میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 29 اپریل، 2018

1857 کا ذکر ہے !

جنگِ آزادی  کو مکمل کچلنے کے بعد ، ایسٹ انڈیا کمپنی  کے فوجیوں نے ، جون 1857 کو ملتان چھاونی میں پلاٹون نمبردس کو بغاوت کے شبہ  میں نہتہ کیا گیا اور پلاٹون کمانڈر کو بمعہ دس سپاہیوں کے توپ کے آگے رکھ کر اڑا دیا گیا۔ 
آخر جون میں بقیہ نہتی پلاٹون کو شبہ ہوا کہ انہیں چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں فارغ کیا جائے گا اور انہیں تھوڑا تھوڑا کرکے قتل کر دیا  جائے گا۔
 سپاہیوں نے انگریز راج  کی اِس سازش کے خلاف ،  بغاوت کر دی تقریبا بارہ سو سپاہیوں نے، ظالم حاکموں کے خلاف   جہاد کا علم بلند کیا ا۔ اور انگریز کی نوکری چھوڑ کر   ، قلعے سے نہتے نکل گئے ، ملتان شہر سے گذر کر پنجاب کی طرف جانے والوں مقبرہ بہاؤ الدین زکریا  م کے پاس اِن نہتے  مجاہدین کو شہر اور چھاونی کے درمیان واقع پل شوالہ پر دربار بہا الدین زکریا کے سجادہ نشین مخدوم شاہ محمود قریشی نے انگریزی فوج کی قیادت میں اپنے مریدوں کے ہمراہ گھیرے میں لے لیا اور تین سو کے لگ بھگ نہتے مجاہدین کو شہید کر دیا۔ 
یہ مخدوم شاہ محمود قریشی ہمارے سابقہ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کے لکڑدادا تھے اور ان کا نام انہی کے حوالے سے رکھا گیا تھا۔
مظفر گڑھ کی طرف جانے والے  کچھ  مجاہدین  دریائے چناب کے کنارے تقریبا 10کلومیٹر دور ،   شیر شاہ کے علاقے میں دربار شیر شاہ کے سجادہ نشین مخدوم شاہ علی محمد نے اپنے مریدوں کے ہمراہ گھیر لیا اور ان کا قتل عام کیا مجاہدین نے اس قتل عام سے بچنے کے لئے دریا میں چھلانگیں لگا دیں کچھ لوگ دریا میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے اور کچھ  مجاہدین پار پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ 
بچ کر نکلنے والوں کو، 60 میل جنوب میں جلال پور کے علاقے میں ،   سید سلطان احمد قتال بخاری کے سجادہ نشین دیوان آف جلالپور پیر والہ نے اپنے مریدوں کی مدد سے شہید کر دیا۔ جلالپور پیر والہ کے موجودہ ایم این اے دیوان عاشق بخاری انہی کی نسل میں سے ہے۔
 مجاہدین کی ایک ٹولی  ملتان سے شمال میں 50میل دور  حویلی کو رنگا کی طرف نکل گئی جسے مہر شاہ آف حویلی کو رنگا نے اپنے مریدوں اور لنگڑیال ، ہراج ، سرگانہ، ترگڑ سرداروں کے ہمراہ گھیر لیا اور چن چن کر شہید کیا ۔
تحریکِ آزادی :
میرٹھ سے  شرع ہونے والی 1857 کی تحریک ، بالآخر  حویلی کورنگا  کے مقام پر ختم ہو گئی ۔
حویلی کو رنگا کے معرکے میں بظاہر سارے مجاہدین مارے گئے مگر علاقے میں آزادی کی شمع روشن کر گئے۔ حویلی کو رنگا کی لڑائی کے نتیجے میں جگہ جگہ انگریز راج کے خلاف آزادی  کی تحریک  شروع ہو گئی ۔ 
 حویلی کو رنگا، قتال پور سے لیکر ساہیوال بلکہ اوکاڑہ تک کا علاقہ خصوصا دریائے راوی کے کنارے بسنے والے مقامی سرائیکیوں کی ایک بڑی تعداد اس تحریک آزادی میں شامل ہو گئی ۔
 اس علاقے میں اس آزادی  کا سرخیل رائے احمد خان کھرل تھا ، جو  اوکاڑہ سے سمندری کے درمیان ، گو گیرہ کے نواحی قصبہ جھامرہ کا بڑا زمیندار اور کھرل قبیلے کا سردار تھا ۔ احمد خان کھرل کے ہمراہ مراد فتیانہ سیال ،احمد سیال ، شجاع بھدرو، موکھا وہنی وال اور سارنگ جیسے مقامی سردار اور زمیندار تھے ۔
 مورخہ 16ستمبر 1857 کو رات گیارہ بجے سرفراز کھرل نے ڈپٹی کمشنر ساہیوال بمقام گوگیرہ کو احمد خان کھرل کی مخبری کی مورخہ اکیس ستمبر 1857کو راوی کے کنارے ”دلے دی ڈل“ میں اسی سال احمد خان کھرل پر جب حملہ ہوا تو وہ عصر کی نماز پڑھ رہا تھا۔ 
اس حملے میں انگریزی فوج کے ہمراہ مخدوموں ، سیدوں ، سجادہ نشینوں اور دیوانوں کی ایک فوج ظفر موج تھی جس میں :
1- دربار سید یوسف گردیز کا سجادہ نشین سید مراد شاہ گردیزی ۔

2- دربار بہا الدین زکریا کا سجادہ نشین مخدوم شاہ محمود قریشی ، 
3- دربار فرید الدین گنج شکر کا گدی نشین مخدوم آف پاکپتن ، 
4- مراد شاہ آف ڈولا بالا،-
5-سردار شاہ آف کھنڈا ٓ
6- گلاب علی چشتی آف ٹبی لال بیگ 
7-  کئی مخدوم  وسجادہ نشین شامل تھے۔
 احمد خان کھرل اور سارنگ شہید ہو ئے ۔ انگریز احمد خان کھرل کا سر کاٹ کر اپنے ہمراہ لے گئے ۔ احمد خان کھرل کے قصبہ جھامرہ کو پیوند خاک کرنے کے بعد آگ لگا دی گئی ۔ فصلیں جلا کر راکھ کر دی گئیں۔ تمام مال مویشی ضبط کر لیے گئے دیگر سرداروں کو سزا کے طور پر   کالا پانی بھجوادیا گیا۔ اس طرح اس علاقے کی تحریک آزادی مخدوموں ، سرداروں، وڈیروں اور گدی نشینوں کی مدد سے دبادی گئی۔ اس کے بعد دریائے راوی کے کنارے اس علاقے کے بارے میں راوی چین لکھتا ہے۔ 
انگریز کے نمک خواروں اور کاسہ لیسوں کو ملکہ ءِ برطانیہ کی طرف سے مراعات ۔
 1- مہر شاہ آف حویلی کو رنگا سید فخر امام کے پڑدادا کا سگا بھائی تھا۔ اسے اس قتل عام میں فی مجاہد شہید کرنے پر بیس روپے نقد یا ایک مربع اراضی عطا کی گی۔
 2- مخدوم شاہ محمود قریشی کو 1857 کی جنگ آزادی کے کچلنے میں انگریزوں کی مدد کے عوض مبلغ تین ہزار روپے نقد، جاگیرسالانہ معاوضہ مبلغ ایک ہزار سات سو اسی روپے اور آٹھ چاہات جن کی سالانہ جمع ساڑھے پانچ سو روپے تھی بطور معافی دوام عطا ہوئی مزید یہ کہ 1860 میں وائسرائے ہندنے بیگی والا باغ عطا کیا۔
 3- مخدوم آف شیر شاہ مخدوم شاہ علی محمد کو دریائے چناب کے کنارے مجاہدین کو شہید کرنے کے عوض وسیع جاگیر عطا کی گئی۔
4- تمام 
مخادیم وسجادہ نشینوں کو اُن کے کالے کارناموں  کی بیاد پر جگیریں اور مراعات دی گئیں ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔