میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 13 اپریل، 2018

شعور سے تحت الشعور میں چھلانگ



 کل بہت سے پرانی تصاویر کے ساتھ یہ تصویر بھی وٹس ایپ ہوئی -
تصویر نے کسی ماہر غوطہ خور کی طرح  شعور سے تحت الشعور کی تاریک گہرائیوں میں چھلانگ لگائی  ۔
اور گوگل کی طرح ، اِس سے ملتی جلتی تصویر نکال لائی ۔جو  قبل از  60 کی دھائی میں بالکل اِسی طرح  سبق حفظ کرنے   کی یاد    کی اِس بوڑھے کی تھی ، بس فرق یہ ہے کہ اُس وقت مُرغا بنے اِن بچوں کے سامنے  کتاب نہیں ، بلکہ تختی  ہوتی تھی ۔ جس پر سبق ہوتا یا پھر  کوئی " رٹّو " بچہ پڑھتا اور ہم سب اُسے  روہانسی آواز میں دھراتے  جاتے ۔
یہ کچی پکی کا نہیں ، بلکہ پہلی  کلاس اور اُس کے بعد کا دور تھا ، کچی اور پکّی میں  تو ، نرسری یا کے جی ، کلاس کی طرح ، نہ کتاب  تھی اور نہ قاعدہ ، بس موجیں، ہی موجیں  تھیں ۔1959 کی سردیوں میں دھوپ میں سورج  تلے   زمین پر  اور گرمیوں میں ،  گورنمٹ برکی سکول  ، اے ایم سی سنٹر ایبٹ آباد کے ، گاڑیوں کے بڑے سے شیڈ   کے نیچے  بیٹھ کر کچی اور پکّی  ایک ساتھ پڑھی ۔
پھر ابّا کی ٹرانسفر    ، نوشہرہ ہو گئی ۔ دوبارہ پھر برکی سکول میں  1964 میں  چوتھی کلاس  میں واپسی ہوئی ۔






مضمون لکھا جا رہا ہے 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔