میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 7 فروری، 2018

رائل میل شپ ، ٹائی ٹانک۔ RMS Titanic

 برطانیہ کی سمندری تاریخ  کا سب سے مہنگا اور  مشہور جہاز  ، جو 3،327 افراد کو لےکر سمندر   کی سطح پر سفر کے لئے تیار کیا گیا-
  اپنے پہلے سفر میں 2،224  مسافروں اور عملے سمیت 15 اپریل 1912 کو شمالہ بحر اوقویانوس  میں ساوتھ ایمپٹن سے نیویارک روانہ ہوا ،4 دن کا ساڑھے2،430 ناٹیکل میل کا   سفر  طے کر کے   نیویار ک سے ایک ہزار ناٹیکل میل  پہلے ایک تیرتے سمندری تودے سے ٹکرا کر سے   غرق ہو گیا  -
 اندازاً 1500 افراد اِس حادثے میں ہلاک ہوگئے ۔تھامس اینڈریو کا ڈیزائن کردہ ،  وہائٹ سٹار کمپنی کے  اولمپک جسامت کے بنائے گئے جہازوں میں یہ دوسرے نمبر پر تھا  ۔ یہ دو جگہوں  ہارلینڈ اوروولف شپ یارڈ بلفاسٹ میں تیار کیا گیا - 


 1912 میں جب  آر ایم ایس - ٹائی ٹینک تیار کیا گیا تو یہ  دنیا کا سب سے بڑا جہاز تھا ، جو انسانی آنکھ نے پہلے کبھی نہیں دیکھا  -

دس ہزار  بلبوں سے مزیّن  آٹھ سو بیس فٹ یہ جہاز  ، اُس وقت ایک عجوبہ تھا -
اِس وقت فرانس میں تیار کردہ   " ہارمنی آف دی سی " سمندر پر حکمرانی کر رہا ہے جو 1،188 فٹ لمبا ہے ۔
 2،224  مسافروں اور عملے  کے افراد میں سے صرف 710 انسان بچ سکے !
جو سمندری  تاریخ کاسب سے بڑا حادثہ تھا ۔
 جہاز میں 109 بچے بھی تھے جو اپنے والدین کے ساتھ اِس تاریخی سفر پر روانہ ہوئے -
 جن میں سے صرف 56 بچے زندہ بچے ، یہ ایک بہت بڑا سانحہ تھا ۔

 جہاز کا فرسٹ کلاس کا ٹکٹ  4،350ڈالر کا تھا ، سیکنڈ کلاس کا ٹکٹ ، 1،750ڈالر اور  جہاز کے عرشے پر رہنے کا تھرڈ کلاس کا ٹکٹ  صرف 30 ڈالر کا تھا ۔
ٹائی ٹےنِک ، کے حادثے سے 14 سال پہلے مورگن رابرٹ سن نے ایک ناول  " ٹیٹان کا ڈھانچہ " لکھا  ، جس میں دنیا کا سب سے بڑا بحری جہاز  برفانی تودے سے ٹکرا کر غرق ہوجاتا ہے ۔ کیا یہ صرف ایک  اتفاق تھا ؟
 دیگر بحری جہازوں کی نسبت ، ٹائی ٹےنِک بحری جہاز میں زیادہ تر  مردانہ ملازم تھے ، صرف 23 خواتین تھیں اور  885 آفیسر جہاز کےنگہبان تھے ۔
ٹائی ٹےنِک بحری جہاز  میں ایندھن کے لئے روزانہ 600 ٹن کوئلہ جلایا جاتا تھا ۔ جب یہ ساوتھ ایمپٹن سے روانہ ہوا تو اِس میں 6000 ٹن کوئلہ لدا ہوا تھا ۔ فائر مین تین بڑی بھٹیوں  میں کوئلہ دھونکتے تھے ، جس سے بھاپ بنتی اور جہاز کو  46 ہزار ہارس پاور کی طاقت ملتی ۔
ٹائی ٹےنِک بحری جہاز کی چار بڑی چمنیاں تھیں ، جن میں سے تین انجن کے کمروں سے کوئلے کے جلنے سے پیدا ہونے والے دھویں کو  باہرنکالنے کے لئے تھیں  اور چوتھی تازہ ہوا کو اندر بھٹیوں تک پہنچانے کے لئے ۔
ٹائی ٹےنِک بحری جہاز پر خدمت کے لئے ملازم اور ملازماؤں کو سٹیورڈز  کہا جاتا تھا  جو 421 کی تعداد میں تھے جن میں سے صرف 60 زندگی بچانے میں کامیاب ہوئے ۔
ٹائی ٹےنِک بحری جہاز میں بیل بوائز کی عمر تقریباً 14 سال کی تھی ، جو فرسٹ کلاس کے مسافروں کی خدمات پر مامور تھے ، اُن میں سے کوئی بھی نہ بچ سکا !
 جب  مچان پر موجود  ملازم نے ٹائی ٹےنِک بحری جہاز   کے راستے میں برفانی تودے کو دیکھا تو اُس نے فرسٹ آفیسر ولیم میک ماسٹر کو اطلاع دی ، جس نے فوراً بحری جہاز کو رُخ بدلنے کا حکم دیا ۔ لیکن دیر ہوچکی تھی اور ٹائی ٹےنِک  سیدھا برفانی تودے سے جاٹکرایا ۔
جہاز رانوں کا خیال تھا کہ بحری تودے سے ٹکرا کربحری جہاز کے ڈوبنے کے امکانات بہت کم ہیں ۔
  ٹائی ٹےنِک بحری جہاز کا پہلا  کپتان ایڈورڈ جے سمتھ (عمر 62 سال)  ، اپنی سروس کے آخری سفر کے لئے روانہ ہوا ، تو اُس نے عملے کو کو ہدایت دیتے ہوئے کہا ،
" نوجوانو ! عورتوں اور بچوں کو اپنی بہترین خدمات دینا اور اپنا بھی خیال رکھنا "

 اپنے سفر کے پہلے چار دونوں میں جہاز کے عملے کو سمندر میں تیرتے ہوئے خطرات کا سامنا کرنا پڑا ، لیکن کپتان نے، ریٹائرمنٹ سے پہلے ، مسافروں کی زندگیوں کو داؤ پر لگا کر ،  اپنی زندگی کے تاریخ ساز سفر کو سنہرے الفاظ میں لکھوانے کے لئے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا  ۔
7.5  ملئین پونڈ کی لاگت سے تیار کیا جانے والا ایک نہایت قیمتی جہا ز  ، جس کے واچ ٹاور  (جسے کوئے کا گھونسلہ کہا جاتا ہے )کے آبزرور  کے کوئی دوربین نہ تھی ، کہ وہ دور سے برفانی تودے کو دیکھ لیتا  ، جبکہ پاس سے گذرنے والے جہاز  ایس ایس کیلیفورنیا نے کپتان کو   سمندر میں تیرتے برفانی تودوں کے خطرے سے آگاہ کر دیا تھا-
 فلم ٹائی ٹینک کے مطابق ، جہاز کے ڈوبنے کے وقت  جہاز پر موجود آرکسٹرا کی ٹیم نے  نغمے بکھیرتے دکھائی دیئے ، لیکن حقیقت میں سمندر لہروں ، موت کی سانسوں  اور ڈوبنے والوں کی چینخ و پکار    میں  چڑیلوں کی موسیقی سنائی دے رہی تھی ۔
 اندازہ لگایا جاتا ہے  کہ جہاز  کے ٹکرانے کے صرف تیس سیکنڈ پہلے برفانی تودہ   ، کوئے کے گھونسلے میں بیٹھے ہوئے چوکیدار کو   نظر  آیا تھا ۔ کیا یہ اچانک نظر آیا تھا یا چوکیدار اور فرسٹ آفیسر آن ڈیوٹی دونوں نشے میں دھت تھے  ؟ 
یا پھر تباہی کے شیطان  نے اُن کی آنکھوں پر پردہ ڈال رکھا تھا ؟
 ٹائی ٹےنِک  ایک مسافر بحری جہاز  تھا لیکن برطانیہ  کے قانون کے مطابق  فوجی  جہاز ہو یا مسافر بردار ، اُن کو آر ایم ایس  ( رائل میل شپ) کا لقب لازمی دیا جاتا ہے ۔  
جہاز پر تین امریکی اور دوبرطانوی  میل سروس  کے ملازم تھے جو روزانہ 13 گھنٹے کم کرکے  60 ہزار خطوط کی روزانہ  چھانٹی کرتے ۔
 فرانس کے جہاز شیربرگ ، اور آئر لینڈ کے کوئینس ٹاؤن کے جہازوں نے ٹائی ٹےنِک کو اپنے 10 ہزار بلبوں کی روشنی میں بقاءِ نور بنے دیکھا ۔ 
ٹائی ٹےنِک پر ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لئے   20 لائف بوٹ تھیں جن سے صرف 1،178 مسافروں کو مدد فراہم کی جاسکتی تھی ۔
 جب  ٹائی ٹےنِک برفانی تودے سے ٹکرایا  تو مکمل جہاز کو غرقاب ہونے میں صرف دو گھنٹے اور 40 منٹ لگے ۔ 

 12 ہزار دو سو فیٹ  گہرے سمندر کی تہہ میں پہنچنے کے لئے ٹائی ٹےنِک نے صرف 15 منٹ لئے ۔
 آٹھ بحری جہازوں کے بیڑے کو بچنے والے مسافر اور   لاشیں نکالنے کے لئے بھیجا لیکن کوئی بھی زندہ نہ ملا ۔
 زندہ بچنے والے 56 بچوں میں سے  الزبتھ گیلڈی اور مِلوینہ  ڈین   نے 2009 میں وفات پائی ۔

   الزبتھ گیلڈی نے اپنی موت کے وقت وصیت کی کہ مرنے کے بعد   اُس کی راکھ کو ساوتھ ایمپٹن  کی بندرگاہ  میں بکھیر دی جائے ، جہاں سے وہ اپنی فیملی کے ساتھ  ٹائی ٹےنِک میں سوار ہوئی ۔
 بی ڈیک پر موجود ریسٹورینٹ جس میں صرف فرسٹ کلاس کے مسافر جا سکتے تھے جس کا نام "لے  کارٹے "  تھا جو "لوگی گَٹّی " نامی شخص کی ملکیت تھا ، جس  کی دیکھ بھال کے لئے  66 سٹاف  پر مشتمل عملے  کے  افراد تھے ۔ جو جہاز کے مسافروں میں شامل نہ تھے ۔ 
"لوگی گَٹّی " سمیت  33 افراد موت کے منہ میں چلے گئے ، دو  کیشیئر عورتیں اور کیش  کلرکبچ سکے -
 ٹائی ٹےنِک کی اندرونی  آرائش ، لندن کے رِٹز ہوٹل کے انداز میں کی گئی  جو نہایت دیدہ زیب اور آرام دہ تھی ۔
  12 ہزار دو سو فیٹ  گہرے سمندر کی تہہ میں غرقاب ہونے والے  ٹائی ٹےنِک کے ڈھانچے کو ڈھونڈا ، بہت مشکل کام تھا ، جسے 1985 نے نیو فاونڈ لینڈ  کے ساحل سے دور ڈاکٹر رابرٹ بالرڈ  نے کھوجا ۔
 اگر آپ سمندر کی تہہ میں پڑے ٹائی ٹے نک  کی باقیات کو دیکھنے کے شوقین ہیں  تو آپ کو 59 ہزار ڈالر خرچ کرنا پڑیں گے ، تو " گہرے سمندر کی مہم جو "  نامی پرائیویٹ کمپنی  آپ کی مدد کرے گی۔
 کلائیو پالمر نامی شخص نے ٹائی ٹے نَک کی ہوبہو نقل  ٹائی ٹے نَک  -2  نامی بحری جہاز بنانے کا اعلان کیا ہے ۔ کیا آپ مسافر بننا چاہیں گے ؟
بہرحال  ڈوبنے والے ،
ٹائی ٹے نَک کے فرسٹ کلاس کے مسافروں میں اُس وقت کے امیر ترین افراد سر فہرست تھے ۔

 جا ن جیکب آسٹر -5 ، جس کی دولت کا اندازہ  85 ملئین ڈالر، یعنی 2 بلئین ماڈرن ڈالرز  تھا ۔ جس نے اپنی زندگی پر اپنی حاملہ بیوی کو ترجیح دی ، اُسے کشتی میں بٹھا کر خود کو جہاز کے ساتھ ڈبو دیا ۔اُس کے بیوی ، بچانے والے جہاز  کی مدد سے  ساحل پر پہنچنے والوں میں شامل تھی ۔

 برطانیہ کی بہت سی مشہور ہستیاں  جن میں  جے پی مورگن (جہاز کا مالک)   ،  مشہور ڈاکو بیرن ،  الفریڈ  گوائن وینڈر بِلٹ ، گُگلِلمو  مارکونی  جس نے ریڈیو ٹیلی گراف ایجاد کیا  اور مِلٹن ایس ھرشے  ، ھرشے چاکلیٹ کا بانی ۔ نے فرسٹ کلاس کے ٹکٹ خریدے  لیکن سفر کا ارادہ ملتوی کر دیا ۔

 جارج واشنگٹن وینڈر بِلٹ -2 اور وارثین نے جہاز پر سوار ہونے کا ارادہ کیا  لیکن جب ایک دوست نے ٹائی ٹے نِک بحری جہاز کی  خرابیوں کی طرف توجہ دلائی تو  وینڈر بِلٹ  نے اپنا ارادہ تبدیل کر دیا ۔ اور اپنی فیملی سمیت جہاز کے تاریخی سفر  سے پیچھے ہٹ گیا ۔
 مصنف  تھیوڈور ڈریزئر   نے بھی جہاز کا ٹکٹ خریدا ، لیک کسی وجوہ کی بناء پر سوار ہونے سے رہ گیا ، جہاز کے ڈوبنے کے بعد اُس نے  لکھا :
" نئے اور دیوقامت  بحری جہاز جیسے ٹائی ٹے نِک ، گہرے پانیوں میں ڈوب رہا تھا اور  دو ہزار مسافر  اپنے برتھ  سے چوہوں کی طرح چھلانگ مار کر بھاگے  اور سمندر میں بے یارو مددگار  ، چینختے چلاتے ، مدد کے لئے پکارے  میلوں لمبے سمندر میں ڈوب گئے !
 ہنری کلے فرِک   جو فولاد کی دنیا کا مقناطیس کہلاتا تھا،   نے بھی  اِس تاریخی سفر کا حصہ بننے کے لئے اپنا اور اپنی بیوی کا ٹکٹ خریدا تھا لیکن بیوی  کا ٹخنہ مُڑنے پر اُس نے سفر ملتوی کردیا ۔
گُگلِلمو  مارکونی  جس نے ریڈیو ٹیلی گراف ایجاد کیا    اور نوبل پرائز جیتا  ، نے بھی ٹکٹ خرید کر  اِ سفر کا حصہ بننا چاہا ۔ لیکن کیوں کہ قدرت نے اُس سے انسانی تاریخ کا بڑا کام لینا تھا۔ لہذا اُس نے اپنا ارادہ ملتوی کیا اور آر ایم ایس ۔ لوزی تانیہ  کے ذریعے سفر کرنے کاارادہ کیا  ۔
اعلی تزین و آرائش کا نمونہ   ، دنیا کا سب سے بڑا جہا ز ، 7 لاکھ پچاس ہزار ڈالر کی لاگت سے تیار کیا گیا -

جہاز  کے  لنگر کو تیار کرتے وقت دو ورکر ہلاک ہوئے اور اِس کھینچ کر جہاز پر لے جانے کے لئے 20 گھوڑے استعمال کئے گئے ۔
 ٹائی ٹے نَک ، نے جو مصیبت میں مدد کرنے کےسگنلز بھیجے وہ پاس سے گذرنے والے،  ایس ایس  کیلیفورنیا  نے وصول کئے۔ جس کی  زیادہ سے زیادہ رفتا ر 14 ناٹ یعنی 22 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی ، یہ روئی کی باربرداری کا جہاز تھا ، اِس پر 47 مسافر اور 55 عملے کے افراد سفر کرتے ، لمبائی 447 فیٹ تھی-


لیکن اُس نے اپنا سفر بوسٹن میسا چوسٹس  کی طرف جاری رکھا اور  ٹائی ٹے نَک کی مدد نہ کی ، جس پر بہت لے دے ہوئی ، اگر یہ ایس او ایس کے سگنلز سن کر ٹائی ٹے نِک کی مدد کو پہنچتا تو بہت سے افراد کو بچایا جاسکتا تھا ، کیوں کہ اِس کی وزن اٹھانے کی صلاحیت ، تین سال بعد دوسری جنگ عظیم میں  9 نومبر 1919  کو جرمن  آبدوز"یو -" 35  کے حملے میں،یونان کے پاس  خود کو ڈبو دیا  ۔
 ٹائی ٹے نِک کے سفر سے پہلے ، مسافروں کو  سیفٹی ریہرسل کے دوران  لائف بوٹ میں بیٹھنے کی مشق  14 اپریل کو کروانا تھی، اگر یہ کر لی جاتی تو جہاز پر موجود حفاطتی اقدامات کا پول کھل جاتا ۔اورسفر  کچھ عرصے کے لئے منسوخ ہوجاتا ۔لیکن چونکہ جہاز کو ہر حالت میں سفر کرنا تھا  ۔ لیکن  یہ    سیفٹی ریہرسل منسوخ کردی گئی۔


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کانسپیریسی تھیوری-ٹائی ٹے نِک ڈوبا یا ڈبویا گیا ؟ 






.

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔