میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 16 اکتوبر، 2017

عورت کا کردارِ قدیم !

 سائنسی ، دریافت اور تحقیق کے پس منظر میں لکھی ہوئی ایک تحریر ، جس میں یورپ کے ساکن نے ماضی کے بوسیدہ اوراق  کھنگال کر   "  غیرت، پدرسری معاشرہ اور ناری کی کہانی " اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے ، یاد رہے پورا یورپ ، برطانیہ ، کینیڈا اور امریکہ  " مدر سری معاشرے " کے فروغ کا قائل ہے ۔(مہاجرزادہ)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
آج سے قریب 17 سے 13 ہزار سال پہلے تک برفانی دور(Ice Age) کا اختتام نہیں ہوا تھا، زمین کے مختلف حصوں میں برف چھائی ہوئی تھی، سردی کا موسم بہت لمبا اور گرمی کا موسم انتہائی قلیل تھا، جس کے باعث زراعت ممکن ہی نہ تھی۔ انسان نسل خانہ بدوش شکاری گروہوں پر مشتمل تھی جو بڑے جانوروں کے گروہوں کی ہجرت کے مطابق نکل مکانی کرتے اور ان کے شکار پر گزر بسر کرتے۔ اس قدیم وقت کے شواہد صرف آثار قدیمہ(Archelogy) سے ملنے والے اوزاروں، شکار کے ہتھیاروں، قبروں,جھونپڑیوں اور غاروں میں پائے جاتے ہیں۔

انسانی ہاتھ سے لکھی ہوئی پہلی قدیم ترین عبارتیں تقریباً 5400 سال پرانی ہیں مگر برفانی دور انتہائی قدیم تھا، آثار قدیمہ کے ماہرین نے اس وقت سے متعلق بہت سے شواہد حاصل کئے ہیں، شکاری دور کے دوران ملنے والی عورتوں اور مردوں کی قبروں کے مشاہدے سے یہ بات سامنے آئی کہ مردوں کی عمر عورتوں کے مقابلے میں کم ہوتی تھی۔ مرد شکار میں حصہ لیتے تھے، اور ایک خاص عمر گزرنے کے بعد بوڑھا مرد شکار کرنے کی قابلیت کھو دیتا تھا۔ شکار کے دوران لگنے والی سخت چوٹیں اکثر و بیشتر مردوں کی جان لے لیا کرتی۔ برفانی دور میں مرد ماموتھ(Mammoth) ہاتھیوں اور دوسرے بڑے جانوروں کے شکار پر معمور رہتا تھا۔ 
  بوڑھے مرد کے مقابلے میں بوڑھی عورتیں قبیلے میں انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی تھیں کیونکہ وہ بچوں کو پالنے اور دوسرے مسائل میں قبیلے کے انتظامی امور میں براہ راست شامل ہوتی تھیں، اس لئے قبیلے کی سردار مرد کے بجائے کوئی بوڑھی عورت ہوتی تھی، یہ معاشرہ حقیقی طور پر مادر سری(Matriarchal) معاشرہ تھا، وجہ عورت کے مقابلے میں مرد کی کم عمر اور تجربہ تھا، کیونکہ مرد بمشکل ہی بڑھاپے تک زندہ رہ پاتے، اور اگر زندہ ہوتے بھی تو بے کار ہوتے تھے۔
مگر برفانی دور ختم ہونے کے ساتھ ایک نئے عہد کا آغاز ہوا، سردی کا دورانیہ کم ہوا تو سال میں کم از کم ایک فصل اگانے کا موقع پیدا ہو گیا جس کے باعث زراعت کا آغاز ہوا۔ گاؤں، قصبے اور شہر آباد ہونے لگے۔ انسانی آبادی بڑھی اور زراعت کے ساتھ ہی لٹیرے قبیلوں کا آغاز ہوا، خانہ بدوش قبیلے اور گروہ زرعی قبیلوں پر حملہ آور ہو کر ان سے اناج لوٹنے لگے۔
اس وجہ سے پہلی بار رہائشی علاقوں میں فوج کی شروعات ہوئی، یہ فوجیں مردوں پر مشتمل تھیں جن پر قدیم کے جرنیل حکمرانی کرتے تھے۔ یہ طاقتور جرنیل اپنی فوجوں سے جنگ و جدل کرنے لگے، زراعت کے کام میں عورت انتہائی کارآمد تھی، اس لئے جب ایک قبیلہ دوسرے قبیلے پر حملہ کرتا, مردوں کو قتل کرتا, عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیتا. وہ ان کے لئے زراعت کا کام کرتے، یہاں ہی سے پہلی بار انسان بکنے لگے۔


مگر معاشرے نے ایک اور رخ پر بھی ارتقاء پایا، اب قبیلے یا گھر کی سربراہی عورت کے بجائے مرد کو مل گئی۔ اسی وقت میں بارٹر نظام(Barter System) یعنی چیز کے بدلے چیز کا سودا پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا۔ اناج کے بدلے ہتھیار، اناج کے بدلے لباس، اناج کے بدلے جانور، جانور کے بدلے لکڑی وغیرہ سب کچھ ہونے لگا۔ اسی دوران میں مردوں نے لونڈیوں کو بیچنا شروع کر دیا جس سے عورت کی حیثیت ایک بکنے والی چیز کی ہو گئی۔ حتی کہ ایک قبیلہ یا گروہ دوسرے قبیلے یا گروہ پر عورتوں کو غلام بنا کر لانے کی غرض سے چڑھائی کرنے لگا۔ جنگ و جدل میں ہارنے والے قبائل جب اپنی عورتیں اور بچے کھو بیٹھتے تو وہ دوسرے قبائل سے عورتیں خریدنے پہنچ جاتے جس کے باعث مردوں نے اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو بھی بیچنا شروع کر دیا، ایک اندازے کے مطابق یہ سودے بازی دنیا کے تقریباً تمام ہی معاشروں میں رائج رہی۔ اس کی موجودہ شکل عورت کا حق مہر، عورت کی شادی کے لئے جہیز کی رقم لینا وغیرہ ہیں۔ جب کوئی بہن بیٹی اپنی مرضی سے شادی کرتی تو اس کے مردوں کا نقصان ہوتا۔ بصورت دیگر لڑکی بیچے جانے پر کنواری نہ پائی جاتی تو بھی بیچنے والے باپ بھائیوں کو رقم لوٹانا پڑتی یا جرمانہ ادا کرنا ہوتا، اسی وقت سے مردوں نے اپنی عورتوں اور باندیوں کی کڑی نگرانی کرنا شروع کی، اور عورت کے کنوارپن کی اہمیت بڑھ گئی۔
جب کوئی عورت مردوں کی مرضی کے خلاف جا کر اپنا محبوب چنتی تو سخت سزا پاتی، سنگساری، کارو کاری سبھی اس دور کے جاہلانہ رسم و رواج ہیں۔ 

انسانی آبادی بڑھی اور قبائل سے قوموں اور ملکوں کا ظہور ہوا، بڑی بڑی فوجیں بنائی گئیں۔ فوج بنانے کے لئے وفاداری انتہائی لازمی تھی جس کے باعث بہت سی قوموں نے اپنی عورتوں کو بیچنے کا رواج ترک کر دیا، یا پھر ان کو اپنی مرضی کے مطابق اپنی ہی قبیلے میں بیاہ دیا کرتے تھے۔ مگر عورت کا اپنی مرضی سے اپنا جیون ساتھی چننا ایک خواب بن کر رہ گیا۔ مردوں نے اپنی عورتوں کو بیچنا تو ترک کر دیا مگر غیرت ایک رویے کے طور پر اسی جاہلانہ دور کی باقیات کے طور پر بچ گئی۔
غیرت دراصل اسی جاہلانہ دور کو ظاہر کرتی ہے جب عورت کی اہمیت بھیڑ بکری سے زیادہ نا تھی۔ غیرت پدر سری معاشرے کی جہالانہ معراج ہے۔ مرد کا کنوارہ پن اہمیت نہیں رکھنا مگر عورت کنواری ہونی چاہیے، مرد عورت کا پتی یعنی مالک ہے، بہن بیٹی کو مرضی سے شادی کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی اور عورت غیرت کا مسئلہ ہے۔ زور آور مرد تو اپنی عورت کو دوسروں کی نظروں سے بچا سکتا ہے مگر کمزور کی عورت کی کوئی عزت نہیں، مطلب بطور انسان عورت کی کوئی عزت نہیں۔ سب کچھ جنسیت سے منسلک ہے اور اس معاملے میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس، عورت محکوم اور مرد حاکم۔ یہ سب جاہلانہ دور کی علامتیں ہیں، ترقی یافتہ دنیا ان مسائل سے نکل آئی ہے، مگر جاہلانہ معاشروں میں آج بھی مرد غیرت غیرت کرتے پھرتے ہیں، کیونکہ بہت سے مردوں کی مردانگی عورت کے آزاد ہونے سے خطرے میں پڑ جاتی ہے۔
عورت کی آزادی سے جاہل اور وحشی مردوں کو اپنی من مانی کرنے کی اجازت نہیں مل سکتی، سمجھدار عورت اپنے لئے ہمیشہ رحم دل اور عزت دینے والے مرد کو چنتی ہے۔


 جب جب کسی معاشرے میں عورت کو حقوق ملتے ہیں وہ معاشرہ وحشت سے دور ہوتا جاتا ہے، کیونکہ ہر معاشرے کے مرد عورت کے لئے قابل قبول بننا چاہتے ہیں۔ عورت تشدد اور جہالت کے درمیان تحفظ کے احساس سے عاری رہتی ہے۔ آزاد عورت کا تحفظ وحشت کی مخالفت کی ڈیمانڈ کرتا ہے۔ عورت کے حقوق دنیا میں امن کے لئے سب سے ضروری ہیں، جب جب عورت کو حقوق ملیں گے معاشرہ اعتدال پسندی اور برداشت کی طرف جائے گا۔ 
پدرسری معاشرہ وحشت اور درندگی کی روایت ہے، اس لئے آج معاشرے میں انسانیت اور رواداری کی اساس کو مضبوط کرنے کے لئے اس کی نفی لازمی ہے، غیرت نام کا لفظ انسانی تہذیب کے لئے انتہائی خطرناک ہونے کے ساتھ ساتھ قتل و غارت گری اور جہالت پر مبنی ہے، یہ وہ لفظ ہے جو عورت کو انسان سمجھنے کے بجائے بھیڑ بکری کی حیثیت دیتا ہے، اس لئے جو لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ بہت غیرت مند ہیں، وہ جان لیں کہ وہ انسانیت کے معیار سے کوسوں دور ہیں۔
اگر آپ کی غیرت آپ کے گھر کی عورتوں کی اندام نہانی سے منسلک ہے تو آپ ابھی تک رسم غلامی کے غلام ہیں۔


(غالب کمال)





خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔