میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 19 اکتوبر، 2017

اُلو کا پٹھا کہنے پر مقدمہ



مولانا محمد علی جوہر  (وفات  4 جنوری 1931 لندن) شیخوپورہ تشریف لائے اور ایک جلسے میں مرزا غلام احمد قادیانی کو الو کا پٹھا کہہ دیا اورقادیانیوں نے ان پر مقدمہ کر دیا.
  مولانا محمد علی جوہر جالندھری رحمۃ اللہ علیہ پریشان تھے کہ اب اس کو الو کا پٹھا کیسے ثابت کروں ، انہوں نے اپنی اس پریشانی کا حال مولانا لال اختر حسین (وفات 1973)  کو سنایا ، جو قادیانیت ترک کرچکے تھے ، کو بتایا  اور کہا ،
اگر آپ اسے الو کا پٹھا ثابت کردیں تو میں آپ کو انعام دوں گا اور آپ میرے صفائی کے گواہ ہوں گے!
مولانالال ختر حسین نے تاریخ اور دن نوٹ کیا اور مقررہ روز شیخوپورہ کی عدالت میں
پہنچ گئے ، جہا ں دو مجسٹریٹ مقدمہ سن رہے تھے ، مولانا لال اختر حسین نے مرزا غلام احمد قادیانی کی کتاب سے عدالت کے سامنے دو حوالے پیش کیے اور کہا مرزا اپنی کتاب میں لکھتا ہے:
 جب نئی نئی گرگابیاں بازار میں آئیں تومیری ماں نے گرگابی لے کر دی ، اس سے پہلے میں دیسی جوتی پہنا کرتا تھا ، جب گرگابی پہن کر چلتا تو میرے ٹخنے آپس میں ٹکراتے تھے اور کبھی کبھی تو خون بھی بہہ نکلتا تھا ، میں نے ماں سے کہا ، ماں یہ مجھے کیا لے دیا میری ماں نے جب میرے پاؤں کی طرف دیکھا تو دایاں جوتا بائیں اور بایاں دائیں پاؤں میں پہن رکھا تھا اور کہنے لگا ماں مجھے پتہ نہیں چلتا کہ دایاں کون سا ہے اور بایاں کون سا ؟ماں نے اس جوتے کے جوڑے پر دو پھمن لگا دیے دائیں پر سرخ اور بائیں پر سبز۔۔۔۔۔مرزا کہتا ہے کہ اس کے باوجود میں جوتا الٹا پہن لیا کرتا تھا۔

دوسرا حوالہ یہ دیا۔ مرزا کہتے ہیں:
مجھے گڑ کھانے کا بہت شوق ہے گھر سے چوری گڑ لے کر اپنی جیب بھر لیتا اور مجھے پیشاب کی بھی بیماری تھی ،مجھے باربار پیشاب آتا تھا جیب میں ایک طرف مٹی کے ڈھیلے اور دوسری طرف گڑ کے ڈھیلے جمع کرتا تھا۔اکثر میرے ساتھ یہ ہوتا تھا کہ استنجاء کی جگہ گڑ استعمال کرلیا کرتا تھا اور گڑ کی جگہ مٹی کا ڈھیلا کھا لیا کرتا تھا۔
 دونوں مجسٹریٹ مسکرانے لگے.. ایک مجسٹریٹ نے دوسرے سے کہا :
اس کو الو کا پٹھا نہ کہیں تو اور کیا کہیں۔
  مولانا محمد علی جوہر جو کٹہرے میں کھڑے تھے فورا بول اٹھے ،
اس کو بھی گرفتار کرلو،لگاؤ ہتھکڑی ۔ میں نے جلدی میں مرزا کو الو کا پٹھا کہا اور انہوں نے عدالت میں ۔
 اب سیدھی بات ہے کہ مجھے بھی چھوڑ دو یا پھر مجسٹریٹ صاحب کو بھی گرفتار کر لو۔
مجسٹریٹ نے مولانا محمد علی جوہر   کو باعزت بری کردیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مزید پڑھیں


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔