میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 12 جنوری، 2018

بچوں کا جنسی استحصال اور بچاؤ - 3

کم سن  بچیوں سے جنسی عمل کی داستان-
جب سے انسان وجود میں آیا ہے ،  تہذیب کے ارتقاء سے  رواں دواں ہے ،  شہرِ قصور جہاں  سے یہ گرد معصوم زینب  سے  جنسی زیادتی اور قتل سے اُٹھی   اور مزید قتل کا سبب بنی کوئی نئی بات نہیں، پہلے بھی
قصور کے مختلف علاقوں سے ایمان فاطمہ، فوزیہ ، نور فاطمہ ، ثنا ، أسماء اور لائبہ نامی بچیاں بھی جنسی زیادتی کا شکار ہوچکی ہیں ۔

 ایک بچے کے ذہن میں قصوں اور کہانیوں جن میں ڈرامائی ، تمثیلی ڈراموں، فلمی اور اسلامی کہانیوں کی صورت میں ڈالا جاتا ہے ۔ تو اُس کے ذہن میں رنڈی خانہ کھل جاتا ہے ۔ 
        جس میں ہر وہ عورت شامل ہے ، جو ماں اور بہن کے علاوہ ہوتی ہے ۔ 


یہ تمثیلی کہانیاں بائبل کے پنّوں میں ہوں  یا گیتا کے اشلوک یا  حوروں کی ہوں اور یا بخاری میں اسلامی سوئمبر  کی ۔
 سب اور اپنے اپنے پنڈتوں نے مذہبی لبادے اوڑھا کر مقدس بنایا   ہواہے ۔

جنسی عمل تو ایک مقدّس عمل ہے ، اللہ کی آیات میں سے ہے ،
هُوَ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا فَلَمَّا تَغَشَّاهَا حَمَلَتْ حَمْلاً خَفِيفًا فَمَرَّتْ بِهِ فَلَمَّا أَثْقَلَت دَّعَوَا اللّهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ آتَيْتَنَا صَالِحاً لَّنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ [7:189]
 
جس سے  مستفیدکوئی بالغ عورت کم سن بچے  سے ہو یا جوان مرد کسی  بچی کی سسکیاں سُن کر ذہنی تسکین محسوس کرے ۔ یا آپس میں رضامندی سے ایک دوسرے سے کھیلیں  ۔
لیکن تمام جنسی اعمال کے  گرد ، قیود و ضوابط  اخلاقی لبادہ اوڑھے گھومتی ہیں ۔لیکن  اِس میں اُس بچے کا کیا قصور ، زیر ناف بال نکلتے ہی وہ خود کو کسی بھی مؤنث کے ساتھ ، کتے ، گدھے ، گھوڑے ، بکرے یا مرغے کی طرح مستفید ہونا اپنا ، انسانی فرض سمجھتا ہے ۔جس  سے اُسے تعلیم  نہیں بلکہ ڈنڈے ، زور ، دھمکی یا جہنم کی نوید دے کر روکا جاتا ہے ۔

یورپی کرسچئنز  میں کہ چھلنی کی طرح فولادی چادر نہیں ہوتی کہ جس کے سوراخوں سے جنسی عمل  سے گذرا جائے وہاں ، جنسی عمل بس جنسی عمل ہوتا ہے ۔ ایک مرد اور عورت کا جس میں عمر کی کوئی قید نہیں ۔ مغربی ممالک کے کرسچیئنز میں ہر دوسرا انسان بے نام باپ کی اولاد ہے ۔ اولاد تو ہو گی چاہے قانونی جنسی عمل ہو یا غیر قانونی ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اِس غیر قانونی جنسی عمل کو اخلاقی ، سماجی ، معاشی یا مذہبی پابندیوں سے روکا جا سکتا ہے ؟ 

میرا خیال ہے کہ صرف ایک واحد ترکیب ہے اور وہ یہ ، کہ :-
بالغ ہوتے ہی بچوں کی شادی کردی جائے ، جس سے وہ آفاقی ہارمون ہیجان خیزی ، سکون پا جاتے ہیں ، جو جسم میں سنساہٹ پیدا کرتے ہیں ۔

ورنہ اِس کے علاوہ تمام تدبیریں ناکام ہوجائیں گی ، کیوں کہ جنسی ہارمونز کی زیادتی  کسی  بھی انسان کو جنسی ذہنی مرض میں مبتلاء کر سکتی ہے ۔
ذرا سوچیں کہ ، پاکستان میں ہیرا منڈیاں بند کرنے سے پہلے کیا ، بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات ہوتے تھے ؟
جنسی ہارمون کی زیادتی ، بعض دفعہ پاکباز مسلمانوں  کو بھی اُس نہج پر لے آتی ہے  ، جہاں وہ اپنے جنسی اعضاء کو اپنے جسم سے اکھاڑ پھینکنے کی انتہا پر جا پہنچتے تھے ۔ لیکن پھر باڑے میں موجود  عورتوں سے عزل کرکے اپنی جنسی بھوک مٹاتے تھے ۔
یہ سلسلہ جاری و ساری ہے ، مشرقی پاکستان میں سنا ہے کہ  ، کہ کسی نیازی نے بنگالیوں کی نسلیں تبدیل کرنے کی بات کی تھی ،  ویسے نسلیں تو مارشل راستے پر بھی  بہت سے نسلوں کی ہوئیں  ، نیلی آنکھیں یونانیوں  کے نسلی نطفے کی خبر دیتی ہیں ۔
کیا اِسے روکا جاسکتا ہے ؟
ہر گز نہیں !
پاکستان میں ، عائلی قوانین  کے باوجود ، لونڈیاں اور داشتائیں رکھی جارہی ہیں ۔
ہیرا منڈی ختم ہونے کے باوجود ، پاکستان کے ہر شہر  میں  کنجری خانے کھلے ہوئے ہیں اور وہ بھی پولیس کی سرپرستی میں ۔
ملائیت خوش ہے کہ ہم نے پاکستان کو ایک پاک ملک بنا دیا ہے ۔
لیکن کیا ، زنا ، متعہ اور لواطت ختم ہو گئی ہے  ؟
جنس اللہ کی ایسی نعمت ہے کہ جس  کی دعا اور دوا کے  جائز  راستے بند کئے جائیں گے تو وہ  ، زیر زمین راستوں پر چلنا شروع ہوجائے گی !
اللہ کی یہ آیت نہ ختم ہوئی ہے نہ ہی منسوخ !



وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ ﴿23/5 
إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ 
﴿23/6
  تبھی تو    
قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ  ﴿23/1

مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُ  کواردو   فہم میں آپ داشتہ یا  رکھیل کہہ سکتے ہیں  ، جو ایک مرد کے ساتھ جنسی عمل کرنے کے بعد  کم از کم    ثَلاَثَةَ قُرُوءٍ تک کسی دوسرے مرد سے  جنسی عمل نہ کرے ۔ کیوں ؟

۔۔  ۔ ۔  وَلاَ يَحِلُّ لَهُنَّ أَن يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ۔ ۔ ۔ ۔ ﴿2/228
عائلی قوانین  نے   ،مسلمانوںمیں کثرت الطلاق    ، افراد  کا خاتمہ کر دیا اور کثرت الزنا  مؤمنین کی تعداد بڑھا دی ہے ۔  کیوں کہ الْقُرْآنَ    کو انسانی لکھی ہوئی کتابوں اور قوانین نے   مَهْجُورً کر دیا ہے 
وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا  ﴿25/30
جنسی افعال کا سمندر، پپو کے قاتل کی پھانسی اور ہیرا منڈیوں کے خاتمے سے   زیر زمین  راستوں پر چل پڑا ہے ۔ 
 اور زیر زمین راستوں میں سب سے زیادہ خطرناک  ، اُن معصوموں اطفال  (مذکر و مؤنث )  کو استعمال کرنا جنھیں علم ہی نہیں کہ عورات النساء کیا ہوتے ہیں  ؟
 سُورَةٌ أَنْزَلْنَاهَا وَفَرَضْنَاهَا وَأَنزَلْنَا فِيهَا آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ  ﴿24/1
 سُورَةٌ جسے ہم نے نازل کیا   اور ہم نے فرض کیا ۔اور ہم نے اُس میں آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ   نازل کیں  یا کہ تم      ذَكَّرُونَ بنو !
قارئین ! مشہور ہے کہ  اچھی بات کہیں سے بھی ملے اُسے پکڑ لو شائد تمھیں ذہنی  فائدہ ہو  جو ہوسکتا ہے کی  مالی اور جسمانی فائدے میں بھی تبدیل ہوجائے ۔ ہر انسان  کی یہی سوچ ہوتی ہے کہ اچھی بات فائدہ مند ہوتی ہے ۔
اور انسانوں کا  یہ بھی  خیال  ہے کہ ،  
الْقُرْآنَ  محمد بن عبداللہ کے الفاظ ہیں  یا دوسروں کے خیال  یعنی اُن سے پہلے اچھے اور پاکباز لوگوں کے کہے کو  اپنا  (پلیگیار  ) بنا کر کہہ دیا ہے ، جن  میں ہو سکتا ہے کہ اچھی باتیں ہوں ، لیکن اُن پر عمل کرنا  انسان کے لئے لازم نہیں ! ویسے بھی  کچھ انسانی افعال  ذاتی ہوتے ہیں ، جس کا پرچار کرنا  دراصل برائی پھیلانا ہے ۔ اللہ انسان کے ایسے ذاتی اعمال پر پردہ ڈالتا ہے تم بھی ڈالو  اور چیزوں کو زیر زمین ہی رہنے دو، ویسے بھی :
٭- مسلمانوں کا اللہ   معاف کرنے والا ہے ، ویسے بھی دوزخ میں  چند دن کے بعد جنت ہی جنت  ہے جہاں ملائیت  کی سو لباسوں میں ملفوف  حوریں ہوگی ، مگر اُن کے لباس   کے آرپار دیکھا جاسکے گا ۔ اور مسلمان اُس کے جسم پر جوُں کی طرح رینگے گا ۔
٭- یہودی تو بُرے لوگ ہیں
٭-   اور رہے  کرسچیئنز ، اُن کے تمام گنا ہ اُن کے خداوند کرائسٹ نے اپنے اوپر لے لئے ہیں ، لہذا تمام کرسچیئنز  معصوم من الخطا ء ہیں ۔ لہذا دنیا کی سب سے زیادہ کرسچیئنز  خواتین   مُلّائی ، جنتی لباس میں پھرتی ہیں ۔ جن کو اُن کے جسم کا کچھ حصہ نظر نہیں آتا وہ گناہ گار ہیں ۔
اب رہی ایک اچھی مگر الکتاب کی خوفناک بات ، جو روح القدّس نے محمدﷺ کو بتائی :


الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِئَةَ جَلْدَةٍ وَلَا تَأْخُذْكُم بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ  ﴿24/2
 الزَّانِيَةُ اور  الزَّانِي کو      دونوں میں  کُل  ایک کو    سو  دُرّے جلد پر لگاؤ  اور تمھیں اُن کے اوپر   اللہ کے الدین روّف  مت بنو   ۔ اگر تم اللہ کے ساتھ اور یوم الآخر پر ایمان رکھتے ہو ۔ اور اُن دونوں پر ہونے والے  ( سو  دُرّے) کے عذاب کو  مؤمنین کا ایک طائفہ  شہادت  کے لئے ہو ۔

الزَّانِي لَا يَنكِحُ إلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ وَحُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ ﴿24/3
الزَّانِي ،  زَانِيَةً سے  یا  مُشْرِكَةً نکاح کرے گا  اور     الزَّانِيَةُ ، زَانٍ  سے  یا  مُشْرِكٌ نکاح کرے گا 
الْمُؤْمِنِينَ کے لئے وہ دونوں حرام ہیں ۔ 

   کیا  اِس مفتی کا فتویٰ  اللہ کی آیت کی ﴿24/3وضاحت ہے ؟
 


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
بچوں کا جنسی استحصال اور بچاؤ - 2
ایک ارب ، گمنام باپوں کے امریکی بچے !


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔