میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 2 جنوری، 2018

ملک ریاض اور زرداری پراجیکٹ

پاکستان کی سپریم کورٹ نے کراچی میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹی بحریہ ٹاؤن کے3015 ایکڑ   میں مزید تعمیراتی کام پر پابندی عائد کرتے ہوئے قومی احتساب بیورو کو سرکاری زمین کے نجی زمین سے تبادلے کی تحقیقات دو ماہ میں مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
 سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جسٹس امیر ہانی مسلم اور جسٹس مشیر عالم پر مشتمل دو رکنی بنچ نے پیر یکم جنوری 2018  کو یہ حکم ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے مبینہ طور پر سرکاری زمین کے نجی زمین سے تبادلے اور اس کی غیر قانونی طریقے سے الاٹمنٹ کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران دیا۔
سپریم کورٹ میں محمود اختر نقوی نامی شہری نے ایک درخواست دائر کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے ہزاروں ایکڑ سرکاری زمین ’کنسالیڈیشن‘ کے نام پر اپنے کنٹرول میں لا کر اس کا نجی زمین سے تبادلہ کر دیا ہے اور اس کارروائی کا مقصد بحریہ ٹاؤن کو فائدہ پہنچانا ہے جس کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا ہے۔

سروے رپورٹ کے مطابق ایم ڈی اے کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کراچی میں فراہم کیا جانے والا کل رقبہ 12156.964 ایکڑ ہے جبکہ بحریہ ٹاؤن کو 1100 ایکڑ زمین کا این او سی الاٹ ہوا تھا ۔ بحریہ ٹاؤن کے زیرِ استعمال زمین ایم ڈی اے کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کو فراہم کی گئی  کل زمین: 9385.185  ایکڑ
وہ زمین جس پر تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے : 9140.260 ایکڑ
زمین پر جس پر تعمیراتی کام نہیں ہوا: 244.925 ایکڑ
ایم ڈی اے کی منتقلی نہ ہونے کے باوجود بحریہ ٹاؤن کے زیرِ استعمال زمین: 2271.79 ایکڑ
 
سماعت کے موقع پر عدالت کو قومی احتساب بیورو کے پراسیکیوٹر نے بتایا کہ سروے آف پاکستان سے بحریہ ٹاؤن کو دی گئی زمین کا سروے کرایا گیا ہے۔ اس سروے ٹیم میں ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی، ڈپٹی کمشنر ملیر اور بحریہ ٹاؤن کے نمائندے شامل تھے اور اس سروے میں بحریہ ٹاؤن کا نقشہ بنایا گیا ہے۔
عدالت میں پیش کی گئی سروے رپورٹ کے مطابق ایم ڈی اے کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کراچی میں فراہم کیا جانے والا کل رقبہ
12156.964 ایکڑ ہے جس میں سے عدالت نے 3015 ایکڑ رقبے پر تا حکمِ ثانی تعمیراتی کام پر پابندی عائد کی ہے۔
تاہم حکم نامے میں اس بقیہ 9141 ایکڑ رقبے کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی جہاں تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے یا جاری ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ بیرسٹر ضمیرگھمرو کا عدالت میں کہنا تھا کہ سرکاری زمین کا نجی زمین سے تبادلہ نہیں کیا جاسکتا اور ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو حکومت نے متعلقہ زمین الاٹ ہی نہیں کی اور اتھارٹی یہ زمین الاٹ کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔
نیب کے پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ تحقیقاتی رپورٹ تقریباً مکمل ہے لیکن اس میں سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو سے کچھ معلومات لینی ہے اور بحریہ ٹاؤن میں شامل ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے کچھ دیہوں کی نشاندہی کرنی ہے تاہم سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو رضوان میمن نے ایسے کسی نقشے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔
پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ بحریہ ٹاؤن کو الاٹ کی گئی زمین کے سروے کا کام 27 جون کو شروع کیا گیا تھا جو 15 جولائی کو اختتام پذیر ہوا۔
عدالت نے اپنے حکم میں 3015 ایکڑ رقبے پر تا حکمِ ثانی تعمیراتی کام پر پابندی عائد کی ہے۔

نیب کے پراسیکیوٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں لیکن ابھی اس تبادلے کے ذمہ داروں کا تعین کرنا ہے، جس کے لیے مہلت دی جائے۔ بورڈ آف ریونیو کے وکیل فاروق ایچ نائک نے بھی ان کے موقف کی تائید کی اور کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ کوئی نیب پر انگلیاں اٹھائے اور یہ دباؤ میں آ کر غلط لوگوں کو شامل کر لے اس لیے اسے آزاد چھوڑ دیا جائے۔ اس پر عدالت نے قومی احتساب بیورو کو ہدایت کی کہ وہ دو ماہ کے اندر رپورٹ مکمل کر کے عدالت میں پیش کرے -
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
Below is as Received... on WhatsApp
 Heard that today evening i. e. 1st January 2018 Sindh Rangers has entered Bahria Town Karachi on the orders of Supreme Court and stopped all sort of work and transaction۔

٭٭٭٭ ٭٭٭٭

شیشے کا گھر اور ہاتھ میں پتھر

ملک ریاض بحریہ ٹاؤن: کا طریقۂ واردات!

صحافت لیکس

 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔