میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 13 جنوری، 2018

باہمت ماں - عفّت نوشین

یہ لڑکی بے شک میرے فیس بُک (Facebook) کے دوستوں کی فہرست میں شامل تھی اور وقتاً فوقتاً میری پوسٹیں پڑھ لیتی تھی اور اپنی پسندیدگی کا اظہار بھی کر دیتی تھی لیکن میں اس کو جانتا نہیں تھا، نہ ہی کبھی اس سے بات ہوئی تھی اور ملاقات کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔
  17 دسمبر کو میرے مرحوم بیٹے سرمد طارق کی سالگرہ ہوتی ہے۔ میں نے اُس دن کی نسبت کے پیشِ نظر ایک مختصر سی تحریر بہ عنوان
"میں اور میرا بیٹا، سرمد سالگرہ مبارک ہو" پوسٹ کی۔
اسی دن بعد دوپہر مجھے اس لڑکی کا میسج (Message) آتا ہے جو کچھ یوں ہے:-

" السلامُ علیکم انکل۔ سرمد بھائی اور میری بیٹی فاطمہ کی سالگرہ مشترک ہے۔ میری بیٹی دماغ کے کینسر کی وجہ سے آج سے تین سال قبل 3 دسمبر 2014 کو مجھ سے ہمیشہ کیلئے جدا ہو گئی تھی۔ سرمد بھائی نے جس ہمت اور حوصلے سے اپنی معزوری کا مقابلہ کیا اور اپنے لئے نئی راہیں نکالیں، میں اُن سے بہت متاثر ہوں اور ان کی زندگی سے راہنمائی لیتی ہوں کیونکہ میں Primary Progressive Multiple Sclerosis–PPMS {مختصراّ پی۔ پی۔ ایم- ایس} کے عارضہ میں مبتلا ہوں اوراس کی تشخیص کے ایک سال کے اندراندرہی بستر تک محدود ہو کر رہ گئی تھی۔ میں ایک اکیلی ماں ہوں ۔ میرے دل سے آپ کیلئے بہت دعائیں نکلتی ہیں کیونکہ مجھے احساس ہے کہ والدین کیلئے اپنے بچوں کی جدائی کتنی تکلیف دہ ہوتی ہے۔"
اس میسیج نے تو مجھے جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔ میں نے کہا اے میرے اللہ یہ کس ہستی سے مجھے ٹکرا دیا؟
میں تو پہلے ہی اندر سے بہت ٹوٹا ہوا ہوں اس لڑکی نے تو مجھے مزید پریشان کر دیا ہے۔ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اسے کیا جواب دوں؟
کیسے اس کی دلجوئی کروں، کیسے اسے دلاسا دوں، کیسے اس کی ڈھارس بندھاؤں، کیا ہمدردی کروں، کیسے بہتر مستقبل کی امیدیں دلاؤں؟

 مجھے تفصیلات تو معلوم نہ تھیں لیکن نتائج میرے سامنے تھے جنہوں نے اندر سے مجھے بہت دکھی کر دیا۔ جوں جوں میں اس کے بارے میں سوچتا میرے دکھ میں مزید اضافہ ہوتا جاتا۔ میرے سامنے ایک ماں کھڑی تھی جس کی بیٹی فوت ہو چکی ہے، اکیلی ہے اور معزور ہے۔
ایک مَوہُوم سا خیال آیا کہ کیوں اپنے دکھوں میں اضافہ کروں؟
کیوں پرائی آگ میں جلوں، ہر بات کا جواب دینا ضروری تو نہیں۔ چُپ سادھ لو۔ لیکن فوراً ہی اس خیال کو جھٹک دیا اور اس سوچ پر اپنے آپ کو بہت ملامت بھی کیا۔ اپنے آپ سے کہا کہ تُف ہے تم پہ۔ ایسا سوچنا بھی گناہ ہے تمہارے لئے کیونکہ یہاں ایک ماں نے اپنا دل چیر کر تمہارے سامنے رکھ دیا ہے، اپنے سارے دکھ تمہاری جھولی میں ڈال دئے ہیں۔ اُس نے تم پر اعتماد کیا ہے، تم پہ بھروسہ کیا ہے۔
کیا بنے کا اس اعتماد اور بھروسے کا؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا جواب دو گے اپنے ضمیر کو اور اپنے اللہ کو؟
اس لئے چپ رہنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ میں نے جھینپتے ہوئے خاموشی سے ہارمان لی۔ مجھ سے جو بن پڑا میں نے جواب میں لکھ دیا اور اپنے شدید دکھ،غم اور ہمدردی کا اظہار کیا اور ڈھیروں دعائیں دیں۔ اور ہاں یہ وعدہ بھی کیا کہ جب بھی لاہور آیا اِن شاء اللہ آپ سے ضرور ملوں گا۔
کہنے لگی،" سر آنکھوں پرانکل ۔ آپ کو جب بھی موقع ملے آپ ضرور آئیں ۔ میرے امّی ابّو بھی آپ سے مل کر بہت خوش ہوں گے"۔
جب جذبے سچے ہوں اور نیتیں نیک ہوں تو مسبّب الاسباب کوئی نہ کوئی سبب پیدا کر ہی دیتا ہے۔ میرا 22 دسمبر2017 کو لاہور جانے کا پروگرام بنا۔ لاہور پہنچتے ہی میں نے اسے اطلاع دی،
" بیٹا میں لاہور آ گیا ہوں۔ کب آؤں آپ سے ملنے؟ کہنے لگی کل شام چار بجے آ جائیں"۔
23 دسمبر کی شام کے چار بجے میں اس کے گھر پہچ گیا۔ اس کی امی اور ابو نے میرا پُرتپاک خیر مقدم کیا اور ڈرائینگ روم میں لے گئے۔ میرا وہاں بیٹھنے کو دل نہ چاہا، میں نے عرض کی ،
" میں تو اپنی بیٹی سے ملنے آیا ہوں۔ اگر ممکن ہو تو مجھے سیدھا وہیں لے چلیں"
اور وہ میری راہنمائی کرتے ہوئے اس کے کمرے کی طرف لے گئے۔ دروازہ کھلا تو سامنے پلنگ پر ٹیک لگائے، ٹانگوں پہ کمبل ڈالے، میری بیٹی عِفّت نورین، روشن آنکھیں، دل نشیں مسکراہٹ اورعزم و استقلال کی تصویر بنی بیٹھی تھی۔ اسے دیکھ کر مجھے کوئی خاص اجنبیت محسوس نہِیں ہوئی۔ یوں لگا جیسے میں اسے ایک عرصے سے جانتا ہوں حالانکہ پچھلے پانچ دنوں سے ہی ہمارا رابطہ ہوا تھا اور پیغامات کا تبادلہ ہوا تھا۔ شائید اس لئے کہ ہمارا دکھ سانجھا تھا۔ میری بیٹی میرے سامنے بیٹھی تھی جس سے ملنے کی تمنا لئے میں راولپنڈی سے کل ہی آیا تھا۔ میں جب کمرے میں داخل ہوا تو اس نے مسکرا کر میرا استقبال کیا اور مجھے یوں لگا جیسے مجھے سارے جہاں کی خوشیاں مل گئی ہوں۔ میں نے آگے بڑھ کر اس کے سر پہ پیار سے ہاتھ پھیرا۔

لیکن اس کی مسکراہٹ کے پیچھے جو چھپا ہوا درد اور کرب تھا، میں اسے محسوس کئے بِغیر نہ رہ سکا۔ جلد ہی بے تکلّفی ہو گئی اور پھر خوب کُھل کر باتیں ہوئیں جو چائے کے دوران بھی جاری رہیں۔ اس دوران اسکی بیٹی عائزہ سے بھی ملاقات ہوئی۔ ماشاءاللہ بڑی پیاری بیٹی ہے۔ وقت کے گزرنے کا احساس ہی نہ ہوا اور شام کے چھ بج گئے۔ میں نے پھر ملنے کے وعدے پر اجازت چاہی۔ میں اُٹھ کرآ تو گیا مگر تشنگی رہ گئی۔
عفّت کی کہانی کی کئی کڑیاں ابھی اور بھی تھیں۔ ابھی کئی اور رازوں سے پردہ اُٹھنا باقی تھا۔ میں اب اسی تاک میں تھا کہ دوبارہ اس سے کب ملا جائے۔
اتفاق سے عفّت کی سالگرہ 26 دسمبر کو تھی۔ میں نے سوچا بھلا اس سے بہتر کوئی اور موقع کیا ہو گا۔ اُسے بتایا کہ میں 26 دسمبر کو پھر آؤں گا لیکن اس دفعہ مجھے زیادہ وقت دینا۔
عِفّت نے کہا کہ میں گیارہ بجے آجاؤں۔ میں نے پھولوں کا ایک گلدستہ لیا اور مقررہ وقت پہ پہنچ گیا اورشام پانچ بجے تک وہیں رہا۔
آج اس کے والدین اورعائزہ کے علاوہ اس کی ایک بہن اور اکلوتے بھائی سے بھی ملاقات ہو گئی۔ آج دوسری ملاقات کی وجہ سے سب گھر والوں سے بھی کافی بے تکلّفی ہو گئی تھی۔ جوں جوں عفّت اپنی زندگی کے اوراق اُلٹتی جارہی تھی میری نگاہوں میں اُس کی قدر و منزلت بڑھتی جا رہی تھی۔ میں اس کی تعلیمی قابلیت سے بے حد متائثر ہوا جس کا اندازہ آپ کو بھی آخر میں دی گئی تعلیمی اہلیت اور تجربے کی تفصیلات سے ہو جائے گا۔
عفّت نوشین گھر کا بڑا بچہ ہے۔ تین بہنیں اور ایک بھائی اس سے چھوٹے ہیں۔ بچپن سے ہی عفّت ایک ہونہار بیٹی تھی۔ پڑھائی میں بہت دلچسپی تھی اورمحنت بھی خوب کرتی تھی اس لئے اچھے نتائج سے ہمکنارہوئی۔ زندگی میں ہر سُو بہار ہی بہار تھی، خوشیاں ہی خوشیاں تھیں۔ وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہوا کہ کب گڑیاں پٹولے چھوٹی بہنوں کے حوالے کئے اور کب شٹاپُو اور پِٹُھو تاکِ نسیاں ہوئے۔
2004 میں تعلیم ختم ہوتے ہی والدین کو شادی کی فکر دامن گیر ہوئی اور2005 میں شادی ہو گئی۔
گھر کی پہلی شادی تھی اس لئے بڑی دھوم سے ہوئی اور اس کے ساتھ ہی عفّت کی آزمائشوں کا دور بھی شروع ہو گیا۔ عفّت کی زندگی مستقبل کے اندیشوں سے بے خبر چل رہی تھی۔

اللہ نے فروری 2006 میں عائزہ سے نوازا اور پھر تقریباً چار سال بعد فاطمہ پیدا ہوئی۔
دونوں بیٹیاں ماشاءاللہ بہت پیاری تھیں لیکن فاطمہ چھوٹی ہونے کے ناطے زیادہ توجہ لے جاتی تھی۔ ویسے تھی بھی بہت خوبصورت، معصوم چہرہ جیسے ملکوتی حُسن سے مُزیّن ہو۔ پھولوں کی طرح نرم و نازک۔ گھر میں گھومتی پھرتی ننھی پری لگتی تھی۔ فاطمہ بمشکل پانچ سال کی ہوئِی تھی اور ابھی سکول جانا شروع ہی کیا تھا کہ اسے پتہ نہیں کس کی نظر کھا گئی۔ اس کے سر میں رسولی بن گئی تھی۔ مزید تحقیق کی تو یہ روح فرسا خبر ملی کہ اس میں کینسر ہے۔ یہ خبر عفّت اور اس کے گھر والوں پر قیامت بن کر ٹوٹی۔ عفّت کی تو جیسے دنیا ہی برباد ہو گئی۔ اندر سے ٹوٹ پھوٹ گئی۔ آپریشن کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ ننھی سی جان کا اتنے بڑے آپریشن کا سوچ کر ہی کلیجہ منہ کو آتا تھا۔
بلاخر فاطمہ کا پہلا آپریشن 8 ستمبر2014 کو ہوا۔ چھ دن بعد دوسرا آپریشن 14 ستمبر کو ہوا۔ فاطمہ ان دو بڑے آپریشنوں کے بعد ابھی مکمل طور پہ رُو بہ صحت بھی نہ ہونے پائی تھی کہ 16 اکتوبر سے قیموتھراپی (Chemotherapy) شروع ہو گئی۔ نازک سی جان تھی کتنے جھٹکے سہتی۔ اب چیزیں آہستہ آہستہ فاطمہ کی برداشت سے باہر ہوتی جا رہی تھیں۔ شدید بخار رہنے لگا۔ کبھی ہسپتال لے جاتے کبھی گھر لے آتے۔ 20 اکتوبر کو ننھی فاطمہ آخری بار ہسپتال گئی۔ کوئی بہتری کی امید نظر نہیں آ رہی تھی۔ ڈاکٹر بے بس ہو رہے تھے، دوائیاں بے اثر ہو رہی تھی اورعفّت کے اعصاب شل ہو رہے تھے۔ وہ پاگلوں کی طرح کبھی ایک ڈاکٹر کے پاس جاتی کبھی دوسرے کے پاس۔ کبھی ایک نرس کا دامن پکڑتی کبھی دوسری کا۔ کہیں سے اُس کی داد رسی نہیں ہو رہی تھی۔ عفّت کی دنیا اُجڑ رہی تھی۔ اس کی گود خالی ہو رہی تھی۔ اُس کی ممتا کو کسی پل چین نہیں تھا۔ فاطمہ کی کشتی بیچ منجدھار کے پھنسی تھی اور ایسے مشکل حالات میں کسی کو نہ توفیق ہوئی نہ ہی ہمّت کہ وہ اس دکھیاری ماں کے سر پر دستِ شفقت رکھتا، اس کے دکھوں کا مداوا کرتا، اس کو حوصلہ دیتا۔ ان روح فرسا حالات کا اللہ کے آسرے سے عفّت تنِ تنہا مقابلہ کر رہی تھی۔ اگر اسے کوئی مدد میّسر تھی تو وہ صرف اپنے والدین اور بھائی بہنوں کی تھی۔ فاطمہ کا بخار کسی صورت ٹوٹ نہیں رہا تھا۔ سپونجنگ (Sponging) کر کر کے بغلوں میں اس کی جلد گلنے لگی تھی۔ اب تو اسے بے ہوشی کے دورے بھی پڑنے لگے تھے۔ انہی دنوں عِفّت اپنی ٹانگوں میں کمزوری اور درد محسوس کرنے لگی تھی مگر فاطمہ کی تیمارداری میں اسے اپنی ہوش کہاں تھی کہ کسی ڈاکٹر کو دکھاتی۔ وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر اپنی بیٹی کی فکر میں سرگرداں تھی۔ نہ دن کو چین نہ رات کو سکوں۔ اس کے دن رات آئی۔ سی۔ یو(ICU) میں ہی گزرتے تھے۔ جب کوئی گھر سے آ جاتا تو وہ کمرے میں جا کر کچھ دیر سستا لیتی۔ لیکن کمرے میں بھی فاطمہ سے دور رہ کر اسے چین کہاں؟ اور پھر تھوڑی ہی دیر بعد بھاگی بھاگی فاطمہ کے پاس آ جاتی اور اس کا سر گود میں رکھ کر سہلاتی رہتی۔ آخر مشیتِ ایزدی کو ایک ماں کی تڑپ، بےبسی اور مجبوری پر ترس آ گیا اور 3 دسمبر 2014 کو فاطمہ اپنی ماں کی گود میں سر رکھے اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملی۔ 



فاطمہ کو تو سکون مل گیا مگر عفّت کی دنیا ہمیشہ کیلئے ویران کر گئی۔ فاطمہ کی بیماری کی تفصیل بتاتے ہوئےعفّت کی آواز بہت غم زدہ ہو گئی اور آنکھوں کے کنارے بھیگ گئے اور یہی حال کچھ میرا بھی تھا۔
اتنے میں اس کے پاؤں پر، جو کمبل سے باہر نکل آئے تھے، میری نظر پڑی تو میں نے باتوں کا رُخ موڑتے ہوئے اپنی پریشانی کا اظہار کیا کیونکہ وہ آگے کو جھکے ہوئے تھے۔ میں نے کہا بیٹا جی ان کا فوری بندوبست کریں۔ پاؤں ٹیڑھے ہو گئے تو چلنا مشکل ہو جائے گا۔ کہنے لگی کہ مجھے اس کا احساس ہے اور میں نے کوئی تین ماہ پہلے پاؤں پہ باندھنے کیلئے بریسس(Braces) بھی منگوائے تھے لیکن کسی کو لگانے نہیں آئے۔ میں نے کہا لائیں بیٹا میں باندھ دیتا ہوں۔ عائزہ الماری جلد ہی ڈھونڈ لائی۔ میں نے عفّت کا ایک پاؤں اپنی گود میں رکھا اور اسے سیدھا کر کے ایک بریس (Brace) باندھا، اسی طرح پھر دوسرا باندھا۔
اسی عمل کے دوران جب میں نے پاؤں کے ناخن دیکھے تو میں حیران و ششدر رہ گیا۔ بہت بڑھے ہوئے تھے۔ لگتا تھا کہ کافی عرصہ سے نہیں کاٹے گئے۔ بڑھے ہوئے ناخن سپازم (Spasm) کے دوران ٹانگوں کو زخمی کر سکتے ہیں۔
میں نے لاڈ سے پوچھا او لڑکی یہ ناخن فیشن کیلئے بڑھائے ہیں یا بے توجہی کی وجہ سے بڑھ گئے ہیں؟
کہنے لگی فیشن کہاں انکل بس۔۔۔۔ اور مزید کریدنے کی مجھ میں ہمّت نہ ہوئی۔
میں نے عائزہ کو کہا کہ بیٹا نیل کٹر (Nail Cutter) لاؤ۔ میں نے اسکا پاؤں پھر گود میں رکھا اور بڑی احتیاط سے ناخن کاٹنے شروع کر دئے۔
میں ناخن کاٹ رہا تھا اور میرا دل چاہ رہا تھا کہ میں دھاڑیں مار مار کر روؤں کہ ساون بھادوں کے مہینوں میں بھی جب ہر طرف پانی ہی پانی ہوتا ہے میری بیٹی پھر بھی پیاسی ہے اور نہ ہی مجھ میں ہمّت ہو رہی تھی کہ میں اس کے چہرے کی طرف دیکھوں کیونکہ میں اس کی متشکّر نگاہوں کا سامنا نہیں کر سکتا تھا۔ خیر اسی تذبذب میں میں نے تمام ناخن کاٹنے کے بعد ان کے کنارے نیل کٹر کی فائیل (File) سے رگڑ کر ملائم کئے اور پھر پاؤں کمبل سے ڈھانپ دئے۔
عفّت کی ازدواجی زندگی میں ابتدا ہی سے کچھ مسائل آ رہے تھے جن کی شدّت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی گئی۔ اس نے انتہائی نا مُساعد حالات میں بھی شادی نبھانے کی مقدور بھر کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکی۔ آخر ستمبر 2015 میں اس فرشتہ صفت غموں کی ماری لڑکی کو تین زبانی طلاق دے کر فارغ کر دیا گیا اورعفّت سب کچھ چھوڑ کے صرف ایک شاپر میں دو جوڑے کپڑوں کے ڈال کر اپنے میکے آ گئی۔
ان حالات میں عفّت کی صحت دن بہ دن گرتی گئی۔ ذہنی اور جسمانی طور پہ عفّت کیلئے مشکل ہو رہا تھا کہ وہ اپنی روائتی مستعدی سے ملازمت جاری رکھ سکے۔ آخرِ کار اکتوبر2015 میں ملازمت کو خیر باد کہنا پڑا۔ لیکن لگتا ہے ابھی بھی اس کی مشکلات اور امتحان کا دور ختم نہیں ہوا تھا۔
نومبر 2016 تک وہ بالکل چلنے پھرنے کے قابل نہ رہی اور بستر سے لگ گئی۔ عفّت کی رودادِ غم سُن کر آپ سوچ رہے ہوں گے کہ شائید عفّت ٹُوٹ کر بکھر گئی ہو گی، شائید وہ کبھی بھی اپنے آپ کو مجتمع نہ کر پائے، شائد عمر بھر اس کی معزوری اور بے بسی کا رونا بند نہ ہو، شائید اسکی معذوری سے تنگ آ کر اس کے گھر والے بھی اس کا ساتھ چھوڑ جائیں، شائد وہ اب کبھی بھی بستر سے نہ اٹھ پائے گی۔ نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔
عفّت نوشین میری بیٹی ہے اور مجھے بہت ہی پیاری ہے۔ ان دنوں میں نے اسے بڑے قریب سے دیکھا ہے، اس کے دل میں اور روح میں جھانکا ہے اور اسے بہت اچھی طرح جان گیا ہوں۔ میں اس کے حوصلے اور ہمّت سے بے حد متائثر ہوا ہوں۔ وہ جس اطمینان اورعزم سے اپنی کہانی سنا رہی تھی وہ قابلِ دید تھا۔ مجھے اس کی آنکھوں میں ایک چمک نظر آئی جو اس کے مستقبل کے ارادوں اور عزائم کی نشان دہی کر رہی تھی۔ عفّت کو طلاق کا کوئی غم نہیں۔ اپنی بیماری کی بھی اسے کوئی خاص پریشانی نہیں کیونکہ اب وہ ایک مقام پہ آ کے رُک گئی ہے۔
مجھے طبیبوں کے طبیب، اللہ ربّ العزّت سے واثق امید ہے کہ،

وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ ﴿26/80 
 فزیوتھراپی (Physiotherapy) اور علاج سے ان شاءاللہ وہ اس قابل ہو جائے گی کہ اپنے قدموں سے چل سکے لیکن وہ شائد اس کا انتظار نہیں کرے گی بلکہ بہت جلد وہیل چیئر پہ اپنی ملازمت دوبارہ شروع کر کے ایک فعال زندگی گزار سکے گی۔ اسکے والدین، بہنیں اور بھائی ایک مضبوط چٹان کی طرح اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس کے والد اور بھائی اس کے مسائل حل کرنے پہ کمر بستہ ہیں۔ آہستہ آہستہ اس کے مسائل حل ہو رہے ہیں۔ دکھ ہے تو اسے صرف ایک ہی دکھ ہے، غم ہے تو صرف ایک ہی ہے اور اس کی زندگی کو کوئی روگ ہے تو وہ صرف ایک ہی ہے اور وہ ہے ننھی فاطمہ کی جدائی۔
دعا ہے کہ اللہ اس دُکھیاری ماں کو صبر اور سکونِ قلب عطا کرے۔ آمین۔ عفّت مجھے بہت پیاری ہے اور بہت عزیز ہے اور میرے دل میں بسیرا کئے بیٹھی ہے۔ یہ میری سوچوں میں ہے، میری ہر دعا میں ہے اور مجھے یقین ہے کہ طبیبوں کا طبیب، جس پہ اسے بھی یقینِ کامل ہے، جو اس کی شہ رگ سے بھی قریب بیٹھا ہے کہ وہ اسے ٹوٹنے نہیں دے گا، وہ اسے بکھرنے نہیں دے گا، اس کو سنبھال لے گا، اس کے دکھوں کا مداوہ کرے گا اور بہت جلد اس کی زندگی کی ناؤ کوبھنور سے باہر نکال لائے گا۔ اِن شاء اللہ۔

چھیتی بوہڑیں وے طبیبا
نئیں تے میں مر گئی آں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔