میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 3 فروری، 2018

اوئے ٹرمپا ۔۔۔۔ یہ تو کس قوم سے پنگا لے بیٹھا ہے!

ایک دفعہ کا ذکر ہے ،   ایک صبح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے گھر سے ایک سرکاری میٹنگ کے لیے روانہ ہوا ،تو اسے راستے میں ایک غریب ایفرو امریکین عورت ملی جو سلش SLUSH (بچوں کا مشروب) بیچ رہی تھی۔ ٹرمپ نے ایک ڈالر کا نوٹ اس کی طرف بڑھایا،
" مجھے ایک  گلاس دو " 
غریب نیگرو عورت نے جیسے ہی سلش کا گلاس آگے بڑھایا ،    شربت  ٹرمپ کی شرٹ کے اوپر  چھلک گیا اور سامنے کی طرف   چھینٹے پڑ گئے ، گو زیادہ نہیں تھے لیکن شرٹ  پر نمایاں تھے ۔ یہ دیکھ کر ٹرمپ آپے سے باہر ہو گیا اور اس نے نیگرو عورت کو بالوں سے پکڑ کر چلانا شروع کر دیا ۔
"نامراد  نیگرو عورت ، نان امریکن غلام ،  تمہاری وجہ سے میری اتنی مہنگی شرٹ کا ستیاناس ہو گیا ہے۔ پتہ ہے یہ کتنے کی شرٹ تھی ؟"
وہ بے چاری غریب عورت معافیاں مانگتی رہ گئی لیکن ٹرمپ ایک بات بار بار کہتا تھا ،
" مجھے اس شرٹ کی قیمت ادا کر دو تو میں تم کو جانے دوں گا ورنہ تب تک میں تمہاری جان نہیں چھوڑنے والا"
اس نیگرو عورت نے روتے ہوئے پوچھا کہ،
"آخر کتنے کی ہے تمہاری شرٹ ؟"
  "ایک ہزار ڈالر"
ٹرمپ نے جواب دیا
"کیا ؟ "یہ سن کر وہ عورت بھونچکا رہ گئی!
" میرے پاس اتنے پیسے تو نہیں ہیں، " وہ روہانسی ہو کر بولی ،
"میں کیسے ادا کروں گی اتنی بڑی قیمت؟"
یہ کہہ کر وہ غریب حبشی عورت رونے لگی۔
 ٹرمپ دولت اور طاقت کے نشے میں بدمست ہے، وہ دھاڑا
"مجھے نہیں پتہ، مجھے میرے کپڑوں کی قیمت ادا کرو، ورنہ تب تک تم میری غلام رہو گی"
ابھی بات یہیں تک پہنچی تھی کہ سامنے ایک ٹیکسی ڈرائیور یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا، وہ قریب آیا اور اس نے مزدور عورت سے پوچھا،
" کیا ہوا تم کیوں رو رہی ہو ؟"
غریب عورت نے  روتے ہوئے بولی،
"یہ ظالم شخص  میری  چھوٹی سی غلطی کے ہزار ڈالر مانگ رہا ہے، اتنا تو میرے گھر کا ماہانہ خرچہ بھی نہیں ہے تو میں اسے اتنی بڑی رقم کیسے ادا کروں گی"
 یہ سن کر ٹیکسی ڈرائیور نے اس مظلوم عورت کو دلاسہ دیا  بولا ،
" صبر کرو میں اِسے سمجھاتا ہوں شائد مان جائے "
اور ٹرمپ سے بولا ، "یہ غریب عورت ہے ، یہ کہاں سے دے گی؟
یہ تو دن کے سو ڈالر کماتی ہے  ؟ میں یہ داغ صاف کر دیتا ہوں، کہاں ہے داغ "
" تم کون ہو، براؤن کمّی،
  ہمارا کھانے والے  غیر ملکی ،
تم بھی  اِس کے ساتھی ہو !
ہم  امریکنوں  کی زمین پر  لعنت ہو !
نکل جاؤ یہاں سے ورنہ میں تمھیں گرفتار کروا دوں گا " ٹرم نفرت سے بولا
" دیکھو ، غصیلے امریکن اتنا شور مچانے کی ٖضرورت  ، کہیں تمھیں ہائپر ٹینشن سے فالج نہ ہوجائے ، اتنا غصہ صحت کے لئے ٹھیک نہیں ہوتا ۔"
ٹیکسی ڈرائیور بولا، " اِس غریب عورت کو معاف کر دو ! تمھارا جیزز کرزئسٹ  تمھارے گناہوں  کی بخشش کروائے گا "
یہ جھگڑا سن کر لوگ اکٹھے ہو گئے ،   سب ٹرمپ کی اچھل کود دیکھ رہے تھے ، اُنہیں معلوم تھا کہ ٹرمپ ڈالر لئے بغیر نہیں ٹلے گا ، اور یہ شربت اپنی قمیض پر چھلکوانے والی حرکت ٹرمپ نے ہی کی ہوگی ،اُس کا اِس راستے  میں سب غیر ملکیوں سے جھگڑا ہوتا تھا ،  سب خاموش تماشائی تھے ۔
 ٹرمپ دھاڑا ،" نہیں کروانی مجھے بخشش!
تم مذہبی بلیک میلر !
تم امریکی زمین کے کیڑے !
اگر تمہیں اِس بلیکی سے ہمدردری ہے تو تم پیسے دے دو !" 

ٹیکسی ڈرائیور نے اپنی جیب سے سو ڈالر کے نوٹ نکالے ، گن  کردس نوٹ ، ٹرمپ کے حوالے کئے 
 ٹرمپ نے خوشی خوشی وہ رقم لی ، ناظرین کی طرف فخریہ انداز میں دیکھتے، جیب سے پرس نکالا ، اُس میں رکھی  اور اپنے راستے پر جانے کے لئے مڑا اور چل پڑا ،افریقی عورت نے شکریہ کے طور پر ٹیکسی  ڈرائیور کو سَلش کا گلاس  دیا ،
" او غصیلے بڈھے ، جھگڑالو ٹرپ ٹہرو !" ٹیکسی ڈرائیور چلایا
" کیا بات ہے ؟ مجھے آفس دیر ہو رہی ہے ،کیوں بلاوجہ  میرا وقت ضائع کر رہے ہو ؟
میرا وقت بہت قیمتی ہے ، ایک ایک منٹ کی قیمت سو ڈالر ہے ، کیا ادا کر سکو گے ؟"ٹرمپ مسکراتے ہوئے بولا ۔
"ٹھیک ہے ، ٹرمپ میں ٹیکسی ڈرائیور ہوں میں مسافر سے انتظار کروانے کا  50 سینٹ فی منٹ لیتا ہوں ، پہلے ایک بات طے کر لیں کہ اگر میں
بلاوجہ  تمھارا وقت ضائع کروانے کی  غلطی پر ہوا تو میں وقت کی ادائیگی کروں گا ، ورنہ تم ادائیگی کرو گے "
ٹرمپ بولا ۔" مجھے منظور ہے "
"کیا آپ میں سے کوئی ٹائم کیپر بننے کے لئے تیار ہے"۔ ٹیکسی ڈرائیور  نے عوام سے پوچھا ، ایک بوڑھی عورت تیار ہوگئی ۔ 

" ٹھیک ہے پھر ٹائم شروع ہوتا  ہے !" ٹرمپ بولا
" مسٹر ٹرمپ یہ بتاؤ ، کہ تم نے مجھے سے ہزار ڈالر کس مد میں لئے ؟" ٹیکسی ڈرائیور نے پوچھا
"اس شرٹ کےلئے " ۔۔۔۔۔ ٹرمپ لے لہجے میں حیرت تھی "جو اِس عورت نے خراب کی "
" ناظرین ، گواہ رہیئے کہ ، میں نے اِس شرٹ کی قیمت ادا کر دی ہے " 
ٹیکسی ڈرائیور بولا ۔
" تم میرا وقت ضائع کر رہے ہو ، جب میں نے قبول کر لیا ہے کہ میں نے اِس شرٹ کے لئے تم سے ہزار ڈالر لئے ہیں ۔تو پھر ناظرین سے گواہی کیوں لے رہے ہو ؟ " ٹرمپ دھاڑا

" تو مائی ڈئر مسٹر ٹرمپ ، اگر تمھاری شرٹ کی قیمت کی ادائیگی ہوچکی ہے تو ، پھر شرٹ تو میرے حوالے کردو"
 ٹیکسی ڈرائیور نے سٹرا سے سَلش کا شڑوک لیتے ہوئے کہا !
" کیا ؟ ، کیا تم پاگل ہو گئے ہو ؟
تمھارا دماغ خراب ہے !
تمھیں اتنی سمجھ نہیں کہ اگر میں نے تمھیں شرٹ دے دی تو کیا میں ننگا ، سرکاری میٹنگ میں جاؤں گا ؟" ٹرمپ گلا پھاڑ کر بولا ۔
" تم لوگ سُن رہے ہو ، یہ کیا بکواس کر رہا ہے ۔" ٹرمپ ناظرین کو مخاطب کر کے بولا ۔
" مسٹر ٹرمپ" 
ٹیکسی ڈرائیور ،  سٹرا سے سَلش کا  دوسرا شڑوک لیتے ہوئے بولا۔
"تم ننگے جاؤ یا جیسے بھی جاؤ، یا واپس اپنے محل میں جاکر دوسری شرٹ پہن کر میٹنگ میں جاؤ ، مجھے پرواہ نہیں "
" براون غیر ملکی ، تم مجھ سے میری شرٹ کیسے مانگ سکتے ہو، میں ہرگز نہیں دوں گا " ٹرمپ بولا
یہ کہہ کر ٹرمپ اپنے آفس کے راستے کی طرف بڑھنے لگا
" مسٹر ٹرمپ ، کان  کھول کر سنو ! "
  ٹیکسی ڈرائیور ،اطمینان سے بولا ۔"  اگر تم نے  شرٹ نہ دی تو میں پولیس کو بلوا کر تمہیں میرے ایک ہزار ڈالر چوری کرنے کے الزام میں ہتھکڑی لگوا دوں گا ورنہ دوسری صورت میں مجھے میری شرٹ واپس کر دو کیونکہ میں اس کی قیمت ادا کر چکا ہوں"۔
ٹرمپ  ، جھٹکے سے واپس مُڑا ، اُس کا منہ کُھل گیا  ۔
" تَت ، تَت تم دیکھ رہے ہو امریکن شہریو ،
اِس گھٹیا آدمی کا الزام ،
اور اخلاق سے گری ہوئی حرکت ،
یہ میری قمیض اتروا کر مجھے بے عزت کرنا چاہتا ہے ،
امریکن عوام کو شرمندہ  کرنا چاہتا ہے ،
امریکن کیبنٹ کا مذاق اُڑوانا چاہتا ہے ، " ٹرمپ نے ایک گھنٹہ کی تقریر شروع کی تاکہ امریکن عوام جو وہاں موجود تھے ، ٹرمپ کاساتھ دیں !
" مسٹر ٹرمپ، آپ کو اِس شخص سے امریکن اصولوں کے مطابق ڈیل کرنا ہوگی " ایک  جھیل جیسی نیلی آنکھوں والی بوڑھی  امریکن عورت بولی۔
" اِس سے واپس خرید لو یہ شرٹ " ا
یک آواز آئی ۔
اب ٹرمپ کی جان پر بن آئی تھی ، وہ گھر اور میٹنگ کے درمیان میں تھا اور وہ بغیر شرٹ کے گھر جا سکتا تھا اور نہ آفس۔
"ٹھیک ہے ، یہ بہترہے " ٹرمپ بولا 
" براؤن دھوکے باز ٹیکسی ڈرائیور ، یہ بتاؤ تم اِس داغ دار شرٹ کا کیا لوگے ؟"

" مسٹر ٹرمپ" 
ٹیکسی ڈرائیور ،  سٹرا سے سَلش کا  تیسرا شڑوک لیتے ہوئے بولا۔
" پانچ  ہزار ڈالر  اور وقت ضائع کرنے کے پیسے الگ "

 " کیا ؟ تم نے مجھے اِس شرٹ کے ہزار ڈالر  نہیں دیئے تھے ! " ٹرمپ بے یقینی سے بولا
" وہ تم نے قیمت لگائی تھی ، میں نے ادا کر دی ،
مسٹر ٹرمپ"  ٹیکسی ڈرائیور ،  سٹرا سے سَلش کا  چوتھا شڑوک لیتے ہوئے بولا۔
" یہ قیمت میں نے لگائی ہے داغ دار شرٹ کی نہیں ۔ بلکہ امریکن صدر کی داغدار شرٹ کی ، جس کی نیلامی سے مجھے لاکھوں ڈالر ملیں  گے۔ لاؤ  میری شرٹ !"

یہ سن کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا سر پکڑ لیا کیونکہ اب وہ ایسا پھنس چکا تھا کہ اس کو جان بچانے کا اور کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا تھا ٹرمپ نے چار و ناچار اس ٹیکسی ڈرائیور کو پانچ ہزار ڈالر دیے اور شرٹ  واپس خرید لی اور چلنے لگا ۔
" مسٹر ٹرمپ " ایک منحنی سی آواز آئی " آپ نے ٹیکسی ڈرائیور کے ایک گھنٹہ اُنیس منٹ اور پچپن سیکنڈ ضائع کئے ہیں ۔ آپ مزید   40 ڈالر ادا کریں "
 ٹرمپ نے مزید 40 ڈالر ادا کئے ۔
ٹیکسی ڈرائیور نےایک ہزار اور  40 ڈالر اپنی جیب میں ڈالے ،  بقایا چار ہزار ڈالر اس غریب ریڑھی والی حبشی عورت کو دیئے تا کہ وہ اپنا گزر اوقات بہتر طریقے سے کر سکے۔
ٹرمپ حیران ہوگیا ۔
یہ سب کچھ دیکھ کر وہ بوڑھی حبشی عورت فرطِ جذبات سے رونے لگی اور اس نے ٹیکسی ڈرائیور سے لپٹ کر پوچھا "اے اجنبی فرشتے تم کون ہو اور میری مدد کے لیے کہاں سے آئے ہو"
ٹرمپ بھی ساتھ کھڑا حیرت سے یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔
یہ سن کر ٹیکسی ڈرائیور بولا ،" اماں میں اس قوم کا باشندہ ہوں جس سے ٹرمپ نے 33 بلین ڈالر کا حساب مانگا ہے۔
اس کو بتا دو ابھی تو میں نے صرف ایک ہزار ڈالر کا حساب کیا ہے اور اس کو جیب سے پانچ ہزار ڈالر دینے پڑ گئے ہیں۔
ابھی تو بقایا 32 بلین 999 ملین 9 لاکھ اور 99 ہزار کا حساب کرنا باقی ہے۔ اگر آج کے بعد اس پرانے کنستر کے منہ والے نے کسی غریب اور غیرت مند ملک کے ساتھ زیادتی کی تو ایسا حساب چکتا کروں گا کہ پورا امریکہ بیچ کر  پیسے بھرنے پڑ جائیں گے"۔
یہ کہہ کر وہ ٹیکسی ڈرائیور وہاں سے چلا گیا اور وہ غریب حبشی عورت اور امریکی صدر حیرت سے وہیں کھڑے دیکھتے رہ گئے۔ وہ عورت ٹرمپ کو دیکھ کر حیرت ناک انداز میں بولی ، 
"اوئے ٹرمپُو!   یہ تو کس قوم سے پنگا لے بیٹھا ہے"
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔