میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 19 اکتوبر، 2017

کیا یہ توھینِ قرآن نہیں ؟

" فیس بُک  فورم ، المسیح کے ایلچیو " پر ایک اچھی بچی نے اِس پکچر پوسٹ پر، یہ سوال پوچھا !
کیا یہ توھینِ قرآن نہیں ہو رہی ؟؟؟
میرا جواب:
Fatima Jhon
آپ کو کس بات کی پریشانی ہے ؟
آپ بغلیں بجائیں!!



صاحبان عقل و دانش ، فہم و فکر ، شعور و تدبّر ، آپ کی کیا رائے ہے ؟
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 میں نے رائے لینے کے لئے ، ایک فورم  ارتقاءِ  علم  پر  ڈالی ، بنیادی طور پر یہ پرویزیوں اور منحرف پرویزیوں کا فورم ہے !
لیکن پہلے پڑھیں  :  
مہاجرزادہ کے مذہبی اساتذہ 

جس پر  جو کمنٹ آئے وہ یہ ،
کہ یہ  جعلی ہے ، فوٹو شاپ ہے ، قرآن کا مذاق نہ اُڑایا جائے وغیرہ وغیرہ ،  
اور بالآخر یہ پوسٹ ڈیلیٹ کر دی گئی ، بغیر غور و فکر کے ڈیلیٹ کر دی گئی !
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
میں نے پوسٹ لگانے سے پہلے ایک ، " قول من دون اللہ " کے ماہر سے پوچھا ، تو اُس نے مجھے ، اِسی فرقے (تقی عثمانی مذہب) کے بارے میں تفصیلاً معلومات دیں ۔جو مجھے پہلے سے معلوم تھیں ، وہ کم و بیش وہی تھیں جو کہ ، ماضی کی کتابوں بشمول فتاویٰ عالمگیری میں درج ہیں ،
کہ حرام چیزوں سے علاج  شرعاً جائز ہے، جبکہ حلا ل اشیاء سے حلال ممکن نہ ہو!
جیسے آج کل :

1- دل کی بیماریوں کے علاج کی دوائیں ، خنزیر کی آنتوں سے بنتی ہیں ۔

2- خنزیر کی چربی کو چربی سے نکلے ہوئے تیل سے بننے والی اشیاء میں استعمال کیا جاتا ہے اور پاکستان میں درآمد ہو رہی ہیں -

3- تعویذ لکھنے والے ، جو قرآنی آیات سے شفاء دلوانے کو دعوئٰ کرتے ہیں ، وہ جس بیماری کا علاج جانوروں کی باقیات سے طب کر رہی ہے ، سنا ہے کہ وہ بھی اُسی سے تعویذ لکھ کر مریدین کو دیتے ہیں ۔

4- سب سے اہم وہ یہ کہ ہندووں کے نزدیک گائے کا پیشاب پینا مذہبی ہے ، لہذا اُن کے پنڈتوں کے مطابق اگر یہ انسانی پینے کی اشیاء میں ملا دیا جائے ، تو اُنہیں بیماریوں سے بچانے کے لئے اہم ہے ۔ کیوں کہ اِس سے دھرم بھرشٹ نہیں ہوتا ۔

نیز پاکستان کو بھیجی جانے والی کھانے کی تمام اشیاء میں یا اُنہیں گائے کے پیشاب سے دھو کر بھیجی جاتی ہیں ، ہندوستان کے مسلمان تو ہندو دکانداروں سے لی جانے والی چیزیں استعمال کر ہی رہے ہیں ۔


نوٹ: علم نہ ہونے کے باعث  ، بہت سے لوگ ،  کراچی کے لوگ جو کمیٹیوں کا پانی استعمال کرتے ہیں ، اُس میں انسانی پیشاب یا فضلہ کی آمیزش ہونے کے اکثر واقعات ہوئے ہیں۔

یا سوئمنگ پول میں تیراکی کا لطف اٹھاتے ہیں اُس میں انسانی پیشاب کی آمیزش خود تیرنے والے بچے کر دیتے ہیں ۔یا  غیر ارادی طور پر  بچے سے ہو جاتی ہے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


شاہد جی : بھان  متی کا کنبہ ، علم کا ارتقاء نہیں چاہتا، بلکہ " دولے شاہ " کے چوہوں کا پرستار ہوتا ہے !

نیز  اِس فورم پر، جھوٹی روایات کا جس طرح مذاق اُڑایا جاتا اور اپنے تئیں ، اپنے ہی سلفِ صالح کی لکھی ہوئی تفاسیر کو اپنے الفاظ کی چندیاں چپکا کر نیا روپ دے کر پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ،  اُسی کی وجہ سے یہ پوسٹ میں نے یہاں ڈالی، کہ شائد نئی چندیاں  دیکھنے کو ملیں ! 
گو کہ مجھے وہی جواب ملنے کی توقع تھی ، جو دیا گیا ۔
میں نہیں سمجھتاکہ اب آپ کے فورم پر رہنا چاہئے ، شکریہ  آپ لوگوں کا کہ مجھے کافی عرصہ برداشت کیا !



٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مزید پڑھیں :
کُتبِ اساطیر الاولین





خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔