میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 31 جنوری، 2018

لسانی گونگلو نما ملٹری کریٹ

انسانی تاریخ میں جب بھی انسان نے رزق ، جان بچانے اور جنگوں  میں اپنے آبائی علاقے کے بجائے دوسرے علاقے میں رہائش اختیار کی تو وہاں وہ وہاں کے رہائشیوں میں اجنبی ہونے کی وجہ سے ، آباد کار ، تارکینِ وطن یا مہاجر کہلائے ۔
نئے علاقے میں اگر کوئی قبیلہ آیا تو اُسے وہاں کے پہلے سے موجود قبائل کی دشمنی کا سامنا کرنا پڑا ، پھر آہستہ آہستہ یہ قبائل شادیوں اور دیگر ہم مزاج مشغولات کے باعث ایک دوسرے کے لئے قابلِ قبول ہو گئے ۔
متحدہ ہندوستان کی 14 اگست 1947 کو پاکستان اور بھارت میں تقسیم کے بعد، بہت سے مسلمانوں نے پاکستان کا رُخ کیا جن میں ہر قومیت اور زبانوں کے لوگ تھے ۔
وہ مہاجر جوامرتسر کے راستے پنجاب میں آئے تو وہ صوبہءِ سرحد اور پنجاب میں آباد ہو گئے ،
کھوکھراپار کے راستے سے آنے والے سندھ میں آباد ہوئے ۔
ابتدائی طور پر انصاریوں کے لئے یہ سب مہاجر کہلائے ، پھر حکومت نے سندھ میں اِنہیں مہاجروں کو کلیم میں زرعی زمنیں دیں جن میں حقیقی کلیم کے ساتھ جعلی کلیم بھی شامل کئے گئے ، سندھ میں اپنی کلیم کی زمینوں کے نزدیک شہر میں آباد ہونے والوں کو مقامیوں نے آبادکار کالقب دیا۔   
ہندوستان سے آنے والے وہ مہاجر جن کی مادری زبان اردو تھی ، وہ سندھ مختلف شہروں میں دیگر کاروبار کرنا شروع ہو گئے ۔ سندھ میں لسانی بنیاد پر ، دو قومیں سندھی اور غیر سندھی پہچان بنی ، غیر سندھیوں پنجابی ، پٹھان ، کشمیری ، میمن ، اردو بولنے والے شامل تھے ، اور سندھی بولنے والوں میں مقامیوں کے علاوہ راجپونہ ، گجرات اور بمبئی کے سندھی شامل تھے ۔
ہجرت کے بعد پیدا ہونے والے مہاجروں کے بچوں کو بھی مہاجر ہی کہا جاتا ، یہاں تک کی 16 ستمبر 1953 کو پیدا ہونے والا بچہ بھی مہاجر کہلایا ، یوں لسانی بنیاد پر " مہاجر" ایک قوم بن گئی۔
22 نومبر 1954 کو وزیر اعظم پاکستان محمد علی بوگرا نے پاکستان میں ابھرنے والی اُس صوبائی بنیادوں پر لسانی تقسیم کے خطرات کو بھانپ لیا اور پاکستان کو دو صوبوں مشرقی صوبہ اور مخربی صوبہ میں متحد کر کے ون یونٹ کا نام دیا ۔
معلوم نہیں کیوں اور کن بنیادوں پر یکم جولائی 1970 جنرل یحییٰ خان نے اپنی فوجی قوت کو استعمال کرتے ہوئے ، مغربی صوبے کو ، پنجاب ، سرحد، بلوچستان اور سندھ میں تقسیم کر دیا۔ 
7 جولائی 1972 کو سندھ کی صوبائی حکومت نے سندھ کو صوبائی زبان قرار دے دیا ، جس کی وجہ سے مقامی(سندھی) اور غیرمقامی(غیر سندھی) کی تفریق بڑھ گئی صوبائی لسانی طلباء تنظیموں ( پنجابی ، پشتون ، بلوچ اور کشمیری) نے جنم لینا شروع کر دیا تو اردو بولنے والے کیسے پیچھے رہتے ۔ مہاجر سٹوڈنٹ یونین بھی وجود میں آئی ۔ حالانکہ اِس کا نام مہاجرزادہ سٹوڈنٹ یونین ہونا چاھئیے تھا۔

٭٭٭٭٭٭٭
1990 میں جب ایک مہاجر زادے کے 5سالہ بیٹے سے اُس کے دوست نے پوچھا ،
" تم اُردو بولتے ہو ! کیا تم  مہاجر ہو ؟"
اُس نے اپنی ماں سے سے پوچھا ،
" امّی کیا ہم مہاجر ہیں "
ماں بولی ،
"نہیں بیٹا ہم پاکستانی ہیں "
" امّی لیکن ہم اُردو بولتے ہیں " بیٹی نے سنّی علم کے مطابق پوچھا !
" پاکستان کی قومی زبان اردو ہے ، اِس لئے ہم اُردو بولتے ہیں " ماں نے سمجھایا ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭
61 سال کی عمر میں یعنی 13 اگست 2014 میں ، اُس بچے کے باپ کو ایک لسانی گونگلو نما ملٹری کریٹ نے طعنہ دیا " تم مہاجر ہو اِس لیے اُس کاساتھ دیتے ہو !"
بوڑھا بولا ،" احمق ، میں مہاجر نہیں ، مہاجر زادہ ہوں "
" کیا سمجھے ؟
جیسے شہزادہ ، نوبزادہ ، خانزادہ ! کے وزن پر ۔
مہاجرزادہ ! 


  ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


پیر، 29 جنوری، 2018

راؤ انوار اور ملک ریاض

راؤ انوار کی ملک سے فرار کی کوشش ناکام ہونے کے بعد اس نے پراپرٹی ٹائکون ملک ریاض سے فون پر رابطہ کیا، ملک ریاض کو فرار میں ناکامی کی خبر سنائی جس پر ملک ریاض شدید پریشان ہوگیا۔ ملک ریاض خود لندن میں موجود ہے اس لیے اس نے پاکستان میں موجود اپنے ذرائع کو فون گھمایا اور سختی سے ہدایات دیں کہ ہر صورت راؤ انوار کو ملک سے باہر بھیجنا ہے اور اس مقصد کے لیے اس نے ملک ریاض نے اپنا نجی طیارہ جس پر بحریہ ٹاؤن کا ٹیگ لگا ہوتا ہے اڑانے کا حکم دیا اور اسی طیارے میں راؤ انوار کو دبئی فرار کروانے کا پلان بنایا۔

دوسری طرف حکومت نے ملک کے تمام ایئرپورٹس کو راؤ انوار کی تفصیلات دے رکھیں تھیں کہ اس شخص کا نام ECL میں موجود ہے، اس کو کسی صورت باہر نہیں جانے دینا ہے۔ جس نے  ملک ریاض کے لیے   مسئلہ کھڑا کر دیا  اور آخرکار ملک ریاض نے سرکاری ایئرپورسٹ کے بجائے فوجی ایئرپورٹس استعمال کرنے کا پلان بنایا اور اس مقصد کے لیے، بحریہ ٹاؤن میں ملازم پیشہ  ریٹائرڈ  اعلی ڈیفنس فورس کے ملازم میں سے ایک نے ، اپنے ایک ہم پیالہ و ہم نوالہ ، کولیگ  سے رابطہ کیا ۔
"  سکیورٹی کی خدشات کی وجہ سے ہم اپنا طیارہ   آئیندہ   کے لئے فوجی اڈے سے اڑانا چاہتے ہیں،  اجازت دلوا دو تو مہربانی ہو گی "۔
جواب  ملا ،
"  سر ، فوجی ائرپورٹ ، کوئی نجی طیارہ نہیں استعمال کر سکتا ۔ ویسے بھی  سول ایوی ایشن کے تمام ائرپورٹس  پر کوئی دہشت گردی ممکن نہیں  ؟"
ملک ریاض کو جواب پہنچا دیا گیا ، جس سے ، اُس کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہو گیا ۔
اب سوال یہ ہے کہ ملک ریاض آخر کیوں راؤ کو باہر بھیجنا چاہتا ہے؟

 راؤ انوار سرکاری ملازمت کے ساتھ  زرداری اورملک ریاض کا بھی ملازم  ہے۔




راؤ کے معاملے میں ملک ریاض کے ہاتھ پاؤں ہل گئے ہیں اور وہ اپنے ذاتی طیارے پر بھی راؤ کو ہر صورت بیرون ملک منتقل کرنا چاہتا ہے۔ اگر راؤ انوار گرفتار ہوگیا تو پھر وہ سب اگل دے گا اور زرداری کے تو نہیں بلکہ ،  ملک ریاض کے کالے کرتوت بھی کھل کر بیان کردے گا۔ اس لیے ملک ریاض اپنے  پیادے اور گھوڑے  استعمال کر رہا ہے۔  

ملک ریاض پاکستان کا سب سے کرپٹ شخص ہے جو اپنے ہر کام کروانے کے لیے رشوت دیتا  ہےاور کھلم کھلا اعتراف کرتا ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی کام رشوت کے بغیر نہیں ہوتالہذا وہ دوسروں سےرشوت مختلف انداز میں لیتا ۔  کراچی ، کی زمینوں پر قبضہ اور بحریہ ٹاؤن  کاآدھا مالک ، زرداری اور آدھا ملک ریاض ، مشرف ہاؤس چک شہزاد  اور بلاول ہاوسز پشاور  اور لاہو ر ، اپنے نجی جہاز میں مُفت کی سیر۔

حرام کام کرنے والوں  کی طرح ، راؤ انوار نے بھی اپنی  پوری فیملی کو بیرون ملک منتقل کر رکھا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
نوٹ: وٹس ایپ پر مشتہر ہونے والی یہ تحریر  ، مہاجرزادہ کو بھی ملی ،جس کو کانٹ چھانٹ کر معلومات کے لئے شائع کیا جارہا رہے ۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ وٹس ایپ اور سوشل میڈیا پر مشتہر ہونے والی تحاریر میں ، بھوسہ زیادہ اور چنگار ی کم ہوتی  ہے ، لیکن ہوتی ضرور ہے کبھی بھڑک اُٹھتی ہے لیکن زیادہ تر  بجھادی جاتی ہے   ۔

٭٭٭ ٭٭٭٭

ملک ریاض بحریہ ٹاؤن: کا طریقۂ واردات! 

صحافت لیکس

شیشے کا گھر اور ہاتھ میں پتھر 

کتاب من اللہ ۔ مرد ،عورت اور جنسی فعل !

روح القدّس نے محمدﷺ کو اللہ کی طرف سےالْمُسْلِمِينَ کو اللہ کے حکم کا ، احسن الحدیث سے با ضابطہ اعلان تلاوت کرنے کاکہا : 
قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ مِن رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِيُثَبِّتَ الَّذِينَ آمَنُواْ وَهُدًى وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ [16:102]
روح القدّس نے محمدﷺ کوبِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ سے لے کر مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ تک، ﴿6236﴾آیات پر عمل کرنےکی وجہ سے اللہ کی طرف سےأَوَّلَ الْمُسْلِمِينَ ہونےکاحکم بتایا  :
قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللَّـهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّينَ ﴿11﴾ وَأُمِرْتُ لِأَنْ أَكُونَ أَوَّلَ الْمُسْلِمِينَ ﴿12﴾ قُلْ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ ﴿13﴾ قُلِ اللَّـهَ أَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهُ دِينِي ﴿39:14﴾ الزمر  

٭٭٭٭٭٭ 
یہ تلاوت برائے ھدایت ، رحمت اور بشارت روزانہ ہر انسان پر کہاں سے کی جاتی ہے؟
وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِي كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا عَلَيْهِم مِّنْ أَنفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِيدًا عَلَى هَـؤُلاَءِ وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ [16:89]

٭٭٭تو پھر ٭٭٭
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ﴿2:21﴾
٭٭٭٭٭٭
روح القدّس نے محمدﷺ کو اللہ کی طرف سے انسانوں کو ،زوج ( مرد اور عورت ) کے جنسی فعل (تَغَشَّاهَا )کے متعلق وضاحت دی :
هُوَ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا ۖ فَلَمَّا تَغَشَّاهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفًا فَمَرَّتْ بِهِ ۖ فَلَمَّا أَثْقَلَت دَّعَوَا اللَّـهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ آتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ ﴿7:189﴾

روح القدّس نے اوّل المسلمین ، محمدﷺ کو اللہ کی طرف سے النبی کی ازواج کا قانون بتایا ۔
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّـهُ عَلَيْكَ وَبَنَاتِ عَمِّكَ وَبَنَاتِ عَمَّاتِكَ وَبَنَاتِ خَالِكَ وَبَنَاتِ خَالَاتِكَ اللَّاتِي هَاجَرْنَ مَعَكَ وَامْرَأَةً مُّؤْمِنَةً إِن وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ إِنْ أَرَادَ النَّبِيُّ أَن يَسْتَنكِحَهَا خَالِصَةً لَّكَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ ۗ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِي أَزْوَاجِهِمْ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ لِكَيْلَا يَكُونَ عَلَيْكَ حَرَجٌ ۗ وَكَانَ اللَّـهُ غَفُورًا رَّحِيمًا ﴿33:50﴾

روح القدّس نے محمدﷺ کو اللہ کی طرف سے المؤمنون   کو خوشخبری دی، کہ فلاح حاصل کرنے کے لئے ،
(تَغَشَّاهَا )کی ازواج یا ملکت ایمان سے اجازت ہے :
قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ ﴿1﴾ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ ﴿2﴾ وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ ﴿3﴾ وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكَاةِ فَاعِلُونَ ﴿23:4﴾
وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ ﴿5﴾ إِلَّا عَلَىٰ أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ ﴿6﴾ فَمَنِ ابْتَغَىٰ وَرَاءَ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْعَادُونَ ﴿23:7﴾


روح القدّس نے محمدﷺ کو ،
النِّسَاءِ سے نکاح کا اصول بتایا :
وَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُم بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ أَوْ أَكْنَنتُمْ فِي أَنفُسِكُمْ عَلِمَ اللّهُ أَنَّكُمْ سَتَذْكُرُونَهُنَّ وَلَـكِن لاَّ تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا إِلاَّ أَن تَقُولُواْ قَوْلاً مَّعْرُوفًا وَلاَ تَعْزِمُواْ عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَعْلَمُ مَا فِي أَنفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ ﴿2:235﴾

روح القدّس نے محمدﷺ کو ، کتابِ موسیٰ ،خاندان کے سربراہ کی گفت و شنید برائے نکاح، کا اصول بتایا :
قَالَ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُنكِحَكَ إِحْدَى ابْنَتَيَّ هَاتَيْنِ عَلَى أَن تَأْجُرَنِي ثَمَانِيَ حِجَجٍ فَإِنْ أَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِندِكَ وَمَا أُرِيدُ أَنْ أَشُقَّ عَلَيْكَ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّالِحِينَ ﴿28:27﴾

روح القدّس نے محمدﷺ کو اللہ کا حکم ،المحصنات المؤمنات اور المحصنات الکتاب کی حلت برائے نکاح (جنسی تعلق) کے لئے بتایا :
الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ حِلٌّ لَّكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ وَلاَ مُتَّخِذِي أَخْدَانٍ وَمَن يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ ﴿5:25﴾

روح القدّس نے محمدﷺ کو اللہ کا حکم ،المحصنات النساء کی حُرمت برائےجنسی تعلق اور ملکت ایمان سے تمتع کے بارے میں کتاب اللہ کئے احکام کا بتایا :
وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ كِتَابَ اللّهِ عَلَيْكُمْ وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَلِكُمْ أَن تَبْتَغُواْ بِأَمْوَالِكُم مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً وَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَاضَيْتُم بِهِ مِن بَعْدِ الْفَرِيضَةِ إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا ﴿5:24﴾

روح القدّس نے محمدﷺ کو تمتع یا متع کے بارے میں وضاحتاًبتایا :
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ إِن كُنتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا ﴿33:28﴾

روح القدّس نے محمدﷺ کو اللہ کی طرف سے متع کی مزید وضاحت کی :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا فَمَتِّعُوهُنَّ وَسَرِّحُوهُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا ﴿33:49﴾

روح القدّس نے محمدﷺ کوعفیف لوگوں کا،اپنی نہیں کسی دوسرے کی ، ملکت ایمان سے نکاح(جنسی تعلق) کرنے کا قانون بتایا :
وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا حَتَّى يُغْنِيَهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَابَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا وَآتُوهُم مِّن مَّالِ اللَّهِ الَّذِي آتَاكُمْ وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَن يُكْرِههُّنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِن بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿24:33﴾

 روح القدّس نے محمدﷺ کومحصن مومنہ سے نکاح نہ کرسکنے کی استطاعت نہ رکھنے والوں کی کسی دوسرے مؤمن کی ، ملکت ایمان مؤمنہ فتی (فتویٰ میں دی گئی ملازمہ ، جنسیت کے لئے نہیں ) سے، اُن کے اہل کی اجازت سے نکاح (جنسی تعلق) ، قائم کرنے کے قانون کی وضاحت کی :
وَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنكُمْ طَوْلاً أَن يَنكِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِن مِّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم مِّن فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ وَاللّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِكُمْ بَعْضُكُم مِّن بَعْضٍ فَانكِحُوهُنَّ بِإِذْنِ أَهْلِهِنَّ وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ مُحْصَنَاتٍ غَيْرَ مُسَافِحَاتٍ وَلاَ مُتَّخِذَاتِ أَخْدَانٍ فَإِذَا أُحْصِنَّ فَإِنْ أَتَيْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الْعَذَابِ ذَلِكَ لِمَنْ خَشِيَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ وَأَن تَصْبِرُواْ خَيْرٌ لَّكُمْ وَاللّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿4:25﴾

روح القدّس نے محمدﷺ کو اللہ کا حکم ، برائے نکاحِ (جنسی تعلق) مشرکات بتایا :
وَلاَ تَنكِحُواْ الْمُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ وَلَأَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِّن مُّشْرِكَةٍ وَلَوْ أَعْجَبَتْكُمْ وَلاَ تُنكِحُواْ الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يُؤْمِنُواْ وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَيْرٌ مِّن مُّشْرِكٍ وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ أُوْلَـئِكَ يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ وَاللّهُ يَدْعُوَ إِلَى الْجَنَّةِ وَالْمَغْفِرَةِ بِإِذْنِهِ وَيُبَيِّنُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ ﴿2:221﴾

روح القدّس نے محمدﷺ کو اللہ کا حکم ، کافر ۃ کو اپنے نکاح (جنسی تعلق) سے خارج کرنا بتایا :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ اللَّهُ أَعْلَمُ بِإِيْمَانِهِنَّ فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوهُنَّ إِلَى الْكُفَّارِ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ وَآتُوهُم مَّا أَنفَقُوا وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ أَن تَنكِحُوهُنَّ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَاسْأَلُوا مَا أَنفَقْتُمْ وَلْيَسْأَلُوا مَا أَنفَقُوا ذَلِكُمْ حُكْمُ اللَّهِ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ﴿60:10﴾

روح القدّس نے محمدﷺ کو بتایا ، کہ اللہ نے الفحشاء ، المنکر اور البغی سے منع ہونے کا امر دیا ہے !
إِنَّ اللّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ﴿16:90﴾
روح القدّس نے محمدﷺ کو بتایا ، کہ اللہ نے الفحشاء ، المنکر بذریعہ الصلاۃ منع ہونے کا حکم دیا :
اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ وَأَقِمِ الصَّلَاةَ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ ﴿29:45﴾

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
روح القدّس نے محمدﷺ کو بتایا ، کہ اللہ نے نکاح کے سوا باقی کسی بھی قسم کے مرد و عورت کے جنسی تعلق کو فحاشی قرار دیا ہے۔
وَلاَ تَقْرَبُواْ الزِّنَى إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلاً ﴿17:32﴾

 روح القدّس نے محمدﷺ کو زانی اور زانیہ کی سزا کے متعلق بتایا :
الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ ۖ وَلَا تَأْخُذْكُم بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّـهِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ ﴿2﴾
الزَّانِي لَا يَنكِحُ إلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ وَحُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ ﴿24:3﴾

روح القدّس نے محمدﷺ کو ہم جنسیت کے متعلق اللہ کا اٹل حکم بتایا : 
1- ہم جنسیت عورتوں کے مابین :
وَاللاَّتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِن نِّسَآئِكُمْ فَاسْتَشْهِدُواْ عَلَيْهِنَّ أَرْبَعةً مِّنكُمْ فَإِن شَهِدُواْ فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ حَتَّى يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ أَوْ يَجْعَلَ اللّهُ لَهُنَّ سَبِيلاً ﴿4:15﴾
2- ہم جنسیت مردوں کے مابین :
وَاللَّذَانِ يَأْتِيَانِهَا مِنكُمْ فَآذُوهُمَا ۖ فَإِن تَابَا وَأَصْلَحَا فَأَعْرِضُوا عَنْهُمَا ۗ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِيمًا ﴿4:16﴾

٭٭٭٭٭٭٭
کتاب من دون اللہ ۔
  مرد اورعورت اور جنسی فعل ، سے متعلق مختلف بیانات اِن کتابوں   میں لاکھوں نہیں تو ہزاروں کی تعداد میں درج ہیں ، خواہ وہ اجماعِ سکوتی سے وجود میں آئے ہوں یا اجماعِ ملت سے ، کوئی بھی کتاب من اللہ پر فوقیت نہیں رکھ سکتا !  
بالا آیات پر اگر غور کریں تو  ، مرد اور عورت کے جنسی عمل کی  چار   صورتیں ہیں :
1-
نِكَاحً
2- مُسَافِح و مُسَافِحَاتٍ
3- مُتَّخِذِي و مُتَّخِذَاتِ أَخْدَانٍ
4-  الْفَوَاحِشَ (الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي  )



ہفتہ، 27 جنوری، 2018

ڈارک ویب کیا ہے؟

 انٹر نیٹ استعمال کرتےوقت  اس میں کوئی بھی ویب سائٹ اوپن کرنے کے لئے تین بار WWW لکھناپڑتا ہے۔ 
جس کا مطلب ہے ورلڈوائڈ ویب، اسے سرفس ویب ، اور لائٹ ویب بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن آپ کے لئے سب سے حیرت انگیز بات یہ ہوگی کہ ، جس انٹر نیٹ کو ہم دن رات استعمال کرتے ہیں وہ کل انٹر نیٹ کا بہت تھوڑاحصہ ہے۔ باقی حصہ عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہے۔
 اب آپ کے ذہن میں سوالات پیدا ہوئے ہوں گے کہ:
یہ زیادہ حصہ انٹر نیٹ ہماری آنکھوں سے کیوں اوجھل ہے؟
ہم اسے کیوں نہیں دیکھ سکتے؟
اس اوجھل انٹر نیٹ کی عظیم دنیا میں کیا کیا چھپا ہوا ہے؟
عام لوگوں سے اسے کیوں چھپایا ہوا ہے؟
وہاں کیا کیا جاتا ہے؟

تو  اس تحریر میں ان سوالات کے جوابات دیئے گئے ہیں ۔
ورلڈ وائڈ ویب کو
Tim Berners-Lee نے 1989 میں ایجاد کیا اور 6اگست 1991 کو باقاعدہ منظر عام پر لایا گیا ۔اور یہ ٹیکنالوجی گولی کی رفتار سے ترقی کرتے کرتے یہاں تک پہنچ گئی کہ پوری دنیا سمٹ کر ایک کمپیوٹر کی سکرین پر اکھٹی ہوگئی۔یوں ویب کے فوائد سے انسانیت مستفید ہونے لگی، بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی محتاج بن کر رہ گئی۔
ویب کی تیز رفتاری کی وجہ سے دستاویزات کی منتقلی اور خط وکتاب ای میل کی شکل میں تبدیل ہوئی گئی۔ اور کمپنیوں اور اداروں نے اس کا استعمال شروع کردیا۔ ایک طرف پوری دنیا اس نعمت سے مستفید ہورہے تھی تو دوسری طرف ڈیوڈ چام نے ایک مضمون بعنوان Security without identification لکھا۔ جس میں انہوں نے خبردار کیا کہ ورلڈ وائڈ ویب کے حد سے زیادہ استعمال کی وجہ سے لوگ اپنی معلومات کی نگرانی سے محروم ہوتے جارہے ہیں۔لوگوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ان کی معلومات درست ہیں، یا پرانی ہیں۔
چنانچہ جس خدشے کا اظہار ڈیوڈ چام نے کیا تھا آج ہر کوئی یہ جانتا ہے کہ گوگل، فیس بک سمیت دیگر ویب سائٹس اپنے یوزر کے بارے اتنا کچھ جانتی ہیں کہ اس کے قریبی دوست یا سگے بھائی بھی نہیں جانتے ہوں گے۔ چنانچہ انہی سورسز کو استعمال کرتے ہوئے دنیا کے خفیہ اداروں نے جاسوسی کا جال بھی بچھا دیا۔
یہاں سے انٹر نیٹ کی دنیا میں ایک نیا موڑ آتا ہے، اور حکومتیں یہ سوچنا شروع کردیتی ہیں کہ انٹر نیٹ پر ڈیٹا کے تبادلے کی سیکورٹی کے لئے کوئی نظام ہونا چاہیے تاکہ کوئی اسے چوری نہ کرسکے۔
چنانچہ اس مقصد کے لئے امریکی نیوی کے تین ریسرچر نے یہ بیڑا اٹھاتے ہوئے Onion Routing کا نظام پیش کیا۔
اس نظام کو اس طرح بنایا گیا تھا کہ کوئی بھی شخص کسی کے ڈیٹا کو چرا نہیں سکتا تھا اور نہ ہی بغیر اجازت کے ویب سائٹ کو اوپن کرسکتا تھا۔ لیکن حیرت انگیز طور پر بڑی تبدیلی اس وقت آئی جب امریکی نیول ریسرچ لیبارٹری نے اس نظام کو اوپن سورس کردیا۔ یعنی ہر کسی کو اس سے مستفید ہونے کی اجازت دے دی۔
جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دنیا بھر کے جرائم پیشہ لوگوں نے اس نظام کو اپنے گھناونے جرائم کے لئے استعمال کرنا شروع کردیا۔اور اسی کا نام ڈارک ویب ہے۔
اس ساری بات کوسمجھنے کے لئے تصویر کو غور سے دیکھیں۔

اس تصویرمیں برف کا ایک پہاڑ سمندر میں کھڑا نظر آرہا ہے، اس کا تھوڑا سا حصہ باہر ہے، اسے آپ ورلڈ وائڈ ویب یعنی وہ انٹر نیٹ سمجھ لیں جسے ہم استعمال کرتے ہیں۔
پھر ایک بڑا حصہ زیر آپ نظر آرہا ہے اسے ڈیپ ویب کہا جاتا۔
پھر اس سے بھی بڑا حصہ مزید نیچے گہرائی میں نظر آرہا ہے،اسے ڈارک ویب کہا جاتا ہے۔
پھر ڈارک ویب میں ریڈ رومز ہوتے ہیں۔
بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ اس برف کے پہاڑ سے نیچے جو سمندر کی تہہ ہے اسے مریاناز ویب کہا جاتا ہے .
جس تک رسائی دنیا کے عام ممالک کی حکومتوں کی بھی نہیں ہے۔ اب میں ویب کے ان چاروں حصوں کی تھوڑی تھوڑی تشریح کرکے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔
1۔ ورلڈ وائڈ ویب وہ انٹر نیٹ ہے جسے ہم اپنے کمپیوٹر یا موبائل پر استعمال کرتے ہیں، اوراچھی طرح جانتے ہیں۔
2۔ اس سے نیچے ڈیپ ویب ہے۔ یہ انٹر نیٹ کا وہ حصہ ہوتا ہے جس تک رسائی صرف متعلقہ لوگوں کی ہوتی ہے، اور یہ عام طور پر مختلف کمپنیوں اور اداروں کے استعمال میں ہوتا ہے۔ جیسے بینکوں کا ڈیٹا یا مثلا آپ یوفون کی سم اسلام آباد سے خریدتے ہیں اور پھر کراچی میں جاکر دوبارہ سم نکالنے کے ان کے آفس جاتے ہیں تو وہ اپنا انٹر نیٹ کھول کر آپ کی تفصیلات جان لیتے ہیں کہ آپ واقعی وہی آدمی میں جس کے نام پر یہ سم ہے۔ یہ سارا ڈیٹا ڈیپ ویب پر ہوتا ہے، چنانچہ یوفون والے صرف اپنا یوفون کا ڈیٹا اوپن کرسکتے ہیں کسی اور کا نہیں اسی طرح ہر کمپنی کی رسائی صرف اپنے ڈیٹا تک ہوتی ہے۔
3۔ ڈارک ویب ۔ انٹر نیٹ کا وہ حصہ ہوتا ہے جہاں تک کسی کی رسائی نہیں ہوسکتی ، سوائے اس کے جس کے پاس ڈارک ویب کی ویب سائٹ کا پورا ایڈریس ہو۔ عام طور پر ڈارک ویب کی ویب سائٹس کا ایڈرس مختلف نمبر اور لفظوں پر مشتمل ہوتا ہے اور آخر میں ڈاٹ کام کے بجائے ڈاٹ ٹور، یا ڈاٹ اونین وغیرہ ہوتا ہے۔یہاں جانے کے لئے متعلقہ ویب سائٹ کے ایڈمن سے رابطہ کرنا پڑتا ہے، جو آپ سے رقم وصول کرکے ایک ایڈریس دیتا ہے۔ جب آپ پورا اور ٹھیک ٹھیک ایڈریس ڈالتے ہیں تو یہ ویب سائٹ اوپن ہوتی ہے۔ لیکن یاد رکھیں گوگل یا عام براوزر پر یہ اوپن نہیں ہوتی ، یہ صرف TOR پر ہی اوپن ہوتی ہے۔ اور یہ بھی یاد رکھ لیں کہ ان ویب سائٹ کو اوپن کرنا یا دیکھنا بھی قانونا جرم ہے، اگر آپ کے بارے صرف اتنا پتا چل جائے کہ آپ نے ڈارک ویب پر وزٹ کیا ہے تو اس پر آپ کی گرفتاری اور سزا ہوسکتی ہے۔
5- ڈارک ویب پر ریڈ رومز ہوتے ہیں۔ یعنی ایسے پیچز ہوتے ہیں جہاں لائیو اور براہ راست قتل و غارت گری اور بچوں کے ساتھ زیادتی دکھائی جاتی ہے، ایسے لوگ جن کے پاس پیسہ زیادہ ہوتا ہے، اور ان کی فطرت مسخ ہوچکی ہوتی ہے وہ اس قسم کے مناظر دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں، چنانچہ وہ ان ریڈ رومز میں جاتے ہیں وہاں ہر چیز کی بولی لگتی ہے، مثلا زیادتی دکھانے کے اتنے پیسے، پھر زندہ بچے کا ہاتھ کاٹنے کے اتنے پیسے، اس کا گلا دبا کر مارنے کے اتنے پیسے ، پھر اس کی کھال اتارنے کے اتنے پیسے وغیرہ وغیرہ۔ اس کے علاوہ ہر قسم کی منشیات، اسلحہ اور جو کچھ آپ سوچ سکتے ہیں وہ آپ کو وہاں بآسانی مل جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہاں ریٹ لگے ہوتے ہیں کہ فلاں لیول کے آدمی کو قتل کروانے کے اتنے پیسے مثلا صحافی کے قتل کے اتنے پیسے، وزیر کو قتل کرنے کے اتنے پیسے، سولہ گریٹ کے افسر کو قتل کرنے کے اتنے پیسے وغیرہ۔اسی قسم کی ایک ویب سائٹ سلک روڈ کے نام سے بہت مشہور تھی جسے امریکی انٹیلی جنس نے بڑی مشکل سے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر ٹریس کرکے2015 میں بلاک کیا تھا
 54۔ Marianas web مریاناز ویب۔ یہ انٹرنیٹ کی دنیا کا سب سے گہرا حصہ ہے۔ حقیقی دنیا میں سمندر کا سب سے گہرا حصہ مریاناز ٹرنچ کہلاتا ہے اسی لیے اسی کے نام پر اس ویب کا نام بھی یہی رکھا گیا ہے۔

 
 نیٹ کے اس حصے میں دنیا کی چند طاقتور حکومتوں کے راز رکھے ہوئے ہیں، جیسے امریکا، اسرائیل اور دیگر قوتیں وغیرہ۔ یہاں انٹری کسی کے بس کی بات نہیں، یہاں کوڈ ورڈ اورKeys کا استعمال ہی ہوتا ہے۔ ایک سب سے اہم بات یہ بھی سن لیں کہ ڈارک ویب پر جتنا کاروبار ہوتا ہے وہ بٹ کوائن (Bit Coins ) میں ہوتا ہے، بٹ کوائن ایک ایسی کرنسی ہے جو کسی قانون اور ضابطے میں نہیں آتی اور نہ ہی ٹریس ہوسکتی ہے، کسی کے بارے یہ نہیں جانا جاسکتا کہ اس کے پاس کتنے بٹ کوائن ہیں۔
ڈارک ویب پر اربوں کھربوں ڈالرز کا یہ غلیظ کاروبار ہوتا ہے۔ اب آخر میں اس سوال کا جواب جو اس سارے معاملے کو پڑھ کر آپ کے ذہن میں پیدا ہوا ہوگا کہ اس ویب پر پابندی ہی کیوں نہیں لگا دی جاتی۔؟
تو بات یہ ہے کہ جیسے پستول یا کلاشن کوف ہم اپنی حفاظت اور سیکورٹی کے لئے بناتے ہیں، چھری سبزی کاٹنے کے لئے بنائی جاتی ہے، اب اگر کوئی اس چھری کو اٹھا کر کسی کے پیٹ میں گھونپ دے تو قصور چھری کا نہیں بلکہ اس کے استعمال کا ہے، چھری پر اگر پابندی لگادی جائے تو تمام انسانوں کا حرج ہوگا لہٰذا اس کا حل یہی ہے کہ ،
جو اس کا غلط استعمال کرے اسے عبرت کا نشان بنا دیا جائے!
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بنائے گا کون گرو ؟

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اتوار، 21 جنوری، 2018

ازواجیات - مشورہ

بیوی رے بیوی

مختلف بیویاں اپنے شوہروں سے لڑتی ہوئیں- - - - - - - -
سیاست دان کی بیوی: ٹہر تیرا جلسہ ابھی نکالتی ہوں ۔
پائلٹ کی بیوی: زیادہ مت اُڑو ! سمجھے ؟
ٹیچر کی بیوی: مجھے مت سکھاؤ ! یہ اسکول نہیں۔
ڈینٹسٹ کی بیوی: دانت توڑ کر ہاتھ میں دے دوں گی.
حکیم کی بیوی: نبض دیکھے بغیر طبیعت درست کر دوں گی.
ڈاکٹر کی بیوی: تمہارا الٹرا ساؤنڈ تو میں ابھی کرتی ہوں۔
فوجی کی بیوی: تم اپنے آپ کو بڑی توپ چیز سمجھتے ہو.
شاعر کی بیوی: تمہاری ایسی تقطیع کروں گی کہ ساری بحریں اور نہریں بھول جاؤ گے.
ایم بی اے کی بیوی: مائنڈ یور اون بزنس۔
CA/ACCA/CFA/ICMA/CIMA شخص کی بیوی: پہلے امتحان تو پاس تو کر لو بُڈھے.
وکیل کی بیوی: تیرا فیصلہ تو میں کرتی ہوں.
ڈرائیور کی بیوی: گئیر لگا اور نکل یہاں سے.
پولیس مین کی بیوی: ایسی چھترول کرواؤنگی کہ نانی یاد آجائیگی.
درزی کی بیوی :
چپ ہو جا ورنہ تیرے بخیے ادھیڑ دونگی  
نائی کی بیوی : ابھی حجامت کرتی ہوں تیری !
قصائی کی بیوی : بوٹی بوٹی کر دوں گی دفعہ ہو یہاں سے 

مولوی کی بیوی : ابھی پڑھتی ہوں ختم تمھارا

بھنگی کی بیوی :






سالے مور بنا دوں گی  !


ہفتہ، 20 جنوری، 2018

آباء پرستی کا تاج !

خالد مہاجرزادہ  ،  ذرا علمی راہنمائی  کر دیں میری غلطی کم علمی مجھ پر واضح ہو جائے۔ ماجد بلوچ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ماجد بلوچ جی:
ماشاء اللہ آپ اللہ کی آیات کو اِس طرح پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹے کو -
الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ وَإِنَّ فَرِيقاً مِّنْهُمْ لَيَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ [2:146]
اِسی لئے میں نے محمدﷺ کی اسوہ حسنہ کی اتباع کرتے ہوئے :
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا [33:21]

ماجد بلوچ جی : آپ سوچ رہے ہوں گے وہ کیسے ؟
الکتاب کی بالا آیت کے مطابق ، جو روح القدّس نے فصاحت و بلاغت سے،
  عربی سننے ، سمجھنے ، تدبر کرنے اور قوم کی لسان میں تلاوت کرنے والے محمدﷺ کو اللہ کی  طرف سے دی جانے والی ، ہدایاتِ اللہ کے حُکم   کے مطابق ،

تقویٰ ، علمی ، تدبّر  کے لئے عربی میں پیسٹ کیں ،
تاکہ وہ  لسان عربی میں اللہ کا حکم بن کر نذیر بن جائیں   اور محسنین کے لئے بشارت ِ

وَمِن قَبْلِهِ كِتَابُ مُوسَى إِمَامًا وَرَحْمَةً وَهَذَا كِتَابٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِيًّا لِّيُنذِرَ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَبُشْرَى لِلْمُحْسِنِينَ [46:12]
ہدایت - 1:

قُرآنًا عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ [39:28]
ہدایت - 2:
كِتَابٌ فُصِّلَتْ آيَاتُهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لِّقَوْمٍ يَعْلَمُونَ [41:3]

ہدایت - 3: 
وَكَذَلِكَ أَنزَلْنَاهُ حُكْمًا عَرَبِيًّا وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُم بَعْدَ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ اللّهِ مِن وَلِيٍّ وَلاَ وَاقٍ [13:37]
ہدایت - 4:
وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لِّتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا وَتُنذِرَ يَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَيْبَ فِيهِ فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ [42:7]

ہدایت - 5:
اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ ۗ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا (4:82)

ماجد جی
ہدایت - 5:کے مطابق:
٭- الْقُرْاٰنَ، مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ میں کوئی اخْتِلَاف نہیں لیکن
٭- الْقُرْاٰنَ، مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ میں كَثِيْر اخْتِلَاف ہے ۔ جو آپ نے قُرآن غیر عَرَبِي میں اپنا ترجمہ اور شائد کسی آباء کی تفسیر کی صورت میں پیسٹ کئے ہیں ۔
جس میں اُس آباء نے اپنی اھواء کے مطابق زخرف الاقوال کی وحی استعمال کی ہیں ۔
وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ [6:112]

ارے نوجوان وہ مٹی کا مادھو انسانی آباء تو کیا ، روح القدّس نے محمدﷺ کو بتایا کہ الشَّيْطَانُ نے تو رَّسُول اور نَبِي کو بھی القائے تمنا میں نہیں بخشاء ۔
وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ فَيَنسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللَّهُ آيَاتِهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ [25:22]

یہی وجہ ہے کہ اللہ نے ، محمدﷺ کے سر پر آباء پرستی کی مردانگی کا تاج انسانوں کو نہیں سجانے دیا-


مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا [33:40] 


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سورۃ الفاتحہ کے 36 آسان الفاظ!
یہاں کلک کریں ، پی ڈی ایف فائل ڈاؤن لوڈ کریں

سورۃ 1 ۔ آیت ۔2 ۔  الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
 سورۃ 1 ۔ آیت ۔3۔الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ ( آیت 1 میں شامل ہے )
سورۃ 1 ۔ آیت ۔4 ۔  مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ 

 

ہفتہ، 13 جنوری، 2018

سیکس ایجوکیشن - وقت کی ضرورت

سیکس ایجوکیشن کا تعلق صرف ریپ سے یا صرف بچے پیدا کرنے سے نہیں ہوتا  اور نہ ہی  ہر انسان ریپ کی حد تک جا سکتا ہے۔
 سو چیزیں ہوتی ہیں اور، جس دن آپ نے ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کی فہرست بنائی، تو اتنے قریبی رشتے اس کی زد میں آئیں گے کہ یہ سزا والے معاملے پہ نعرے لگانے والے چپ چاپ دروازے بند کر لیں گے۔
ایک بات یاد رکھیے گا ،
سیکس ایجوکیشن سے  نقصان کسی بچے کو نہیں ہو گا، لیکن فائدہ ایک کو بھی ہو جائے تو بہت بڑی بات ہے۔ شاید آپ لوگوں کو واقعی اندازہ نہیں ہے کہ ریپ کے علاوہ بہت کچھ ہوتا ہے جو والدین کے علم میں نہیں ہوتا یا پھر وہ جان کر بھی چپ رہنے کا کہتے ہیں۔ کہیں بات نکلی تو بدنامی ہوگی ۔
مجرم کی سزا کا مطالبہ بجا ہے، لیکن ایک مجرم ہر بچے کو ہراساں نہیں کر تا۔ ہر بچے کا مجرم الگ الگ ہے، شاید دو چار چھ دس کا کوئی ایک ہو ۔
کبھی سوچا ہے  کہ:
٭- کچھ لوگ بچیوں کو گود میں بٹھا کر اپنی تسکین کا سامان کر لیتے ہیں
٭- کچھ مذاق میں  ران پر  ہاتھ پھیرتے ہیں -
٭- کچھ کی تسلی  کولہوں پر ہلکا سا تھپڑ مارنے یا غیر محسوس طریقے پر ہاتھ لگانے  سے ہو جاتی ہے-
٭-  کوئی سینے پہ چھو کر لذت حاصل کرنا چاہتا ہے-
٭- کوئی خوشی میں بچیوں کو گلے سے لگانے کی حرکت کرتے ہیں ، اور سر پر ہاتھ پھیر کر لوگوں کو توجہ ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں ۔
اِ ن  حرکات کو ریپ نہیں کہا جاسکتا  ، کیوں ٹھیک ہے نا؟
لیکن جو کر رہے ہیں وہ غلط ہی ہے ، کیوں کہ بچہ اِن حرکات کو  عام سمجھنے لگے گا ، لیکن  دھچکا وہاں لگے گا جب کوئی ذہنی بیمار اِن حرکات سے آگے بڑھے گا ۔
یہ تو آپ کو معلوم ہے نا ، کہ انسانی جسم میں کچھ جگہیں ایسی ہوتی ہیں ، جہاں کسی دوسرے  کے ہاتھ کے مساس سے لطف آتا ہے ؟
  بچے ناسمجھ ہوتے ہیں  بس اِسی ناسمجھی  کا فائدہ  جنسی ذہنی بیمار اُٹھا جاتے ہیں ۔ اُس کے بعد بچوں (لڑکیوں یا لڑکوں) کو بلیک میل کیا جاتا ہے ۔
کبھی کبھار انسان کو سمجھدار ہونے کا ثبوت دینا چاہیئے،  اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ آپ چوبیس گھنٹے بچے کے سر پہ سوار نہیں رہ سکتے، لیکن پیار سے سمجھا سکتے ہیں ، تاکہ کوئی  خطرے کی بات  ہو تو وہ شیئر کر سکے۔
جنسی کرائم ریٹ دنیامیں کہیں بھی  زیرو نہیں۔ بہت کیئر فل لوگوں کے ساتھ بھی مس ہیپس ہوتے ہیں ، عقل مندی کے تقاضوں میں سے ایک اگر سزا کا مطالبہ ہے تو ایک آگاہی بھی ہے۔
آپ شاید اس بات کو ایسے نہ سمجھ سکیں یا اس کی نوعیت نا سمجھیں ، پرسوں میرے چچا کی سات سالہ بیٹی ساتھ بیٹھی تھی اسے میں عامر خان والی ویڈیو دکھا رہی تھی، دیکھ کر کہتی ،
" باجی  اس نے ایک جگہ نہیں بتائی"
میں نے پوچھا، " کونسی؟"
"  لپس پہ بھی کسی کو کِس نہیں کرنے دینا چاہیئے!   ٹھیک کہہ رہی ہوں نا؟"
میں نے کہا ،" بالکل ٹھیک کہہ رہی ہو۔ کوئی ایسا کچھ بھی کرنے کی کوشش کرے تو آپ نے مجھے بتانا ہے، کسی  بھی سہیلی کے ساتھ ممی بابا کو بتائے بغیر نہیں جانا"
خیر بات صرف ریپ کی نہیں ہے یا کم از کم میں صرف ریپ تک یہ معاملہ محدود نہیں کرتی۔
ہمارے ہاں ریپ سروائیورز کے لیے بھی معاشرہ کوئی آئیڈیل نہیں ہے ، نہ انہیں خاندان سپورٹ کرتا ہے اور نہ  ہی نفسیاتی مدد کا کوئی خاص نظام موجود ہے۔ یہ ڈی سینسیٹائز ہو جانا الگ بات ہے لیکن ہر بندہ نہیں ہو سکتا ۔
جیسے ہر انسان کے ساتھ ضروری نہیں کہ ریپ یا سکچوئل اسالٹ یا ہیراسمنٹ ہو پھر بھی ہم سب جانتے ہیں کہ ایسا ہوتا ہے۔
حقیقت کو جھٹلانے یا بھاگنے سے کوئی فائدہ نہیں ہے، مجھے سزا پہ اعتراض نہیں شاید کسی کو بھی نہیں ہو گا۔ پہلے بھی لکھا ہے کہ یہ معاملہ محض ریپ کا نہیں ہے، میں ان خواتین سے بھی ملتی ہوں جو اپنے شوہر کے ساتھ نارمل جنسی تعلق نہیں رکھ پاتی ہیں۔ کیونکہ کہیں بہت پہلے کسی کزن کسی رشتے دار نے اس طرح انہیں چھو کر ستایا ہوتا ہے۔ میاں کے قریب آنے پر انہیں وہی وقت وہ اذیت یاد آنے لگتی ہے۔
آئی ایم سوری میں یہ باتیں یہاں لکھ رہی ہوں، جس کی اجازت ہمارا معاشرہ نہیں دیتا ،  لیکن یہ سچ ہے۔ اپنے ہی جسم یا وجود کے ساتھ ایسے کسی احساس کا جڑ جانا اور پھر اس پر کسی سے بات نہ کر سکنا خاصا تکلیف دہ ہوتا ہے۔ ہم لوگ بہت سی چیزوں کو عام سمجھتے ہیں لیکن سمجھنا نہیں چاہیئے۔
فیصل آباد میں جس لڑکے نے بتایا کہ اس کے قاری صاحب بھی ایسا ہی کرتے تھے اور اس نے بھی جواباً آگے بچوں کے ساتھ ایسا کیا،  شاید یہ ایک مثال سمجھنے کے لیے کافی ہو کہ ان معاملات پر خاموشی اختیار کرنا ایک سائیکل یا چین ری ایکشن یا کچھ بھی کہہ لیں اسے جنم دیتا ہے۔
سکول کالج یا یونیورسٹی میں ہر بندہ ایسا نہیں ہوتا لیکن کوئی ایک ایسا بھی  ہوتا ہے۔ باقی آپ کی مرضی۔
یہ سب واقعات کسی نا کسی کے بھائی بیٹے شوہر بہنوئی باپ رشتےدار کزن نے ہی کیے ہوتے ہیں ۔تو آپ یا کتنی خواتین انہیں پھانسی کی سزا سنائیں گی؟
شاید کہنے کو آسان ہو کہ اپنے میاں کو یا باپ کو پھانسی لگا دیں گے۔ لیکن کہنے اور عمل کرنے میں فرق ہوتا ہے۔ شاید ہم کہیں،  نہیں ہمارے رشتےدار تو سب اسلام کو ماننے والے اور شریعت کے پابند ہیں وہ تو ایسا کر ہی نہیں سکتے !
لیکن اس ملک کے ستانوے فیصد لوگ ایسے ہی ہیں اور انہیں میں سے یہ سب کرنے والے بھی موجود ہیں۔ ریپ کرنے والے بھی، چھاتی یا پشت پہ ہاتھ پھیرنے والے بھی، گود میں بٹھا کر تسکین کا سامان کرنے والے بھی اور چھونے والے بھی۔
مزید یہ کہ جو لوگ یہاں بہت سادے بن کر یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سیکس ایجوکیشن سے  ملک میں بےحیائی وغیرہ عام ہو جائے گی یا لوگ شادی کے بغیر سیکس کرنے لگیں گے ۔تو ان سادہ دلوں کو جاننا چاہیئے یا اعداد و شمار اکٹھے کرنے چاہیئے تاکہ علم ہو ایسا واقعی ہو رہا ہے۔
ان لوگوں کو واقعی سیف سیکس پڑھانے اور سمجھانے کی ضرورت ہے۔لیکن اگر معاملے سے بھاگنا ہے ۔تو بس اتنا کہہ دیں کہ یہ اسلامی معاشرہ ہے یہاں ایسا کچھ نہیں ہوتا! 
لیکن کیا ایسا ہے ؟
 
 کاؤنسلنگ ، تعلیم،آگاہی شعور دینا اپنی اولاد کو ہر مرحلے پہ ایک ضروری عمل ہے ۔ 

بشکریہ ڈاکٹر رامیش فاطمہ۔ - - -  


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


  
 

باہمت ماں - عفّت نوشین

یہ لڑکی بے شک میرے فیس بُک (Facebook) کے دوستوں کی فہرست میں شامل تھی اور وقتاً فوقتاً میری پوسٹیں پڑھ لیتی تھی اور اپنی پسندیدگی کا اظہار بھی کر دیتی تھی لیکن میں اس کو جانتا نہیں تھا، نہ ہی کبھی اس سے بات ہوئی تھی اور ملاقات کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔
  17 دسمبر کو میرے مرحوم بیٹے سرمد طارق کی سالگرہ ہوتی ہے۔ میں نے اُس دن کی نسبت کے پیشِ نظر ایک مختصر سی تحریر بہ عنوان
"میں اور میرا بیٹا، سرمد سالگرہ مبارک ہو" پوسٹ کی۔
اسی دن بعد دوپہر مجھے اس لڑکی کا میسج (Message) آتا ہے جو کچھ یوں ہے:-

" السلامُ علیکم انکل۔ سرمد بھائی اور میری بیٹی فاطمہ کی سالگرہ مشترک ہے۔ میری بیٹی دماغ کے کینسر کی وجہ سے آج سے تین سال قبل 3 دسمبر 2014 کو مجھ سے ہمیشہ کیلئے جدا ہو گئی تھی۔ سرمد بھائی نے جس ہمت اور حوصلے سے اپنی معزوری کا مقابلہ کیا اور اپنے لئے نئی راہیں نکالیں، میں اُن سے بہت متاثر ہوں اور ان کی زندگی سے راہنمائی لیتی ہوں کیونکہ میں Primary Progressive Multiple Sclerosis–PPMS {مختصراّ پی۔ پی۔ ایم- ایس} کے عارضہ میں مبتلا ہوں اوراس کی تشخیص کے ایک سال کے اندراندرہی بستر تک محدود ہو کر رہ گئی تھی۔ میں ایک اکیلی ماں ہوں ۔ میرے دل سے آپ کیلئے بہت دعائیں نکلتی ہیں کیونکہ مجھے احساس ہے کہ والدین کیلئے اپنے بچوں کی جدائی کتنی تکلیف دہ ہوتی ہے۔"
اس میسیج نے تو مجھے جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔ میں نے کہا اے میرے اللہ یہ کس ہستی سے مجھے ٹکرا دیا؟
میں تو پہلے ہی اندر سے بہت ٹوٹا ہوا ہوں اس لڑکی نے تو مجھے مزید پریشان کر دیا ہے۔ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اسے کیا جواب دوں؟
کیسے اس کی دلجوئی کروں، کیسے اسے دلاسا دوں، کیسے اس کی ڈھارس بندھاؤں، کیا ہمدردی کروں، کیسے بہتر مستقبل کی امیدیں دلاؤں؟

 مجھے تفصیلات تو معلوم نہ تھیں لیکن نتائج میرے سامنے تھے جنہوں نے اندر سے مجھے بہت دکھی کر دیا۔ جوں جوں میں اس کے بارے میں سوچتا میرے دکھ میں مزید اضافہ ہوتا جاتا۔ میرے سامنے ایک ماں کھڑی تھی جس کی بیٹی فوت ہو چکی ہے، اکیلی ہے اور معزور ہے۔
ایک مَوہُوم سا خیال آیا کہ کیوں اپنے دکھوں میں اضافہ کروں؟
کیوں پرائی آگ میں جلوں، ہر بات کا جواب دینا ضروری تو نہیں۔ چُپ سادھ لو۔ لیکن فوراً ہی اس خیال کو جھٹک دیا اور اس سوچ پر اپنے آپ کو بہت ملامت بھی کیا۔ اپنے آپ سے کہا کہ تُف ہے تم پہ۔ ایسا سوچنا بھی گناہ ہے تمہارے لئے کیونکہ یہاں ایک ماں نے اپنا دل چیر کر تمہارے سامنے رکھ دیا ہے، اپنے سارے دکھ تمہاری جھولی میں ڈال دئے ہیں۔ اُس نے تم پر اعتماد کیا ہے، تم پہ بھروسہ کیا ہے۔
کیا بنے کا اس اعتماد اور بھروسے کا؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا جواب دو گے اپنے ضمیر کو اور اپنے اللہ کو؟
اس لئے چپ رہنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ میں نے جھینپتے ہوئے خاموشی سے ہارمان لی۔ مجھ سے جو بن پڑا میں نے جواب میں لکھ دیا اور اپنے شدید دکھ،غم اور ہمدردی کا اظہار کیا اور ڈھیروں دعائیں دیں۔ اور ہاں یہ وعدہ بھی کیا کہ جب بھی لاہور آیا اِن شاء اللہ آپ سے ضرور ملوں گا۔
کہنے لگی،" سر آنکھوں پرانکل ۔ آپ کو جب بھی موقع ملے آپ ضرور آئیں ۔ میرے امّی ابّو بھی آپ سے مل کر بہت خوش ہوں گے"۔
جب جذبے سچے ہوں اور نیتیں نیک ہوں تو مسبّب الاسباب کوئی نہ کوئی سبب پیدا کر ہی دیتا ہے۔ میرا 22 دسمبر2017 کو لاہور جانے کا پروگرام بنا۔ لاہور پہنچتے ہی میں نے اسے اطلاع دی،
" بیٹا میں لاہور آ گیا ہوں۔ کب آؤں آپ سے ملنے؟ کہنے لگی کل شام چار بجے آ جائیں"۔
23 دسمبر کی شام کے چار بجے میں اس کے گھر پہچ گیا۔ اس کی امی اور ابو نے میرا پُرتپاک خیر مقدم کیا اور ڈرائینگ روم میں لے گئے۔ میرا وہاں بیٹھنے کو دل نہ چاہا، میں نے عرض کی ،
" میں تو اپنی بیٹی سے ملنے آیا ہوں۔ اگر ممکن ہو تو مجھے سیدھا وہیں لے چلیں"
اور وہ میری راہنمائی کرتے ہوئے اس کے کمرے کی طرف لے گئے۔ دروازہ کھلا تو سامنے پلنگ پر ٹیک لگائے، ٹانگوں پہ کمبل ڈالے، میری بیٹی عِفّت نورین، روشن آنکھیں، دل نشیں مسکراہٹ اورعزم و استقلال کی تصویر بنی بیٹھی تھی۔ اسے دیکھ کر مجھے کوئی خاص اجنبیت محسوس نہِیں ہوئی۔ یوں لگا جیسے میں اسے ایک عرصے سے جانتا ہوں حالانکہ پچھلے پانچ دنوں سے ہی ہمارا رابطہ ہوا تھا اور پیغامات کا تبادلہ ہوا تھا۔ شائید اس لئے کہ ہمارا دکھ سانجھا تھا۔ میری بیٹی میرے سامنے بیٹھی تھی جس سے ملنے کی تمنا لئے میں راولپنڈی سے کل ہی آیا تھا۔ میں جب کمرے میں داخل ہوا تو اس نے مسکرا کر میرا استقبال کیا اور مجھے یوں لگا جیسے مجھے سارے جہاں کی خوشیاں مل گئی ہوں۔ میں نے آگے بڑھ کر اس کے سر پہ پیار سے ہاتھ پھیرا۔

لیکن اس کی مسکراہٹ کے پیچھے جو چھپا ہوا درد اور کرب تھا، میں اسے محسوس کئے بِغیر نہ رہ سکا۔ جلد ہی بے تکلّفی ہو گئی اور پھر خوب کُھل کر باتیں ہوئیں جو چائے کے دوران بھی جاری رہیں۔ اس دوران اسکی بیٹی عائزہ سے بھی ملاقات ہوئی۔ ماشاءاللہ بڑی پیاری بیٹی ہے۔ وقت کے گزرنے کا احساس ہی نہ ہوا اور شام کے چھ بج گئے۔ میں نے پھر ملنے کے وعدے پر اجازت چاہی۔ میں اُٹھ کرآ تو گیا مگر تشنگی رہ گئی۔
عفّت کی کہانی کی کئی کڑیاں ابھی اور بھی تھیں۔ ابھی کئی اور رازوں سے پردہ اُٹھنا باقی تھا۔ میں اب اسی تاک میں تھا کہ دوبارہ اس سے کب ملا جائے۔
اتفاق سے عفّت کی سالگرہ 26 دسمبر کو تھی۔ میں نے سوچا بھلا اس سے بہتر کوئی اور موقع کیا ہو گا۔ اُسے بتایا کہ میں 26 دسمبر کو پھر آؤں گا لیکن اس دفعہ مجھے زیادہ وقت دینا۔
عِفّت نے کہا کہ میں گیارہ بجے آجاؤں۔ میں نے پھولوں کا ایک گلدستہ لیا اور مقررہ وقت پہ پہنچ گیا اورشام پانچ بجے تک وہیں رہا۔
آج اس کے والدین اورعائزہ کے علاوہ اس کی ایک بہن اور اکلوتے بھائی سے بھی ملاقات ہو گئی۔ آج دوسری ملاقات کی وجہ سے سب گھر والوں سے بھی کافی بے تکلّفی ہو گئی تھی۔ جوں جوں عفّت اپنی زندگی کے اوراق اُلٹتی جارہی تھی میری نگاہوں میں اُس کی قدر و منزلت بڑھتی جا رہی تھی۔ میں اس کی تعلیمی قابلیت سے بے حد متائثر ہوا جس کا اندازہ آپ کو بھی آخر میں دی گئی تعلیمی اہلیت اور تجربے کی تفصیلات سے ہو جائے گا۔
عفّت نوشین گھر کا بڑا بچہ ہے۔ تین بہنیں اور ایک بھائی اس سے چھوٹے ہیں۔ بچپن سے ہی عفّت ایک ہونہار بیٹی تھی۔ پڑھائی میں بہت دلچسپی تھی اورمحنت بھی خوب کرتی تھی اس لئے اچھے نتائج سے ہمکنارہوئی۔ زندگی میں ہر سُو بہار ہی بہار تھی، خوشیاں ہی خوشیاں تھیں۔ وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہوا کہ کب گڑیاں پٹولے چھوٹی بہنوں کے حوالے کئے اور کب شٹاپُو اور پِٹُھو تاکِ نسیاں ہوئے۔
2004 میں تعلیم ختم ہوتے ہی والدین کو شادی کی فکر دامن گیر ہوئی اور2005 میں شادی ہو گئی۔
گھر کی پہلی شادی تھی اس لئے بڑی دھوم سے ہوئی اور اس کے ساتھ ہی عفّت کی آزمائشوں کا دور بھی شروع ہو گیا۔ عفّت کی زندگی مستقبل کے اندیشوں سے بے خبر چل رہی تھی۔

اللہ نے فروری 2006 میں عائزہ سے نوازا اور پھر تقریباً چار سال بعد فاطمہ پیدا ہوئی۔
دونوں بیٹیاں ماشاءاللہ بہت پیاری تھیں لیکن فاطمہ چھوٹی ہونے کے ناطے زیادہ توجہ لے جاتی تھی۔ ویسے تھی بھی بہت خوبصورت، معصوم چہرہ جیسے ملکوتی حُسن سے مُزیّن ہو۔ پھولوں کی طرح نرم و نازک۔ گھر میں گھومتی پھرتی ننھی پری لگتی تھی۔ فاطمہ بمشکل پانچ سال کی ہوئِی تھی اور ابھی سکول جانا شروع ہی کیا تھا کہ اسے پتہ نہیں کس کی نظر کھا گئی۔ اس کے سر میں رسولی بن گئی تھی۔ مزید تحقیق کی تو یہ روح فرسا خبر ملی کہ اس میں کینسر ہے۔ یہ خبر عفّت اور اس کے گھر والوں پر قیامت بن کر ٹوٹی۔ عفّت کی تو جیسے دنیا ہی برباد ہو گئی۔ اندر سے ٹوٹ پھوٹ گئی۔ آپریشن کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ ننھی سی جان کا اتنے بڑے آپریشن کا سوچ کر ہی کلیجہ منہ کو آتا تھا۔
بلاخر فاطمہ کا پہلا آپریشن 8 ستمبر2014 کو ہوا۔ چھ دن بعد دوسرا آپریشن 14 ستمبر کو ہوا۔ فاطمہ ان دو بڑے آپریشنوں کے بعد ابھی مکمل طور پہ رُو بہ صحت بھی نہ ہونے پائی تھی کہ 16 اکتوبر سے قیموتھراپی (Chemotherapy) شروع ہو گئی۔ نازک سی جان تھی کتنے جھٹکے سہتی۔ اب چیزیں آہستہ آہستہ فاطمہ کی برداشت سے باہر ہوتی جا رہی تھیں۔ شدید بخار رہنے لگا۔ کبھی ہسپتال لے جاتے کبھی گھر لے آتے۔ 20 اکتوبر کو ننھی فاطمہ آخری بار ہسپتال گئی۔ کوئی بہتری کی امید نظر نہیں آ رہی تھی۔ ڈاکٹر بے بس ہو رہے تھے، دوائیاں بے اثر ہو رہی تھی اورعفّت کے اعصاب شل ہو رہے تھے۔ وہ پاگلوں کی طرح کبھی ایک ڈاکٹر کے پاس جاتی کبھی دوسرے کے پاس۔ کبھی ایک نرس کا دامن پکڑتی کبھی دوسری کا۔ کہیں سے اُس کی داد رسی نہیں ہو رہی تھی۔ عفّت کی دنیا اُجڑ رہی تھی۔ اس کی گود خالی ہو رہی تھی۔ اُس کی ممتا کو کسی پل چین نہیں تھا۔ فاطمہ کی کشتی بیچ منجدھار کے پھنسی تھی اور ایسے مشکل حالات میں کسی کو نہ توفیق ہوئی نہ ہی ہمّت کہ وہ اس دکھیاری ماں کے سر پر دستِ شفقت رکھتا، اس کے دکھوں کا مداوا کرتا، اس کو حوصلہ دیتا۔ ان روح فرسا حالات کا اللہ کے آسرے سے عفّت تنِ تنہا مقابلہ کر رہی تھی۔ اگر اسے کوئی مدد میّسر تھی تو وہ صرف اپنے والدین اور بھائی بہنوں کی تھی۔ فاطمہ کا بخار کسی صورت ٹوٹ نہیں رہا تھا۔ سپونجنگ (Sponging) کر کر کے بغلوں میں اس کی جلد گلنے لگی تھی۔ اب تو اسے بے ہوشی کے دورے بھی پڑنے لگے تھے۔ انہی دنوں عِفّت اپنی ٹانگوں میں کمزوری اور درد محسوس کرنے لگی تھی مگر فاطمہ کی تیمارداری میں اسے اپنی ہوش کہاں تھی کہ کسی ڈاکٹر کو دکھاتی۔ وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر اپنی بیٹی کی فکر میں سرگرداں تھی۔ نہ دن کو چین نہ رات کو سکوں۔ اس کے دن رات آئی۔ سی۔ یو(ICU) میں ہی گزرتے تھے۔ جب کوئی گھر سے آ جاتا تو وہ کمرے میں جا کر کچھ دیر سستا لیتی۔ لیکن کمرے میں بھی فاطمہ سے دور رہ کر اسے چین کہاں؟ اور پھر تھوڑی ہی دیر بعد بھاگی بھاگی فاطمہ کے پاس آ جاتی اور اس کا سر گود میں رکھ کر سہلاتی رہتی۔ آخر مشیتِ ایزدی کو ایک ماں کی تڑپ، بےبسی اور مجبوری پر ترس آ گیا اور 3 دسمبر 2014 کو فاطمہ اپنی ماں کی گود میں سر رکھے اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملی۔ 



فاطمہ کو تو سکون مل گیا مگر عفّت کی دنیا ہمیشہ کیلئے ویران کر گئی۔ فاطمہ کی بیماری کی تفصیل بتاتے ہوئےعفّت کی آواز بہت غم زدہ ہو گئی اور آنکھوں کے کنارے بھیگ گئے اور یہی حال کچھ میرا بھی تھا۔
اتنے میں اس کے پاؤں پر، جو کمبل سے باہر نکل آئے تھے، میری نظر پڑی تو میں نے باتوں کا رُخ موڑتے ہوئے اپنی پریشانی کا اظہار کیا کیونکہ وہ آگے کو جھکے ہوئے تھے۔ میں نے کہا بیٹا جی ان کا فوری بندوبست کریں۔ پاؤں ٹیڑھے ہو گئے تو چلنا مشکل ہو جائے گا۔ کہنے لگی کہ مجھے اس کا احساس ہے اور میں نے کوئی تین ماہ پہلے پاؤں پہ باندھنے کیلئے بریسس(Braces) بھی منگوائے تھے لیکن کسی کو لگانے نہیں آئے۔ میں نے کہا لائیں بیٹا میں باندھ دیتا ہوں۔ عائزہ الماری جلد ہی ڈھونڈ لائی۔ میں نے عفّت کا ایک پاؤں اپنی گود میں رکھا اور اسے سیدھا کر کے ایک بریس (Brace) باندھا، اسی طرح پھر دوسرا باندھا۔
اسی عمل کے دوران جب میں نے پاؤں کے ناخن دیکھے تو میں حیران و ششدر رہ گیا۔ بہت بڑھے ہوئے تھے۔ لگتا تھا کہ کافی عرصہ سے نہیں کاٹے گئے۔ بڑھے ہوئے ناخن سپازم (Spasm) کے دوران ٹانگوں کو زخمی کر سکتے ہیں۔
میں نے لاڈ سے پوچھا او لڑکی یہ ناخن فیشن کیلئے بڑھائے ہیں یا بے توجہی کی وجہ سے بڑھ گئے ہیں؟
کہنے لگی فیشن کہاں انکل بس۔۔۔۔ اور مزید کریدنے کی مجھ میں ہمّت نہ ہوئی۔
میں نے عائزہ کو کہا کہ بیٹا نیل کٹر (Nail Cutter) لاؤ۔ میں نے اسکا پاؤں پھر گود میں رکھا اور بڑی احتیاط سے ناخن کاٹنے شروع کر دئے۔
میں ناخن کاٹ رہا تھا اور میرا دل چاہ رہا تھا کہ میں دھاڑیں مار مار کر روؤں کہ ساون بھادوں کے مہینوں میں بھی جب ہر طرف پانی ہی پانی ہوتا ہے میری بیٹی پھر بھی پیاسی ہے اور نہ ہی مجھ میں ہمّت ہو رہی تھی کہ میں اس کے چہرے کی طرف دیکھوں کیونکہ میں اس کی متشکّر نگاہوں کا سامنا نہیں کر سکتا تھا۔ خیر اسی تذبذب میں میں نے تمام ناخن کاٹنے کے بعد ان کے کنارے نیل کٹر کی فائیل (File) سے رگڑ کر ملائم کئے اور پھر پاؤں کمبل سے ڈھانپ دئے۔
عفّت کی ازدواجی زندگی میں ابتدا ہی سے کچھ مسائل آ رہے تھے جن کی شدّت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی گئی۔ اس نے انتہائی نا مُساعد حالات میں بھی شادی نبھانے کی مقدور بھر کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکی۔ آخر ستمبر 2015 میں اس فرشتہ صفت غموں کی ماری لڑکی کو تین زبانی طلاق دے کر فارغ کر دیا گیا اورعفّت سب کچھ چھوڑ کے صرف ایک شاپر میں دو جوڑے کپڑوں کے ڈال کر اپنے میکے آ گئی۔
ان حالات میں عفّت کی صحت دن بہ دن گرتی گئی۔ ذہنی اور جسمانی طور پہ عفّت کیلئے مشکل ہو رہا تھا کہ وہ اپنی روائتی مستعدی سے ملازمت جاری رکھ سکے۔ آخرِ کار اکتوبر2015 میں ملازمت کو خیر باد کہنا پڑا۔ لیکن لگتا ہے ابھی بھی اس کی مشکلات اور امتحان کا دور ختم نہیں ہوا تھا۔
نومبر 2016 تک وہ بالکل چلنے پھرنے کے قابل نہ رہی اور بستر سے لگ گئی۔ عفّت کی رودادِ غم سُن کر آپ سوچ رہے ہوں گے کہ شائید عفّت ٹُوٹ کر بکھر گئی ہو گی، شائید وہ کبھی بھی اپنے آپ کو مجتمع نہ کر پائے، شائد عمر بھر اس کی معزوری اور بے بسی کا رونا بند نہ ہو، شائید اسکی معذوری سے تنگ آ کر اس کے گھر والے بھی اس کا ساتھ چھوڑ جائیں، شائد وہ اب کبھی بھی بستر سے نہ اٹھ پائے گی۔ نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔
عفّت نوشین میری بیٹی ہے اور مجھے بہت ہی پیاری ہے۔ ان دنوں میں نے اسے بڑے قریب سے دیکھا ہے، اس کے دل میں اور روح میں جھانکا ہے اور اسے بہت اچھی طرح جان گیا ہوں۔ میں اس کے حوصلے اور ہمّت سے بے حد متائثر ہوا ہوں۔ وہ جس اطمینان اورعزم سے اپنی کہانی سنا رہی تھی وہ قابلِ دید تھا۔ مجھے اس کی آنکھوں میں ایک چمک نظر آئی جو اس کے مستقبل کے ارادوں اور عزائم کی نشان دہی کر رہی تھی۔ عفّت کو طلاق کا کوئی غم نہیں۔ اپنی بیماری کی بھی اسے کوئی خاص پریشانی نہیں کیونکہ اب وہ ایک مقام پہ آ کے رُک گئی ہے۔
مجھے طبیبوں کے طبیب، اللہ ربّ العزّت سے واثق امید ہے کہ،

وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ ﴿26/80 
 فزیوتھراپی (Physiotherapy) اور علاج سے ان شاءاللہ وہ اس قابل ہو جائے گی کہ اپنے قدموں سے چل سکے لیکن وہ شائد اس کا انتظار نہیں کرے گی بلکہ بہت جلد وہیل چیئر پہ اپنی ملازمت دوبارہ شروع کر کے ایک فعال زندگی گزار سکے گی۔ اسکے والدین، بہنیں اور بھائی ایک مضبوط چٹان کی طرح اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس کے والد اور بھائی اس کے مسائل حل کرنے پہ کمر بستہ ہیں۔ آہستہ آہستہ اس کے مسائل حل ہو رہے ہیں۔ دکھ ہے تو اسے صرف ایک ہی دکھ ہے، غم ہے تو صرف ایک ہی ہے اور اس کی زندگی کو کوئی روگ ہے تو وہ صرف ایک ہی ہے اور وہ ہے ننھی فاطمہ کی جدائی۔
دعا ہے کہ اللہ اس دُکھیاری ماں کو صبر اور سکونِ قلب عطا کرے۔ آمین۔ عفّت مجھے بہت پیاری ہے اور بہت عزیز ہے اور میرے دل میں بسیرا کئے بیٹھی ہے۔ یہ میری سوچوں میں ہے، میری ہر دعا میں ہے اور مجھے یقین ہے کہ طبیبوں کا طبیب، جس پہ اسے بھی یقینِ کامل ہے، جو اس کی شہ رگ سے بھی قریب بیٹھا ہے کہ وہ اسے ٹوٹنے نہیں دے گا، وہ اسے بکھرنے نہیں دے گا، اس کو سنبھال لے گا، اس کے دکھوں کا مداوہ کرے گا اور بہت جلد اس کی زندگی کی ناؤ کوبھنور سے باہر نکال لائے گا۔ اِن شاء اللہ۔

چھیتی بوہڑیں وے طبیبا
نئیں تے میں مر گئی آں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔