میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 14 فروری، 2018

مسلمان بچے اور لوطی و جنسی درندے ؟

   ہر انسان اپنے خاندان کو سماوی یا بیرونی آفات سے بچانے کے لئے آشیانہ بناتا ہے ۔
وہ قومِ لوط کی زمینی آفت سے بچانے کے لئے ، اپنے بچوں کو جاانتے بوجھتے جنسی درندوں کے حوالے کیوں کرتا ہے ؟
خاص طور پر مسلمان درندے جو ورق الجنۃ اوڑھے، اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے القرآن کی آڑ میں دھوکہ دیتے ہیں! 

اپنے بچوں کو گھر میں القرآن کی تعلیم دیں  یا خواتین  معلمہ سے دلوائیں !
ورنہ اُنہیں القرآن نہیں بلکہ جنسی درندوں سے دور رکھیں !

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔