میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 28 نومبر، 2017

صحاح ستّہ کے مصنفین کی مذموم کوششوں کی چند جھلکیاں

مسلمانوں  میں   یہ  عقیدہ   ہے کہ القرآن آج جس شکل میں ہم تک موجود ہے یہ بعینہ ویسا ہی ہے جیسا کہ خود محمد صلعم پر نازل ہوا  کیوں کہ اِس کی  حفاظت کا ذمہ خود اللہ نے اٹھا رکھا ہے۔
اگرچہ مسلمانوں  سے نکلا شیعاً فرقہ، اپنی روایات کی روشنی میں اس عقیدے کا قائل نہیں،

إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُواْ دِينَهُمْ وَكَانُواْ شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُواْ يَفْعَلُونَ [6:159]
پڑھیں :  الدین میں فرق کرنے والے شیعا!
  باقی 72 فرقے  قرآن کی حفاظت و تدوین کو اللہ کی براہ راست ذمہ داری ہی سمجھتے ہیں۔
لیکن جب اُن کے عقیدے کے مطابق ،  اُن کے مذھب کی عمارت کا جائزہ لیتے ہیں جن کی بنیادیں انسانی لکھی ہوئی انسانی ہدایات کی کتابوں نے تھام رکھی ہے-  جنہیں صحاح ستّہ کہا جاتا ہے ۔
جب اپنے دین کو مضبوط کرنے کے لئے  اِن  انسانی لکھی ہوئی کتابوں کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے  ،کہ اِن کتابوں کے مطابق :
1- قرآن کی پہلی آیت   اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ اور آخری آیت  الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلاَمَ دِينًا  تھی جو حجتہ الوداع 10 ہجری  میں نازل ہوئی، جس کے بعد قرآن مکمل ہوگیا  ۔

 1- محمدﷺ کو جبرائیلِ امین نے قرآن حفظ کروایا اور دو بار رمضان میں سنا بھی ۔
2- اصحاب صفّہ کا کام ، چبوترے پر بیٹھ کر قرآن کی آیات کو حفظ کرنا تھا
3- ایک جنگ میں کئی حفّاظ شہید ہوگئے ،اور بعد کی جنگوں میں بھی حفّاظ  شہید ہوئے ، تو قرآن کی کتابت کا خیال آیا ۔
4- سب سے پہلے  جو قرآن جمع کیا وہ حفّاظ سے نہیں بلکہ دیگر ذرائع استعمال کئے گئے ،
حضرت ابُوبکر صدیقؓ                      کا قرآن تھا ، جو حضرت عمرؓ   کے پاس گیا ۔ حضرت عثمان نے جس مسودہ کو منظور کیا وہ حضرت حفضہ  (بنتِ عمرؓ ) کا تھا ۔ جبکہ مسودہ ابنِ ابوطالب کے علاوہ دیگر مسودات بھی تھے ۔
5- حضرت عثمان   کا جو مسودہ منظر عام آیا :
ا - مکمل نہیں (بخاری )
ب۔ کئی آیات بکری کھا گئی (بخاری)

 ج- اُس کے مطابق  نہیں جیسا نزول ہوا (صحاح ستّہ )
 د- 6666 آیات تھیں (اب 6348 آیات ہیں بشمول 112 دفعہ   ہر آیت کے شروع میں بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ )
 ک۔ اعراب و نقاط نہیں تھے ، کیوں کہ خطِ کوفی میں تھا  (پانچ سو افراد پر مشتمل ، کوفہ اُن دنوں علم و فضل کا مرکز تھا ، کیوں کہ سارے علامہ وہاں جمع تھے، نہج البلاغہ سُن رہے تھے  اورابنِ ابوطالب کے قرآن سے استفادہ کر رہے تھے )
 ل۔ حضرت عثمانؓ ، اُسی کی تلاوت کرتے ہوئے شہید ہوئے ، اُس پر خون کے نشان ہیں (وہ نسخہ توپ کاپی عجائب گھر ترکی میں ہے اور  بخارا میوزیم میں بھی ہے )   ۔
م- حضرت عثمانؓ  کا یہ مصحف 
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  سے لے کر مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ تک ہے  ، 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

صحاح ستّہ  کی تحقیق  سے یہ معلوم ہوتا ہے  کہ قرآن جس موجودہ شکل میں موجود ہے یہ بالکل اس شکل میں نہیں ہے جو خود پیغمبر اسلام کی زندگی تک پایا جاتا تھا ۔ 
نیز یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ خدا کی اس آخری الہامی کتاب کے دعویٰ ہونے کے باوجود، اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی اپنی پیشرو کتب کی طرح پوری نہیں کی جا سکی۔کیسے ؟ آئیں آگے چلتے ہیں  :

1-  یہی روایت،سنن ابو داود، کتاب النکاح، باب ھل یحرم ما دون خمس رضعات، حدیث: ۲۰۶۲ میں بھی ہے ۔
کہ یہ قرآن کا حصہ تھی ۔
جب رسول اللہ کی وفات ہوئی تو یہ الفاظ قرآن میں قراءت کئے جا رہے تھے۔   جبکہ  حجتہ الوداع  ، آیک آیت کے آخری ٹکڑے کا دن تھا :
حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالْدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللّهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلاَّ مَا ذَكَّيْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَأَن تَسْتَقْسِمُواْ بِالْأَزْلاَمِ ذَلِكُمْ فِسْقٌ الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُواْ مِن دِينِكُمْ فَلاَ تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلاَمَ دِينًا فَمَنِ اضْطُرَّ فِي مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّإِثْمٍ فَإِنَّ اللّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ [5:3]   نوٹ : موجودہ ترتیب کے مطابق یہ الکتاب کی 702 آیت ہے
جبکہ مشہور خادمِ رسول حضرت انس بن مالک نے گواہی دے رکھی ہے :
“اللہ نے رسول اللہ کی وفات سے پہلے مسلسل وحی اتاری اور آپ کی وفات کے قریبی زمانے میں تو بہت وحی نازل ہوئی، پھر اس کے بعد رسول اللہ وفات پا گئے۔گویا   وحی  10 ذی الحج 9 ھجری سے 12 ربیع الاول  11 ہجری میں بھی نازل ہوئیں !


افسوس کہ وفات النبی کے انتہائی قریب نازل ہونے والی وحی اور آیات کی حفاظت کا مناسب انتظام نہ ہو سکا اور وہ مختلف حادثات کا شکار ہو کر ضائع ہوتی رہیں۔ چنانچہ ایک ایسے ہی حادثہ میں وہ آیات بھی ضائع ہوئیں جو کہ نبی کی وفات کے وقت لکھی ہوئی آپ کے بستر پر موجود تھیں۔
2۔دو آیات بکری کھا گئی ! 

(سنن ابن ماجہ، ابواب النکاح، باب رضاع الکبیر، حدیث:۱۹۴۴،  مسند احمد:۶/۲۲۹،  مسند ابی یعلیٰ:۴۵۸۷،۴۵۸۸)
اس روایت سے تو مزید واضح ہے کہ آیت رضاعت کے علاوہ آیت رجم بھی نبی صلعم کی زندگی میں نہ صرف یہ کہ تلاوت ہو رہی تھی بلکہ یہ دونوں آیات، محمد صلعم کی وفات تک کاشانہ نبوی میں ایک کاغذ پر لکھی ہوئی موجود تھیں۔ مگر اس بکری کو چونکہ اس بات کی سمجھ ہی نہ تھی کہ یہ قرآن کی آیات براہ راست حفاظت الٰہی میں ہیں، اس لئے وہ اس کاغذ کو ہی کھا گئی جس پر یہ آیات لکھی ہوئی موجود تھیں اور آج کا موجودہ قرآن اِن آیات سے محروم ہے ۔
مزید پڑھیں :   رضاعت اور رجم 

صرف یہی نہیں کہ نبی صلعم کی حیات کے فوراً بعد جو آیات حفاظت الٰہی کے زیر اثر نہ رہ سکیں وہی اس حادثے کا شکار ہوئیں بلکہ یہ سلسلہ اس کے کافی بعد بھی  اللہ کی آیات میں صحاحِ  ستّہ کے مصنفین نے قطع و برید کا سلسلہ جاری رکھا ۔
3-  سورۃ شعراء کی آیات :



فَلَا تَدْعُ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ فَتَكُونَ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ ﴿26/213
وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ
﴿26/214

وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ﴿ 26/215 


اس سلسلے کی روایات ملاحظہ فرمائیں:
اوپر پیش کی گئی روایت میں جس آیت کے نازل ہونے کو ابن عباس (عبداللہ بن عباس بن عبد المطلب  پیدائش  3 قبل ھجری وفات  68 ہجری طائف  )  نے پیش کیا ہے وہ سورۃ شعراء کی آیت ہے لیکن ہمارے موجودہ قرآن کے نسخوں میں یہ آیت صرف،  وَأَنذِرْعَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ  کے الفاظ تک ہی ہے اور اس کے آگے کے الفاظ  وَ رَھطُکَ مِنْھُمِ الْمُخْلِصِیْنَ موجود نہیں ہیں۔


 ابن عباس کا اس آیت کو ان الفاظ کے ساتھ پڑھنا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے نزدیک اس آیت میں وَرَھطُکَ مِنْھُمِ الْمُخْلِصِیْنَ کے الفاظ بھی شامل تھے۔ اگر سلسلۂ سند کو دیکھا جائے تو ابن عباس نے یہ روایت اور یہ آیت مشہور تابعی، اپنے شاگرد سعید بن جبیر(پیدائش 44 ہجری  وفات 95 ہجری  کوفہ )   کے سامنے بیان کی ہے۔
جس سے صاف پتا چلتا ہے کہ ابن عباس، دور تابعین تک اور سعید بن جبیر اپنے دور تک سورۃ الشعراء کی اس آیت کو
 وَ رَحْطُکَ مِنْھُمِ الْمُخْلِصِیْنَ کے اضافے کے ساتھ بیان کرتے تھے،  جو بعد میں نہ جانے کس وقت قرآن سے مکمل طور پر محو کر دی گئی -
اور یہ بھی صحاح ستّہ کے مطابق ، قرآن کی انہیں آیات میں شامل کردی گئی  جن پر اللہ کی حفاظت میں ہونے کی ذمہ داری پوری نہ ہو سکی۔

 4۔موجودہ الکتاب میں سورۃ النساء کی ایک آیت کچھ یوں درج ہے:
لاَّ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُوْلِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فَضَّلَ اللّهُ الْمُجَاهِدِينَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ عَلَى الْقَاعِدِينَ دَرَجَةً وَكُـلاًّ وَعَدَ اللّهُ الْحُسْنَى وَفَضَّلَ اللّهُ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ أَجْرًا عَظِيمًا [4:95]
مگر براء بن عازب (پیدائش قبل 23 ہجری  مکہ ۔ وفات 70 ہجری  کوفہ )   نزدیک یہ آیت، ابنِ مکتوم کی وجہ سے ، اس طرح نازل ہوئی تھی:
یعنی آیت رسول اللہ نے  اِس طرح بتائی  : 
لاَّ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللّهِ غَيْرُ أُوْلِي الضَّرَرِ
 لیکن کاتبِ وحی نے ڈنڈی ماری  اور  اِس طرح تبدیلی کر کے الکتاب میں شامل کردی -
لَّا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ [4:95]
اور حفّاظ نے ایسے ہی حفظ کیا ۔
اور صدیوں سے  بخاری کے مطابق  القرآن کی غلط تلاوت ہو رہی ہے-

جبکہ اللہ کا دعویٰ ہے :
إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ
[15:9]



تو پھر نعوذ باللہ  ، یہ آیت     تو پھر  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  !
آگے چلتے ہیں ، اور صحاح ستّہ  کی مزید پھلجڑیا ں پڑھتے ہیں ۔ جو  ملحدوں ، توہینِ رسالت کرنے والوں کے لئے ھاٹ کیک ہیں ۔
اگر ہمت ہے تو   کرسچئین محقق  جے سمتھ کی    دو گھنٹے کی  یہ وڈیو دیکھیں ۔ کبوتر کی طرح آنکھیں بند نہ کریں !

Islam is founded on Lies & Deception

 کرسچئین محقق  جے سمتھ اور مسلمان سکالر  ادیب اکسل  کے دو گھنٹے اور 55 منٹ کا  مباحثہ

 مباحثے   کا پہلا جے سمتھ کاحصہ ، جو میں نے ایڈٹ کر کے یو ٹیوب پر اَپ لوڈ  کیا ہے دیکھیں۔

IS THE QUR'AN FROM GOD OR FROM MAN J Smith 01

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
5۔ ابو سعید خدری کی ایک روایت میں کہا ہے:

محمد صلعم نے خود بیان کیا کہ “اَللہ الوَاحِدُ الصَّمَدُ  ” قرآن مجید کا ایک تہائی حصہ ہے۔
اب صرف اتنا غور فرمائیے کہ “اَللہ الوَاحِدُ الصَّمَدُ”  الکتاب کی کون سی سورۃ کی آیت ہے؟
دوسری روایات سے پتا چلتا ہے کہ یہ فضیلت سورہ اخلاص کی ہے کہ یہ تہائی القرآن ہے ،  تو پھر سورۃ اخلاص میں یہ آیت کہاں گئی جس کی طرف محمد صلعم نے بطور خاص اشارہ کیا؟
کیا یہ بھی تو انہیں آیات میں سے نہیں جو تدوینِ قرآن کے وقت لکھنے سے رہ گئیں؟

  لیکن ایسا نہیں ہے ، جس الکتاب کو  روح القدّس نے محمدﷺ  پر اللہ کی طرف سے نازل کیا  اور  روح القدّس  نے  خود حفظ  کروایا  اور محمدﷺ  سے سنا کہ وہی وصول کیا گیا جو اُنہیں دیا گیا  اور اللہ کے منتخب ایمان والوں کو حفظ کروایا ، اور یہ سلسلہ  ءِ حفاظت الذکر ،صدیوں سے رواں دواں ہے ۔
پڑھیں:  الذِّكْرَ کے حافظون کون ہیں ؟ 
صحاح ستّہ کے  مصنفین  نے پوری کوشش کی کہ وہ  رسول اللہ کے پائے استقامت کو اکھاڑ دیں ، لیکن  حفّاظ نے اُن کی ایک نہ چلنے دی  ۔ آج بھی   الکتاب  کی پوری دنیا اُسی طرح تلاوت کی جارہی ہے ، جیسےاللہ نے نازل کی -

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔