میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 21 جنوری، 2018

بیوی رے بیوی

مختلف بیویاں اپنے شوہروں سے لڑتی ہوئیں- - - - - - - -
سیاست دان کی بیوی: ٹہر تیرا جلسہ ابھی نکالتی ہوں ۔
پائلٹ کی بیوی: زیادہ مت اُڑو ! سمجھے ؟
ٹیچر کی بیوی: مجھے مت سکھاؤ ! یہ اسکول نہیں۔
ڈینٹسٹ کی بیوی: دانت توڑ کر ہاتھ میں دے دوں گی.
حکیم کی بیوی: نبض دیکھے بغیر طبیعت درست کر دوں گی.
ڈاکٹر کی بیوی: تمہارا الٹرا ساؤنڈ تو میں ابھی کرتی ہوں۔
فوجی کی بیوی: تم اپنے آپ کو بڑی توپ چیز سمجھتے ہو.
شاعر کی بیوی: تمہاری ایسی تقطیع کروں گی کہ ساری بحریں اور نہریں بھول جاؤ گے.
ایم بی اے کی بیوی: مائنڈ یور اون بزنس۔
CA/ACCA/CFA/ICMA/CIMA شخص کی بیوی: پہلے امتحان تو پاس تو کر لو بُڈھے.
وکیل کی بیوی: تیرا فیصلہ تو میں کرتی ہوں.
ڈرائیور کی بیوی: گئیر لگا اور نکل یہاں سے.
پولیس مین کی بیوی: ایسی چھترول کرواؤنگی کہ نانی یاد آجائیگی.
درزی کی بیوی :
چپ ہو جا ورنہ تیرے بخیے ادھیڑ دونگی  
نائی کی بیوی : ابھی حجامت کرتی ہوں تیری !
قصائی کی بیوی : بوٹی بوٹی کر دوں گی دفعہ ہو یہاں سے 

مولوی کی بیوی : ابھی پڑھتی ہوں ختم تمھارا

بھنگی کی بیوی :






سالے مور بنا دوں گی  !


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔