میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 24 اکتوبر، 2017

جنگِ احد کے بھگوڑے !



 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 ایک شیعاً کی تحریر !

   میدان سے بھاگنے والا دوزخی ہے!
وکلا اصحابہ جو کہ اپنے اصحابہ کی بہادری کے بڑے قصے بتاتے ہیں کہ ہمارے خلیفہ نے ایسا بھی کیا ویسا بھی کیا اور بہت بہادری بھی تھے تو قرآن و تاریخی پہلو سے دیکھتے ہے کہ وہ کون تھے

سب سے پہلے قرآن کریم میں دیکھے

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِیۡتُمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا زَحۡفًا فَلَا تُوَلُّوۡہُمُ الۡاَدۡبَارَ ﴿8:15  
اے ایمان والو! جب تم کافروں سے دو بدو مقابل ہو جاؤ ، تو ان سے پشت مت پھیرنا-
وَمَن يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ إِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ أَوْ مُتَحَيِّزًا إِلَىٰ فِئَةٍ فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّـهِ وَمَأْوَاهُ جَهَنَّمُ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ ﴿8:16 
اور جو شخص ان سے اس موقع پر پشت پھیرے گا مگر ہاں جو لڑائی کے لئے پینترا بدلتا ہو یا جو ( اپنی ) جماعت کی طرف پناہ لینے آتا ہو وہ مستشنٰی ہے باقی اور جو ایسا کرے گا وہ اللہ کے غضب میں آجائے گا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے ۔

تو یہ بات قرآن سے ثابت ہوگئ کہ میدان سے بھاگنے والا دوزخی ہے


  اب ہم چلتے ہے میدان احد کی طرف!
 
اہل سنت کے بہت بڑے عالم شاہ عبدالحق محدث دہلوی اپنی کتاب مدارج النبوة جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 166 پر لکھتے ہیں:جب سب لوگ نبی پاک ص کو تنہا چھوڑ گئے تو نبی پاک ص مولا علی سے مخاطب ہوئے اور فرمایا
" اے علی تم اپنے بھائیوں کی ساتھ کیوں نہیں گئے ؟"
مولا علی نے فرمایا:
" کفر بعد الایمان ؟                   ( ایمان کے بعد کفر نہیں ہے !)

تو مولا علی کے فرمان سے بھی واضع ہوجاتا ہے کہ میدان سے بھاگنے والے کافر تھے!
اب  نبی پاک ص کا بھی فرمان دیتا ہو ں ، کہ کوئی شبہ نہ رہ جائے !
نبی پاک ص نے فرمایا:
سب سے بڑے گناہ یہ ہے اللہ کا شریک ماننا, میدان جنگ سے بھاگنا, اور کسی شخص کو قتل کردینا (حوالہ مستدرک اصحیحین صفحہ 27 )
اور اِس  حدیث کو بھی صحیح کہا گیا ہے، لہذا
میدان جنگ سے بھاگنا کفر بھی ہے سب سے بڑا گناہ بھی ہے اور قرآن کی روُ سے جہنمی بھی ہے !

اب آتے ہیں  تاریخ کی طرف اور ان بہادر لوگوں پر ایک نظر ڈالتے ہے جن کے قصے مولوی سناتے ہیں :
سب سے پہلے خلیفہ اول ابو بکر صاحب
ابو بکر کا اپنا بیان ہے کہ احد میں تمام لوگ آپ نبی پاک ص سے واپس چلے گئے تھے ، تو سب سے پہلے میں نبی پاک ص کے پاس آیا تھا! (حوالہ تاریخ الخلفاء امام جلال الدین سیوطی صفحہ نمبر 52  )
بھاگنے کا اقرار کیا خود !
اب  خلیفہ دوئم عُمر  صاحب
عمر کا بھی اپنا بیان ہے کہ
" میں احد میں ایسے بھاگا جیسے پہاڑی بکرا چھلانگیں لگا کر بھاگتا ہے"   (
حوالہ تفسیر درمنشور امام جلال الدین سیوطی جلد نمبر 2 صفحہ 242 )
(پیدائش، جلال الدین سیوطی: 2 اکتوبر 1445ء– وفات: 17 اکتوبر 1505ء) 
   اب  خلیفہ ثلاثہ  عثمان صاحب
عثمان صاحب تو سب سے بہادر تھے یہ حضرت وہاں سے ایسے بھاگئے کہ بھاگ کر مدینہ پہنچ گئے اور تین دن بعد یعنی جنگ ختم ہونے کے بعد واپس آئے!   (حوالہ مدارج النبوة جلد 2 شاہ عبدالحق محدث دہلوی صفحہ 161 )
 جو نبی پاک ص کو میدان میں اکیلا چھوڑ کر بھاگ گئے  تھے ، وہ اب  رضی اللہ  کہلاتے ہیں ؟؟
جبکہ قرآن کریم نے بھاگنے والوں کو دوزخی اور مولا علی نے کافر اور نبی پاک ص نے گنا ہگار فرمایا ہے

اب حضرت سنّی حضرات  خود فیصلہ کریں ؟
سب حوالہ جات
، سنّیوں کی ہی کتابوں سے  دئیے گئے ہیں  !
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔