میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 31 جنوری، 2018

لسانی گونگلو نما ملٹری کریٹ

انسانی تاریخ میں جب بھی انسان نے رزق ، جان بچانے اور جنگوں  میں اپنے آبائی علاقے کے بجائے دوسرے علاقے میں رہائش اختیار کی تو وہاں وہ وہاں کے رہائشیوں میں اجنبی ہونے کی وجہ سے ، آباد کار ، تارکینِ وطن یا مہاجر کہلائے ۔
نئے علاقے میں اگر کوئی قبیلہ آیا تو اُسے وہاں کے پہلے سے موجود قبائل کی دشمنی کا سامنا کرنا پڑا ، پھر آہستہ آہستہ یہ قبائل شادیوں اور دیگر ہم مزاج مشغولات کے باعث ایک دوسرے کے لئے قابلِ قبول ہو گئے ۔
متحدہ ہندوستان کی 14 اگست 1947 کو پاکستان اور بھارت میں تقسیم کے بعد، بہت سے مسلمانوں نے پاکستان کا رُخ کیا جن میں ہر قومیت اور زبانوں کے لوگ تھے ۔
وہ مہاجر جوامرتسر کے راستے پنجاب میں آئے تو وہ صوبہءِ سرحد اور پنجاب میں آباد ہو گئے ،
کھوکھراپار کے راستے سے آنے والے سندھ میں آباد ہوئے ۔
ابتدائی طور پر انصاریوں کے لئے یہ سب مہاجر کہلائے ، پھر حکومت نے سندھ میں اِنہیں مہاجروں کو کلیم میں زرعی زمنیں دیں جن میں حقیقی کلیم کے ساتھ جعلی کلیم بھی شامل کئے گئے ، سندھ میں اپنی کلیم کی زمینوں کے نزدیک شہر میں آباد ہونے والوں کو مقامیوں نے آبادکار کالقب دیا۔   
ہندوستان سے آنے والے وہ مہاجر جن کی مادری زبان اردو تھی ، وہ سندھ مختلف شہروں میں دیگر کاروبار کرنا شروع ہو گئے ۔ سندھ میں لسانی بنیاد پر ، دو قومیں سندھی اور غیر سندھی پہچان بنی ، غیر سندھیوں پنجابی ، پٹھان ، کشمیری ، میمن ، اردو بولنے والے شامل تھے ، اور سندھی بولنے والوں میں مقامیوں کے علاوہ راجپونہ ، گجرات اور بمبئی کے سندھی شامل تھے ۔
ہجرت کے بعد پیدا ہونے والے مہاجروں کے بچوں کو بھی مہاجر ہی کہا جاتا ، یہاں تک کی 16 ستمبر 1953 کو پیدا ہونے والا بچہ بھی مہاجر کہلایا ، یوں لسانی بنیاد پر " مہاجر" ایک قوم بن گئی۔
22 نومبر 1954 کو وزیر اعظم پاکستان محمد علی بوگرا نے پاکستان میں ابھرنے والی اُس صوبائی بنیادوں پر لسانی تقسیم کے خطرات کو بھانپ لیا اور پاکستان کو دو صوبوں مشرقی صوبہ اور مخربی صوبہ میں متحد کر کے ون یونٹ کا نام دیا ۔
معلوم نہیں کیوں اور کن بنیادوں پر یکم جولائی 1970 جنرل یحییٰ خان نے اپنی فوجی قوت کو استعمال کرتے ہوئے ، مغربی صوبے کو ، پنجاب ، سرحد، بلوچستان اور سندھ میں تقسیم کر دیا۔ 
7 جولائی 1972 کو سندھ کی صوبائی حکومت نے سندھ کو صوبائی زبان قرار دے دیا ، جس کی وجہ سے مقامی(سندھی) اور غیرمقامی(غیر سندھی) کی تفریق بڑھ گئی صوبائی لسانی طلباء تنظیموں ( پنجابی ، پشتون ، بلوچ اور کشمیری) نے جنم لینا شروع کر دیا تو اردو بولنے والے کیسے پیچھے رہتے ۔ مہاجر سٹوڈنٹ یونین بھی وجود میں آئی ۔ حالانکہ اِس کا نام مہاجرزادہ سٹوڈنٹ یونین ہونا چاھئیے تھا۔

٭٭٭٭٭٭٭
1990 میں جب ایک مہاجر زادے کے 5سالہ بیٹے سے اُس کے دوست نے پوچھا ،
" تم اُردو بولتے ہو ! کیا تم  مہاجر ہو ؟"
اُس نے اپنی ماں سے سے پوچھا ،
" امّی کیا ہم مہاجر ہیں "
ماں بولی ،
"نہیں بیٹا ہم پاکستانی ہیں "
" امّی لیکن ہم اُردو بولتے ہیں " بیٹی نے سنّی علم کے مطابق پوچھا !
" پاکستان کی قومی زبان اردو ہے ، اِس لئے ہم اُردو بولتے ہیں " ماں نے سمجھایا ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭
61 سال کی عمر میں یعنی 13 اگست 2014 میں ، اُس بچے کے باپ کو ایک لسانی گونگلو نما ملٹری کریٹ نے طعنہ دیا " تم مہاجر ہو اِس لیے اُس کاساتھ دیتے ہو !"
بوڑھا بولا ،" احمق ، میں مہاجر نہیں ، مہاجر زادہ ہوں "
" کیا سمجھے ؟
جیسے شہزادہ ، نوبزادہ ، خانزادہ ! کے وزن پر ۔
مہاجرزادہ ! 


  ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔