میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 22 فروری، 2018

وہ بے بی کون تھی؟

آج کل کی بیویاں خاوند کو اس طرح بلاتی ہیں جیسے نکے بھائی یا بیٹے کو- اتنا بے تکلفانہ انداز کہ انجان بندہ سمجھ ہی نہیں پاتا کہ مخاطب شخص میاں ہے یا کچھ اور -
ایک خاتون بولیں،
" میں اس "ایاز" سے بہت تنگ ہوں. پریشان کر رکھا ہے اس نے- اتنا گند ڈالتا ہے کہ کمرے کا حشر کر دیتا ہے- "

ہم ہمدردی سے بولے
" بس جی آج کل کی اولاد ہے ہی نکمی" -

خاتون بگڑ کر بولیں
"ہائے دماغ ٹھیک ہے۔۔۔ ایاز، اولاد نہیں میری اولاد کے ابا ہیں"-

آپ ہی بتاو اب اس میں ہمارا کیاقصور ہم کو جو لگا,سو کہہ دیا-
آج کل میاں ،بیوی انتہائے محبت کا اظہار کرتے ہوئے بات چیت بھی ایسے کرتے ہیں کہ اچھا خاصا بندہ دھوکا کھا جائے ۔ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ لاڈ بچوں سے ہو رہا کہ آپس میں-
مائی بےبی، مائی مونا ,مائی سوئٹو، شونو مونو -

ایک دفعہ شادی پرکھانے کے دوران ایک فیملی کی طرف میری کمر تھی ۔ ان میں سے ایک صاحب کہنے لگے،

"بےبی تم کھانا کھاو مجھے پریشان نہ کرو "
میں نےپیچھے دیکھ کر ازراہ ہمدری کہا،
"بھائی آپ کھانا کھالیں " بےبی "کو میں گود میں پکڑ لیتا ہوں-"

بس ایک مکا پڑا۔ ۔ اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی ۔
جب روشنی آئی تومعلوم ہوا کہ ان حضرت کی شادی ہفتہ پہلے ہوئی تھی-

آج بھی سوچتا ہوں کہ وہ بے بی کون تھی؟

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔