میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 22 فروری، 2018

اگر برِ صغیر تقسیم نہ ہوتا !

اگر ہندوستان کو سامراج نے تقسیم کر کے پانچ حصوں میں کاٹا نا ہوتا تو یہ ملک دنیا کی سپر پاور ہوتا۔
دنیا میں سب سے بڑا مسلمانوں کا ملک ہندوستان ہوتا۔
پچاس کروڑ سے زیادہ مسلمان کل ہندوستان کی آبادی کا تیس فیصد سے زیادہ ہوتے جو ملک کی خارجہ اور داخلی فیصلوں میں فیصلہ کن اثر رکھتے۔
کھربوں ڈالر جو ٹینکوں ، ایٹم بموں اور بارود کے ڈھیر اکٹھے کرنے میں برباد ہوتا ہے ، تعلیم ، علاج ، رہائش اور دیگر عوامی فلاح کے کاموں میں خرچ ہوتا۔
پاکستان سے زیادہ مسلمان ہندوستان میں رہتے ہیں ، دو قومی نظریے کا دیوالیہ پن تو اسی سے ظاہر ہوتا ہے ..
اسلام کا نعرہ لگا کر مسلمانوں کو تقسیم کر دیا گیا ..اس سے بڑی شکست اور کیا ہو گی ؟
یہ ہی وجہ تھی کے جمیعت علمائے ہند ، احرار اور دیگر قوم پرست مسلمان رہنما جیسے باچا خان ، مولانا ابولکلام آزاد ، مولانا حسین احمد مدنی ، مفتی کفایت اللہ ، مولانا سندھی وغیرہ تقسیم کو مسلمانوں کی بدترین شکست سمجھتے تھے-

سرمایہ دارانہ نظام نے سوشلزم سے آخری معرکہ اس خطے میں کھیلا ہے-
میرا ذاتی خیال ہے کے تقسیم نا ہوتی تو ہندوستان ایک اشتراکی ملک ہوتا ، معاشی طور پر یہاں کی عوام سرمایہ دارانہ نظام کی لعنتوں سے آزاد ہوتی- 
(فہد رضوان)
 


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔