میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 11 نومبر، 2017

الذِّكْرَ کے حافظون کون ہیں ؟

ایک سوال :   
جب قرآن کی ذمہ داری اللہ نے خود لی ہے تو قرآن کو کتاب کی صورت میں جمع کرنے کا کام صحابہ سے کیوں لیا اگر اللہ تعالی چاہتے تو یہ کام فرشتوں سے بھی کروا سکتے تھے؟
مفسروں نے انسانوں کو تراجم میں جوکچھ باور کروایا یا کرایا جارہا ہے ، اُس سے یہ سوال یقینی پیدا ہوتا ہے !


جس کا جواب نہایت سادہ ہے !
حافظوں کے حافظے میں " الکتاب " کا   قیامت تک ایک ہی ٹیکسٹ رہے گا !
مکمل اعراب و نقاط کے ساتھ اور وہ بھی صرف عربی ٹیکسٹ !

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محمدﷺ کے علاوہ الذّکر کے حافظون کون ہیں ؟
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
آپ کرہءِ ارض کے ہر ملک سے ایک ایک حافظ بلا لیں  اور اُنہیں    الکتاب کا ایک ایک رکوع ، زبانی تلاوت کرنے کو کہیں ، جہاں عربی ٹیکسٹ میں  کوئی غلطی  کرے ، اُسے نوٹ کریں اور دیکھیں کہ ،
الکتاب کو القرآن کرنے میں کتنی اغلاط نکلتی ہیں !
وہاں سے دنیا کو اندازہ ہوگا کہ ، ایک ایسا پیغام جو صدیوں پہلے محمدﷺ کو روح القدّس نے اللہ کی طرف سے دیا تھا  اور محمدﷺ نے اِسے  اللہ کی طرف سے منتخب کردہ انسانوں کو حفظ کروایا   وہ اپنی پوری صحت کے ساتھ موجود ہے ۔

 
یہی ختمِ نبوّت ہے !


 لیکن یہ  غلط العام کروایا گیا  کہ الْقُرْآنَ   ہی     الذِّكْرِ ہے 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یاد رہے کہ اللہ کے ہاں آپ پکڑ عربی میں الکتاب کا فہم سمجھنے میں نہیں ہوگی !
روح القدّس نے  محمدﷺ کو اللہ کی طرف سے بتایا کہ ، الْقُرْآنَ،  الذِّكْرِکے لئے ہے ،
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ[54:17]
  اورحقیقتاً ہم نے الذِّكْرِکے لئے الْقُرْآنَ آسان کرتے رہتے ہیں  ، پس ،کوئی  مُّدَّكِرٍمیں سےہے ؟
٭٭٭٭٭٭٭٭ 
     خارج  الْقُرْآنَ      انسانی   صنعت کردہ ، ذکر و اذکار ،    اللہ  کو قابلِ قبول نہیں ۔
یاد رہے : الکتاب سے منتخب       الْقُرْآنَ   کیا گیا   الذِّكْرِ ہی  اللہ کو قبول ہے ، جس پر ختمِ نبوت ہے ۔اور جو الْفَحْشَاءِ  اور الْمُنكَرِ سے منع کرتا ہے ! اِس عمل کواللہ نے  أَقِمِ الصَّلَاةَ       کہا ہے ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سورۃ الفاتحہ کے 36 آسان الفاظ ، سمجھنے کے لئے ۔ 
سورۃ 1 ۔ آیت ۔2 ۔  الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
 سورۃ 1 ۔ آیت ۔3۔الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ ( آیت 1 میں شامل ہے )
سورۃ 1 ۔ آیت ۔4 ۔  مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔