میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 29 نومبر، 2017

فقیری بیگن


 کل بوڑھے نے " کس نے کھا نا    ۔ ساڈہ کھانا  "  کے شعری کیپشن سے ،   فقیری بیگن کی تصویر فیس بُک کی  جو اُس نے  عین دوپہر  تناول کئے ، بطور ثبوت تصویر ساتھ لَف ہے ۔
محبت کرنے والے دوستوں نے کمنٹس دئے ، بوڑھا محظوظ ہوا ۔
اچھی بھتیجی ڈاکٹر رابعہ خرم درانی نے سوال  پوچھ ڈالا :

سر آنٹی سے بینگن کے دہی رائتہ کی ریسپی پوچھ کر پوسٹ کر دیں۔

آنٹی کیا بتاتیں ؟
38 سال ، اُس کے ساتھ رہتے  رہتے ، آدھا شیف تو بوڑھا بھی ہوگیا ،
اور کھانا پکانے کے بنیادی اصولوں سے واقف ہے ، کنسلٹنٹ تو پہلے ہی تھا ،
لہذا انڈے کو پانی میں تَلا جائے یا تیل میں , کھا نا  تو بوڑھے نے ہے نا !
اب رہی بیگن کو پکانے   کا طریقہ ہائے  جات :
بیٹی ، بینگن کی وسعت، فقیری بینگن سے راجہ ومہاراجہ سے شاہی بینگن تک ہے،
تصویر میں فقیری بینگن ہیں ، جنہیں جلدبازی میں بنایا جاتا ہے ، جب کے خاتون خانہ کے پاس کھانا بنانے کا وقت نہ ہو !

بینگن کے قتلے باریک قتلے کاٹیں ، اُنہیں توے پر دھیمی آنچ میں تلیں ۔ پلیٹ میں ڈالیں اوپر حسب ذائقہ ، نمک اور مرچ چھڑک دیں  (شوہر پر نہیں بیگن پر ) -
دہی الگ پیالے میں ساتھ رکھیں روٹی کے ساتھ،
شوہر کودیں ، چادر پہنیں اور یہ کہتے ہوئے ، اپنے کام پر نکل جائیں ،
"کھا کر برتن سنک میں رکھ دیں  ،اور بچی ہوئی روٹی ہاٹ پاٹ میں رھنا "
شوہرفوٹو کھینچ کر فیس بک پر ڈال دے ، کہ چلو کچھ کا تودل للچائے اور مشہوری بھی ہو،
اب شوہر کی مرضی کہ  نوالے سے بینگن توڑ کر کھائے یا ،  ساتوں قتلے دہی میں ڈبو دے خوب مکس کرے  اور کھائے ، تڑکا لگانے کی ضرورت  ہے مگر  تڑکا تو شوہر کو لگا ہے !
تو  بیٹی ، یہ بینگن اور دہی کہلائے گا   ! 
اگر  ان قتلوں کو کاٹ کر دہی میں ملائے ، تو  بینگن کا فقیری دہی رائتہ کہلایا جائے گا ۔
پہلی صورت میں چاہے  ،
بینگن کو دہی میں ملا کر کھائیں اور
یا   دہی کو بینگن میں ملا کر کھائیں !
رال  ٹپکانے والوں کے لئے ،  مزہ دونوں میں ہے !
٭۔ مہاراجوں کے چھپرکٹ پر لے جانے کے لئے ، اِس میں تمام مصالحے ملا دیئے جائیں۔
٭ ۔ حیدر آبادی نوابوں کے دسترخوان پر رکھنے کے لئے املی کا اضافہ کیا جاتا ہے ۔ اور
٭- شاہی دسترخوان کی زینت بنانے کے لئے ، خُشک میوہ جات ملا دیں ۔
مگر رہیں گے ، بینگن کے قتلے ، بیگن کاسالن اور بگھارے بیگن۔

لیکن اگر وقت ہو تو بیگن سے(بیگم سے نہیں)  انتقام لینا ہو ، تو بازو اوپر چڑھائیں اور اُبلے ہوئے بینگن کا خوب کچومر نکالیں تو وہ بخیر انجام بھرتہ بن جائے گا ۔ یا بینگن سے وکھری ٹائپ کا انتقام لینا ہو تو    آگ پر بھون لیں ،
گیس کی آگ میں وہ مزہ کہاں جو کوئلوں کی آگ  میں ہے ۔کوئلوں کے تڑکے  ، ارے نہیں دھوئیں کے تڑکے سے کام چل جائے گا !
اب اگر وہ تمام مصالحے و میوہ جات جو بینگن میں ڈالیں ، وہ اگر لان میں اُگی ہوی گھاس توڑ کر اُس میں ڈال دیں تو  گھاس  بھی  وہی لذت پاتی ہے   جو پالک میں ہے  !


نوٹ: ڈاکٹر ، صرف فقیری نسخہ جات ،  برائے ترکیبِ ہائے  بینگن   استعمال کریں ! 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مزید پڑھیں :  بگھارے بیگن 












خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔