میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 17 اکتوبر، 2017

فوج اور آئینی ذمہ داری


فوج ملک کی داخلی اور خارجی سلامتی کی آئین پاکستان کے مطابق ذمہ دار ہے ، اور یہ ذمہ داری وہ اپوزیشن لیڈروں کے کہنے پر نہیں ، وزیر اعظم پاکستان اور صدرِ پاکستان اور ان کے معاونین وزارتِ دفاع، وزارتِ داخلہ اور وزارتِ خارجہ کے آئینی اور تحریری حکم پر کرتی ہے ۔
یہ ادارے فوج کو الرٹ کرنے کے لئے نیشنل سکیورٹی کے پہلے قدم کے طور پر زبانی آگاہ کرتے ہیں اور ساتھ ہی تحریری حکم بذریعہ ٹیلیکس اور تفصیلی حکم تحریری بھجواتے ہیں ۔
پاکستان ڈیفنس فورسز ، وزارتِ دفاع کے ماتحت ادارے ہیں ،
وزارتِ داخلہ کے ماتحت ادارے ، تمام پیرا ملٹری فورسز ، فرنٹئیر کورپس ( کے اور بلوچستان) ، رینجرز (پنجاب و سندھ) اور کوسٹ گارڈ ہیں،
جن میں آفیسرز پاکستان فوج سے(سکانڈمنٹ پر) اِس لئے ، لیے جاتے ہیں تاکہ یہ ادارے دیگر صوبائی اداروں کی طرح عضو معطل (خصوصاً پولیس کی طرح) نہ بن جائیں ۔ وجہ یہ ہے کہ اِن اداروں کے جوانوں پر پاکستان ملٹری لاء ایپلائی نہیں ہوتا بلکہ سول سرونٹ ایفیشنسی ایکٹ ہوتا ہے-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
جب فوج ملکی سلامتی کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرتی ہے تو اُس کے مخاطب ، وزیر اعظم پاکستان ، صدرِ پاکستان اُن کے معاونین وزارتِ دفاع، وزارتِ داخلہ اور وزارتِ خارجہ نہیں ہوتے، بلکہ پاکستان میں پائے جانے والے ، دشمن ممالک سے طاقت حاصل کرنے والے " نان سٹیٹ ایکٹرز" ہوتے ہیں ،
" جو روندی یاراں نوں ، ناں لے لے بھراواں دا " کے مصادق ، خود کو ایک بہترین منتظم ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، ناکام ہونے کے بعد مُلک میں سیاسی ، سماجی ، معاشی اور معاشرتی افرا تفری برپا کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ،
ملکی ترقی میں دلچسپی لینے والے یہ نہیں دیکھنا چاھتے کہ ،" منیجمنٹ میں کون  ہے؟"
بلکہ اُن کا نقطہءِ نظر یہ ہوتا ہے کہ ، " کیا یہ مینیجمنٹ اِس قابل تھی کہ اپنے دورِ مینیجمنٹ میں ملک کوترقی دے سکتی ہے  ؟"
عوام  ، اپنے دور اقتدار میں کی جانے والی ڈلیوری  پر ، آئیندہ  منیجمنٹ کو  ووٹ دے کر برقرار رکھتے  ہیں یا فارغ کر دیتے ہیں  ! یہی جمہوریت کی بنیاد ہے ، عوام کی رائے !
ملکی ترقی کا مکمل انحصار اور ملک اور عوام کی سلامتی اورملک میں کئے گئے ترقیاتی کاموں پر ہوتا ہے جو زمین پر دیکھے جا سکتے ہوں ، خلا میں  چاند اور تاروں پرتعمیر کئے گئے، ترقیاتی کاموں کو زمین پر لانا ضروری ہوتا ہے ۔
فوج میں زیادہ تر کام خلا میں بنائے جاتے ہیں ، جنہیں مشقیں کہا جاتا ہے، جن کا سو فیصد  گراونڈ  پر اترنا،  ناممکن نہیں تو ممکن بھی نہیں ہوتا ، جیسے
٭-  1965 میں بھارت کا خلا میں بنایا ہوا پروگرام یا
٭-  روس کا 1979 میں گرم پانیوں تک پہنچنے کا خلا میں بنایا پروگرام یا
٭ - امریکہ کا دنیا کو امن  دینے کا خلائی پروگرام ۔ 

جس کا ادارک  2008 سے 29 اکتوبر 2016  تک  کے  پاکستان کے آرمی چیفس نے کیا ۔ جو موجودہ  آرمی چیف جن  کا بھی نظریہ وہی ہے جو سابقہ چیفس کا تھا ، لیکن کیا کیا جائے ، ایک یا دو سیٹ رکھنے والے  ، جو " بھراؤ نی ہوٹلے تے " چائے کی پیالی میں طوفان اُبالتے ہیں   اورجو ایمپائر کی انگلی  کے دلداداہ ہیں ، انتظارِ  اُٹھان میں ہیں  ، جن کے بیان  ورلڈ ریسلنگ  ٹی وی پر دیکھنے والون کے پسندیدہ ہیں ، جو  یہ نہیں جانتے کہ یہ سال 2017 ہے 1992 نہیں  ، جہاں سپریم  نے آرٹیکل 6 کو تیار رکھا ہے ، بلکہ بند ہی نہیں کیا ۔
یہی وجہ ہے کہ نہ ڈرنے والے ، ملک سے باہر ، بردہ فروشی کی کمائی کھا رہے ہیں !

یہ بھی پڑھیں :



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔