میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 23 نومبر، 2017

اور میری جان نکل گئی

دوستوں کی محفل تھی  جوزی ہم سب میں عمر والا تھا !
کیوں کہ 60 سال کا ریٹائر ہوکر ، پنشن پر گذارا کر رہا تھا ۔
عمر میں دوسرا نمبر میرا کیوں کہ  فوج نے 48 سال کی عمر میں ریٹائر کر دیا تھا ، ہم سب، جی 6   مرکز میں ، ایک چرغے والے ٹھیّے  کی پلاسٹک کی کرسیوں پر بیٹھے آرڈر کا انتطار کر رہے تھے
یار جوزی صاحب ، اِس عمر میں  بوڑھے لوگ کیا کرتے ہیں ۔  راؤ نے پوچھا
 راؤ جی  مرد اور گھوڑا کبھی بوڑھا نہیں ہوتا ۔ جوزی نے فلسفیانہ اندازِ مردانی میں جواب دیا ۔
جوزی صاحب ،  ٹھیک ہے لیکن  جوان گھوڑے اور عمر رسیدہ گھوڑے  کی چال  میں کچھ تو فرق ہو گا نا
کہاں سرپٹ دوڑتا ہوا    اور کہاں مریل سی چال اور وہ بھی ہانپ ہانپ کر -
جمیل صاحب بولے
جوزی صاحب ،  خاص چارہ کھاتے ہیں  - شجاعت نے گرہ لگائی 
جوزی ، بڑا چھپا رُستم ہے  - امجد بخاری نے اپنی رائے کا اظہار کیا 
جوزی ، دبی دبی مسکراہٹ سے یہ سب کی باتیں سُن رہا تھا، جن میں  خادم حسین رضوی کے خطیبانہ  جوَاہر ِخاص ، بلا کم و کاست دُھرائے جا رہے تھے  ۔ جن سے پاس گذرنے والے ویٹروں کی معلومات میں کچھ خاص اضافہ نہیں ہورہا تھا ۔ جب سب اپنی اپنی رائے کا اظہار کر چکے  تو میں نے کہا،
جوزی ، صاحب  سب نے اِس عمر  میں پہنچنا ہے ، ہماری معلومات کے لئے اپنے تجرباتِ خاص سے مستفید فرمائیں   - میجر صاحب ، یہ سب بچے ہیں عمر کے کچّے ہیں   - جوزی نے  لوہے پر چوٹیں مارتے ہوئے کہا 
،یہی سوال میں نے اپنے سے ایک سینئیر دوست سے پوچھا تھا ۔ آج میں شیئر کرتا ہوں ! گو کہ یہ پنجابی میں ہے اور ایسی باتوں کا لطف پنجابی میں آتا ہے   ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یار جوزی ،  یہ عمر بھی کیا عمر ہے ؟
اخبار پڑھتے ہیں ، ماضی یاد آجاتا ہے تصویریں دیکھ کر ،
ٹی وی دیکھتے ہیں تو سوچتے ہیں کہ یہ عورت ہے یا حور ؟
یا   عورتیں ایسی بھی ہوتی ہیں ؟
ہم تو ساری عمر بھینسوں میں گذارتے رہے ۔
بستر پر جاتے ہیں ، وہ ڈبل بیڈ جو ہمارے لئے جنت ہوتا تھا ، اب ایک وسیع میدان نظر آتا ہے ۔ جس کے ایک کونے پر بیوی اور دوسرے کونے پر ہم ہوتے ہیں !
لیکن مردانگی  ہے کہ باز نہیں آتی ۔
بستر پر لیٹتے  تو یہ معمول بنا لیا ، کہ بیوی کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ، وہ کسمکساتی ،
چھوڑ جی پاگل ہوئے ہو!
بچے کیا سوچیں گے !
صبح نماز قضا ہوجائے گی ۔
اِس عمر میں  ، کچھ بہووں کا خوف کرو !
اللہ اللہ  کرنے کے دن ہیں ۔

یار جوزی، یہ جملے سنتے اور آرام سے سو جاتے ، کہ چلو آج کے دن مردانگی کا بھرم رہ گیا ۔
ایک دن ہو یہ کی ہم دونوں ٹی وی دیکھ رہے تھے ، پوتا اور پوتی ، بیٹے اور بہو کے ساتھ باہر گئے تھے ۔
ٹی وی پر ایک بھڑکیلا اشتہار آیا  تو یہ جملہ کھسکا دیا ، بیوی   ایک شادی بڑھاپے میں بھی مرد کو کرنا چاھئیے !
کھانا وغیرہ کھایا ،  جب ٹی وی پر جھنڈا لہرایا ، گھر میں خاموشی تھی ۔ 
کمرے میں گیا ، بیوی دیوار کی طرف منہ کرکے شاید سوگئی تھی ۔
میں بھی بستر پر لیٹ گیا ۔
بے دھیانی میں ، عادتاً بیوی کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا ۔
اُس نے کروٹ بل کر میری طرف دیکھا اور مسکرائی !

،
،
،
،
،
،
،
،
،
،
،
،
،
،
میرا تے ساء   نکل  گیا !

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔