میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 19 اکتوبر، 2017

قادیانیت - مرزا غلام احمدآف قادیان

تمہید:
مذہب اسلام میں 200 ہجری کے انسانی لکھی ہوئی انسانی ہدایات کی کتابیں ، جن میں یہ تصور دیا گیا کہ قیامت کے نزدیک ، عیسیٰ علیہ السلام واپس آئے گا عیسیٰ علیہ السلام نبی نہ ہوگا لیکن محمدﷺ کا امّتی ہوگا ۔ ساری دنیا میں انصاف و امن کا بول بالا ہوگا ،جس کی تصدیق امام مہدی کرے گا ، گویا امام مہدی کا درجہ ، عیسیٰ علیہ السلام سے بلند ہوگا ۔اور عیسیٰ علیہ السلام ، محمدﷺ سے بھی بلند ہو جائے گی ، کیوں کہ نعوذ اللہ  جس امر  کی اللہ نے  ،   الکتاب میں   بذریعہ روح القدّس ،    بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ   سے مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ   
 تک   ۔محمدﷺ کو ذمہ داری دی وہ پوری نہ ہوسکی ۔ جس کو آپﷺ سے دوسو سال بعد آنے والے انسانوں نے جانچا ، پرکھا اور  انسانی ہدایت کے لئے  لکھی گئی ،اپنی کتابوں میں اِس بات کی تصدیق کر دی ۔

ہر لکھنے والے نے، یہی دعویٰ کیا  ،  قرآن نازل ہو رہا تھا اور  قران نازل ہونے والوں   میں تمام بُرائیاں  سوائے چند لوگوں کے اُسی طرح موجود تھیں ، جس کی بنیاد پر  ، نعوذ باللہ  ،اللہ کے رسول کو یہ اعلان کرنا پڑا ، کہ بنی اسرائیل میں 72 فرقے تھے اور میری اُمّت میں 73 فرقے بنیں گے ، گویا، اِن کتابوں کے مطابق ، اُمتِ محمد   فرقہ بندی میں، بنی اسرائیل سے ایک فرقے کی بازی لے جائے گی ، کیوں کہ یہی ایک فرقہ جنتی ہوگا اور باقی سب جہنمی ۔ 
بنی اسرائیل کے 72 فرقوں کو ، معذرت اُمتِ محمد کے 72 فرقوں کو اکٹھا کرنے کے لئے ، 73 واں فرقہ وجود میں آیا ، جس کے بانی نے 1875  میں خود کو ابنِ مریم اور مہدی ہونے کا اعلان کیا، جس کے مطابق،
"  سب ، کافر اور جہنمی    سوائے اُس  پر ایمان لانے والے احمدیوں کے  " ۔
 یہ سننا تھا  کہ اُمتِ محمد کے 72 فرقے ، جو پہلے ایک دوسرے کے خلاف باہم دست وگریباں تھے متحد ہو گئے ۔
پاکستان بننے سے پہلے فرقوں کی تعداد تو معلوم نہیں ، لیکن پاکستان بننے کے بعد ، ہندوستان سے فرقوں کی پاکستان میں ہجرت کے بعد ، چند نئے فرقے بھی وجود میں آئے ۔جنہیں  کفّار میں شمولیت دینے کے مسلک کا نام دے کر،"  بین الاقوامی  الاسلامی اتحاد"  کی  چادر میں ٹانک دیا گیا ۔

  جو اعلانیہ تو  اپنے علاوہ دوسرے مسالک کو  اپنے   دین (اللہ کے نہیں ) سے ہٹا ہوا لیکن ، اندرونیہ  کافر و مشرک  گردانا جاتا رہا ہے ۔ سوائے احمدیہ فرقہ کے جس پاکستان کی قومی اسمبلی نے 1974  میں خارِج اسلام قرار دے دیا جس پر ، 72 فرقے اور نئے مسالک پاکستان کے اندر سب متفق ہیں ۔ 
جبکہ ،  محمدﷺ نے     اللہ کی طرف سے  بذریعہ روح القدّس ،    بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ   سے مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ     تک  نازل ہونے والی الکتاب   ، اللہ کے منتخب حفّاظ کو حفظ کروا ئی جو  اِس وقت لاکھوں حفّاظ کے سینوں میں محفوظ ہے  اور ناقابلِ تبدیل ہے ۔ جس میں کہیں  وہ اساطیر نہیں جو امام مہدی و  نزولِ عیسیٰ  سے متعلق ہیں ۔ 
لیکن اِس  کے باوجود  سب نزولِ امام مہدی و عیسیٰ پر سختی سے قائم ہیں ۔ لیکن جب کوئی مہدی یا عیسیٰ کا دعویٰ کرتا ہے  ، یہ سب اُس کے خلاف ایک محاذ بنا لیتے ہیں ، سب قرآن کو اللہ کی کتاب مانتے ہیں اور اِس بات کو بھی ایمان میں شامل کرتے ہیں کی قرآن میں تھوڑی بہت تحریف ضرور ہوئی ہے ۔ 
پڑھیں :   کیا واقعی قرآن محفوظ ہے ؟ 
 جتنا بھی بڑے سے بڑا ، مبلغ ہو  ۔ وہ تمام چور دروازے بند بھی کر دے لیکن ایک دورازہ  " کشف یا  خواب " کا ضرور کھلا رکھتا ہے ۔اور پھر خود اُس پر جم کر بیٹھ جاتا ہے ۔


 
یہ وہ چور دروازہ ہے ، جس سے کئی"  مسیح موعود ، امام مہدی یا بروزی نبی  یا مختلف فرقوں کی امام الوقت "برآمد ہوتے رہیں گے، چنانچہ   مرزا غلام احمد قادیانی  نے بھی خود کو مسیح موعود اور امام مہدی   کہلوانا پسند کیا  ۔


مرزا غلام احمد قادیانی   کی ذاتی زندگی:
  مرزا غلام احمد 13 فروری 1835 کو قصبہ قادیان جو بھارت کے ضلع گورداسپور میں واقع ہے، میں پیدائش ہوئی ، والد  مرزا غلام مرتضیٰ اور والدہ چراغ بی بی تھی ۔مرزا غلام احمد کی دو بیویاں حرمت بی بی اور نصرت جہاں بیگم تھیں جن سے بارہ بچے تھے پانچ کم عمری میں مر گئے چھ نے کافی لمبی عمریں پائیں اور ایک نے درمیانی عمر پائی ۔ اورمرزا غلام احمد نے  26 مئی 1908کو لاہور وفات پائی ، میت قادیان لے جاکر دفن کی گئی ۔
بشارت کے مطابق ، مسیح موعود کی وفات سے پہلے  تمام دنیا کے انسانوں کو مسلمان ہونا چاھئیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا ، یہاں تک کہ برصغیر کے انسان مسلمان نہیں ہوئے ۔
چنانچہ مزید رسولوں اور نبیوں کے منتظر رہیئے کیوں کہ ساری دنیاکو مسلمان ہو کر اللہ کی کچھ آیات (نعوذ باللہ  ) غلط ثابت کرنا ہے ۔ (مہاجرزادہ)
مسیح عیسیٰ ابنِ مریم  کی تاریخ میں شادیوں اور بچوں کا ذکر نہیں ، لیکن مرزا غلام احمد دو شادیاں کیں اور
جن سے درج ذیل اولاد ہوئی :
 1- مرزا سلطان احمد- 1853 تا   1931   
2- فضل احمد- 1855 تا  1904  
3- عصمت-  1886 تا  1891
4-بشیر - 1887 تا   1888
 5-مرزا بشیرالدین محمود - 1889 تا  1965 
6 -شوکت - 1891 تا   1892
 7- بشیر احمد - 1893 تا    1963 
 8- شریف احمد - 1895 تا   1961
9- مبارکہ بیگم - 1897 تا   1977
 10 -مبارک- 1899 تا   1907
11 -امتل نصیر- 1903 تا  1903
12-  امتل حفیظ بیگم 1904/1987
1875 میں چالیس سال کی عمر میں اُس نے اعلان کیا کہ ، "اُس پر وحی نازل ہوتی ہے "
 اور   دعویٰ کیا کہ وہی ایسا شخص ہے جس کا مختلف کتابوں میں وعدہ کیا گیا ہے ۔ یعنی قیامت کے نزدیک جس ہستی (مسیح عیسیٰ ابنِ مریم)   کو لوگوں کی ہدایت کے لئے بھیجا جائے گا۔

 مرزا غلام احمد کے دعویٰ کے مطابق رسول دو قسم کے ہوتے ہیں:
1-  جو شریعت اور قانون لے کر آئے یعنی حضورﷺ
2- جو پہلے سے موجود
شریعت اور قانون کی تصدیق کرتے ہوئے اُسی کی تبلیغ کرے -
لہذا وہ رسول ہے اور نبی بروزی (نئی اصطلاح جو مرزا غلام احمدنے  ایجاد کی ) 
 دیگر علماء  کے مقابلے میں مرزا غلام احمد نے میدان مناظرہ میں خاصی کامیابی حاصل کی اپنے فہمِ اسلام  کو آیاتِ القرآن اور صحاح ستّہ سے   دفاع کرنے  میں  بھرپور کردار کیا ، جس کو اس دور کے اکابرین نے دادوتحسین کی نظر سے دیکھا اور اس کی ہمنوائی بھی کی۔
ان مداحین میں  علامہ اقبال(1877 تا 1938)  کا خاندان یعنی ان کے والدِگرامی اور بھائی عطامحمد بھی تھے ۔ علّامہ محمد اقبال  بھی مرزا غلام احمد کو  دورِ حاضر میں اسلام کا خادم اور مجدد قرار دیتے تھے ۔
مرزا غلام احمدکے متبعین نے جب  طرح طرح کی تاویلوں سے، مرزا غلام احمد کو "  بروزی نبوّت" کے  منصب کا اہل ، مسیح موعود ، صاحبِ الہام ووحی اور بشیر ونذیر بنانا شروع کر دیا ۔
لاہور میں اس کے حواریوں نے  عقل مندی دکھائی  اور نبی کی بجائے اس کو عہدِحاضر کا، "مجدد  و مہدی"  بنایا اور ایک باقاعدہ تحریک نے اٹھ کر "احمدیت" کا مذہب ایجاد کر لیا اور  لاہوری گروپ کے نام سے پہچانے گئے ، قادیان اور لاہوری گروپ دونوں نے ، اپنے علاوہ  دوسرے مسلمانوں کو"کافر" قرار دے دیا ۔

کہا جاتا ہے ، جب علامہ اقبال کا سورج بطور ایک مفکّر طلوع ہوا تو   1916 ، یعنی 35 سال کی عمر میں ، اُنہوں نے مرزا غلام احمد  سے دوری اختیار کی -
  بشیراحمد ڈار نے اپنی کتاب " اقبال اور احمدیت" کے صفحہ نمبر 17 پر لکھتے ہیں :

 1916ء میں اس {کسی مرزائی کے مضمون} کے جواب میں ایک بیان دیا ۔" جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی ایسے نبی کا قائل ہو جس کا انکار مستلزمِ کفر ہو وہ خارجِ اسلام ہو گا۔ اگر قادیانی جماعت کا بھی یہی عقیدہ ہے تو وہ بھی اسلام سے خارج ہے ۔

 جن کتابوں میں یہ پیشین گوئی کی گئی ، اُن میں یہ ضرور لکھا ہے کہ مسیح عیسیٰ ابنِ مریم آسمان سے  ڈائریکٹ آئیں گے کسی عورت کے پیٹ سے پیدائش نہیں ہو گی ، یعنی وہ   مرزا  غلام احمد  ، 53 سال تک احمد کا غلام رہنے کے بعد ، بھی مرزا  غلام احمدولد   مرزا غلام مرتضیٰ رہا ۔   مرزا  غلام احمد بن  چراغ بی بی نہیں کہلایا  ۔ جبکہ مسیح موعود  ، کی   وہی  صفت ہونا چاھیئے یعنی  مسیح عیسیٰ ابنِ مریم کی  :

۔ ۔ ۔  أَنِّي أَخْلُقُ لَكُم مِّنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَأَنفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللّهِ وَأُبْرِىءُ الْأَكْمَهَ والْأَبْرَصَ وَأُحْيِـي الْمَوْتَى بِإِذْنِ اللّهِ وَأُنَبِّئُكُم بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِكُمْ۔ ۔ ۔ [3:49]
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔