میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 26 نومبر، 2017

بریلوی فرقہ اور توھینِ رسالت


"بریلوی مسلک " کے کرتا دھرتاؤں   اور سنت کے خلاف بلا تخصیص گالم گلوچ کرنے والوں نے پاکستان سے ، "دیوبندی مسلک" کے خلاف ایک ایسی تحریک کی آڑ میں، اپنے لائحہ عمل کا آغاز کر دیا ہے ۔ جس کا بنیادی مقصد پاکستان میں انتشار پھیلانا ہے اور عوام کو اپنے اماموں کے ، پسینے تھوک اور بلغم کو مقدّس بنوانے کے لئے ، محمدﷺ کے ، پسینے ، تھوک بلغم ، پیشاب یہاں تک کہ ٹٹی کو پاک و مقدّس کھانے کی حد تک کہلوانا ہے ۔اُن کے آباء و اجداد کے اساطیر  میں شامل ہیں  اُن کم فہم اور جاہل مسلمانوں کو سنانا ،  جن کا ایمان جاہل مُلاؤں کی طلسماتی کہانیوں سے شروع ہوکر ، مزاروں پر کئے جانے والے سجدوں پر ختم ہوجاتا ہے ۔
وڈیو دیکھیں ۔
یہ کم فہم  مذہب پرست ، ایک طرف تو اسلام پھیلانے کی ابتدائی کوششوں پر محمدﷺ کی انسان ترسی کی کہانیاں شوق سے سنتے ہیں اور دوسری طرف مدینہ کی حکومت قائم کرکے ، اللہ کی طرف سے رحمت للعالمین کا لقب پانے والے ، کو نہایت سفاکی کی حدوں پر پہچانے والوں نے " کتاب اللہ " کو بھی قابلِ عمل نہیں گرانا ۔ 
قرآن کے نام پر بہت مذموم کوششیں کی گئیں اور اب بھی ک جارہی ہیں ۔   جن کا مقصد مسلمانوں کی ایمان و یقین کو متزلزل کرنا ہے ۔ جن کی بنیاد اِن کتابوں  یا اِن کے بعد لکھی ہوئی اِنہی کتابوں شرح سے ہوئی ۔جس میں ایسی ایسی کہانیاں شامل کر دی گئی جو اِن کتابوں میں نہ تھی ۔ 
 
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
   بائبل (قدیم و جدید )       الْكِتَابَکی  مُتَشَابِهَاتٌ  ہیں ؟

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔