میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 1 اپریل، 2018

ملالہ کی "اصل کہانی"

 ملالہ یوسف زئی کا تعلق نہ تو سوات سے ہے اور نہ ہی وہ پشتون ہے۔
یہ کہانی ملالہ کے بچپن سے شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے والد کے ہمراہ کان کے درد کا علاج کرانے سوات کے ایک نجی اسپتال گئی۔ ڈاکٹر امتیاز خان زئی سوات کے معروف ماہر امراض کان ہیں ، انہوں نے ملالہ کے کان کے میل یعنی ویکس کو بطور نمونہ لیا اوربہترین ادویات کے ساتھ روانہ کردیا،کچھ دنوں بعد ملالہ کے کان کی تکلیف تودورہو گئی لیکن یہ تکلیف بہت سارے راز افشا کر گئی-
ستمبر 2012ء میں ملالہ پر طالبان کے حملے کے واقعے کے بعد میڈیا پر شدید واویلے نے ڈاکٹر امتیاز خان زئی کو سوچنے پر مجبور کر دیا کہ مغرب اس لڑکی کے لئے اتنا واویلا کیوں مچا رہا ہے ؟
ڈان کے آن لائن ایڈیشن کے مطابق ڈاکٹر خان زئی اپنے مریضوں کے کان کی میل یا ویکس کو بطور ڈی این اے سیمپل (DNA Sample)سنبھال کر رکھنے کے عادی تھے ( اُن کی لیبارٹری میں غالباً سب مریضوں کے لاکھوں نہیں تو ہزاروں  نمونے موجود ہوں گے )۔

انہوں نے انتہائی احتیاط کے ساتھ ملالہ کے ڈی این اے سیمپل پر کام کرنا شروع کر دیا ، اس ڈی این اے کی تحقیق کے بعد جو نتائج ڈاکٹر خان زئی کے سامنے آئے وہ انتہائی ہوشربا تھے ۔ڈاکٹر امتیازخان زئی کا دعوی تھا کہ ملالہ یوسفزئی کا تعلق خیبرپختونخوا سے نہیں بلکہ ڈی این اے کے مطابق وہ Caucasianیعنی قوقازی یعنی  کاکیشیائی  باشندہ  تھی (اب پاکستانی  بلکہ انگلستانی ہے )   اور غالب امکان یہ کہ ایسی نسل کے باشندے پولینڈ میں پائے جاتے ہیں۔
(قفقازی نسل Caucasian race جو تاریخی طور پر  نسلِ انسانی کے کرہ ارض پر  ہجرت  کے باعث ،  یورپ، شمالی افریقہ، قرن افریقہ، مغربی ایشیاء، وسطی ایشیاء اور جنوبی ایشیاء کی آبادی پر مشتمل سمجھی جاتی ہے)

ڈاکٹر ڈاکٹر امتیازخان زئی، نے اپنی تحقیقات کو بار بار دہرایا اور بالآخر اس نتیجے پر پہنچے کہ،
ملالہ کا تعلق مینگورہ یعنی سوات سے نہیں بلکہ پولینڈ سے ہے۔ تمام تحقیق کرنے کے بعد
ڈاکٹر امتیازخان زئی نے ملالہ کے والد کو اپنے کلینک بلایا اور کہا :

"میں جانتا ہوں کہ ملالہ کون ہے ؟"
ملالہ کے والد ضیاء الدین یوسف زئی  بات سن کر سٹپٹا گئے۔
ڈاکٹر امتیاز خان زئی نے ملالہ کے کان کے درد سے لے کر ویکس یعنی ڈی این اے سنبھالنے تک کے تمام واقعات ان کے گوش گزار کر دئیے ، ملالہ کے والد ضیاء الدین یوسف زئی پہلے پہل تو ادھر اُدھر کی ہانکتے رہے بعدازاں منت سماجت پراتر آئے اور معاملے کو دبانے کا مطالبہ کیا۔ڈاکٹر خان زئی نے اس شرط پر خاموشی کا وعدہ کیا کہ اگر وہ ملالہ کے بارے میں سب کچھ سچ سچ بتائیں گے تو ہی بات کو صیغہ ء راز میں رکھا جائے گا ۔

ملالہ کے وا لد ضیاء الدین یوسف زئی نے بیان کرنا شروع کیا ،
" ملا لہ یوسف زئی کا اصل نام ’جین‘ (JANE)ہے اور وہ یکم  اکتوبر  1997 ء میں  بڈا پسٹ ہنگری میں پیدا ہوئی ، جین کے اصل ماں باپ پولینڈ سے ہیں جو عیسائی مشنری سے وابستہ ہیں ، میں عیسائی مشنری کے حسنِ سلوک  (ڈالروں کی صورت میں )  کی وجہ سے  اسلام چھوڑ کر عیسائی بن گیا تھا   اور 2002 ء میں سوات کے سفر کے دوران وہ اپنی پانچ سالہ  بچی  جین کو  میرے پاس  چھوڑ گئے، (پولش سفارت خانے والے تو اِس گھناونی سازش  کے بارے میں  جانتے تھے  لیکن  ، پاکستانی  ایمبارکیشن، ایف آئی اے ، والے تو  کاٹھ کے اُلو ہیں!!!)  ۔ " جب روزنامہ ڈان کے نمائندگان نے ڈاکٹر امتیازخان زئی سے یہ سوال کیا کہ وہ اس حقیقت سے اتنے عرصے بعد پردہ کیوں اٹھا رہے ہیں؟
تو 
ڈاکٹر امتیازخان زئی  نے دائیں بائیں دیکھتے ہوئے  کہا :" مجھے  لگتا ہے کہ ملالہ کا واقعہ پاکستان مخالف عناصر کی سوچی سمجھی سازش ہے اور جب کہ انہیں معلوم ہو چکا ہے کہ حقائق کیا ہیں تو وہ اس بات سے پردہ اٹھا رہے ہیں؟"جب روزنامہ ڈان کے نمائندگان  کے منہ کھل گئے  جب  ڈاکٹر ڈاکٹر امتیازخان زئی    نے اُن کے سر پر یہ کہہ کر دھماکا کیا :
" ملالہ یوسف زئی کو گولی مارنے والے کا ڈی این اے ویکس سیمپل بھی ان کے پاس موجود ہے اور ان کی تحقیق کے مطابق ملالہ کو گولی مارنے والا پشتون نہیں بلکہ اس کا تعلق اٹلی سے ہے۔ یہ طالبان نہیں  بلکہ بلیک واٹر کی کاروائی تھی
ڈاکٹر
ڈاکٹر امتیازخان زئی   نے مزید ڈان کے نمائندوں کو بتایا ،
" اس نے اس سارے واقعے اور اس تفصیلی تحقیق سے متعلق پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ایک آفیسر کو ای میل کی اور ملالہ کے والد اور ملالہ کی اصلیت سے آگاہ کیا، کچھ دن بعد جب وہ سعودی عرب میں سعودی شاہی خاندان کے کانوں سے میل یعنی ویکس کے نمونے لینے کے لئے سعودیہ میں مقیم تھے تو ان کی غیر موجودگی میں پولیس نے سوات میں واقع ان کے نجی کلینک پر چھاپہ مارا اور کلینک کے عملے کوویکس نمونوں کی حوالگی سے متعلق ہراساں کیا ۔سعودیہ سے واپس آنے کے بعد پاکستانی خفیہ ایجنسی،
آئی ایس آئی   کے آفیسر نے ڈاکٹر زئی کے کلینک کا دورہ کیا اور پولیس ریڈ سے متعلق معذرت خواہانہ لہجہ اپناتے ہوئے کہا کہ
٭- انہیں علم ہے کہ’ ملالہ شوٹنگ ‘سے جڑے اصل حقائق کیا ہیں؟
٭-  پاک فوج اس بات سے باخبر ہے کہ ملالہ درحقیقت کون ہے؟"
معتبر روزنامے کے نمائندگان کی جانب سے شدید اصرار پر ڈاکٹر امتیاز خان زئی نے انہیں خفیہ ایجنسی کے آفیسر کا نمبر دے دیا ۔
کئی دنوں کی تگ و دو کے بعد "ماسٹر ایکس "  نامی ایجنٹ نے اسپائیڈر مین کے ماسک میں رپورٹرز سے ملنے پر رضا مندی ظاہر کردی ۔جس کی تصویر ڈان لیکس کے  شاطر نمائندے نے اپنی عینک  کے گوشےپر لگے  ، خفیہ کیمرے سے موقع ملتے ہی کھینچ لی ۔ تاکہ ثبوت رہے اور وقتِ ضرورت کام آوے ؛


 محب وطن پاکستانی ایجنٹ ، ماسٹر ایکس  نے ڈان کے نمائیندے کو  اپنے آفس میں بتایا ،
" ملالہ یوسف زئی پر حملے کا واقعہ ایک ڈرامہ تھا ۔جس میں پاک فوج نے " الفاء برے و اور چارلی " کی طرح پورا ساتھ دیا ،  جس کا مقصد وزیر ستان میں پاک فوج کی پیش قدمی اور افغانستان میں امریکہ کی مداخلت کے لئے راہ ہموار کرنا تھا، " 

ماسٹر ایکس  نے  بتایا :
آپ کی معلومات درست ہیں ، ملالہ  یکم  اکتوبر  1997 ء میں  بڈا پسٹ ہنگری میں پیدا ہوئی ، جین کے اصل ماں باپ پولینڈ سے ہیں  اور عیسائیت پھیلانے کے مشن پر اپنے آپ کو وقف کر چکے ہیں ، لیکن وہ پادری یا نن نہیں ، 4 اکتوبر 2002 میں اُنہیں سی آئی اے نے سوات میں مشن کے لئے ریکروٹ کیا۔  7 اکتوبر 2003 میں وہ دونوں پاکستان ایک این جی او کے نمائندے بن کر پاکستان آئے ، جن کا مشن سواتی لڑکیوں اور عورتوں کو مغربی تعلیم سے روشناس کروانا ہے ۔ اُن کا تعارف ، نچلے درجے کے آئی ایس آئی ایجنٹوں سے کروایا گیا ، جو اُنہیں طالبانی علاقے سے گذار کر سوات لے گئے ، جہاں اُن کی ملاقات ، سوات میں عیسائی مشن نے ، ضیاء الدین یوسف زئی سے کروائی گئی  ۔ ضیاء الدین یوسف زئی نے جین کو بیٹی بنا کر ،   اپنی گود میں لے لیا اور اُس کے تمام کاغذات تیار کروائے گئے ، فارم ب میں نام لکھوایا گیا۔ اور سوات کے سکول میں داخل کروادیا گیا ۔ حیرت کی بات کہ  پانچ سالہ  جین ۔ انگریزی ، اردو  اور پشتو زبانیں روانی سے بولتی تھی ۔
30 اکتوبر 2007 میں ، انٹرنیٹ پر ، 11 سال کی عمر میں  ، پہلا بلاگ لکھا ،
21 اکتوبر 2011 میں ، طالبان نے ملالہ کو نصیحت کی کہ وہ اُن کے خلاف لکھنا بند کر دے اور اپنے سکول کا کام کرنے پر زور دے ۔
 پھر  10 اکتوبر 2012 میں بی بی سی    اردو نے ، اُس کے انگریزی میں لکھے گئے بلاگ   "11 سالہ  پاکستانی سکول لڑکی کی ڈائری" کو ساری دنیا  میں مشہور  کروایا ۔
7 اکتوبر 2012 میں  ، ملالہ اور اُس کے والدین کو  ، شوٹنگ کی پوری تفصیل بتائی گئی ۔9 اکتوبر 2012 کو   ،یہ ڈرامہ  سکول سے گھر جانے والے راستے میں  کیا  گیا اور ملالہ پر اتنی مہارت سے گولی چلائی گئی کہ اُسے زیادہ نقصان نہ ہو ۔
 ماسٹر ایکس  نے ڈان کے نمائیندے کو مزید کہا ،
" میں آپ سے ملنے کے بعد ، اِس آفس سے چلا جاؤں گا ، اور کبھی نہیں ملوں گا "
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یہ ہم نہیں کہہ رہے بلکہ پاکستان کے معتبر اخبار کے تحقیقی صحافیوں کی کہنہ مشق ٹیم کی چند ماہ پر مبنی تحقیق کا خلاصہ ہے۔
٭٭٭٭٭اگلا مضمون  ٭٭٭٭٭٭
 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔