میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 21 اکتوبر، 2017

اقوامِ عالم میں قریش

 لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ ﴿1﴾
قُرَيْشٍ ( ایلیٹ لوگ ، پیٹ بھرے لوگ ، تاجر ) کا ایلاف !
إِيلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ ﴿2﴾
جنہیں الشِّتَاءِ اور الصَّيْفِکےرِحْلَةَ (انبار) سےایلاف ہوتا ہے ۔

فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ ھـٰذَا الْبَيْتِ ﴿3﴾
پس وہ اِس الْبَيْتِ  کے رَبَّ کے لئے عبد رہیں

الَّذِي أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَآمَنَهُم مِّنْ خَوْفٍ ﴿4﴾
وہ (ربّ) جس نے انہیں  جُوعٍ میں طعام اور انہیں خوف میں امن دیا

نوٹ: میرے فہم کے مطابق ، اللہ کے الفاظ کا ترجمہ نہ کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ، جو الفاظ اردو میں استعمال ہوتے ہیں ، یا الکتاب میں صرف ایک بار آئے ہیں ، انہیں تاریخ سے متاثر ہو کر اپنا فہم دینا ، اللہ کے پیغام کی روح کو متاثر کرتا ہے ، ہمارے مترجموں اور مفسروں نے اللہ کے کلام میں اپنا فہم ڈال کر ، اللہ کے آفاقی پیغام کو مجروح کر دیا ہے ۔
تاریخی قبیلہ قریش نابود ہو چکا ہے ، تو یہ آیت بھی معلق ہوجانا چاہئیے ، کیوں کہ میں قریش نہیں ۔ لہذا یہ پیغام میرے لئے نہیں ہے-
لیکن ایسا نہیں ، روح القدّس ، محمدﷺ کو  اللہ  کے کلمہ   قُرَيْشٍ کا تعارف ، اِس آیت کےذریعے  کرواتا ہے ۔

الَّذِي أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَآمَنَهُم مِّنْ خَوْفٍ ﴿4﴾
بے خوف اور پیٹ بھرے لوگ !

تو آئیں اللہ کی اقوامِ عالم میں ، اپنی قوم تلاش کرتے ہیں !





خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔