میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

اتوار، 29 اپریل، 2018

پروڈکٹ میعار پر پوری نہیں اتری !

 آج ایک اور  بیٹی میکے آگئی !
کیونکہ وہ جس گھر میں  وہ چاہتوں سے بیاہ کر گئی ، وہاں  اُن کو اس کی عادتیں پسند نہیں  آئیں ۔
 اُ س  کو کھانا بنانا نہیں آتا ،  اس کا دل ہر وقت میکے میں لگا رہتا ،  مہارانی ، روزانہ    صبح دیر سے اٹھتی تھی ۔
یہ شکایات ایک بیس سال کی لڑکی پر ایک پچپن سال کی ساس لگا رہی ہے!
کہ کیسی پھوہڑ کوبہو بنا  کر لائی !
یہ الزام ایک ساٹھ سال کا سسر لگا رہا ہے ، یہ الزام ایک تیس سال کا شوہر لگا رہا ہے ۔
بیس سال کی لڑکی کو اپنی عمر اپنے تجربے کے مینار پر کھڑے ہوکر پرکھتے ہیں ۔
ہمارے گھر ایسا نہیں ہوتا ، ویسا نہیں ہوتا ۔

بیس سال کی لڑکی جو اپنے باپ کے لاڈ میں پلی ہو ، جو اپنے بھائیوں کے ہاتھ کا چھالا ہو ، ماں کا آنچل چھوڑے کچھ سال ہی ہوئے ہوں ، یہاں تک کہ پڑوس والے چاچا تک ٹوٹ کر چاہتے ہوں۔
وہ ایک گھر سے دوسرے گھر میں آئی ہے جو اُس کے لئے مکمل اجنبی ہے ۔  نہ ماں کی گود ہے اور نہ باپ کا شفقت بھرا ہاتھ ، نہ بہنوں کی ہمدردی ، سب یہ سمجھ رہے ہیں کہ اُن کے بھائی کے ساتھ ڈولہ میں بیٹھ کر آنے والی اپنا   دولہن کا جوڑا اتارے گی اور کمر پر دوپٹہ لگ کر اُن کے صاف ستھرے گھر کی دوبارہ صفائی شروع کر دے گی ۔
ابھی تو اُس کا مکمل تعارف ہی نہیں ہوا ،  سب اُسے بیٹے  کی بیوی سمجھ رہے ہیں ، بہو کی جگہ تو اُسے ملی ہی نہیں ۔نندوں نے  بھابی کا مان ہی نہیں دیا ۔
بس یہی سمجھا کہ  ایک ایک مکمل تربیت یافتہ  روبوٹ اُن کے گھر کا حصہ بن گئی ہے ۔
جو  ایک کمپنی پروڈکٹ ہے ،

 مکمل وارنٹی و گارنٹی کے ساتھ !
ایک مکمل پیکیج !

 جس میں تمام صفت موجود ہو اور ایسے موجود ہو جس کو بٹن دباؤ اور سو فیصد درست فنکشن ہو!
 30دن میں  میعار پر پورا نہیں اتری ، مینوفیکچرر کو  سیکیورٹی ضبط کرنے کے بعد ،ا ستعمال شدہ  پروڈکٹ واپس کردی۔

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

1857 کا ذکر ہے !

جنگِ آزادی  کو مکمل کچلنے کے بعد ، ایسٹ انڈیا کمپنی  کے فوجیوں نے ، جون 1857 کو ملتان چھاونی میں پلاٹون نمبردس کو بغاوت کے شبہ  میں نہتہ کیا گیا اور پلاٹون کمانڈر کو بمعہ دس سپاہیوں کے توپ کے آگے رکھ کر اڑا دیا گیا۔ 
آخر جون میں بقیہ نہتی پلاٹون کو شبہ ہوا کہ انہیں چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں فارغ کیا جائے گا اور انہیں تھوڑا تھوڑا کرکے قتل کر دیا  جائے گا۔
 سپاہیوں نے انگریز راج  کی اِس سازش کے خلاف ،  بغاوت کر دی تقریبا بارہ سو سپاہیوں نے، ظالم حاکموں کے خلاف   جہاد کا علم بلند کیا ا۔ اور انگریز کی نوکری چھوڑ کر   ، قلعے سے نہتے نکل گئے ، ملتان شہر سے گذر کر پنجاب کی طرف جانے والوں مقبرہ بہاؤ الدین زکریا  م کے پاس اِن نہتے  مجاہدین کو شہر اور چھاونی کے درمیان واقع پل شوالہ پر دربار بہا الدین زکریا کے سجادہ نشین مخدوم شاہ محمود قریشی نے انگریزی فوج کی قیادت میں اپنے مریدوں کے ہمراہ گھیرے میں لے لیا اور تین سو کے لگ بھگ نہتے مجاہدین کو شہید کر دیا۔ 
یہ مخدوم شاہ محمود قریشی ہمارے سابقہ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کے لکڑدادا تھے اور ان کا نام انہی کے حوالے سے رکھا گیا تھا۔
مظفر گڑھ کی طرف جانے والے  کچھ  مجاہدین  دریائے چناب کے کنارے تقریبا 10کلومیٹر دور ،   شیر شاہ کے علاقے میں دربار شیر شاہ کے سجادہ نشین مخدوم شاہ علی محمد نے اپنے مریدوں کے ہمراہ گھیر لیا اور ان کا قتل عام کیا مجاہدین نے اس قتل عام سے بچنے کے لئے دریا میں چھلانگیں لگا دیں کچھ لوگ دریا میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے اور کچھ  مجاہدین پار پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ 
بچ کر نکلنے والوں کو، 60 میل جنوب میں جلال پور کے علاقے میں ،   سید سلطان احمد قتال بخاری کے سجادہ نشین دیوان آف جلالپور پیر والہ نے اپنے مریدوں کی مدد سے شہید کر دیا۔ جلالپور پیر والہ کے موجودہ ایم این اے دیوان عاشق بخاری انہی کی نسل میں سے ہے۔
 مجاہدین کی ایک ٹولی  ملتان سے شمال میں 50میل دور  حویلی کو رنگا کی طرف نکل گئی جسے مہر شاہ آف حویلی کو رنگا نے اپنے مریدوں اور لنگڑیال ، ہراج ، سرگانہ، ترگڑ سرداروں کے ہمراہ گھیر لیا اور چن چن کر شہید کیا ۔
تحریکِ آزادی :
میرٹھ سے  شرع ہونے والی 1857 کی تحریک ، بالآخر  حویلی کورنگا  کے مقام پر ختم ہو گئی ۔
حویلی کو رنگا کے معرکے میں بظاہر سارے مجاہدین مارے گئے مگر علاقے میں آزادی کی شمع روشن کر گئے۔ حویلی کو رنگا کی لڑائی کے نتیجے میں جگہ جگہ انگریز راج کے خلاف آزادی  کی تحریک  شروع ہو گئی ۔ 
 حویلی کو رنگا، قتال پور سے لیکر ساہیوال بلکہ اوکاڑہ تک کا علاقہ خصوصا دریائے راوی کے کنارے بسنے والے مقامی سرائیکیوں کی ایک بڑی تعداد اس تحریک آزادی میں شامل ہو گئی ۔
 اس علاقے میں اس آزادی  کا سرخیل رائے احمد خان کھرل تھا ، جو  اوکاڑہ سے سمندری کے درمیان ، گو گیرہ کے نواحی قصبہ جھامرہ کا بڑا زمیندار اور کھرل قبیلے کا سردار تھا ۔ احمد خان کھرل کے ہمراہ مراد فتیانہ سیال ،احمد سیال ، شجاع بھدرو، موکھا وہنی وال اور سارنگ جیسے مقامی سردار اور زمیندار تھے ۔
 مورخہ 16ستمبر 1857 کو رات گیارہ بجے سرفراز کھرل نے ڈپٹی کمشنر ساہیوال بمقام گوگیرہ کو احمد خان کھرل کی مخبری کی مورخہ اکیس ستمبر 1857کو راوی کے کنارے ”دلے دی ڈل“ میں اسی سال احمد خان کھرل پر جب حملہ ہوا تو وہ عصر کی نماز پڑھ رہا تھا۔ 
اس حملے میں انگریزی فوج کے ہمراہ مخدوموں ، سیدوں ، سجادہ نشینوں اور دیوانوں کی ایک فوج ظفر موج تھی جس میں :
1- دربار سید یوسف گردیز کا سجادہ نشین سید مراد شاہ گردیزی ۔

2- دربار بہا الدین زکریا کا سجادہ نشین مخدوم شاہ محمود قریشی ، 
3- دربار فرید الدین گنج شکر کا گدی نشین مخدوم آف پاکپتن ، 
4- مراد شاہ آف ڈولا بالا،-
5-سردار شاہ آف کھنڈا ٓ
6- گلاب علی چشتی آف ٹبی لال بیگ 
7-  کئی مخدوم  وسجادہ نشین شامل تھے۔
 احمد خان کھرل اور سارنگ شہید ہو ئے ۔ انگریز احمد خان کھرل کا سر کاٹ کر اپنے ہمراہ لے گئے ۔ احمد خان کھرل کے قصبہ جھامرہ کو پیوند خاک کرنے کے بعد آگ لگا دی گئی ۔ فصلیں جلا کر راکھ کر دی گئیں۔ تمام مال مویشی ضبط کر لیے گئے دیگر سرداروں کو سزا کے طور پر   کالا پانی بھجوادیا گیا۔ اس طرح اس علاقے کی تحریک آزادی مخدوموں ، سرداروں، وڈیروں اور گدی نشینوں کی مدد سے دبادی گئی۔ اس کے بعد دریائے راوی کے کنارے اس علاقے کے بارے میں راوی چین لکھتا ہے۔ 
انگریز کے نمک خواروں اور کاسہ لیسوں کو ملکہ ءِ برطانیہ کی طرف سے مراعات ۔
 1- مہر شاہ آف حویلی کو رنگا سید فخر امام کے پڑدادا کا سگا بھائی تھا۔ اسے اس قتل عام میں فی مجاہد شہید کرنے پر بیس روپے نقد یا ایک مربع اراضی عطا کی گی۔
 2- مخدوم شاہ محمود قریشی کو 1857 کی جنگ آزادی کے کچلنے میں انگریزوں کی مدد کے عوض مبلغ تین ہزار روپے نقد، جاگیرسالانہ معاوضہ مبلغ ایک ہزار سات سو اسی روپے اور آٹھ چاہات جن کی سالانہ جمع ساڑھے پانچ سو روپے تھی بطور معافی دوام عطا ہوئی مزید یہ کہ 1860 میں وائسرائے ہندنے بیگی والا باغ عطا کیا۔
 3- مخدوم آف شیر شاہ مخدوم شاہ علی محمد کو دریائے چناب کے کنارے مجاہدین کو شہید کرنے کے عوض وسیع جاگیر عطا کی گئی۔
4- تمام 
مخادیم وسجادہ نشینوں کو اُن کے کالے کارناموں  کی بیاد پر جگیریں اور مراعات دی گئیں ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



جمعہ، 13 اپریل، 2018

شعور سے تحت الشعور میں چھلانگ



 کل بہت سے پرانی تصاویر کے ساتھ یہ تصویر بھی وٹس ایپ ہوئی -
تصویر نے کسی ماہر غوطہ خور کی طرح  شعور سے تحت الشعور کی تاریک گہرائیوں میں چھلانگ لگائی  ۔
اور گوگل کی طرح ، اِس سے ملتی جلتی تصویر نکال لائی ۔جو  قبل از  60 کی دھائی میں بالکل اِسی طرح  سبق حفظ کرنے   کی یاد    کی اِس بوڑھے کی تھی ، بس فرق یہ ہے کہ اُس وقت مُرغا بنے اِن بچوں کے سامنے  کتاب نہیں ، بلکہ تختی  ہوتی تھی ۔ جس پر سبق ہوتا یا پھر  کوئی " رٹّو " بچہ پڑھتا اور ہم سب اُسے  روہانسی آواز میں دھراتے  جاتے ۔
یہ کچی پکی کا نہیں ، بلکہ پہلی  کلاس اور اُس کے بعد کا دور تھا ، کچی اور پکّی میں  تو ، نرسری یا کے جی ، کلاس کی طرح ، نہ کتاب  تھی اور نہ قاعدہ ، بس موجیں، ہی موجیں  تھیں ۔1959 کی سردیوں میں دھوپ میں سورج  تلے   زمین پر  اور گرمیوں میں ،  گورنمٹ برکی سکول  ، اے ایم سی سنٹر ایبٹ آباد کے ، گاڑیوں کے بڑے سے شیڈ   کے نیچے  بیٹھ کر کچی اور پکّی  ایک ساتھ پڑھی ۔
پھر ابّا کی ٹرانسفر    ، نوشہرہ ہو گئی ۔ دوبارہ پھر برکی سکول میں  1964 میں  چوتھی کلاس  میں واپسی ہوئی ۔






مضمون لکھا جا رہا ہے 

اعلیٰ ظرف اور کم ظرف !



 روح القدّس نے محمدﷺ کو اللہ کا پیغام دیا :

ضَرَبَ لَكُم مَّثَلًا مِّنْ أَنفُسِكُمْ ۖ هَل لَّكُم مِّن مَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم مِّن شُرَكَاءَ فِي مَا رَزَقْنَاكُمْ فَأَنتُمْ فِيهِ سَوَاءٌ تَخَافُونَهُمْ كَخِيفَتِكُمْ أَنفُسَكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ - ﴿30:28﴾ 
ا س (الکتاب) میں تمھیں سمجھانے کے لئے تم ہی میں سے مثال بیان کی ہے۔
کہ کیا تمھارے ماتحت اس رزق میں تمھارے برابر کے شریک ہیں جو ہم نے تم کو دیا ہے؟۔
جس طرح وہ تم سے ڈرتے ہیں کیا اسی طرح تم برابری میں ان سے بھی ڈرتے ہو؟
اس طرح ہم اپنی آیات عقل والوں کے لئے تفصیلاّ بیان کرتے ہیں ۔

شناختی نمبرسے آپ کی پہچان

صدرِ پاکستان نے ایک آرڈیننس کے ذریعے ، آپ کے شناختی  نمبر کو آپ کا انکم ٹیکس نمبر  بھی بنانے کا حکم دے دیا ہے ۔
اب آپ ، اپنی کوئی بھی رقم  بنک میں اس وقت جمع کروا سکیں گے جب آپ انکم ٹیکس میں بھی رجسٹر ہوں گے ۔
چنانچہ تمام بڑی رقم جمع کروانے والے ، خود کو بحیثیت انکم ٹیکس فائلر رجسٹر کروائیں ۔
حکومت کو چاہیئے کہ بجائے کوئی فارم جمع کروانے کے لئے  ، بذریعہ  موبائل ایس ایم ایس سے ،
1- فائلر کی رجسٹریشن کا انتظام کرے ،
2- ایف بی آر ، اِس طرح رجسٹر ہونے والے ، کو اپنے شناختی نمبر سے لاگن ہونے کے لئے ، پاس ورڈ بھجوائے ۔
3-بحیثیت انکم ٹیکس رجسٹر ہونے والا فرد ، ویب سائٹ پر لا اِن ہونے کے بعد اپنی معلومات اَپ ڈیٹ کرے ۔
4- تاکہ بحیثیت ایکٹیو انکم ٹیکس فائلر ،   قومی دھارے میں شامل ہوجائے ۔

 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


اتوار، 8 اپریل، 2018

تبلیغی لطائف ، ہنسنا منع نہیں !


❶  : ایک سید صاحب کا قصہ لکھا ہے کہ :
بارہ دن تک ایک ہی وضو سے ساری نمازیں پڑھیں اور پندرہ برس مسلسل لیٹنے کی نوبت نہیں آئی، کئی کئی دن ایسے گزر جاتے کہ کوئی چیز چکھنے کی نوبت نہ آتیں۔

(بحوالہ  📚فضائل اعمال ‘ فضائل نماز باب سوم صفحہ 360 )
کاکا نٹور لال سنگھ :  کیا بارہ دن ، پاد ،  ٹٹی اور  پیشاب روک رکھنا افضل اعمال میں سے  ہے ؟

 ❷ :امام ابو حنیفہ ،   وضو کا پانی گرتے ہوئے یہ محسوس فرما لیتے تھے کہ کونسا گناہ اس میں دھل رہا ہے۔
(📚فضائل اعمال ‘ فضائل نماز باب اول صفحہ 304 )
کاکا نٹور لال سنگھ :گناہوں کی روزانہ تعداد کیا ہو گی ؟  😜

❸ :  شیخ عبدالواحد مشہور صوفیا میں ہیں اُس نے خواب میں نہایت خوبصورت لڑکی دیکھی جس نے کہا ،

" میری طلب میں کوشش کر میں تیری طلب میں ہوں !"
تب اُس   نے چالیس برس تک صبح کی نماز عشا کے وضو سے پڑھی۔
(📚فضائل اعمال فضائل نماز صفحہ 356
کاکا نٹور لال سنگھ :کیا لڑکی مل گئی  ؟  😜
 
❹ :  حضرت زین العابدین روزانہ ایک ہزار رکعت پڑھتے تھے۔
(📚فضائل اعمال فضائل نماز باب سوم صفحہ 378 )

کاکا نٹور لال سنگھ :اور کوئی ریکارڈ ہولڈر ہے ؟ 
(پورے دن میں 1،440 منٹ ہوتے ہیں )

❺ :فضائل و اعمال کا مصنف  لکھتا ہے :
" میں نے اپنے والد صاحب سے بھی بار ہا سنا اور اپنے گھر کی بوڑھیوں سے بھی سنا ہے کہ میرےوالد صاحب کا جب دودھ چھڑایا گیا تو پاؤ پارہ حفظ ہو چکا تھا اور ساتویں برس کی عمر میں قرآن شریف پورا حفظ ہو چکا تھا اور وہ اپنے والد یعنی میرے دادا صاحب سے مخفی فارسی کا معتدبہ حصہ بوستان سکندر نامہ وغیرہ پڑھ چکے تھے ۔
(📚فضائل اعمال حکایات صحابہ باب یازدہم )

کاکا نٹور لال سنگھ :گینز بُک آف ریکارڈ میں درج ہونا چاھیئے ! 
❻ : ابو سنان کہتے ہیں ،
" خدا کی قسم ! میں ان لوگوں میں تھا جنہوں نے ثابت (ابوحنیفہ) کو دفن کیا دفن کرتے ہوئے لحد کی ایک اینٹ گر گئی تو میں نے دیکھاکہ وہ کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں " ۔
میں نے اپنے ساتھی سے کہا:
"دیکھو یہ کیا ہو رہاہے؟"
"اس نے مجھے کہا چپ ہو جا !"
(📚 فضائل اعما ل فضائل نماز باب سوم صفحہ 361 )
کاکا نٹور لال سنگھ :کمرہ نما قبر  بنائی جاسکتی ہے ، تاکہ مرنے کے بعد نماز پڑھنے کی سہولت ہو   ؟  

❼ : ابن الکاتب کا معمول تھا کہ روزانہ آٹھ قرآن شریف پڑھتے تھے.. 

(📚فضائل اعمال فضائل قرآن ‘ صفحہ 254)کاکا نٹور لال سنگھ : اس نے تو حد کر دی اس بزرگ کا نام تو گنیز بک آف ورلڈ رکارڈ میں لکھنا چاہیے ❗
اگر قرآن کا حافظ بھی بغیر وقفے کے قرآن پڑھے تو کم سے کم 7 گھنٹے میں قرآن مکمل کرے گا.
مگراب الکاتب  کے پاس معلوم  نہیں کونسی ٹیکنالوجی تھی؟


❽ :  ابن الجلاء نے بتایا ،"  میرے والد کا انتقال ہوا، انہیں نہلانے کے لیے تختہ پر رکھا تو وہ ہنسنے لگا، نہلانے والے چھوڑ کر چل دیے-"
(📚فضائل صدقات صفحہ 160)
کاکا نٹور لال سنگھ : گدگدی کریں گے تو مردے کی بھی ہنسی چھوٹ جاتی ہے ۔
 
❾: ابو بکر بن عیاش چالیس برس تک بستر پر نہیں لیٹے..!!
(📚فضائل صدقات صفحہ 591 )
کاکا نٹور لال سنگھ :  زمین پر تو بندہ لیٹ سکتا  ہے نا !

(بشکریہ : ناصر چوہدری)


اتوار، 1 اپریل، 2018

ملالہ کی "اصل کہانی"

 ملالہ یوسف زئی کا تعلق نہ تو سوات سے ہے اور نہ ہی وہ پشتون ہے۔
یہ کہانی ملالہ کے بچپن سے شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے والد کے ہمراہ کان کے درد کا علاج کرانے سوات کے ایک نجی اسپتال گئی۔ ڈاکٹر امتیاز خان زئی سوات کے معروف ماہر امراض کان ہیں ، انہوں نے ملالہ کے کان کے میل یعنی ویکس کو بطور نمونہ لیا اوربہترین ادویات کے ساتھ روانہ کردیا،کچھ دنوں بعد ملالہ کے کان کی تکلیف تودورہو گئی لیکن یہ تکلیف بہت سارے راز افشا کر گئی-
ستمبر 2012ء میں ملالہ پر طالبان کے حملے کے واقعے کے بعد میڈیا پر شدید واویلے نے ڈاکٹر امتیاز خان زئی کو سوچنے پر مجبور کر دیا کہ مغرب اس لڑکی کے لئے اتنا واویلا کیوں مچا رہا ہے ؟
ڈان کے آن لائن ایڈیشن کے مطابق ڈاکٹر خان زئی اپنے مریضوں کے کان کی میل یا ویکس کو بطور ڈی این اے سیمپل (DNA Sample)سنبھال کر رکھنے کے عادی تھے ( اُن کی لیبارٹری میں غالباً سب مریضوں کے لاکھوں نہیں تو ہزاروں  نمونے موجود ہوں گے )۔

انہوں نے انتہائی احتیاط کے ساتھ ملالہ کے ڈی این اے سیمپل پر کام کرنا شروع کر دیا ، اس ڈی این اے کی تحقیق کے بعد جو نتائج ڈاکٹر خان زئی کے سامنے آئے وہ انتہائی ہوشربا تھے ۔ڈاکٹر امتیازخان زئی کا دعوی تھا کہ ملالہ یوسفزئی کا تعلق خیبرپختونخوا سے نہیں بلکہ ڈی این اے کے مطابق وہ Caucasianیعنی قوقازی یعنی  کاکیشیائی  باشندہ  تھی (اب پاکستانی  بلکہ انگلستانی ہے )   اور غالب امکان یہ کہ ایسی نسل کے باشندے پولینڈ میں پائے جاتے ہیں۔
(قفقازی نسل Caucasian race جو تاریخی طور پر  نسلِ انسانی کے کرہ ارض پر  ہجرت  کے باعث ،  یورپ، شمالی افریقہ، قرن افریقہ، مغربی ایشیاء، وسطی ایشیاء اور جنوبی ایشیاء کی آبادی پر مشتمل سمجھی جاتی ہے)

ڈاکٹر ڈاکٹر امتیازخان زئی، نے اپنی تحقیقات کو بار بار دہرایا اور بالآخر اس نتیجے پر پہنچے کہ،
ملالہ کا تعلق مینگورہ یعنی سوات سے نہیں بلکہ پولینڈ سے ہے۔ تمام تحقیق کرنے کے بعد
ڈاکٹر امتیازخان زئی نے ملالہ کے والد کو اپنے کلینک بلایا اور کہا :

"میں جانتا ہوں کہ ملالہ کون ہے ؟"
ملالہ کے والد ضیاء الدین یوسف زئی  بات سن کر سٹپٹا گئے۔
ڈاکٹر امتیاز خان زئی نے ملالہ کے کان کے درد سے لے کر ویکس یعنی ڈی این اے سنبھالنے تک کے تمام واقعات ان کے گوش گزار کر دئیے ، ملالہ کے والد ضیاء الدین یوسف زئی پہلے پہل تو ادھر اُدھر کی ہانکتے رہے بعدازاں منت سماجت پراتر آئے اور معاملے کو دبانے کا مطالبہ کیا۔ڈاکٹر خان زئی نے اس شرط پر خاموشی کا وعدہ کیا کہ اگر وہ ملالہ کے بارے میں سب کچھ سچ سچ بتائیں گے تو ہی بات کو صیغہ ء راز میں رکھا جائے گا ۔

ملالہ کے وا لد ضیاء الدین یوسف زئی نے بیان کرنا شروع کیا ،
" ملا لہ یوسف زئی کا اصل نام ’جین‘ (JANE)ہے اور وہ یکم  اکتوبر  1997 ء میں  بڈا پسٹ ہنگری میں پیدا ہوئی ، جین کے اصل ماں باپ پولینڈ سے ہیں جو عیسائی مشنری سے وابستہ ہیں ، میں عیسائی مشنری کے حسنِ سلوک  (ڈالروں کی صورت میں )  کی وجہ سے  اسلام چھوڑ کر عیسائی بن گیا تھا   اور 2002 ء میں سوات کے سفر کے دوران وہ اپنی پانچ سالہ  بچی  جین کو  میرے پاس  چھوڑ گئے، (پولش سفارت خانے والے تو اِس گھناونی سازش  کے بارے میں  جانتے تھے  لیکن  ، پاکستانی  ایمبارکیشن، ایف آئی اے ، والے تو  کاٹھ کے اُلو ہیں!!!)  ۔ " جب روزنامہ ڈان کے نمائندگان نے ڈاکٹر امتیازخان زئی سے یہ سوال کیا کہ وہ اس حقیقت سے اتنے عرصے بعد پردہ کیوں اٹھا رہے ہیں؟
تو 
ڈاکٹر امتیازخان زئی  نے دائیں بائیں دیکھتے ہوئے  کہا :" مجھے  لگتا ہے کہ ملالہ کا واقعہ پاکستان مخالف عناصر کی سوچی سمجھی سازش ہے اور جب کہ انہیں معلوم ہو چکا ہے کہ حقائق کیا ہیں تو وہ اس بات سے پردہ اٹھا رہے ہیں؟"جب روزنامہ ڈان کے نمائندگان  کے منہ کھل گئے  جب  ڈاکٹر ڈاکٹر امتیازخان زئی    نے اُن کے سر پر یہ کہہ کر دھماکا کیا :
" ملالہ یوسف زئی کو گولی مارنے والے کا ڈی این اے ویکس سیمپل بھی ان کے پاس موجود ہے اور ان کی تحقیق کے مطابق ملالہ کو گولی مارنے والا پشتون نہیں بلکہ اس کا تعلق اٹلی سے ہے۔ یہ طالبان نہیں  بلکہ بلیک واٹر کی کاروائی تھی
ڈاکٹر
ڈاکٹر امتیازخان زئی   نے مزید ڈان کے نمائندوں کو بتایا ،
" اس نے اس سارے واقعے اور اس تفصیلی تحقیق سے متعلق پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ایک آفیسر کو ای میل کی اور ملالہ کے والد اور ملالہ کی اصلیت سے آگاہ کیا، کچھ دن بعد جب وہ سعودی عرب میں سعودی شاہی خاندان کے کانوں سے میل یعنی ویکس کے نمونے لینے کے لئے سعودیہ میں مقیم تھے تو ان کی غیر موجودگی میں پولیس نے سوات میں واقع ان کے نجی کلینک پر چھاپہ مارا اور کلینک کے عملے کوویکس نمونوں کی حوالگی سے متعلق ہراساں کیا ۔سعودیہ سے واپس آنے کے بعد پاکستانی خفیہ ایجنسی،
آئی ایس آئی   کے آفیسر نے ڈاکٹر زئی کے کلینک کا دورہ کیا اور پولیس ریڈ سے متعلق معذرت خواہانہ لہجہ اپناتے ہوئے کہا کہ
٭- انہیں علم ہے کہ’ ملالہ شوٹنگ ‘سے جڑے اصل حقائق کیا ہیں؟
٭-  پاک فوج اس بات سے باخبر ہے کہ ملالہ درحقیقت کون ہے؟"
معتبر روزنامے کے نمائندگان کی جانب سے شدید اصرار پر ڈاکٹر امتیاز خان زئی نے انہیں خفیہ ایجنسی کے آفیسر کا نمبر دے دیا ۔
کئی دنوں کی تگ و دو کے بعد "ماسٹر ایکس "  نامی ایجنٹ نے اسپائیڈر مین کے ماسک میں رپورٹرز سے ملنے پر رضا مندی ظاہر کردی ۔جس کی تصویر ڈان لیکس کے  شاطر نمائندے نے اپنی عینک  کے گوشےپر لگے  ، خفیہ کیمرے سے موقع ملتے ہی کھینچ لی ۔ تاکہ ثبوت رہے اور وقتِ ضرورت کام آوے ؛


 محب وطن پاکستانی ایجنٹ ، ماسٹر ایکس  نے ڈان کے نمائیندے کو  اپنے آفس میں بتایا ،
" ملالہ یوسف زئی پر حملے کا واقعہ ایک ڈرامہ تھا ۔جس میں پاک فوج نے " الفاء برے و اور چارلی " کی طرح پورا ساتھ دیا ،  جس کا مقصد وزیر ستان میں پاک فوج کی پیش قدمی اور افغانستان میں امریکہ کی مداخلت کے لئے راہ ہموار کرنا تھا، " 

ماسٹر ایکس  نے  بتایا :
آپ کی معلومات درست ہیں ، ملالہ  یکم  اکتوبر  1997 ء میں  بڈا پسٹ ہنگری میں پیدا ہوئی ، جین کے اصل ماں باپ پولینڈ سے ہیں  اور عیسائیت پھیلانے کے مشن پر اپنے آپ کو وقف کر چکے ہیں ، لیکن وہ پادری یا نن نہیں ، 4 اکتوبر 2002 میں اُنہیں سی آئی اے نے سوات میں مشن کے لئے ریکروٹ کیا۔  7 اکتوبر 2003 میں وہ دونوں پاکستان ایک این جی او کے نمائندے بن کر پاکستان آئے ، جن کا مشن سواتی لڑکیوں اور عورتوں کو مغربی تعلیم سے روشناس کروانا ہے ۔ اُن کا تعارف ، نچلے درجے کے آئی ایس آئی ایجنٹوں سے کروایا گیا ، جو اُنہیں طالبانی علاقے سے گذار کر سوات لے گئے ، جہاں اُن کی ملاقات ، سوات میں عیسائی مشن نے ، ضیاء الدین یوسف زئی سے کروائی گئی  ۔ ضیاء الدین یوسف زئی نے جین کو بیٹی بنا کر ،   اپنی گود میں لے لیا اور اُس کے تمام کاغذات تیار کروائے گئے ، فارم ب میں نام لکھوایا گیا۔ اور سوات کے سکول میں داخل کروادیا گیا ۔ حیرت کی بات کہ  پانچ سالہ  جین ۔ انگریزی ، اردو  اور پشتو زبانیں روانی سے بولتی تھی ۔
30 اکتوبر 2007 میں ، انٹرنیٹ پر ، 11 سال کی عمر میں  ، پہلا بلاگ لکھا ،
21 اکتوبر 2011 میں ، طالبان نے ملالہ کو نصیحت کی کہ وہ اُن کے خلاف لکھنا بند کر دے اور اپنے سکول کا کام کرنے پر زور دے ۔
 پھر  10 اکتوبر 2012 میں بی بی سی    اردو نے ، اُس کے انگریزی میں لکھے گئے بلاگ   "11 سالہ  پاکستانی سکول لڑکی کی ڈائری" کو ساری دنیا  میں مشہور  کروایا ۔
7 اکتوبر 2012 میں  ، ملالہ اور اُس کے والدین کو  ، شوٹنگ کی پوری تفصیل بتائی گئی ۔9 اکتوبر 2012 کو   ،یہ ڈرامہ  سکول سے گھر جانے والے راستے میں  کیا  گیا اور ملالہ پر اتنی مہارت سے گولی چلائی گئی کہ اُسے زیادہ نقصان نہ ہو ۔
 ماسٹر ایکس  نے ڈان کے نمائیندے کو مزید کہا ،
" میں آپ سے ملنے کے بعد ، اِس آفس سے چلا جاؤں گا ، اور کبھی نہیں ملوں گا "
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یہ ہم نہیں کہہ رہے بلکہ پاکستان کے معتبر اخبار کے تحقیقی صحافیوں کی کہنہ مشق ٹیم کی چند ماہ پر مبنی تحقیق کا خلاصہ ہے۔
٭٭٭٭٭اگلا مضمون  ٭٭٭٭٭٭
 

ملالہ سواتی نہیں پولش ہے !

" Malala’s father told the doctor that Malala’s real name was Jane and she was born in Hungary in 1997. Her real biological parents were Christian missionaries who, after traveling to Swat in 2002, left Malala as a gift to her adopted parents after they secretly converted to Christianity."
(Updated October 10, 2013)
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پاکستان  میں  جاسوسی کہانیوں میں سب سے زیادہ  نام ابنِ صفی نے کمایا (پیسہ نہیں) ۔ ابنِ صفی کے تخیل کی پرواز  کمال کی تھی ۔  جو  تصوّر  اُس نے پیش کیا وہ سب آج کل کی ہالی وُڈ کی فلموں میں ہم دیکھتے ہیں ۔
بالا کہانی جب   " فیس بُک پر پھیلائی گئی  " تو اُس وقت بھی یہ سنسنی خیز نہیں البتہ مزاحیہ فِکشن کا جھول زدہ ٹکڑا لگتی تھی ، کیوں کہ      مئی 2011 میں اسامہ بن لادن کی  ایبٹ آباد میں  ڈی این اے     سے شناخت کی کہانی اتنی مقبول ہوئی  کہ  سنسنی پھیلانے والوں نے سب سے پہلے اپنا ڈی این اے ٹیسٹ پاکستان میں کروانے کے بجائے  دوسروں کی کھوج لگانا شروع کردی ۔

پاکستان میں کمبائینڈ میڈکل ہسپتال ، پاکستان کا سب سے بہترین اور جدید ہسپتالوں میں شمار ہوتا ہے ، جہاں 10 فیصد مریضوں کا سائیٹیفک طریقوں پر علاج ہوتا ہے ، اور باقیوں کا عام مروجہ طریقوں سے ۔ جنھیں عمومی بیماریاں ہوتی ہیں ۔ وہاں بھی کوئی ڈاکٹر ایک عام بچی تو کیا کسی جنرل کا ڈی این اے بھی ریکارڈ میں نہیں رکھتا ۔ اب(2018) رکھنا شروع ہوں تو معلوم نہیں ۔ سوات کا یہ ڈاکٹر یقیناً خود سی آئی اے کا ایجنٹ لگتا ہے ، جس نے سوات کے ہر بچے خصوصا لڑکیوں کا ڈی این اے محفوظ کر رکھا ہے ۔ انٹیلیجنس اداروں کو اِس پر توجہ دینا چاہئیے ۔ 
فیس بُک پر پھیلنے والی اِس کہانی کو میں مزاح سمجھا ، لیکن جب یہ مزاح ہوبہو ایک ڈیفنس  بلاگ  میں Malala: The real story (with evidence)  کی ہیڈنگ  میں سیکنڈ لیفٹنٹ  کی طرف سے پوسٹ ماسٹر کے فرائض نبھاتے ہوئے ہو بہو   چھپا  ، لہذا  ایک سابقہ فوجی نے ،اِس پر یقین کامل کرتے ہوئے ، یہ کہانی جنگل کی آگ کی طرح پھیلا دی ، اِس کے باوجود  کہ،   اُس کے لیڈر نے ( ملالہ کے ڈالروں پرنظر رکھتے ہوئے ) وزیر اعظم بننے کے بعد (اگر بنا تو ؟؟؟؟)  ملالہ کو وزیر تعلیم بنانے کے لئے سوات سے ووٹ لینے کے لئے تُّرپ کا پتہ پھینک دیا ہے  ۔
بالا کہانی کیوں کہ انگلش میں ہے ، لہذا ایک بار پھر ، اِس کا ترجمہ " فیس بک " پر اسلامو فاشسٹ  اور ملائی ذہنیت کے نوجوانوں میں ، گالیوں  کی صورت میں مقبولیت کی انتہائی بلند  سطح  کے گراف پر جاچکا ہے ۔
آپ بھی پڑھیں  اور اپنی رائے کا اظہار کریں ۔  (مہاجرزادہ)

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کیا آپ کو معلوم ہے کہ ملالہ کا اصلی نام کیا ہے ؟
 اس کا تعلق کس ملک سے ہے؟
یقیناًآپ یہ سوال پو چھنے والے کو پاگل سمجھیں گے لیکن حقائق درحقیقت کچھ ایسے ہی ہیں۔ نتائج تو خطرناک ہونگے لیکن چلئے ان حقائق سے پردہ اٹھاتے ہیں۔
اپریل 2013 ء میں پاکستان کے معتبر اخبار ’ڈان ‘نے اپنے کہنہ مشق تحقیقی صحافیوں کی ایک ٹیم کووادی سوات روانہ کیا تاکہ اس معاملے کی کھوج لگائی جاسکے کہ:
٭۔   ملالہ یوسف زئی پر حملے کے محرکات کیا تھے؟
 ٭- طالبان کو ملالہ سے ایسی کیا نفرت تھی جس کے نتیجے میں ایک چودہ سالہ لڑکی کو براہ راست اس کی کھوپڑی میں گولیاں ماردی گئیں؟

 
  چند افراد پر مشتمل یہ ٹیم کم وبیش پانچ ماہ تک مینگورہ اور سوات میں قیام پذیر رہی اور انہوں نے اپنے اس تحقیقی سفر کے دوران انکشافات سے بھرپور ایسے شواہد اکٹھے کئے جسے سن کریقیناًآپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 تو قارئین : کھڑے کریں اپنے رونگٹے  ! 
اور پڑھیں :


   " ملالہ کی اصل کہانی" 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔