میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 28 فروری، 2018

سٹاک مارکیٹ کیسے کام کرتی ہے ؟


ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں میں نیا شخص آیا اور اس نے اعلان کروایا کہ وہ دیہاتیوں سے ایک بندر 10 روپے میں خریدے گا۔ اس گاؤں کے اردگرد بہت زیادہ بندر تھے ، سو دیہاتی بہت خوش ہوئے ، انہوں نے جال لگا کر ، کیلے رسی سے باندھ کر اور دیگر کئی طریقوں سے بندر پکڑنا شروع کئے
اس آدمی نے ایک ہزار بندر 10روپے میں خریدے ، اب بندروں کی تعداد کافی کم ہو چکی تھی ، چند ایک بندر باقی تھے جنہیں پکڑنا مشکل ہو گیا تھا ۔ یوں سمجھیں اندھا دھند فائرنگ والا معاملہ ختم ہو چکا اور ٹارگٹڈ آپریشن کی نوبت آ گئی تھی
اس نے اعلان کیا کہ اب وہ بندر 20 روپے میں خریدے گا ، اس سے دیہاتیوں میں نیا جزبہ نیا ولولہ پیدا ہوا اور ایک دفعہ پھر انہوں نے پوری قوت سے بندر پکڑنا شروع کئے
چند دن بعد بندر اکا دکا ہی نظر آتے اور اس نئے آئے ہوئے تاجر کے ایک بڑے پنجرے میں تقریبا 1300 بندر جمع ہو چکے تھے ۔
جب تاجر نے بندروں کی خریداری میں سستی دیکھی تو اس نے فی بندر قیمت پہلے 25 روپے مقرر کی اور پھر اگلے دن قیمت 50 روپے کر دی۔ اس قیمت میں اس نے صرف 9 بندر خریدے ۔۔
اب جو بندر بھی نگاہ انسانی کی زد میں آتا ، داخل زندان کر دیا جاتا
اسکے بعد وہ کام کے سلسلے میں کسی دور دراز شہر چلا گیا اور اسکا اسسٹنٹ کام سنبھالنے لگا
اسکی غیر موجودگی میں اسکے اسسٹنٹ نے دیہاتیوں کو جمع کر کے کہا کہ :
  اے میرے عزیز دوستو- اس بڑے پنجرے میں تقریبا 1450 جانور ہیں جو استاد نے جمع کئے ہیں۔ میں ایسا کرتا ہوں کہ تم سب کو یہ سارے 35 روپے فی بندر کے حساب سے بیچ دیتا ہوں ، جب ماسٹر آئے تو تم اسے یہ بندر 50روپے میں بیچ دینا۔

دیہاتی بہت خوش ہوئے اور انہوں نے اپنی ساری جمع پونجی خرچ کر کے بندر خرید لئے
اسکے بعد انہوں نے نہ کہیں تاجر کو دیکھا نہ ہی اسکے اسسٹنٹ کو ، بس ہر جگہ بندر ہی بندر تھے-

اسے کہتے ہیں اسٹاک مارکیٹ...

اتوار، 25 فروری، 2018

جمعرات، 22 فروری، 2018

اگر برِ صغیر تقسیم نہ ہوتا !

اگر ہندوستان کو سامراج نے تقسیم کر کے پانچ حصوں میں کاٹا نا ہوتا تو یہ ملک دنیا کی سپر پاور ہوتا۔
دنیا میں سب سے بڑا مسلمانوں کا ملک ہندوستان ہوتا۔
پچاس کروڑ سے زیادہ مسلمان کل ہندوستان کی آبادی کا تیس فیصد سے زیادہ ہوتے جو ملک کی خارجہ اور داخلی فیصلوں میں فیصلہ کن اثر رکھتے۔
کھربوں ڈالر جو ٹینکوں ، ایٹم بموں اور بارود کے ڈھیر اکٹھے کرنے میں برباد ہوتا ہے ، تعلیم ، علاج ، رہائش اور دیگر عوامی فلاح کے کاموں میں خرچ ہوتا۔
پاکستان سے زیادہ مسلمان ہندوستان میں رہتے ہیں ، دو قومی نظریے کا دیوالیہ پن تو اسی سے ظاہر ہوتا ہے ..
اسلام کا نعرہ لگا کر مسلمانوں کو تقسیم کر دیا گیا ..اس سے بڑی شکست اور کیا ہو گی ؟
یہ ہی وجہ تھی کے جمیعت علمائے ہند ، احرار اور دیگر قوم پرست مسلمان رہنما جیسے باچا خان ، مولانا ابولکلام آزاد ، مولانا حسین احمد مدنی ، مفتی کفایت اللہ ، مولانا سندھی وغیرہ تقسیم کو مسلمانوں کی بدترین شکست سمجھتے تھے-

سرمایہ دارانہ نظام نے سوشلزم سے آخری معرکہ اس خطے میں کھیلا ہے-
میرا ذاتی خیال ہے کے تقسیم نا ہوتی تو ہندوستان ایک اشتراکی ملک ہوتا ، معاشی طور پر یہاں کی عوام سرمایہ دارانہ نظام کی لعنتوں سے آزاد ہوتی- 
(فہد رضوان)
 


وہ بے بی کون تھی؟

آج کل کی بیویاں خاوند کو اس طرح بلاتی ہیں جیسے نکے بھائی یا بیٹے کو- اتنا بے تکلفانہ انداز کہ انجان بندہ سمجھ ہی نہیں پاتا کہ مخاطب شخص میاں ہے یا کچھ اور -
ایک خاتون بولیں،
" میں اس "ایاز" سے بہت تنگ ہوں. پریشان کر رکھا ہے اس نے- اتنا گند ڈالتا ہے کہ کمرے کا حشر کر دیتا ہے- "

ہم ہمدردی سے بولے
" بس جی آج کل کی اولاد ہے ہی نکمی" -

خاتون بگڑ کر بولیں
"ہائے دماغ ٹھیک ہے۔۔۔ ایاز، اولاد نہیں میری اولاد کے ابا ہیں"-

آپ ہی بتاو اب اس میں ہمارا کیاقصور ہم کو جو لگا,سو کہہ دیا-
آج کل میاں ،بیوی انتہائے محبت کا اظہار کرتے ہوئے بات چیت بھی ایسے کرتے ہیں کہ اچھا خاصا بندہ دھوکا کھا جائے ۔ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ لاڈ بچوں سے ہو رہا کہ آپس میں-
مائی بےبی، مائی مونا ,مائی سوئٹو، شونو مونو -

ایک دفعہ شادی پرکھانے کے دوران ایک فیملی کی طرف میری کمر تھی ۔ ان میں سے ایک صاحب کہنے لگے،

"بےبی تم کھانا کھاو مجھے پریشان نہ کرو "
میں نےپیچھے دیکھ کر ازراہ ہمدری کہا،
"بھائی آپ کھانا کھالیں " بےبی "کو میں گود میں پکڑ لیتا ہوں-"

بس ایک مکا پڑا۔ ۔ اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی ۔
جب روشنی آئی تومعلوم ہوا کہ ان حضرت کی شادی ہفتہ پہلے ہوئی تھی-

آج بھی سوچتا ہوں کہ وہ بے بی کون تھی؟

چم چم کے چِنکو اور پِنکو

پچھلے جمعہ   یعنی 16 فروری کی بات ہے میں اور بڑھیا چم چم کو لینے اُس کے سکول جارہے تھے ۔ جمعہ بازار پشاور موڑ کے پاس سے گذرے تو  فروٹ اور سبزیاں لینے کا پروگرام بن گیا ۔ 
پرندہ مارکیٹ  کا چکر لگایا تو  ایک پنجرے میں چوزے نظر آئے تو دو خرید لئے ۔ 
چم چم کے سکول پہنچے ، اُسے اُس کا گفٹ دکھایا بہت خوش ہوئی ۔
  گھر پہنچنے تک چوزے تھے اور وہ !
 سوموار کو جب وہ سکول جارہی تھی تو گاڑی میں ، چم چم ، بڑھیا ، دو چوزے  مسافر   تھے اور بوڑھا ڈرائیور ۔
" ننا ، چِنکو اور پِنکو کا خیال رکھنا ، اِس کھانا خوب دینا اور سردی نہ لگے " چم چم شوں شوں کرتے ہوئے حکم نامہ کیا ۔
" لیکن یہ  تو اللہ کے پاس بھی جاسکتے ہیں "بوڑھا بولا
" نو وے " چم چم چلائی " یہ مرنا نہیں چاہئیں ، آپ نے اِن کا خیال رکھنا ہے "
دوستو!
اب بوڑھا اور بڑھیا ہے اور چِنکو پنِکو ۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

گردشِ زر

  ایک قصبے کے ہوٹل میں ایک سیاح داخل ہوا اور ہوٹل کےمالک سے ہوٹل کا بہترین کمرہ دکھانے کو کہا..
ہوٹل کے مالک نے اسے بہترین کمرے کی چابی دی اورکمرہ دیکھنے کی اجازت دے دی.
سیاح ایک سو ڈالر کا نوٹ بطور ایڈوانس کاؤنٹر پر رکھ کر کمرہ دیکھنے چلا گیا.
اسی وقت قصبے کا قصاب ہوٹل کے مالک سے گوشت کی رقم لینے آیا.
ہوٹل کے مالک نے وہی سو ڈالر کا نوٹ کاؤنٹر سے اٹھا کر قصاب کو دے دیا کیونکہ اسے یقین تھا کہ سیاح کو کمرہ پسند آ جائے گا.
قصاب نے فورا ہی وہ نوٹ اپنے جانور سپلائی کرنے والے کو دے دیا.
جانور سپلائی والا ایک ڈاکٹر کا مقروض تھا جس سے وہ علاج کروا رہا تھا اس نے وہ سو ڈالر کا نوٹ اسی ڈاکٹر کو دے دیا.
وہ ڈاکٹر کافی دنوں سے اسی ہوٹل کے ایک کمرے میں مقیم تھا لہذا اس نے وہ سو ڈالر کا نوٹ ہوٹل کے مالک کو ادا کر دیا.
وہ سو ڈالر کا نوٹ کاؤنٹر پر ہی پڑا تھا کہ کمرہ پسند کرنے کے لئے سیڑھیاں چڑھ کر جانے والا گاہک واپس آگیا اور اس نے مالک کو بتایا کہ اُسے کمرہ نہیں پسند آیا.
یہ کہہ کر اس نے کاؤنٹر پر سے اپنا سو ڈالر کا نوٹ اٹھایا اور چلا گیا !!!

  اکنامک کی اس کہانی میں نہ کسی نے کچھ کمایا نہ ہی کسی نے کچھ خرچ کیا لیکن جس قصبے میں سیاح وہ نوٹ لے گیا تھا اس قصبے کے کتنے ہی لوگ قرض سے فارغ ہو گئے۔
حاصل مطالعہ ...
پیسے کو گھماؤ نہ کہ اس پر سانپ بن کر بیٹھ جاؤ کہ اسی میں عوام الناس کی فلاح هے ...!!

ریکی - جسم کی مدافعاتی توانائی بڑھانا






ریکی کی  مشقوں کے دوران اسٹول پربیٹھیں یا زمین پر دوزانو بیٹھئے۔ ریڑھ کی ہڈی میں خم نہ ہو۔ سانس آہستگی سے لیں ہر مشق کا دورانیہ پانچ سے دس منٹ تک ہے جسے دن میں دو بار کیا جاسکتا ہے۔ فضا بہت زیادہ گرم یا سرد نہ ہو۔ مشق کے دوران آنکھیں بند رکھئے۔ ذہن خیالات سے عاری ہو اور توجہ صرف تصور کی جانب ہو۔
 جیسا کہ پچھلے مضمون میں  بیان کیا ہے کہ  ہمارا جسم کائناتی توانائی کا رسیور ہے۔اِس کو ہم اپنے دماغی تصوّر سے اپنے اندر منتقل کرتے ہیں ، انسانی دماغ میں تصوّر سے  کئی کام لئے جاسکتے ہیں ، جس کے لئے مختلف علوم دریافت کئے گئے ہیں ، جن میں تھرڈ ڈائمنشن ، روشنی کا مراقبہ ، ٹرانسڈینٹل میڈیٹیشن (ٹی ایم) ، کے علاوہ  سانس کی مشقیں ، یوگا  اور دیگر شامل ہیں ۔
جب آپ ریکی کی مشقوں  کے ذریعے اپنے اندر توانائی  کی قوت کو  بڑھا نے کے بعد  اُنہیں دائیں ہاتھ سے واپس کائینات میں ٹرانسفر کرتے ہیں  تو اُس کی اگلی ایڈوانس سٹیج   ہے ،



 کائیناتی توانائی کو  ایک تصوّراتی  گولے  (بال) میں سمیٹ کر اپنے  سر کے اوپر معلق کرنا  ۔ اور کسی بھی ھیلنگ سے پہلے  اُس کو سرپر ہاتھ لے جا کر تھامنا ہے اور آہستہ آہستہ ہاتھوں کے نیچے لائیں اور بیلی بٹن کے بالکل  سامنے لا کر اُس پر ایسے ہاتھ پھیرنے ہیں جیسے آپ نے اپنے ہاتھ میں بیچ بال پکڑی ہے اور اُس  پر اپنے ہاتھ پھیر رہے ہیں ۔


بال کے مرکز سے آپ کے ہاتھ   اور بیلی بٹن کا فاصلہ یکساں ہو  ، یہ عمل آنکھیں بند کرکے 2 سے 3منٹ دھرائیں اور تصوراتی  کائیناتی توانائی کے گولے کو آہستہ آہستہ واپس لے جا کر اپنے سر پر معلق کردیں ۔اور ہاتھوں کو آپس میں رگڑ کر ڈسچارج کریں ۔


تصوراتی  کائیناتی توانائی کا یہ گولہ آپ کے جسم میں موجود مدافعاتی توانائی میں اضعافہ کرتا ہے گا ، ہر ھیلنگ ٹریٹمنٹ سے پہلے ، ھیلنگ روم میں جانے سے پہلے یا گھر سے باہر نکلنے سے پہلے آپ توانائی کے اِس گولے سے خود  چارج کریں گے ۔
اور ہاتھوں کو آپس میں رگڑ کر توانائی اپنے جسم میں  ڈسچارج کریں ۔

 انسانی جسم دردوں کا مجموعہ ہے جو صحت میں پوشیدہ  ہوتے ہیں  اور صحت پر اثر انداز ہونے والے  اندونی یا بیرونی عوامل  کی وجہ سے  یک دم یا آہستہ آہستہ  نمودار ہوتے ہیں ۔ حادثہ    کی صورت میں زخموں کا بھرنا اور اُن میں درد ہونا  ،یہ سب دواؤں کے سہارے ختم کئے جاتے ہیں ، لیکن آپ نے کبھی سوچا ہے کہ  جنگلی جانوروں  میں یہ سب درد اُن کی  اندورنی قوت ِ مدافعت   سے ختم ہوتے ہیں ۔ انسانوں میں بھی اللہ نے یہی قوتِ مدافعت دی ہے ۔ جو وقت کے ساتھ کمزور پڑ جاتی ہے  ، اِس کو بڑھانے کے لئے انسان کو  اپنے اندر چھپی ہوئی طاقت کو  اپنے جسم کے اند ر سے باہر لانا ہوتا ہے ، لیکن ہر فرد کے لئے یہ ناممکن تو نہیں، البتہ ممکن  ہے  ، بس تھوڑا سا حوصلہ   دکھانا ہوتا ہے - 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭


منگل، 20 فروری، 2018

ریکی سیکھیں

ہم میں سے ہر شخص کے اندر کائناتی حیاتیاتی توانائی موجود ہے جو پیدائش ہی سے ہمارے مادی جسم میں ڈال دی جاتی ہے۔ جو بعد میں روحانی عمل کے ذریعے ظاہر ہوتی ہے ۔
جاپانی تعلیمات بتاتی ہیں کہ کائنات ایک ماورائی قوت سے بھری ہوئی ہے اس کائناتی روح کو وہ لوگ Reiکے نام سے جانتے ہیں۔ اسے کائنات کی تخلیقِ اول بھی کہا جاسکتا ہے۔ یہ کائناتی روح خاص توانائی سے متحرک ہوتی ہے جسے Ki کہا گیا ہے۔ صدیوں سے یہ طریقہ انسانی علاج کے لئے رائج رہاہے ۔ جس پر ڈاکٹر مکاؤ نے ریسرچ کی اور ڈاکٹر مکاؤ کےشاگرد وں نےریکی کو دنیا کے مختلف حصّوں میں متعارف کرایا۔ 1930ء سے اب تک یہ طریقہ علاج دنیا کے مختلف حصّوں میں جانا پہچانا اور مشہور ہو گیا۔
پہلے ریکی کی تربیت صرف مخصوص لوگ ہی حاصل کرتے تھے ، آہستہ یہ طریقہ عام ہو گیا اب ہر انسان ریکی آسانی سے سیکھ سکتا ہے اور اپنے اندر چھپی ہوئی کائناتی حیاتیاتی توانائی کو اندر سے باہر لا کر فائدہ اٹھا سکتا ہے ۔

ریکی کیسے سیکھی جائے ؟
سورج نکلنے سے قبل کسی کھلی فضا میں برہنہ پیر ، اپنے دونوں پاؤں کی ایڑیاں قریب کر کے سیدھے کھڑے ہوجائیں ۔ گہرا سانس لیں ۔ ( پڑھیں :
آپ کی صحت اور عملِ تنفّس  )
اب دونوں ہاتھ ایک ہی سیدھ میں اوپر کی جانب اٹھائیں، اس موقع پر یہ تصور کریں کہ فضا میں موجود توانائی جو آپ ہاتھوں میں جمع ہورہی ہیں۔ اسی صورت میں ہاتھوں کو آہستہ آہستہ نیچے لائیں اور یہ تصور کریں کہ توانائی پورے جسم میں مرغولہ دار انداز میں اتر گئی ہے ۔
پہلے مرحلے میں سانس آہستگی سے لیں۔ دوسرے مرحلے میں سانس اندر کھینچیں اور تیسرے مرحلہ میں سانس روک لیں۔ یہ مشق اس وقت تک جاری رکھیں جب آپ محسوس کریں کہ جسم میں توانائی جمع ہوگئی ہے ۔ اس دوران اگر آنکھیں بند رکھی جائیں تو زیادہ مرکزیت سے مشق پوری ہوسکتی ہے۔ اس مشق کے لیے خالی پیٹ ہونا ضروری ہے۔ اس مشق میں زیادہ حساس لوگ اس توانائی کو دیکھ بھی لیتے ہیں تاہم اگر ایسا نہیں ہے تو اس کا احساس بھی کافی ہے-
ریکی سے آپ بہت سی نفسیاتی اور جسمانی بیماریوں سے نجات حاصل کر لیں گے۔ روزانہ 20 سے 30 منٹ ریکی کریں اور پُرسکون اور مسرور زندگی گزاریں۔
ریکی ٹریٹمنٹ شروع کرنے سے پہلے اپنے ذہن و جسم کو پُرسکون رکھیں۔ گہرے گہرے سانس لیں۔ جسم کو ڈھیلا چھوڑ دیں۔ ریکی کرتے ہوئے سانس کی رفتار نارمل رکھیں اور ریڑھ کی ہڈی کو سیدھا رکھیں۔دونوں ہاتھوں کو چند سیکنڈ ایک دوسرے کے ساتھ رگڑ کر Sensitizeکرلیں۔اپنے دونوں ہاتھوں میں توانائی محسوس کریں۔
آپ اپنی وجدانی قوت پر بھروسا کریں۔ اپنے وجدان کی مدد سے اپنے ہاتھوں میں زیادہ سے زیادہ توانائی محسوس کریں،
اپنی ریکی ٹریٹمنٹ کیجئے  تاکہ اپنے کلائنٹ کی تکلیف یا بیماری کا ادراک کرسکیں۔تصوّر میں  اپنے  جسمِ کے چاروں طرف  مثالی Aura کاتصور کریں۔


 اس کے بعد آپ تصوّر کریں کہ آپ کے ہاتھ آپ کے ذہن سے ڈسچارج ہونے والی توانائی کے کنڈکٹر ہیں  جن کا تعلق آپ  اپنے جسم سے اوپر   Aura کی روشنیوں کے جسم پر رکھیں اور ریکی شروع کردیں۔ہر مشق سے پہلے اور مشق کے بعد ،  اپنے ہاتھو ں کو آہستہ ملیں تاکہ  آپ کے ہاتھ میں موجود لہریں ڈسچارج ہو کرآپ کے جسم میں داخل ہو کر سرکٹ پورا کریں اورمزید توانا ہو کر  ھیلنگ کرنے والی جگہ پر اثرانداز ہوں ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مشق نمبر1:اپنے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے چھپا لیجئے۔ اس طرح کہ آپ کی انگلیوں کی Tips آپ کی پیشانی کو چھو رہی
ہوں۔ دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملاتے وقت سانس لینے کے لیے جگہ چھوڑیں۔ بظاہر یہ ایک معمولی مشق ہے مگر یہ سر درد ، مائگرین ، اسٹروکس ، الرجی ، دانتوں ، مسوڑھوں ناک کی ہڈی اور سانس کی تکلیف کو دور کرتی ہے۔
مشق نمبر2:اپنے ہاتھوں کو سر پر اس طرح رکھیں کہ دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کے سرے سر کی اوپری سطح کے بالکل درمیان میں ایک دوسرے کو چھو رہے ہوں اور ہتھلیاں سر کے دونوں طرف رکھی ہوں۔ یہ مشق ذہنی اسٹرکچر، دماغی چوٹ، اسٹروکس ، اسٹریس ، مائگرین ، نروس سسٹم اور ذہنی صلاحیتوں کے لیے بہترین ہے۔
مشق نمبر3:ہاتھوں کو نرمی سے سر کے پچھلے حصے پر اس جگہ رکھیں جہاں سر کا حصہ ختم ہورہا ہو اور گردن شروع ہورہی ہو۔انگلیوں اور انگوٹھوں کی سمت اوپر کی جانب ہو۔ شہادت کی انگلیاں آپس میں ملی ہوئی ہوں۔ یہ مشق سر درد ، مائگرین ، صدمے یا چوٹ کے اثرات، آنکھوں کے مسائل ، ہیڈ انجریز جیسی بیماریوں میں فائدہ مند ہے۔
مشق نمبر4:
یہ مشق نمبر 3 کی طرح ہی آسان اور آرام دہ ہے۔ اس میں صرف یہ کرنا ہے کہ دونوں ہاتھوں کوسر کے پچھلے حصے کھڑی سیدھ کی بجائے دائیں بائیں رخ پر اس طرح رکھیں کہ ایک ہاتھ سر کے پچھلے ابھرے ہوئے حصے پر رکھا ہو اور

دوسرا ہاتھ بالکل اسی ہاتھ کے نیچے رکھا ہو۔ اس کے فوائد و اثرات وہی ہیں جو مشق نمبر 3 میں بیان کئے گئے ہیں۔
مشق نمبر5:
دونوں ہاتھوں کی ہتھیلی کوچہرے کی دونوں جانب رکھیں، آپ کا ہاتھ گالوں پر کان کے بالکل برابر میں ہونا چاہیے، یہ مشق آپ کے چہرے کی ٹینشن اور دانتوں کے درد کے لیے مفید ہے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
گردن اور پیٹ کی مشقیں 
مشق نمبر6:اپنی دونوں کلائیوں کو ایک ساتھ ملالیں اور اپنے ہاتھ نرمی سے حلق پر رکھیں ، یہ مشق آپ کی گردن کی تکالیف کے لیے مفید ہے۔
مشق نمبر7:اپنا ایک ہاتھ نرمی سے حلق پر رکھیں اور دوسرا ہاتھ دل پر رکھیں۔ جو پہلے ہاتھ کے بالکل نیچے ہو۔ یہ مشق توانائی میں اضافہ اور مدافعتی سسٹم بہتر بناتی ہے۔اسٹریس، نروس نیس اور میٹابولزم پرابلمز دور کرتی ہے-

مشق نمبر8:دونوں ہاتھوں کو سینے پر اس طرح رکھیں کہ دایاں ہاتھ دائیں طرف اور بایاں ہاتھ بائیں طرف ہو۔ اس مشق سے بریسٹ کینسر، لمفیڈک ڈس آرڈر اور دودھ پلانے والی ماؤں کے سینہ میں بچہ کی غذا میں اضافہ ہوتا ہے۔
مشق نمبر9:دونوں ہاتھوں کو سینے سے نچلے حصے پر اس طرح رکھیں کہ درمیانی انگلیاں ایک دوسرے کو چھو رہی ہوں۔ہاتھوں کو جسم پر نرمی سے رکھیں۔ جس جگہ انگلیاں ایک دوسرے سے مل رہی ہوں وہ جسم کی سینٹر لائن ہونی چاہیے۔ یہ مشق لمفیڈک امراض اور پھیپھڑوں کے لیے مفید ہے۔
مشق نمبر10:ہاتھوں کو اور نیچے لے آئیے اب آپ کا پیٹ کا حصہ شروع ہوجاتا ہے۔ ہاتھوں کو آہستگی اور نرمی سے پیٹ پر رکھیں ۔ انگلیاں جسم کی سینٹر لائن پر ایک دوسرے سے ٹچ ہورہی ہوں۔ یہ مشق پیٹ کے دائیں حصّہ سائڈ پر گال بلیڈر، پتھری ، Upper Colon کی تکلیفوں کو دور کرتی ہے۔ جمع شدہ بلغم کو خارج کرتی ہے۔جبکہ بائیں سائڈپر اس کے اثرات Upper Colon، معدہ کی بیماریاں ، السر ، تشنج ، نظامِ انہضام کی تکلیفیں ، پنکریز ، ذیابیطس ، بلڈ شوگر ، ہیموفیلیا جیسی بیماریوں میں فائدہ پہنچاتی ہے۔
مشق نمبر11:ہاتھوں کو آہستگی سے پیٹ کے نچلے حصے پر لے آئیں۔ اس طرح رکھیں کہ انگلیاں جسم کی سینٹر لائن پر مل رہی ہوں۔فوائد:- چھوٹی آنت ، تشنج ، Lower Colon اور ہاضمہ کی خرابیاں دورکرتی ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 کندھوں اور پیٹھ  کی مشقیں
مشق نمبر12: یہ مشق آپ کے پیروں کے لیے مفید ہے۔ایک کرسی پر بیٹھ جائیں اور اپنےدونوں ہاتھ اپنے گھٹنے پر رکھیں ، پھر دونوں ہاتھوں کو ٹخنہ پر لے جائیں اور آخر میں اپنے ہاتھوں سے اپنے پیروں کے آخری سرے کو چھوئیں ۔ تکلیفوں سے نجات دیتی ہے۔یہ مشق آپ اس طرح بھی کرسکتے ہیں کہ آپ کے ہاتھ کمر پر اس طرح رکھے ہونا چاہئیں کہ ایک ہاتھ ریڑھ کی ہڈی پر رکھا ہو اور دوسرا ہاتھ پہلے ہاتھ کے اوپر رکھا ہو.

مشق نمبر13: ہاتھوں کو جسم کے پچھلے حصے پر شولڈر مسلز پر رکھیں۔ آپ کے ہاتھوں کو درمیانی انگلیاں ریڑھ کی ہڈی پر ایک دوسرے کو چھو رہی ہوں۔ ٹینشن ، حلق کی بیماریاں ، ریڑھ کی ہڈی کی تکلیف اور گردن کا درد میں یہ مشق فائدہ مند ہے۔ یہی مشق دو سرے طریقہ سے بھی کی جاسکتی ہے ۔ اپنا دایاں ہاتھ بائیں شولڈر پر بایاں ہاتھ سینے کو کراس کرتے ہوئے دائیں شولڈر پررکھیں آپ ہاتھ لے جاسکتے ہیں لے کر جائیں۔ لیکن زبردستی نہ کریں۔ جہاں تک آرام سے پہنچ جائے رک جائیں۔ یہ مشق سرانجام دینے سے گھبراہٹ ، نروسنیس ، ٹینشن ، گردن میں کھنچاؤ ، پھیپھڑوں اور ریڑھ کی ہڈی کی تکلیفیں دور ہوجاتی ہیں۔
  مشق نمبر14: اپنے ہاتھوں کو کمر پر اس طرح رکھیں کہ درمیانی انگلیاں سینٹر لائن پر ایک دوسرے کو چھو رہی ہوں۔ یہ مشق شوگر ، اسٹریس ، مائگرین ، گردے ، ہائی بلڈ پریشر ، انفیکشن اور ایڈرینل گلینڈز کی بیماریوں اور تکلیفوں سے نجات دیتی ہے۔  مشق نمبر15:  آپ کا ایک ہاتھ کمر کی ریڑھ کی ہڈی پر رکھا ہو اور وسرا ہاتھ پہلے ہاتھ کے اوپر رکھا ہو-
مشق نمبر16: اپنے ہاتھوں کو کمر کے نیچے اور کولہوں سے اوپر رکھیں آپ کی درمیانی انگلیاں سینٹر لائن پر ایک دوسرے کو چھو رہی ہوں۔ اس کے فوائد و اثرات وہی ہیں جو مشق نمبر 13 میں بیان کئے گئے ہیں۔
مشق نمبر17:  اپنے ہاتھوں سے اپنے پیروں کے آخری سرے کو چھوئیں ۔


 آپ کو یہ مشقیں کئی بار کرنا پڑیں گی یہاں تک کہ آپ خود محسوس کریں گے کہ آپ کے ہاتوں سے لہریں نکل کر آپ کے اُس حصے کو جہاں ھیل کر رہے ہیں  سنساہٹ اور گرمی پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہے ۔
یہ تھیں ریکی ٹریٹمنٹ کی چند اہم مشقیں جن سے آپ اپنا مکمل ٹریٹمنٹ کرسکتے ہیں۔ جب آپ ریکی ٹریٹمنٹ کرچکے تو انرجی گراؤنڈ کرنے کے لیے دونوں ہاتھوں کو آپس میں ملائیں۔تاکہ آپ کے ہاتھ میں موجود توانائی کی لہریں  آپ کے  دائیں ہاتھ  سے بائیں ہاتھ میں داخل ہو کر جسم میں جذب ہو جائیں ۔
کائینات میں پھیلی ہوئی ماورائی  لہریں آپ کے بائیں ہاتھ سے  جسم میں داخل ہوکر آپ کی اندورنی توانائی میں اضافہ کرے ہوئے آپ کے دائیں ھاتھ سے خارض ہو کر فضا میں منتشر ہو جاتی ہیں ، جتنا یہ تصوّر آپ کے ذہن میں پختہ ہوگا  ، اتنی ہی ریکی کی ھیلنگ توانائی آپ کے جسم میں ذخیرہ ہوگی ۔
آپ اگر گروپ میں ریکی کی مشقیں کرنا چاہیں کو وہ زیادہ مؤثر ہوگی ۔لیکن سب ریکی ماسٹرکے دائیں ہاتھ پر کھڑے ہوں ، نو آموز کو سب سے دائیں کھڑا ہونا چاہئیے ۔ یاد رکھیں کہ
کائینات سے داخل ہونے والی ماورائی  لہریں  بائیں ہاتھ سے جسم میں داخل ہو کر  دائیں ہاتھ سے نکلتے وقت اُن میں کمی نہیں ہوتی ، جیسے قدرتی مقنا طیس صدیوں تک لوہے کو مقنا طیس بناتا  رہے  ، تو اُس کی قدرتی مقناطیسیت میں کمی نہیں آتی ۔ کیوں کہ وہ  قدرتی مقناطیسیت   کا حصہ ہے ۔ اِسی طرح ایک ریکی ماسٹر    ریکی کی مشقوں سے اپنے اندر ھیلنگ  توانائی  میں اضافہ ضرور کرتا ہے ، لیکن وہ کائینات  کی ماورائی  میں رائی برابر کمی نہیں کر سکتا ۔
 
لیکن ایک اچھا ریکی ماسٹر  اپنے اندر ذخیرہ ہونے والی ھیلنگ  توانائی  کو  اپنے شاگردوں   یا کسی دوسرے فرد میں  منتقل ضرور کر سکتا ہے ۔

  ریکی کے اصول وہ ضروری باتیں جو ریکی کے طالب علم کو ذہن نشین رکھنی ہوتی ہیں: یہ توانائی نہایت لطیف ہے اس کے بہتر حصول کے لیے ضروری ہے کہ طبیعت میں ٹھہراؤ ہو، ایسے شخص کو غصہ کم سے کم کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے ورنہ جسم میں کثیف گرم لہریں چلنے لگتی ہیں جس سے اس توانائی کا فطری عمل سست پڑجاتا ہے۔ غیر اخلاقی امور سے آدمی میں اندرونی کشمکش ہونے لگتی ہے۔ اس سے ذہنی مرکزیت ٹوٹ جاتی ہے اس لیے ریکی کے طالب علم کو ایسے تمام امور سے پرہیز کرنا چاہیے جو اس کی ذہنی صحت میں دخل در انداز ہوسکتے ہیں۔ تمام مشقوں کے دوران یقین پختہ ہونا چاہیے۔ جب تصور کریں کہ توانائی جسم میں منتقل  ہو رہی  تو یقین پختہ رکھیں اور کسی قسم کے منفی خیالات کو ذہن میں جگہ نہ دیں ۔ آپ کو اپنی ماورائی قوت پر مکمل بھروسا و یقین ہو ورنہ شک آپ کی صلاحیتوں پر زنگ لگادے گا ۔  
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 ریکی  - جسم کی مدافعاتی توانائی بڑھانا
 ریکی  - ھیلنگ  کیسے کی جائے ؟
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

1 - مراقبہ : آپ کی سوچ سے زیادہ آسان


پیر، 19 فروری، 2018

عورتوں کی عدّت کیا ہے ؟

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 ٭۔  جنسی تعلق کے بعد   عدت کی مدت 
روح القدّس نے محمدﷺ کوعورتوں کی عدّت کے لئے اللہ کا یہ حکم، عربی  مبین میں  بتایا:
 
وَالْمُطَلَّقَاتُ یَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِہِنَّ ثَلاَثَۃَ قُرُوَء ٍ وَلاَ یَحِلُّ لَہُنَّ أَن یَکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ فِیْ أَرْحَامِہِنَّ إِن کُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ وَبُعُولَتُہُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّہِنَّ فِیْ ذَلِکَ إِنْ أَرَادُواْ إِصْلاَحاً وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْْہِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَیْْہِنَّ دَرَجَۃٌ وَاللّہُ عَزِیْزٌ حَکُیْمٌ (2:228)
  اور مطلقات اپنے نفوس کو تین قروء روک کر رکھیں۔ان کے لئے حلال  نہیں کہ وہ اس کو چھپائیں جو اللہ نے ان کے رحموں میں تخلیق کے  عمل سے گذارنا شروع کر دیا ہے۔ اگر وہ اللہ اور یوم الآخر پر ایمان  رکھتی ہیں۔ اور ان کے شوہر حق رکھتے ہیں کہ انہیں اس (تین قروء کی مدت یا حمل ظاہر ہونے) کے  درمیان (طلاق مکمل ہونے سے قبل) انہیں لوٹا  لیں ، اگر ان کا اردہ اصلاح کا ہو ( تنگ کرنے کا نہیں)  ا ن(مطلقات) کے لئے  وہ   (بعول) مروج دستور کے مطابق ا ن
(مطلقات)   کے برابر ہے ۔اور رجال (مردوں) کے لئے اُن (مطلقات) کے اوپر ایک درجہ ہے۔ اور اللہ عزیز اور  حکیم ہے۔

 
٭۔  جنسی تعلق  نہ قائم کر سکنے کے بعد    عدت کی مدت  - جن کو چھوا نہ ہو۔  (بوجہ نامردی یا طلاق قبل از ملاپ)
روح القدّس نے محمدﷺ کوعورتوں کی عدّت کے لئے اللہ کا یہ حکم، عربی  مبین میں  بتایا:

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا إِذَا نَکَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوہُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوہُنَّ فَمَا لَکُمْ عَلَیْْہِنَّ مِنْ عِدَّۃٍ تَعْتَدُّونَہَا فَمَتِّعُوہُنَّ وَسَرِّحُوہُنَّ سَرَاحاً جَمِیْلاً  (33:49)
اے وہ لوگو جو ایمان لائے! جب تم مومنات سے نکاح کرو۔ پھر تم انہیں چھونے سے قبل طلاق دو۔تو تمھارے لئے ان کی عدت میں سے نہیں ہے  کہ تم ان پر زیادتی کرو!۔ پس ان کے متع ان کو دے دواور انہیں خوش  اسلوبی سے(معاہدہ نکاح سے) آزاد کر دو۔ 

٭۔  جنسی تعلق کے بعد حاملہ   منکوحہ ! 

روح القدّس نے محمدﷺ کوعورتوں کی عدّت کے لئے اللہ کا یہ حکم، عربی  مبین میں  بتایا:

  وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْ‌تَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ‌ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ ۚ وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ۚ وَمَنْ يَتَّقِ اللَّـهَ يَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِ‌هِ يُسْرً‌ا ﴿65:4  
اور وہ تمھاری نساء میں سے جو حیض آنے سے مایوس ہو چکی ہوں ( بوجہ بانجھ پن یا بڑھاپا)۔ تو ان کی عدت (طلاق کے دن سے) تین ماہ ہے (تین قروء نہیں کیونکہ قروء حیض والی عورت کے لئے ہے) تمھیں شک ہو کہ ان کو حیض آنا بند ہو  چکا ہے۔ اور جو حمل سے ہوں تو ان  کی (عدت کی) اجل جب وہ حمل کو وضع کر دیں۔

٭۔   بیوہ  - 

روح القدّس نے محمدﷺ کوعورتوں کی عدّت کے لئے اللہ کا یہ حکم، عربی  مبین میں  بتایا:

  وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنکُمْ وَیَذَرُونَ أَزْوَاجاً یَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِہِنَّ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْراً فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَہُنَّ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْْکُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْ أَنفُسِہِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیْر  (2:234)
اور تم لوگوں میں سے جو فوت ہوں اور ازواج چھوڑ جائیں۔ تووہ(ازواج )  اپنے نفسوں کے ساتھ چار مہینے اور دس دن رکے رہیں۔ اور جب وہ اپنی  اجل کی بلوغت کو پہنچیں تو ان پر کوئی حرج نہیں کہ وہ معروف (مروج  دستور کے مطابق) اپنے نفسوں کے بارے میں فعل کریں۔ اور جو  عمل تم کرتے ہو  اللہ کو اس کی خبر ہے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اگر ہم  اللہ   کے عربی آیات میں دئیے گئے الفاظ ، عِدَّۃٍ ، قُرُوَء اور  أَشْهُرٍ‌ پر تدبّر کریں  ، تو ہم اپنے استنباط  سے یہ فہم ، حاصل کرتے ہیں :
1-  
   طلاق دینے تک جنسی تعلق قائم  نہ ہو سکنے والی مطلقہ کے لئے   مدتِ عدت ، فَمَا لَکُمْ عَلَیْْہِنَّ مِنْ عِدَّۃٍ   ۔عدت نہیں !
2- طلاق دینے تک جنسی تعلق قائم رکھنے والی مطلقہ کے لئے، مدتِ عدت ۔  ، ثَلاَثَۃَ قُرُوَء ٍ  ۔ عدت تین  قروءٍ
3- طلاق دینے تک جنسی تعلق قائم رکھنے والی مطلقہ   والی  لیکن حیض نہ آتے ہوں   ، ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ‌ ۔  عدت تین  مہینے
 4- طلاق دینے  تک  حاملہ  مطلقہ  کے لئے، أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ۚ - عدت وضع  حمل  (بچہ پیدا ہونے  یا ضائع ہوجانے تک )
5- بیوہ کی عدت ۔  أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْراً - عدت چار ماہ دس دن !


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭تمت بالخیر٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔