میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

اتوار، 29 اپریل، 2018

دُبئی چلو !

 چم چم کے امتحان شروع ہونے سے پہلے ، چم چم کو یہ پریشانی ستانے لگی کہ وہ   ، اِس دفعہ دُبئی جائے گی کیوں کہ وہ بابا کے ساتھ دُبئی گئی تو زیادہ نہیں گھومی تھی۔ کافی چیزیں دیکھنے سے رہ گئیں تھیں ۔ 
لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اُس کی ماما   رمضان میں پاکستان  افطاری کھانے آنا  چاہتی تھی اور واپسی پر  وہ چم چم کو اپنی ساتھ لے جاتی ، یوں چم چم دُبئی دیکھنے سے رہ جاتی ۔  چم چم کی ماما نے اُسے کہا کہ اگر  سب یعنی   برفی اور اُس کی ماما  و بابا ،  عوّا (خالہ )،  نانو اور آوا   سب ملک کر دُبئی آئیں۔ تو وہ دُبئی 15 دن کی چھٹی لے کر آسکتی ہے ۔
کافی سوچ و بچار   کے بعد  برفی کے ماما اور بابا  چھٹی نہ ملنے کی وجہ سے رہ گئے ، یوں   20 اپریل 2018 کو یہ قافلہ     10:30 پر اسلام آباد ائر پورٹ   چکلالہ پہنچ گیا ۔
ایمبارکیشن کے بعد  وی آئی پی  لاونج میں پہنچے ، اور چم چم کو بھوک لگ گئی کیوں کہ دُبئی جانے کی خوشی میں اُس نے ناشتہ نہیں کیا  اور یہ فیصلہ کیا کہ وہ ماما کے ساتھ دُبئی میں ناشتہ کرے گی خوشی میں وہ یہ بھول گئی کہ نانو کے گھر سے دُبئی ائرپورٹ پہنچنے میں کم از کم  8 گھنٹے لگیں گے ۔ جن میں ساڑھے تین گھنٹے تو جہاز میں بیٹھنے تک لگیں گے ۔ 
چم چم    وی آئی پی لاونج میں پہنچتے ہی اپنا بیگ رکھ کر کھانے کے کاونٹر کی طرف بڑھی ، اپنی پلیٹ میں  دو پیٹیز ڈالیں اورنانو کے پاس آکر بیٹھ گئی ۔ 
 کافی دیر نانو اور خالہ کے پاس  بیٹھ کر پلان بناتی رہی کہ   دُبئی میں سب سے پہلے کیا دیکھا جائے گا ؟   پھر بور ہو کر بوڑھے کے پاس آکر بیٹھ گئی ،۔
" آوا ، ہم جہاز میں کب بیٹھیں گے ؟ " سوال کیا ۔
" تقریباً آدھے گھنٹے کے بعد کیوں کہ جہاز نے 1:30 پر فلائی کرنا ہے" ۔بوڑھے نے جواب دیا ۔

 12:00 اعلان ہوا ، کہ  فلائیٹ نمبر پی اے -210 سے دُبئی جانے والے مسافر   جہاز میں بیٹھنے  کے لئے تیار ہوجائیں ،
چم چم نے خوشی سے ایک نعرہ مارا اور اپنا  ٹیڈی بیئر " پنک لینا " لے کر بیگ سنبھالنے کے لئے دوڑی  اور سب سے پہلے لاونج سے نکلی ۔ ہم چاروں پسنجر  ٹرانسفر بس میں بیٹھ کر جہاز میں جابیٹھے ۔  چم چم اپنی خالہ کے ساتھ کھڑکی کے ساتھ بیٹھی تیسری سیٹ پر بڑھیا اور راستے کے بعد چوتھی سیٹ پر بوڑھے کو بٹھایا گیا ۔ 


  بڑھیا نے جہاز میں بیٹھتے ہی چم چم کو دعائے سفر پڑھنے کا کہا ۔
" نانو ، میں نے گھر سے چلتے وقت پڑھی تھی نا "  چم چم نے اعتراض کیا ۔
" وہ تو کار کے لئے تھی اب جہاز کے لئے پڑھو " چم چم کو فوراً اپنا ماما کے ساتھ دُبئی کا سفر یاد آگیا  ، جب اُس نے پوچھا ،

" ماما ، کیا یہ جہاز گر سکتا ہے ؟ "
چم چم نے فوراً دُعائے سفر پڑھی اور بوڑھے کو بھی کہا کہ وہ بھی دعائے سفر پڑھے ۔جہاز اُڑتے ہی چم چم کو فوراً نیند آنے لگی اُس نے خالہ کی گود میں سر رکھا اور نانو کی گود میں پیر اور آرام سے آنکھیں بند کر کے نیند کی وادیوں سے  گذرتے ہوئے ماما کے پاس پہنچ گئی ۔ 
کھانا آیا تو چم چم کی آنکھ کھل گئی ، چم چم کی ماما ، ایسٹ تِمور سے وایا سنگا پور  2:00 بجے دُبئی پہنچ چکی تھی اور ائر پورٹ پر چم چم اور ہم سب کا انتظار کر رہی تھی ۔ 
 پاکستان کے وقت کے مطابق 5:00 بجے جہاز نے لینڈ کیا ، دُبئی پاکستان سے ایک گھنٹہ پیچھے ہے لہذا اپنی گھڑی اور موبائل کے وقت کو ایک گھنٹہ پیچھے کیا ۔ جہاز سے نکلے  تو  ، چم چم کی ماما کا میسج پڑھا کہ وہ ائرپورٹ کے اندر باہر نکلنے والے دروازے کے دائیں طرف کافی شاپ پر ہمارا انتظار کر رہی ہے ۔ اورارسلان  (بڑا بیٹا )  کار لئے باہر کھڑا ہے ۔

چم چم کی ماما نے ارسلان کو فون کیا ۔ اُس نے ہدایات دیں کہ پارکنگ میں آجائیں ۔
میں اور بڑھیا ، ارسلان کے ساتھ بیٹھے  ، چم چم ، اُس کی ماما اور خالہ   ٹیکسی میں بیٹھے ۔ ہم سب   مانچسٹر   اپارٹمنٹس  کے لئے روانہ ہوگئے ، جو جمیرہ  لیک ٹاورز کے علاقے میں واقع ہے  ۔ 

جس کی ساتویں منزل پر  ، لڈو اور چیکو کی ماما ہمارا انتظار کر رہی تھی ۔ جو ارسلان کے ساتھ فجیرہ کے ساتھ آئے تھے  ، جہاں وہ جاب کرتا ہے ، اور لڈو سکول میں پڑھتا ہے ۔
  ارسلان 2010 میں دبئی آیا تھا  جہاں اُس کو جاب ملی تھی  2017 میں وہ  دُبئی سے فجیرہ دوسری کمپنی میں آگیا ۔  لڈو اور چیکو دُبئی میں پیدا ہوئے ۔  کافی عرصے سے ہم دونوں کو بُلا رہا تھا لیکن اپنی صحت  کی وجہ سے ہم جہاز کا سفر نہیں کرنا چاہتے تھے ، ہمارا جھاکا چم چم اور اُس کی ماما نے زبردستی دور کیا اور اِس بوڑھے اور بڑھیا نے ، چم چم کے ساتھ  اسلام آباد۔لاہور۔سری لنکا ۔سنگاپور اور ایسٹ تِمور کا سفر کیا ۔ 
پڑھیں:  بوڑھے اور بڑھیا کی مشرق بعید کی چھان پھٹک ۔


 چم چم کی خواہش تھی کہ وہ فوراً دُبئی گھومے  ، بوڑھے اور بڑھیا  سفر کی تکان کی وجہ سے فلیٹ  میں رہنا چاھتے تھے ۔یہ طے پایا کہ ارسلان  کہ بس آج نیچے جاکر کھانا کھایا جائے گا ۔ بوڑھا تو سو گیا ، جب اُٹھا تو معلوم ہوا کہ سب ہی سوگئے تھے ، باہرتاریکی چھائی ہوئی تھی کچن میں  کھڑبڑ سنائی دی ، جاکر دیکھا تو  بڑھیا اور چھوٹی بیٹی چائے بنانے کی تیاری کر رہی تھیں ۔  
چم چم اور اُس کی ماں کافی دیر بعد اُٹھیں کھانا باہر کھانے کا پروگرام کینسل ہوگیا ، کھانا اپارٹمنٹ میں منگوالیا گیا ۔ البتہ کھانے کے بعد   واک کا پروگرام بنا   ۔ 
صبح اُٹھا  کھڑکی سے باہر نظر ڈالی   جو منظر دیکھا آپ بھی دیکھیں  ۔


 چم چم کے ساتھ دُبئی کی بے تحاشا سیر  کا حال اگلی قسطوں  میں ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔