میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 4 فروری، 2018

آسمان کبھی نہیں روتا

  عورتوں کے جنسی استعمال پر آسمان کبھی نہیں  روتا ۔

 جنگوں میں بچی ہوئی عورتیں جنھیں فوجی استعمال کرکے چھوڑ دیتے ، جو اپنے پیٹ کی آگ بجھانے اور اپنے بچوں کو پالنے کے لئے سب سے آسان دھندا ،  جسم فروشی کا اختیار کرتیں  اور    ھیرا منڈی فوجیوں ، جہازرانوں  ،  ریلوے ملازموں ،تاجروں  دیارِ غیر میں  فوج کے ساتھ آئے ہوئے ، مختلف پیشہ کے لوگوں کے لئے دلچسپیوں کاسامان مہیا کرتیں اور جنسی ترسے ہوئے مردوں کو سکون پہنچاتیں ۔اُن کے بطن سے پیدا ہونے والی لڑکیاں ، زیادہ تر طوائف بن جاتیں ، اور لڑکوں میں 80 فیصد ،دلالت کرتے اور ہیرامنڈی کی طوائفوں کے لئے گاہک لاتے ۔
فلموں کی مشہوری نے ہیروئین بننے کا شوق پالنے والی لڑکیاں ، فلم سٹوڈیو پہنچنے کی آس لگائے ، ریلوے اور بسوں میں تجربہ کار دلالوں کے ہاتھوں ہاتھ گذرتی  مختلف لوگوں سے ہوتی ہوئی ہیرا منڈی یا   بیوروکریٹس کے لئے مخصوص کئے گئے ،داشتہ خانوں میں پہنچ گئیں ۔
خوانین کی داستان کے ابواب
ہماری فلم کی کئی مشہور ہیروئین  ، نیلو ، زیبا ، شمیم آرا  کے ساتھ ساتھی اداکارائیں   ہیرامنڈی  سے درآمد شدہ تھیں ، جن کی کہانیاں  1969 سے پہلے کے اخباروں کی زینت بنتی تھیں ۔
ضیاء الحق کے اسلام سے پہلے  جنسی آزادی  ذاتی معاملہ سمجھی جاتی تھی ۔


ہر کوئی رقم خرچ کر کے  بادشاہی مسجد، نپئر روڈ ، سورج گنج بازار ، کچی گلی ، آر اے بازار ، لال کرتی  اور ڈب گری  میں اپنی  من پسند طوائف سے جنسی بھوک مٹاتا ۔

مرد کی جنسی بھوک ، بالکل پیٹ  کی بھوک کی طرح ہے جو اللہ نے  حلال مد میں پورا کرنے کے لئے رکھی ہے ، حرام مد میں نہیں ، لیکن کیا کیا جائے کہ بخاری  و مسلم میں درج ہے :
 ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ
" جب ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بنی المصطلق (موجودہ رابغ )  کی جنگ (5 ہجری)  میں گئے تو عرب قوم میں سے کچھ لونڈی غلام ہمارے ساتھ آئے، ہمیں عورتوں کی خواہش ہوئی اور مجرد رہنا ہمارے لئے سخت مشکل ہو گیا ، ہم نے خصی(عضو تناسل کے ناکارہ بنانا)  ہونے کا ارادہ کیا (تاکہ جنسی خواہش ختم ہوجائے ) جب ہم نے اِس خصی ہونے  کی اجازت آپ صلعم سے  مانگی تو اُنہوں نے فرمایا ،
" جو لونڈیاں ہماری ہاتھ لگی ہیں  اُن سے اپنی  (جنسی ) خواہش پوری کرو لیکن عزل کرنا  (مادہِ منویہ کو عضو تناسل باہر نکال کر خارج کرنا  مانند مُشت زنی ) آخر ہم نے عزل کا ارادہ کر لیا ۔مگر پھر ہم نے سوچا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان ہیں تو یہ جائز ہے یا نہیں؟ "

چنانچہ ہم نے آپ سے اس کے بارے میں دریافت تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ,
" اگر تم عزل نہ کرو تو اس میں تمہارا کوئی نقصان نہیں ہے اس لئے کے قیامت تک جو جان پیدا ہو نیوالی ہے وہ تو پیدا ہو کر رہے گی"  .  ( بخاری ومسلم)

اِس روایت کی مطابق ،   خصی ہونے  یعنی عضو تناسل ناکارہ بنانے سے  بہتر ہے کہ، فوجیوں کا   مفتوح غیر مسلم عورتوں سے  جنسی خواہش پوری کرنا جائز ہے ۔ لیکن حمل ہونے کی صورت میں لونڈی  کی حیثیت تبدیل ہوجائے گی ۔مثلاً ایک فوجیوں  کی ایک پلاٹون  یعنی تیس فوجیوں  نے شہر پر یا اُس کے کسی ایک حصہ پر قبضہ کیا اور دس عورتوں(بلا تخصیص عمر)  کو قید کیا ،جنسی خواہش بیدار ہونے پر وہ  اُنہیں استعمال کرسکتے ہیں ۔بعد میں یہ قید خانہ میں منتقل کر دی جائیں گی ، جہا ں دیگر فوجی بھی مستفید ہو سکتے ہیں ۔
یہ قانون ابھی کا نہیں یا مسلمانوں کا بنایا ہوا نہیں ،  بلکہ قانونِ مکافاتِ عمل و فعل کا نتیجہ ہے ، جیسے سکندرِ اعظم کے یونانیوں کی  بر صغیر میں نیلی آنکھیں کے نشانات ہر جگہ بکھرے ہوئے ہیں ۔چپٹی ناکوں والے قبیلے میں لمبی ناک ،  یونانی علاقوں میں گھنگھریالے بال  حبشیوں کے عُزل نہ کرنے کا سبب  ہیں ۔
نسلِ انسانی کا یہ مختلف رنگ ، نسل ،بولیوں اور قامت کا یہ پھیلاؤ نظامِ قدرت کا خوبصورت حصہ ہے ۔
مقبوضہ عورت ، صدیوں سے مرد کی ضرورت رہی ہے ، مقبوضہ عورتیں ، امراء، تاجر اور فوجیوں کے مشہور زمانہ " کی کلب" کی طرح " زر کلب " میں کمائی کا ذریعہ رہی ہے۔ جنھیں قحبہ خانوں ، میں موجود مخصوص کمروں میں ٹہرایا جاتا۔ تاریخ کی مشہور مسلمان ملکائیں ، مقبوضہ عورتیں تھیں جو بادشاہوں کے حرم میں آنے کے بعد  اپنی مہارتِ جسم یا ہنرِ رقص   کی بدولت  شاہی تخت  کر برابر جا بیٹھیں -
بادشاہوں کے محل میں کثیر مقبوضہ عورتوں کا اجتماع اور اُن عورتوں  کی جسمانی بھوک  کی ضرورت محل کے خفیہ راستوں سے گذار کر اُنہیں قحبہ خانوں میں لے جاتی  اور انہیں ملنے والی رقم سے  اُس شاہی کنیز کے تمام نگہبان و ذمہ داران مستفید ہوتے ۔ 

جنگوں کے خاتمے کے بعد ، عورت فروشی کے اِس کاروبار کو بردہ فروشی نے بامِ عروج پر پہنچایا  ۔ بچپن میں شہروں سے  اغواء کی گئی بچیاں، بردہ فروش  اپنے  وطن لے جاتے وہاں  لااولاد جوڑے کو عام شکل و صورت کی بچیاں دے دی جاتیں اور خوبصورت بچیاں ، قحبہ گری کے نگرانوں کو فروخت کی جاتیں-
اِس کے علاوہ  غربت کے مارے لوگ چند روپوں کی خاطر اپنی بیٹیوں کی شادی کر دیتے جو بردہ فروش اپنے وطن لے جاتے۔ 

ہم بچوں کے ذہن میں ، ماؤں نے یہ خیال جما دیا تھا ، کہ بردہ فروش  بچوں کو مٹھائی کھلا کر بے ہوش کرتا اور بوری میں ڈال کر لے جاتا  ، تعلیم و تربیت میں لکھی جانے والی کہانی : "عالی پر کیا گذری "  نے تو یہ خیا ل مزید ثبت کر دیا  تھا ، اُن دنو ں  جہاں کندھے پر بوری لٹکائے کوڑا  چننے والے پر نظر پڑتی گھر کی طرف دوڑ لگاتے ۔



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔