میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 7 مارچ، 2018

تمھاری جنت تمہیں مبارک


اٹھارہ سال قبل میرا شوہر جہاد کے لئے افغانستان گیا تھا۔ پھر لوٹ کے نہیں آیا بس اتنا ہوا کہ محلے کے مولوی صاحب چند پڑوسیوں کے ساتھ آکر یہ اطلاع دے گئے  کہ تمھارے میاں نے تم لوگوں کے لئے جنت میں مکان تعمیر کر دیا ہے۔
" کیسا مکان ؟ کہاں ہے وہ۔۔؟  " میں نے سوال کیا
 وہ کافروں سے لڑتے ہوئے شہید ہوگیا مگر اس نے مرتے ہوئے بھی کئی کافر جہنم رسید کر دئیے تھے اس بات کا ہمیں فخر ہے۔
"ا چھا" میں اتنا کہہ سکی۔
پڑوسی آنے لگے۔۔ کوئی مبارک باد دیتا تو کوئی رو کر تسلی۔۔
مولوی صاحب کی بیوی بھی آئی کہنے لگی تم خوش قسمت ہو کہ تمھارے مرد نے تم لوگوں کے لیے جنت میں ٹھکانہ کر دیا ہے۔۔ میں خاموش رہی۔۔
" ٹھکانہ ۔۔۔؟ اور دنیا میں میری ذمہ داری؟ اپنے بچے کی زمہ داری ؟ اسک ا کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "
میں کم عمر تھی روایات کی پابند تھی۔۔
میں جس علاقے سے تھی وہاں کی عورت اپنے مرد سے کہیں زیادہ اپنی روایات کی پابند ہوتی ہے۔ میں بھی ان میں سے ایک تھی۔۔ 3 روز تک سب آتے رہے۔۔
" دور دراز " سے بھی لوگ ملنے آئے اور میرے شہید میاں کی بہادری کے قصے سناتے رہے۔ اور پھر سب لوگ چلے گئے۔۔ بچہ کیسے پالا یہ میں جانتی ہوں
نہ ہی مولوی صاحب جانتے تھے نہ ہی اسکی بیوی نہ ہی وہ لوگ جو " دور دراز " سے آئے تھے جنہوں نے میرے شوہر کی بہادری جواں مردی کے قصے مجھے سنائے وہ بھی نہیں جانتے کہ میں نے کیسے اور کہاں کہاں مزدوری کی۔ کسی نے میری مدد نہ کی۔۔ جوانی کی بیوہ اور ایک بیٹے کی ماں کیسے زندہ تھے ہم دونوں یہ خدا جانتا ہے۔۔ میرے شہید نے اچھا کام کیا ہوگا۔ جنت میں گیا ہوگا یہ تو اللہ کو معلوم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے واسطے جنت میں گھر بنایا ہوگا کہ نہیں۔۔
یہ بھی اللہ کو معلوم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر اس دنیا میں فی الحال ہمیں اکیلا چھوڑ گیا۔ انیس سالہ بیوہ اور ایک سال کا بیٹا۔ میں پڑھی لکھی نہیں تھی، مگر بچہ پڑھایا لکھایا جوان کیا۔ بچے نے بھی محنت کی مزدوری کی۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے یونیورسٹی میں پہنچ گیا ۔
آج پھر چند پڑوسی میرے دروزے پر آئے ہیں۔ مبارک باد دینے۔
کہنے لگے تمہارا بچہ بہادر تھا۔ اس نے یونیورسٹی کے کئی دوسرے بچوں کی اکیلے جان بچائی۔
غمگین مت ہو۔۔ رونا بھی نہیں، تم ایک شہید کی ماں ہو۔۔۔
میرے لال نے دس گولیاں کھائیں۔ مگر رب کو یہ ہی منظور تھا۔۔
پہلے شہید کی بیوہ اور اب شہید کی ماں وہ لوگ کون تھے؟
جنہوں نے میرے بچے کو ایسے مارا۔۔
کسی نے بتایا  وہ بھی مسلمان تھے، جہادی تھے ۔
کسی مدرسے تعلق رکھتے تھے۔۔
سارے ملک میں اسلام پھیلانا چاہتے تھے ۔ ۔ ۔
دو آدمی اُن کے بھی مارے گئے ۔ ۔ ۔
آج میں پھر سے بے سہارا ہوں اور اب یہ سوچ رہی ہوں کہ میرے شوہر نے کیا واقعی جنت میں گھر بنایا ؟؟
یا وہ لوگ جو میرے بچے کے قاتل ہیں ۔۔۔؟؟؟
مجھے ڈر ہے کہ میرے بچے کے قاتلوں کے گھر بھی کوئی گیا ہوگا۔۔۔۔
کسی نے انکی ماؤں کو، بیواؤں کو بھی کہا ہوگا کہ تمھارا شہید جنت میں گیا ہے۔ اور اس نے وہاں تم لوگوں کے لئے گھر بنایا ہے ۔۔۔۔۔
میرے ذہن میں کئی سوال ہیں۔۔۔
میں آج پھر سڑک کنارے اکیلی بیٹھی ہوں ۔۔۔
فرق صرف اتنا ہے کہ اٹھارہ انیس سال قبل ایک بچہ ساتھ تھا۔۔ آج وہ بھی نہیں ۔۔۔۔
کوئی مجھے بتاتا کیوں نہیں کہ میں کہاں جاؤں۔۔ ؟
میرا کوئی ٹھکانہ دنیا میں کیوں نہیں بنتا ؟؟
میں ہاتھ جوڑتی ہوں مجھ بیوہ کا ٹھکانہ دنیا میں بنا دو۔۔
مجھے تمھاری جنت سے غرض نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے سوال کا جواب دو ۔۔۔۔۔۔۔۔
تمھاری جنت تمہیں مبارک بس میرا ٹھکانہ مجھے دنیا میں بنا دو ۔۔۔۔ !
(نامعلوم)

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔