میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 17 فروری، 2018

صدقہ - اللہ کے معاشی نظام کا اہم رُکن


 روح القدّس نے محمدﷺ کو اللہ کی طرف سے   عاملین صدقات بتائے !

 إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِّنَ اللّهِ وَاللّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ﴿9:60﴾ 


  یقیناً       الصَّدَقَاتُ، الْفُقَرَاءِکے لئے اور  الْمَسَاكِينِ اور  ( الْفُقَرَاءِ اور  الْمَسَاكِينِ پر ) جو    الْعَامِلِينَ ہیں اُن کے لئے ،  اور اُن    ( الْفُقَرَاءِ اور  الْمَسَاكِينِ  )کے  الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُکے لئے ، اور جو الرِّقَابِ(کسی بھی قسم کی پابندی ) میں ہیں   ، اور  الْغَارِمِينَ(کسی قسم کے تاوان  میں گرفتار ) اور  سَبِيلِ اللّٰهِ (مد 1) میں اور  ابْنِ السَّبِيلِ(مد 1)،  اللہ کی طرف سے  (الصَّدَقَاتُ   کی تقسیم  ) ایک فَرِيضَةًہے اور    اللّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ہے!
 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مزید مضامین ، اِس سلسلے میں دیکھیں :
 
انفاقِ فی سبیل اللہ کے مراتبِ انفاق

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔