میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 3 فروری، 2018

قندھاری ، برف اور کوئٹہ

کوئٹہ میں سردیاں شروع ہوتے ہی ذہن میں وہ مناظر ایک جھماکے کی مانند در آتے ہیں۔ گرمیوں میں ایسے تیسے گزارہ ہو جاتا تھا، پر سردیاں، جو بہت طویل ہوتی تھیں ان کے تصور سی کانپ اُٹھتا ہوں۔ اپنے کمرہ نما گھر کا ذکر تو کر بیٹھا ہوں، جو ایک عام گزرگاہ تھی۔ کھڑکیاں عرصہ دراز سے شیشوں اور جالیوں سے محروم ہو چکی تھیں۔ آنے جانے کے لئے تین دروازے تھے۔سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی، بھائی صاحب شکستہ کھڑکیوں پر گتے کے پیوند لگا کر ٹھٹھرا دینے والی ہوا کا راستہ روکنے کا تکلف کرتے۔ تکلف اس لئی کہا کہ ایک سوراخ ہوتا تو بند کرتے، وہ تو مکمل ہوادان بنی ہوئی تھیں۔
اچھے گھرانوں میں پتھر کا کوئلہ استعمال ہوتا تھا، جو ہمارے بس کی بات نہ تھی۔ حالانکہ اس زمانے میں ایک بوری کوئلہ کی قیمت صرف دو روپیہ تھی۔ نانی ساری گرمیوں میں کھانا پکانے کے لئے جو لکڑیاں جلاتی تھیں، بعد میں انکے انگاروں کو بجھا کر کوئلہ بنا لیتیں اور بوریوں میں جمع کر لیتیں اور ہم سردیوں میں یہ کوئلہ انگیٹھیوں میں دھکا کر سردیوں سے بچاؤ کا بندوبست کرتے۔
 یہ  1967 کی بات ہے ،  کہ ان دنوں کوئٹہ میں سوختی لکڑیاں ایندھن کے طور پر گھروں میں کام آتی تھیں۔ بعد میں مٹی کے تیل کے چولھے مستمل ہوئے۔ ہم شاوکشاہ روڈ کے کواری روڈ کی طرف کے موڑ پر واقع ٹال سے دو تین من کے حساب سے لکڑیاں لایا کرتے تھے۔ کلہاڑی سے کٹی لکڑی مہنگی اور اَن کٹی سستی ملتی تھی۔ وہ اللہ کا بندہ کافی خدا ترس تھا ہم سے رعایت کرتا اور ریڑھی کا کرایہ بھی وصول نہ کرتا، پر شرط یہ تھی ریڑھی ہم خود لے جائیں اور واپس بھی کریں۔
پھر ان لکڑیوں کو چھینی ہتھوڑی یا کلہاڑی سے چیرنے کا مرحلہ آتا۔ میں اپنی بساط بھر بھائی کا ساتھ دیتا۔ یہ لکڑیاں گھر سے ملحق گودام میں رکھ دی جاتیں۔ اکثر لکڑیاں گیلی ہوتیں تو انکو جلانے کے لئے کافی جتن کرنے پڑتے۔ نانی اور بہن پھونکنی سے پھونک پھونک کر آگ دھکاتیں۔ گھر دھوئیں سے بھر جاتا۔ ہر کھانے کے بعد نانی انگارے بجھا لیتیں تاکہ سردیوں میں کام آئیں۔
ہر طرف سے کھلے گھر کو گرم رکھنا مشکل تھا، اس کے لئے دو اقدامات کرنے پڑتے۔ ایک "صندلی" کا، یعنی ایک سٹول وغیرہ پر لحاف یا کمبل ڈال دیا جاتا اور اسکے نیچے کوئلہ کے انگیٹھی رکھ دی جاتی۔ سردیوں میں سب اسکے گرد بیٹھے رہتے۔ بچوں کی عام طور پر لڑائی اس وقت ہوتی جب اسے اٹھ کر کسی کام کرنے کو کہا جاتا۔
رات کو نانی چارپائیوں کے نیچے کوئلہ کی انگیٹھیاں رکھ دیتیں تاکہ بستر گرم رہیں۔ اس عمل سے ہر سال چار پائیوں کے بان جل جاتے اور سردیاں ختم ہونے تک وہ جھولا بن جاتیں۔ لحاف اور گدے بھی اکثر جل جاتے۔ سردیاں اس شدت کی پڑتیں کہ ہر جتن کرنے پر بھی سارا جسم کانپتا رہتا۔
اکتوبر کے دوسرے ہفتہ سے سردیوں کا آغاز ہوتا اور مارچ تک چھتوں سے برف کی قلفیاں لٹکتی رہتیں۔ بارشیں کوئٹہ میں ہمیشہ سردیوں ہی میں ہوتی ہیں۔ صرف فرق یہ ہے کہ اب بارشیں اس تواتر سے نہیں ہوتیں اور کوئٹہ کی ساری کاریزیں خشک ہو گئیں ہیں۔ اس زمانہ میں دسمبر، جنوری اور فروری برف کے مہینے ہوا کرتے تھے۔
برف اتنی پڑتی تھی کہ ہر گھر کی چھت سے کئی کئی مرتبہ بیلچہ سے اتارنی پڑتی۔ اس زمانہ میں تمام گھر سیون ٹائپ تھے، یعنی چھتیں چادروں کی اور آدھی دیواریں کچی ہوتی تھیں۔ ایسا 1935کے زلزلہ کے بعد کیا گیا۔جب سارا شہر تباہ ہو گیا تھا ۔


ہمارے سکول دسمبر میں تین ماہ کے لئے بند ہوتے تھے۔ صبح سردیوں میں سکول جانا ایک بہت بڑا مرحلہ ہوتا تھا۔
نانی سردیوں کے آغاز میں کباڑی سے، جی ہاں اس وقت تک کوئٹہ میں لنڈا بازار کا نام مستمل نہ تھا، ایک عدد سوئٹر اور ایک عدد کوٹ خرید لاتیں۔ سوئٹر اور کوٹ کا سائز درست ہونا شرط نہ تھی، صرف گرم ہونا شرط تھی۔ یہ سوئٹر اور کوٹ چوبیس گھنٹے ہمارے جسم کا حصہ بنے رہتے۔

انگریز نے پندرہ دسمبر سے پہلے کلاسوں میں ایندھن کے استعمال کی ممانعت کر رکھی تھی. اس لئے بچے ٹھٹھرتے رہتے۔ مجھے تو نانی دو قمیضوں، ایک سوئٹر اور کوٹ سے ڈھانپ دیتیں۔ سر پر اونی منکی کیپ چڑھادیتیں۔ ہاتھوں کے لئے دستانے اور پیروں میں پھٹے بوٹوں کے نیچے پہننے کو جرابیں نہ ہوتی تھیں۔ اس لئے ہاتھوں کی الٹی طرف انگلیوں کے جوڑوں میں سے ٹھنڈ کی زیادتی کی وجہ سے خون رسنے لگتا۔ یہی حال پیروں کی ایڑیوں کا تھا۔ اس عذاب سے اپریل میں نجات ملتی۔


 چونکہ امتحانات بھی دسمبر میں ہوتے، اس لئے بچوں کو دھوپ میں میدان میں بٹھا کر امتحان لیا جاتا۔ اکثر و بیشتر بچے یخ بستہ ہواؤں سے اپنا آپ بچاتے رہتے۔ انگلیاں شل ہو جاتیں اور قلم پکڑنے کے قابل نہ رہتیں۔ اس طرح بچے دو امتحانات سے گزرتے۔ 
کا فی عرصہ بعد چودھری نذیر نے مہربانی فرمائی اور انہوں نے ہر سال ہمارے گھر چند بوری کوئلہ بھیجنا شروع کردیا۔ اب سٹوپ بنانا یا لانا تھا۔ پیسے تھے نہیں۔ بھائی کی ہمہ صفت شخصیت نے اسکا حل ڈھونڈ لیا۔ کباڑی سے سٹوپ کے چادر لے آئے اور ڈالڈا کے ڈبوں سے پائپوں کا بندوبست کرلیا۔ خود ہی لوہار بن بیٹھے۔--
دسمبر آیا اور پرانے زخم ہرے ہو گئے۔
 
اب جب بھی ٹھنڈ آتی ہے یا کسی نادار کو ٹھنڈ سے لڑتے دیکھتا ہوں تو اپنی زندگی کے اس دسمبر کی یاد سے لرز اُٹھتا ہوں۔
  ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
نوٹ: اپنی آپ بیتی لکھنے والا یہ بچہ ، سول سروسزز  کے امتحان میں کامیاب ہوا اور ایک اعلیٰ عہدے پر پہنچ کر ریٹائر ہو ا!

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔