وہیل چئیر پر یہ بیٹھ کر باہر آرہا ہے۔ ایف آئی اے، آئی بی کے افسران فہد حجاب کا پیچھا کرتےہیں تو ائیرپورٹ پر کھڑی ایمبولینس اُن کے شک کو اور تقویت دیتی ہے۔
ایف آئی اے اس سعودی شہری پراپنی نگرانی سخت کردیتی ہے۔ موبائل فون کے ڈیٹا   سے پتہ چلا کہ یہ صاحب پاکستان میں گُردہ تبدیل کروانے آئے ہیں اورایک بین الاقوامی گروہ ہے جو بین الاقوامی سطح پر گرُدوں کی فروخت کا غیر قانونی کاروبار کررہا ہے۔
اب میں منظر کو تھوڑا سا بدلتے ہوئے آپکو پیر محل کے ابراہیم ریاض اللہ میڈیکل کمپلیکس میں لئیے چلتا ہوں جہاں پر ڈاکٹر سفید گاؤن پہنے مسیحا کے روپ میں موجود ہیں سینکڑوں کی تعداد میں اس ہسپتال میں مریض آتے ہیں۔ صحت کا شعبہ پنجاب میں بہت ہی پیچھے ہے جسکی وجہ سے پیر محل، سندھیلیانوالی اور قرب و جوار کے غریب لوگوں کے لئیے ابراہیم ریاض اللہ میڈیکل کمپلیکس کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔


سعودی شہری فہد حجاب کی لاہور سے اگلی منزل ملک کا کوئی بڑا ہسپتال نہیں بلکہ پیرمحل میں ابراہیم ہسپتال کے ساتھ موجود ایک خالی کوٹھی ہے جس کے متعدد کمروں کو آپریشن تھیٹر میں تبدیل کیا گیا ہے۔ ابراہیم ہسپتال میں ایک نیفرالوجسٹ یعنی ماہر امراض گردہ ڈاکٹر محمد شاہد کی سربراہی میں ابراہیم ہسپتال کے دیگر معاون عملہ کی مدد سے غیر ملکیوں کو غیر قانونی طور پر گردے ٹرانسپلانٹ کررہے تھے۔
یہ گھناؤنا کاروبار ایک بڑے عرصے سے چل رہا تھا جسے فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے سابقہ گورنر پنجاب کے یہ دو سگے بھانجے کشف ریاض اللہ اور نجف ریاض اللہ چلا رہے تھے۔
اس فعل کا سب سے گھناؤنا پہلو یہ ہے کہ جو عورتیں زچگی کے لئیے ابراہیم ریاض اللہ میڈیکل کمپلیکس میں آتی تھیں توگائنا کالوجسٹ یعنی ماہرامراض زچگی لیڈی ڈاکٹر سب سے پہلے مریضہ کے خون کا گروپ ٹیسٹ کرواتی اور دیگر گردوں کے ٹیسٹ کرواتی۔ پھر یہ رپورٹ کشف ریاض اللہ اور نجف ریاض اللہ کو بھیج دی جاتی۔ یہ انٹرنیٹ پر گردوں کے منتظر مریضوں سے ڈیٹا کو ملاتے۔ پھر زچگی کے لئیے آنے والی خاتون کے علم میں لائے بغیر اُس کے ایک گردے کا سودا ایک کروڑ روپے میں طے کرتے۔ غیر ملکی جسے گردے کی ضرورت ہوتی اُسے عورت کی زچگی سے ایک دو دن پہلے بُلوا لیتے۔ پھر عین زچگی کے دن ڈاکٹر عورت کا آپریشن کرتے اور نئے پیدا ہونے والے بچے کی ماں کا گردہ بھی نکال لیتے۔ زچگی کا آپریشن کروانے آنے والی خاتون کو علاج میں سہولتیں دیتے اور بہت ہی کم پیسے لیتے۔ وہ غریب عورت ان ضمیر فرشوں کو جھولیاں پھیلا پھیلا کر دُعائیں دیتی رُخصت ہوجاتی اور سمجھتی کہ ابھی دُنیا میں کشف ریاض اللہ اور نجف ریاض اللہ کی صورت میں فرشتے موجود ہیں جو غریبوں کے دُکھ درد کو سمجھتے ہیں۔ وہ سوچتی کہ اگر یہی میرا بڑا آپریشن کسی اور جگہ ہوتا تو میرے کم از کم پچاس ہزار روپے خرچ ہوجانے تھے جبکہ ان نیک دل لوگوں نے میرے پانچ ہزار بھی نہیں لگنے دئیے۔ وہ غریب عورت اپنے گُردے کے نکالے جانے سے لاعلم رہتی ہے اور ہر ملنے والے کو ابراہیم ریاض اللہ میڈیکل کمپلیکس کی تعریفیں کرتی رہتی ہے۔ یہ بے ضمیر لوگ ڈاکٹر سے مل کر ایک کروڑ روپیہ اپنی جیبوں میں بھر لیتے اور پارسائی کا لبادہ اوڑھے معاشرے سے عزت سمیٹنے میں مشغول رہتے۔

یہ تو وہ سلوک تھا جو زچگی کے لئیے آنے والی خواتین کے ساتھ ہوتا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ظلم یہ کیا جاتا کہ مختلف دلالوں سے رابطہ کیا جاتا اُنہیں ڈیمانڈ بتائی جاتی کہ اس خون کے گروپ کا گردہ چاہیے۔ وہ دلال جرائم پیشہ لوگ ہوتے تھے جو کبھی بندوق کے زور پر کسی غریب کو اغواء کرکے ابراہیم ریاض اللہ میڈیکل کمپلیکس میں لے آتے جہاں پر ڈاکٹر اُس کا گردہ نکال لیتے یا کبھی غربت کے ہاتھوں مجبور اُن لوگوں کی مجبوریوں کا سودا کرتے اور اُنہیں پچاس سے نوے ہزار روپے تک ہاتھ میں تھما دیتے اور اُس کا گردہ نکال کر کم از کم ایک کروڑ روپے میں فروخت کردیتے۔

یہ واقعہ 13 اکتوبر کا ہے جب ایف آئی اے کے مخبر نے اطلاع دی کہ آپریشن شروع ہوچکا ہے۔ ایف آئی اے کی ٹیم نے محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کو ساتھ لیا پولیس اور انتظامیہ کے افسران کو ساتھ لیا اور ابراہیم ریاض اللہ میڈیکل کمپلیکس کے ساتھ ملحقہ کوٹھی پر چھاپہ مارا تو وہاں پر ڈاکٹر شاہد اپنی آپریشن تھیٹر کی ٹیم کے ساتھ موجود تھا اور عورت کا گردہ نکال کر سعودی شہری فہد حجاب کے ٹرانسپلانٹ کررہا تھا۔
 ایف آئی اے کی ٹیم کو دیکھ کر ڈاکٹر گھبرا گیا اور آپریشن ادھورا چھوڑنے لگا۔ لیکن ایف آئی اے اور محمکہ صحت کی ٹیم نے کہا کہ اس پروسیجر کو اب مکمل کرو۔ لیکن ڈاکٹر شاہد کے ہاتھ کانپنے لگے اور وہ بار بار کہتا رہا کہ اب مجھ سے نہیں ہونا۔ 
یہ کیسا مسیحا کے روپ میں شیطان تھا کہ جب غریبوں کے گردے نکال رہا تھا وہ لوگ جن کے پاس بیچنے کو اُن  کےجسم کے اعضاء کے علاوہ کچھ نہ تھا جب اُن کے گُردے نکالتا تھا تب اس کے ہاتھ نہیں کانپے لیکن جونہی ایف آئی اے کے افسران کو دیکھا تو ہاتھ کانپنے لگ گئے۔ جب غریب پھٹے پُرانے کپڑوں میں ملبوس بے ہوش لوگ اس ڈاکٹر کے سامنے سٹریچر پر لٹائے جاتے تب اُنکی شکلیں دیکھ کر اس ظالم کو ترس نہ آیا، نہ اس نے ایک دفعہ کہا کہ "یہ ظلم مجھ سے نہیں ہوتا" بلکہ چمکتے  دمکتے نوٹوں کی گڈیاں دیکھ کر یہ گھناؤنا فعل خوشی خوشی سرانجام دیتا۔
ایف آئی اے کے افسران آپریشن تھیٹر سے باہر چلے گئے اور محکمہ صحت کے ڈاکٹر افسران کو آپریشن تھیٹر میں چھوڑ گئے کہ اس کا آپریشن اب مکمل کریں اور انسانی جان کو ضائع ہونے سے بچائیں۔ خیر جیسے تیسے ڈاکٹر شاہد نے آپریشن مکمل کیا تو محکمہ صحت کی ٹیم نے فوری طور پر سعودی شہری اور گردہ فروخت کرنی والی عورت کو الائیڈ ہسپتال فیصل آباد شفٹ کیا تاکہ ان کا بہتر علاج ہوسکے۔
جب وہیں پر ڈاکٹر سے ایف آئی اے کی ٹیم نے سوال وجواب کئےتو ڈاکٹر شاہد نے کہا کہ میں تو صرف آپریشن کی فیس لیتا ہوں اصل گُردوں کی خرید وفروخت کا مکروہ دھندا تو نجف ریاض اللہ اور کشف ریاض اللہ کرتے ہیں۔ یہ دونوں ملزمان فرار ہوگئے لیکن ایک دن بعد ہی کشف ریاض اللہ کو ایف آئی اے نے اُس کے موبائل کی لوکیشن سے گرفتار کرلیا ہے جبکہ اس کے دوسرے بھائی نجف ریاض اللہ کا تاحال کوئی پتہ نہیں چل سکا کہ وہ بھی گرفتار ہوا ہے یا نہیں۔
اس واقعے کا سب سے تاریک پہلو یہ ہے کہ چونکہ ملزمان سابقہ گورنر پنجاب  اور پی ٹی آئی  کے لیڈر چوہدری سرور کے سگے بھانجے ہیں اور اثرورسوخ والے لوگ ہیں اس لئےکسی بھی صحافی نے اس گھناؤنے کاروبارکو اُس طرح سے بے نقاب نہیں کیا جیسے اس کا حق بنتا تھا۔
صاف بات ہے کہ مقامی صحافیوں کے بھی ان سے بہت اچھے تعلقات تھے اس لئےاس واقعہ کو صرف ڈاکٹر شاہد کے سر تھوپ کر معاملہ کورفع دفع کرنے کی کوشش کی گئی اور ایساتاثر دیا گیا کہ جیسے یہ ایک ڈاکٹر شاہد جیسے فرد واحد کا فعل تھا لیکن کمال ہوشیاری سے اپنے قلم کی طاقت کو دباتے ہوئے کشف ریاض اللہ اور نجف ریاض اللہ کا نام تک نہیں لکھا۔ 
 ہمارے علاقے میں کیسی صحافت ہورہی ہے؟ 
وہ صحافی جن کا اولین مقصد ہی عوام تک ٹھیک اور سچی معلومات کا پہنچانا ہے جب وہ ہی اپنے قلم سے بددیانتی کرنے لگ جائیں، جب حُرمت قلم کے پاسبان اُسے چوک میں رکھ کرنیلام کردیں ،پھر ہم جیسے باضمیر لوگ اپنی آواز کو نہ بُلند کریں تو یہ ظلم نہیں تو اور کیا ہے؟
ہمیں کہا جاتا ہے کہ تم لوگ سوشل میڈیا پر بیٹھ کر صحافیوں کی عزتوں کا جنازہ نکالتے ہو۔ جب یہ خود اپنی اپنے مقدس پیشے کو چند ٹکوں کے عوض فروخت کرتے ہیں تب انہیں شرم اور غیرت کیوں نہیں آتی؟
کیا ان صحافیوں کا یہ فرض نہیں تھا کہ ملزم جتنا بھی طاقتور ہوتا اُس کے خلاف اپنی آواز بُلند کرتے؟
 ان کی آنکھوں کے سامنے غریب لوگوں کے گُردے نکال نکال کر فروخت کردئیے گئے یہ اپنی لمبی لمبی زبانیں اپنی آنکھوں پر لپیٹ کر سوتے رہے؟
آئیندہ چند دنوں میں یہ واقعہ ملک کے تمام ٹی وی چینلز کی شہہ سُرخی بنے گا غریبوں کی آواز کو دبایا نہیں جاسکتا۔
 ہم ہر میڈیا گروپ کو لکھیں گے اور پوچھیں گے کہ آخر کونسی مجبوری تھی کہ یہاں پر کوئی سرعام کی ٹیم، کوئی جُرم بولتا ہے کی ٹیم یا ایف آئی آر پروگرام کی ٹیم نہ پہنچ سکی؟
 صرف اس لئےکہ جو ملزمان ہیں وہ بہت طاقتور ہیں؟
میری آپ سب سے بھی گزارش ہے کہ حکومت وقت سے مطالبہ کریں کہ ان ملزمان کو سخت سے سخت سزا دیں اور جلد سے جلد انہیں انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کریں۔ تاکہ اس مکروہ کاروبار کرنے والوں کے اس گھناؤنے دھندے کو روکا جائے جو غریب اور لاچار لوگوں سے اُن کی چھوٹی چھوٹی مجبوریوں کے باعث اُن کے گردے نکال کر بیچ رہے ہیں۔ حکومت اُن لوگوں کا ازالہ بھی کرے جن کے گردے ان بدبختوں نے نکال کر بیچے ہیں اور وہ اربوں روپیہ ان کے پیٹوں سے نکال کر اُن غریب لوگوں کو دیا جائے جو ان شکاریوں کے جال میں پھنس کر ان کے مکروہ عزائم کا شکار بنے۔



جمعرات، 26 اکتوبر، 2017

بھارت میں حلالہ اور ملاؤں کی چاندی


اخبار انڈیا ٹوڈے کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق بھارت کے طول و عرض میں ملاؤں کی کی ایک کثیر تعداد عورتوں سے ایک رات گزارنے کے بیس ہزار سے لے کر ایک لاکھ پچاس ہزار روپے تک وصول کر رہے ہیں اور یہ وہ عورتیں ہیں جو واپس اپنے خاوند کے پاس جانے کے لئے ،ملاؤں کی  شرعی مجبوری کے حل کے لئے ان علماء سے رجوع کرتی ہیں۔ اس رپورٹ نے ایک ایسی زیر زمین حقیقت کا انکشاف کیا ہے جس کی طرف عام طور پر لوگوں کی نظر نہیں جاتی۔
اخباری رپورٹرز کی اس مسئلے کی طرف توجہ سپریم کورٹ میں حال ہی میں تین طلاق کے مسئلے پر چلنے والی دھواں دھار بحث کی وجہ سے مبذول ہوئی۔ جس کے بعد رپورٹرز نے سٹنگ آپریشنز کے ذریعے کئی علماء کو بے نقاب کیا۔

اس رپورٹ کے نتیجے میں ہندو اور مسلم لیڈروں نے ایسے لوگوں کے خلاف فوجداری مقدمات قائم کرکے انہیں قرار واقعی سزائیں دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان علماء نے اپنی خدمات کی باقاعدہ تشہیر بھی کی ہوئی ہے اور اسی کی بدولت یہ رپورٹر مراد آباد کے لال باغ کے علاقہ میں واقع جامعہ مسجد مدینہ کے امام محمد ندیم تک پہنچے۔

امام صاحب شادی شدہ ہیں۔ رپورٹر نے امام کو بتایا کہ اس کی ایک رشتہ دار خاتون  کے ساتھ طلاق کا مسئلہ ہوگیا ہے اور وہ واپس اپنے شوہر کے پاس جانا چاہتی ہے تو کیا وہ اس کی مدد کرسکے گا۔ امام کے ہاں کہنے پر رپورٹر نے پوچھا کہ امام کی بیوی کو کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا ۔ جس پر امام نے کہا کہ وہ پہلے بھی بہت ساری حلالہ شادیاں کرچکا ہے اور یہ کہ اسے بیوی کو بتانے کی کوئی ضرورت کیونکہ صرف ایک رات ہی کا تو مسئلہ ہے۔

اس کے بعد امام ندیم نے بتایا کہ ایک لاکھ روپئے کے عوض وہ گارنٹی دے گا کہ ایک رات کی مباشرت کے بعد وہ خاتون کو یقینی طور پر طلاق دے دے گا ۔جس کے بعد وہ اپنے سابقہ شوہر کے لئے شرعی طور پر حلال ہو جائے گی۔

رپورٹرز کی ٹیم نے دہلی میں جامعہ نگار کے امام زبیر قاسمی سے ملاقات کی جس کی پہلے سے دو بیویاں ہیں۔ امام نے رقم کے عوض نکاح حلالہ پر رضا مندی ظاہر کی۔ جس پر اس سے پوچھا گیا کہ دو بیویوں کی وجہ سے کوئی مسئلہ تو نہیں ہوگا تو امام صاحب کا کہنا تھا دو بیویاں ہونا تو اس کے لئے آسانی پیدا کرتا ہے۔ کیونکہ جب بھی وہ گھر سے باہر رات گزارتا ہے تو ہر ایک سمجھ رہی ہوتی ہے کہ وہ دوسری کے پاس ہے۔ قاسمی نے کہا کہ وہ لوگ فکر نہ کریں سارا کام پچاس ہزار روپے کے عوض ہو جائے گا۔

گندگی کے تعاقب میں رپورٹرز کا اگلا شکار دہلی کے دارالعلوم محمودیہ کا امام محمد مستقیم تھا جو ایسی مطلقہ عورتوں کے ساتھ سونے کا شوقین نکلا کیونکہ ایسا وہ پہلے بھی کئی بار کرچکا تھا۔

دوران گفتگو مستقیم نے بتایا کہ وہ ایک ہی وقت میں تین عورتوں کے ساتھ حلالہ کرچکا ہے جب کہ شادی اس نے صرف ایک ہی سے کی تھی اور باقی دو کو بغیر نکاح کئے ہی حلال کردیا تھا۔

جب امام سے حلالہ کی فیس کا پوچھا گیا تو اس نے مدرسے کے چندے کے طور پر بیس ہزار کا مطالبہ کیا جب کہ اپنی فیس کے بارے میں کہا کہ جو توفیق ہے وہ ہی دے دیں۔

بلند شہر کے علاقہ تل گاؤں کی میواتی مسجد کے امام ظہیر اللہ نے انڈر کور ٹیم کو نکاح حلالہ کے ایک امیدوار سے ملوایا۔ جس کانام عارف تھا۔

عارف بوڑھا ہونے کے باوجود اپنی مردانگی کے بارے میں پر یقین تھا اور اپنے مسل دکھا رہا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ ’’میرا آج کا دن تو پہلے ہی بک ہے۔ مگر کل یا پرسوں سے وہ چوبیس گھنٹے اپنی خدمات پیش کرنے کے لئے حاضر ہے اور وہ ایک رات گزارنے کا پچیس ہزار روپے لے گا۔

اتر پردیش کے ضلع ہاپر میں ٹیم کا واسطہ مولوی محمد زاہد حلالہ سپیشلسٹ سے پڑا۔ مولوی صاحب سکھیدہ گاؤں میں وواقع ایک مدرسے کے مہتمم ہیں۔
مولوی صاحب نے کہا ’’ہمارے پاس اس کام کے لئے آدمی موجود ہیں اگر آپ ان لوگوں پر اعتماد نہیں کرتے تو پھر میں حاضر ہوں۔‘‘

جب رپورٹر نے پوچھا کہ اس کام کے لئے کتنی رقم کی ضرورت ہوگی تو مولوی نے کہا کہ یہ ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ روپئے کا خرچہ ہوگا نہ اس سے کم اور نہ ہی اس سے زیادہ۔

گو کہ بھارت کی امام کونسل کے سربرہ مولانا مقصود الحسن قاسمی کے بقول حلالہ کا کاروبار اسلام کے منافی ہے اور یہ ایک فوجداری جرم کی ذیل میں آتا ہے اور ان کے مطابق ایسے لوگوں کو دھکے دیکر مسجدوں سے نکال دینا چاہئے

مگر دوسری طرف اس مذموم کاروبار میں ملوث لوگ اپنی اس قبیح حرکت کا جواز بھی اسلام ہی کے حوالے سے پیش کرتے ہیں۔ تو دوسرے مذاہب کے لوگوں کو کیسے سمجھایا جائے کہ اس معاشرتی برائی کا منبع کہاں ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حلالہ کا یہ کاروبار صدیوں سے موجود ہے ، کیوں کہ اِن کتابوں نے حلالہ کو شرع میں شامل کر کے ، سانڈوں کا ایسا طبقہ پیدا کر دیا ہے ۔ کہ جس کا خاتمہ، کمزور العقیدہ   ناممکن ہوگیا  ہے ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
جو مرد حرام ، اپنی بیوی کے مہر کی صورت میں کھائے  اور اپنی بیوی کو طلاق دے ، 
روح القدّس کی طرف سے محمدﷺ کودئے گئے پیغام  کوالکتاب میں درج  کے مطابق   اُس کی بیوی اُس پر دو طلاق کے بعد حرام ہو جاتی ہے ، 

اللہ کا قانونِ طلاق جاننے کے لئے یہ  ضرور پڑھیں : طلاق - صرف دو بار









بدھ، 25 اکتوبر، 2017

پراپرٹی ڈیلر اور ایمان !




 سنا ہے کہ آج جشنِ ختمِ نبوت ﷺ منایا جا رہا ہے !

کہا ایک :
  کھوکھلے مسلمان!
 پراپرٹی ڈیلر نے
 اپنی حرام کمائی کے نشے میں سرشار ہو کر !

 میں آج داتا دربار پر دس دیگ چڑھاؤں گا !








دُور اندیش درویش



 "حضرت کوئی ایسا طریقہ بتائیے کہ میں اپنے بارے سب کچھ جان سکوں اور اُس کی اصلاح کر سکوں   !"
مردِ  دور اندیش درویش گہری سوچ میں ڈوب گیا ، کافی دیر بعد سر اٹھایا اپنی بے نور آنکھوں سے کہیں دور خلاء میں گھورتا رہا ۔  نوجوان کی طرف سر گھمایا ۔

"شادی شدہ ہو ؟ " مردِ درویش نے پوچھا
"جی حضرت  " نوجوان نے جواب دیا ۔
"کام نہایت مشکل ہے مگر طریقہ آسان "  مردِ درویش بولا ، " کر لو گے "
" جی  حضرت  بتایئے " نوجوان جذباتی انداز میں جلدی سے بولا ،
" ضرور کروں گا ،

ضرور کروں گا " 
اور بزرگ کا ہاتھ  پکڑلیا ۔
مردِ درویش گویا ہوا ،
" ایسا کرو ، گھر جاؤ "
"آپ بعد میں بتائیں گے ؟" نوجوان بولا ۔
" نہیں  ، پگلے  ، ابھی سنو !" مردِ درویش بولا 
،
،
،
،
،
،
،
" گھر جا کر اپنی بیوی کی ایک خامی  اُسے بتاؤ ۔ وہ  تمھاری تمام خامیاں بمع تمھارے خاندان بتا دے گی "







منگل، 24 اکتوبر، 2017

اکرام الیتیم اور طعام المسکین کی اہمیت



 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
1-نذیر اوّل : 
طَعَامِ الْمِسْكِينِ  نہ کرنے والے کی خطا کے اُس کے لئے، حَمِيمٌ میں طَعَامٌ غِسْلِينٍ ہوگا ۔
وَلَا يَحُضُّ عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِينِ [69:34]
 طَعَامِ الْمِسْكِينِ کے لئے وہ کوشش نہیں کرتا رہتا ہے  !
کیوں نہیں کرتے کوئی نہ کوئی وجہ تو ہو گی ؟
إِنَّهُ كَانَ لَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ[69:33]
 یقیناً وہ    جو  ،  اللَّهِ الْعَظِيمِ ساتھ ایمان نہیں رکھتے !
 فَلَيْسَ لَهُ الْيَوْمَ هَاهُنَا حَمِيمٌ [69:35] 
پس اُس کے لئے  آج ہی سے(اِس آیت کو پڑھنے کے بعد)     حَمِيمٌ ہے
 وَلَا طَعَامٌ إِلَّا مِنْ غِسْلِينٍ [69:36]
اور نہیں ہے اُس کا طعام سوائے  غِسْلِينٍ کے  ( غ س ل ۔ تَغْتَسِلُواْ ،  فَاغْسِلُواْ،  مُغْتَسَلٌ )

لَّا يَأْكُلُهُ إِلَّا الْخَاطِئُونَ [69:37]
نہیں وہ کھاتے رہتے  (غِسْلِينٍ) سوائے خطا کرنے والوں کے!
 اللہ معاف کرنے نجانے کون کون طیب  طعام  کے بجائے  غسلین بطور طعام کھا رہا ہے ؟
یقیناً وہ    جو،   اللَّهِ الْعَظِيمِ ساتھ ایمان نہیں رکھتے ! 
 2-نذیرِ ثانی   : 
الْيَتِيمَ   کو دھکا  دے کر اپنے سے دور کرنے والا   اور  طَعَامِ الْمِسْكِينِ  نہ کرنے والے ، جتنی لمبی داڑھی رکھ لے خود کو کتنا ہی پارسا جتلائے ، اللہ کا حکم ہے کہ اُسے کسی قسم کے شک میں نہیں رہنا چاھئیے ، کیوں کہ وہ الدِّينِ سے كَذِّبُ کرتا  رہتا ہے !
أَرَأَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ ﴿107:1
اپنے ارد گرد  الدِّينِ سے كَذِّبُ کرنے والے  کو دیکھ  !
پہچان یہ ہے : فَذَٰلِكَ الَّذِي يَدُعُّ الْيَتِيمَ ﴿107:2
پس وہ  جس پرالْيَتِيمَ کی ذمہ داری ہے، دھکا دے کر اُس اپنے (خاندان) سے دور کرتا ہے ۔
  وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ ﴿107:3
طَعَامِ الْمِسْكِينِ کے لئے وہ کوشش نہیں کرتا رہتا ہے  !
 فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ ﴿107:4
افسوس ہے ایسے   مُصَلِّيوں پر !
 کیوں کہ وہ الفحش اور المنکر سے باز نہیں آتے (29:45)
 الَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ ﴿107:5
وہ لوگ جو اپنی  (اللہ کی طرف سے دی گئی (29:45))   صَلَاتِ سے  غافل ہیں ،
 الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ ﴿107:6
جو  (صَلَاتِ وہ  کر رہے ہیں  اپنے اپنے صنعت کئے ہوئے  ذکر اللہ  سے کرتے ہوئے ) وہ صرف دکھاوا کرتے ہیں ۔  
وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ ﴿107:7
 وہ    الْمَاعُونَ (الْيَتِيمَ      اور  طَعَامِ الْمِسْكِينِ) سے  لوگوں کو منع کرتے رہتے ہیں ۔

يَسْأَلُونَ أَيَّانَ يَوْمُ الدِّينِ ﴿51:12
وہ( اللہ کی نذیر بتانے والوں سے) پوچھتے ہیں ، یہ بتاؤ يَوْمُ الدِّينِکب ہے ؟
2-نذیرِ ثالث   : 
إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ ﴿89:14
 یقیناً تیرا رَبَّ (پالنے والا)     تیرے  الْمِرْصَادِکے ساتھ ہے !

 فَأَمَّا الْإِنسَانُ إِذَا مَا ابْتَلَاهُ رَبُّهُ فَأَكْرَمَهُ وَنَعَّمَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَكْرَمَنِ ﴿89:15  
پس یہ کہ جب تیرارَبُّ  جب   انسان  پر  ابْتَلَا کرتا ہے، پس اُسے (ابتلاء میں سے کامیابی سے نکلنے کے بعد )   اکرام اور انعام دیتا ہے ، پس وہ  ( خوشی سے ) کہتا ہے ، میرے ربّ نے مجھ پر کرم کیا ۔

  وَأَمَّا إِذَا مَا ابْتَلَاهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَهَانَنِ ﴿89:16﴾ 
جب اُسی ( انسان  ) پر  ابْتَلَا کرتا ہے، پس اُسے (ابتلاء میں سے کامیاب نہ ہونے پر  )   اُس پر رزق کی قدر بنا دیتا ہے  ، تو پس وہ  (رنج سے  ) کہتا ہے ، میرے ربّ نے( میرے رزق کی راشننگ کر کے ) میری توھین  کر دی ۔
روح القدّس نے  انسان پر آزمائش کے بعد  توھین کی تفسیر  محمدﷺ کو بتائی !
 كَلَّا ۖ بَل لَّا تُكْرِمُونَ الْيَتِيمَ ﴿89:17
ھرگز نہیں  ، تم   الْيَتِيمَ کا اکرام نہیں کرتے ہو!

وَلَا تَحَاضُّونَ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ ﴿89:18

طَعَامِ الْمِسْكِينِ کے لئے تم  کوشش نہیں کرتے !

وَتَأْكُلُونَ التُّرَاثَ أَكْلًا لَّمًّا ﴿89:19﴾ 
 
اور تمہیں دی گئی  ، التُّرَاثَ ( یتیموں اور مسکینوں کی وراثت)  کو گنجائش سے زیادہ  کھاجا ( اپنے اور اپنی اولاد کے لئے) بناتے ہو ؟
 
وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا ﴿89:20
اور تم  دانہ دانہ ، جمع کئے  ہوئے  سےالْمَالَ  محبت کرتے ہو  ! 

وہ  جسالْيَتِيمَ کی ذمہ داری ہے، تمھیں دی گئی ، تم اُسے دھکا دے کر اُس اپنے (خاندان) سے دور کردیتے ہو ، لہذا   ابتلاء میں سے کامیاب نہ ہو ئے ، تو اللہ نے تمھارے  رزق کی مقدار   کردی ، اب اِس قدر کئے ہوئے رزق میں  الْيَتِيمَ  کواپنے خاندان میں  شامل کر لو ۔یقیناً تیرا رَبَّ     تیرے   الْمِرْصَادِ کے  ساتھ ہے !
اِس    ابْتَلَا سے کامیابی سے گذرنے کے بعد اکرام اور انعام دے گا-
ورنہ یہ   ابْتَلَا (  رزق کی راشننگ) عذاب بن کر چمٹ جائے گی ! 
 
 ٭٭٭٭٭٭٭مزید پڑھیں ٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔