میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 24 اکتوبر، 2017

اکرام الیتیم اور طعام المسکین کی اہمیت



 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
1-نذیر اوّل : 
طَعَامِ الْمِسْكِينِ  نہ کرنے والے کی خطا کے اُس کے لئے، حَمِيمٌ میں طَعَامٌ غِسْلِينٍ ہوگا ۔
وَلَا يَحُضُّ عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِينِ [69:34]
 طَعَامِ الْمِسْكِينِ کے لئے وہ کوشش نہیں کرتا رہتا ہے  !
کیوں نہیں کرتے کوئی نہ کوئی وجہ تو ہو گی ؟
إِنَّهُ كَانَ لَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ[69:33]
 یقیناً وہ    جو  ،  اللَّهِ الْعَظِيمِ ساتھ ایمان نہیں رکھتے !
 فَلَيْسَ لَهُ الْيَوْمَ هَاهُنَا حَمِيمٌ [69:35] 
پس اُس کے لئے  آج ہی سے(اِس آیت کو پڑھنے کے بعد)     حَمِيمٌ ہے
 وَلَا طَعَامٌ إِلَّا مِنْ غِسْلِينٍ [69:36]
اور نہیں ہے اُس کا طعام سوائے  غِسْلِينٍ کے  ( غ س ل ۔ تَغْتَسِلُواْ ،  فَاغْسِلُواْ،  مُغْتَسَلٌ )

لَّا يَأْكُلُهُ إِلَّا الْخَاطِئُونَ [69:37]
نہیں وہ کھاتے رہتے  (غِسْلِينٍ) سوائے خطا کرنے والوں کے!
 اللہ معاف کرنے نجانے کون کون طیب  طعام  کے بجائے  غسلین بطور طعام کھا رہا ہے ؟
یقیناً وہ    جو،   اللَّهِ الْعَظِيمِ ساتھ ایمان نہیں رکھتے ! 
 2-نذیرِ ثانی   : 
الْيَتِيمَ   کو دھکا  دے کر اپنے سے دور کرنے والا   اور  طَعَامِ الْمِسْكِينِ  نہ کرنے والے ، جتنی لمبی داڑھی رکھ لے خود کو کتنا ہی پارسا جتلائے ، اللہ کا حکم ہے کہ اُسے کسی قسم کے شک میں نہیں رہنا چاھئیے ، کیوں کہ وہ الدِّينِ سے كَذِّبُ کرتا  رہتا ہے !
أَرَأَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ ﴿107:1
اپنے ارد گرد  الدِّينِ سے كَذِّبُ کرنے والے  کو دیکھ  !
پہچان یہ ہے : فَذَٰلِكَ الَّذِي يَدُعُّ الْيَتِيمَ ﴿107:2
پس وہ  جس پرالْيَتِيمَ کی ذمہ داری ہے، دھکا دے کر اُس اپنے (خاندان) سے دور کرتا ہے ۔
  وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ ﴿107:3
طَعَامِ الْمِسْكِينِ کے لئے وہ کوشش نہیں کرتا رہتا ہے  !
 فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ ﴿107:4
افسوس ہے ایسے   مُصَلِّيوں پر !
 کیوں کہ وہ الفحش اور المنکر سے باز نہیں آتے (29:45)
 الَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ ﴿107:5
وہ لوگ جو اپنی  (اللہ کی طرف سے دی گئی (29:45))   صَلَاتِ سے  غافل ہیں ،
 الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ ﴿107:6
جو  (صَلَاتِ وہ  کر رہے ہیں  اپنے اپنے صنعت کئے ہوئے  ذکر اللہ  سے کرتے ہوئے ) وہ صرف دکھاوا کرتے ہیں ۔  
وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ ﴿107:7
 وہ    الْمَاعُونَ (الْيَتِيمَ      اور  طَعَامِ الْمِسْكِينِ) سے  لوگوں کو منع کرتے رہتے ہیں ۔

يَسْأَلُونَ أَيَّانَ يَوْمُ الدِّينِ ﴿51:12
وہ( اللہ کی نذیر بتانے والوں سے) پوچھتے ہیں ، یہ بتاؤ يَوْمُ الدِّينِکب ہے ؟
2-نذیرِ ثالث   : 
إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ ﴿89:14
 یقیناً تیرا رَبَّ (پالنے والا)     تیرے  الْمِرْصَادِکے ساتھ ہے !

 فَأَمَّا الْإِنسَانُ إِذَا مَا ابْتَلَاهُ رَبُّهُ فَأَكْرَمَهُ وَنَعَّمَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَكْرَمَنِ ﴿89:15  
پس یہ کہ جب تیرارَبُّ  جب   انسان  پر  ابْتَلَا کرتا ہے، پس اُسے (ابتلاء میں سے کامیابی سے نکلنے کے بعد )   اکرام اور انعام دیتا ہے ، پس وہ  ( خوشی سے ) کہتا ہے ، میرے ربّ نے مجھ پر کرم کیا ۔

  وَأَمَّا إِذَا مَا ابْتَلَاهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَهَانَنِ ﴿89:16﴾ 
جب اُسی ( انسان  ) پر  ابْتَلَا کرتا ہے، پس اُسے (ابتلاء میں سے کامیاب نہ ہونے پر  )   اُس پر رزق کی قدر بنا دیتا ہے  ، تو پس وہ  (رنج سے  ) کہتا ہے ، میرے ربّ نے( میرے رزق کی راشننگ کر کے ) میری توھین  کر دی ۔
روح القدّس نے  انسان پر آزمائش کے بعد  توھین کی تفسیر  محمدﷺ کو بتائی !
 كَلَّا ۖ بَل لَّا تُكْرِمُونَ الْيَتِيمَ ﴿89:17
ھرگز نہیں  ، تم   الْيَتِيمَ کا اکرام نہیں کرتے ہو!

وَلَا تَحَاضُّونَ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ ﴿89:18

طَعَامِ الْمِسْكِينِ کے لئے تم  کوشش نہیں کرتے !

وَتَأْكُلُونَ التُّرَاثَ أَكْلًا لَّمًّا ﴿89:19﴾ 
 
اور تمہیں دی گئی  ، التُّرَاثَ ( یتیموں اور مسکینوں کی وراثت)  کو گنجائش سے زیادہ  کھاجا ( اپنے اور اپنی اولاد کے لئے) بناتے ہو ؟
 
وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا ﴿89:20
اور تم  دانہ دانہ ، جمع کئے  ہوئے  سےالْمَالَ  محبت کرتے ہو  ! 

وہ  جسالْيَتِيمَ کی ذمہ داری ہے، تمھیں دی گئی ، تم اُسے دھکا دے کر اُس اپنے (خاندان) سے دور کردیتے ہو ، لہذا   ابتلاء میں سے کامیاب نہ ہو ئے ، تو اللہ نے تمھارے  رزق کی مقدار   کردی ، اب اِس قدر کئے ہوئے رزق میں  الْيَتِيمَ  کواپنے خاندان میں  شامل کر لو ۔یقیناً تیرا رَبَّ     تیرے   الْمِرْصَادِ کے  ساتھ ہے !
اِس    ابْتَلَا سے کامیابی سے گذرنے کے بعد اکرام اور انعام دے گا-
ورنہ یہ   ابْتَلَا (  رزق کی راشننگ) عذاب بن کر چمٹ جائے گی ! 
 
 ٭٭٭٭٭٭٭مزید پڑھیں ٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔