میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 25 اکتوبر، 2017

دُور اندیش درویش



 "حضرت کوئی ایسا طریقہ بتائیے کہ میں اپنے بارے سب کچھ جان سکوں اور اُس کی اصلاح کر سکوں   !"
مردِ  دور اندیش درویش گہری سوچ میں ڈوب گیا ، کافی دیر بعد سر اٹھایا اپنی بے نور آنکھوں سے کہیں دور خلاء میں گھورتا رہا ۔  نوجوان کی طرف سر گھمایا ۔

"شادی شدہ ہو ؟ " مردِ درویش نے پوچھا
"جی حضرت  " نوجوان نے جواب دیا ۔
"کام نہایت مشکل ہے مگر طریقہ آسان "  مردِ درویش بولا ، " کر لو گے "
" جی  حضرت  بتایئے " نوجوان جذباتی انداز میں جلدی سے بولا ،
" ضرور کروں گا ،

ضرور کروں گا " 
اور بزرگ کا ہاتھ  پکڑلیا ۔
مردِ درویش گویا ہوا ،
" ایسا کرو ، گھر جاؤ "
"آپ بعد میں بتائیں گے ؟" نوجوان بولا ۔
" نہیں  ، پگلے  ، ابھی سنو !" مردِ درویش بولا 
،
،
،
،
،
،
،
" گھر جا کر اپنی بیوی کی ایک خامی  اُسے بتاؤ ۔ وہ  تمھاری تمام خامیاں بمع تمھارے خاندان بتا دے گی "







خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔