میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 11 نومبر، 2017

پروسٹیٹ گلینڈ اور بیماری

 پروسٹیٹ گلینڈ مرد کے جسم کا ایک اہم جزو    ، جس  سے نکلنے والا سیال جو  مردانہ خصیوں سے  نکلنے والے نطفوں کی حفاظت  کرتے ہوئے تیزی سے بہہ کر باہر نکلنے میں  مدد فراہم کرتا ہے ۔ جو مثانے سے جڑا ہوتا ہے ۔
اخروٹ کے برابر جسامت کے اِس   غدود  کے درمیان میں مثانے  سےنکلنے والی   پیشاب  کی نالی  گزر کر  باہر کے راستے کے اختتام پر جاتی ہے ، پیشاب کی نالی   کے اِس غدود سے نکلنے کی وجہ  صرف یہ ہے  کہ یہ   سیمنز (نطفے)  اور فلیوڈ(سیال) کو راہداری فراہم کرے اور جنسی عمل کے دوران پیشاب کے اخراج کوسُوج کر ، سیال کے چیمبر سے پہلے   روک دے ۔اگر اِس دوران پیشاب کرنے کی کوشش کی جائے تو خاصا زور لگانا پڑتا ہے ۔یہ کیفیت صبحِ کاذب کے وقت محسوس کی جاسکتی ہے ۔جب عضوتناسل میں ہارمونز کی وجہ سے سخت ترین شکل اختیار کر لیتا ہے ۔
جنسی عمل کے دوران ، پروسٹیٹ  گلینڈ  میں سیال مادہ تخلیق ہوتا ہے جو پیشاب کی نالی میں رطوبت پیدا کرتا ہے اور جنسی عمل کے خاتمے پر  مردانہ خصیوں سے نکلنے والے نطفے  مثانے سے جڑے پروسٹیٹ گلینڈ کے ساتھ جڑے ہوئے چیمبر میں پہنچ کر ، گلینڈ سے نکلے ہوئے سیال میں شامل ہوتے ہیں ، جہاں اُنہیں پچکاری کی طرح    اچھل کر باہر نکلنے کی قوت  چیمبر    فراہم کرتا ہے  ۔
 کسی بھی بیماری کی وجہ سے ، پروسٹیٹ  گلینڈ   سوج جاتا ہے اور پیشاب کی نالی  کو یاتو تنگ کر دیتا ہے یا پھر بند کر دیتا ہے ۔ چنانچہ پیشاب کو باہر نکالنے کے لئے زور لگانا پڑتا ہے ۔ گو کہ پروسٹیٹ  گلینڈ کی بیماری عمر کے کسی بھی حصے میں ہوجاتی ہے لیکن اِس کا تناسب  50 سال کی عمر میں زیادہ ہوجاتا ہے ۔جسے  بینائن پروسٹیٹک ہائپرپلاسیا (BPH)  کہتے ہیں ، اِس بیماری (سوجن)  کا پروسٹیٹ  گلینڈ کے کینسر سے کوئی تعلق نہیں ۔ 
پروسٹیٹ کی بیماری کے آثار :
٭-  پیشاب کے دوران جلن محسوس کرنا -
٭- پیشاب کے بہاؤ میں کمی ہوجانا ۔
 ٭- پیشاب کرنے  کے شروع اور خاتمے میں تکلیف    ہونا -
 
٭- مثانے کے بھر جانے سے پیشاب کا  نکلنا نہیں بلکہ  رِسنا -
 پروسٹیٹ کی کینسر  کے آثار :
٭- رات کو پیشاب کی زیادہ حاجت محسوس ہونا-
٭- پیشاب میں خون آنا ۔
احتیاطی تدابیر
خوراک:
٭- متوازن غذا کا استعمال
٭- سٹرا بیری، رس بیری اور بلیک بیری کا استعمال  اور وہ بیری جن میں وٹامن سی اور اینٹی آکسیڈنٹ ہوں۔
٭- مچھلیاں جن میں اومیگا-3 فیٹی ایسڈ ہو ۔
٭- پھلوں کے بیج بشمول آم کی گٹھلی ، تربوز ، پیٹھا کدّو، تربوزہ ، خربوزہ ، سورج مکھی کے بیج چھلے ہوئے ایک کھانے کے چمچ کی مقدار میں دن میں دومرتبہ کھائیں ۔
٭- بینز  ، لوبیا   اور سفید و کالے چنے 
٭- سبز چائے
٭- تربوز 
٭- سیب کا سرکہ  ایک کھانے کا چمچ ،  شہد ایک چائے کا چمچ ایک گلاس پانی میں ملا کر صبح اور شام پیئں
دوائیاں (ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ):
ایلو پیتھک:

٭- الفا بلاکر  گولیاں ، پروسٹیٹ مسلز کو  نرم کرنے کے لئے      terazosin (Hytrin) اچھی دوا ہے ۔
٭-  پرانی بیماری کی صورت میں ، 
dutasteride (Avodart) یا   finasteride (Proscar)  کارآمد ہیں ۔
ہومیو پیتھک: (میٹریا میڈیکا) ۔  پانچ  بہترین دوائیں !
 ٭- بریٹا کارب(Baryta Carb پروسٹیٹ گلینڈ  یا جسم میں کہیں بھی سوجن ہو کم کرتا ہے  جیسے ٹانسلز ، بڑھاپے میں، کمزور  یاداشت کے لئے فائد مند ہے -یہ بیریم کاربونیٹ  کے خاصے سے  تیار کی جاتی ہے ۔
٭-ڈیجیٹالیس 
   (Digitalisدل کے مریض اور پروسٹیٹ گلینڈکی بیماری کے لئےمفید ہے ۔یہ  پھول سے کشید کی جاتی ہے ، جس میں موجودکیلثیم، بڑھاپے میں   دل کی دھڑکن کی تیزی کا سبب بنتی ہے ، اِس کے علاوہ دمہ ، تپ دق، قبض ، سردرد اور تشنج میں بھی فائدہ مند ہے ۔
٭-سٹافی سیگریا     (Stapysagria)۔  پیشاب میں جلن ختم کرنے کے لئے، یہ  پھول سے کشید کی جاتی ہے-
٭-کون یم     (Conium)۔  سوجے پروسٹیٹ گلینڈمیں پیشاب جاری رکھنے کے لئے، یہ  پھول سے کشید کی جاتی ہے-
٭-سابل سیرولاٹا     (Sabal Serrulata  پروسٹیٹ گلینڈکی بیماری کے لئے، بہترین دواء۔


جنسی افعال:
٭- انسان کے جسم میں جنسی افعال  نہ کرنے کی صورت میں پروسٹیٹ گلینڈ اور خصیوں میں بننے والے نطفوں کا خودکار نظام کے ذریعے باہر نکالنے کا بندوبست ہے جسے احتلام  کہاجاتا ہے ۔ جس کی تعداد کا کُلّی انحصارذہنی جنسی سوچ پر یا مرغن خوراک پر  منحصر ہے ۔ 
٭- شادی شدہ افراد میں پروسٹیٹ گلینڈ  کی فعالیت اُسے سوجن سے بچاتی ہے ۔
٭- 50 سال کے بعد
پروسٹیٹ گلینڈکو ہفتے یا کم از کم مہینے میں ایک بار فعال رکھا جائے ۔خواہ مشت زنی کیوں نہ ہو !
٭- مشت زنی کا کسی قسم کا کوئی جسمانی یا جذباتی نقصان نہیں ۔ جنسی  فعل  کا تعلق ذہنی سوچ سے ہے   ، جبکہ مشت زنی کا تعلق  عضو تناسل کے مساج سے ہے ۔
٭-50 سال سے زیادہ عمر کے   5 سے 10 فیصد افراد ، مشت زنی سے اپنی پروسٹیٹ گلینڈ کی ابتدائی بیماری کو ختم کر سکتے ہیں ۔
٭- ادویات کے ذریعے پروسٹیٹ گلینڈ کے  جنسی فعل کو بڑھانا ،دیگر بیماریوں کو دعوت دینا ہے - جس کا شدید  نقصان 60 سال سے اوپر کی عمر میں ظاہر ہوتا ہے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔