میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعرات، 22 فروری، 2018

چم چم کے چِنکو اور پِنکو

پچھلے جمعہ   یعنی 16 فروری کی بات ہے میں اور بڑھیا چم چم کو لینے اُس کے سکول جارہے تھے ۔ جمعہ بازار پشاور موڑ کے پاس سے گذرے تو  فروٹ اور سبزیاں لینے کا پروگرام بن گیا ۔ 
پرندہ مارکیٹ  کا چکر لگایا تو  ایک پنجرے میں چوزے نظر آئے تو دو خرید لئے ۔ 
چم چم کے سکول پہنچے ، اُسے اُس کا گفٹ دکھایا بہت خوش ہوئی ۔
  گھر پہنچنے تک چوزے تھے اور وہ !
 سوموار کو جب وہ سکول جارہی تھی تو گاڑی میں ، چم چم ، بڑھیا ، دو چوزے  مسافر   تھے اور بوڑھا ڈرائیور ۔
" ننا ، چِنکو اور پِنکو کا خیال رکھنا ، اِس کھانا خوب دینا اور سردی نہ لگے " چم چم شوں شوں کرتے ہوئے حکم نامہ کیا ۔
" لیکن یہ  تو اللہ کے پاس بھی جاسکتے ہیں "بوڑھا بولا
" نو وے " چم چم چلائی " یہ مرنا نہیں چاہئیں ، آپ نے اِن کا خیال رکھنا ہے "
دوستو!
اب بوڑھا اور بڑھیا ہے اور چِنکو پنِکو ۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔