میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 20 مئی، 2018

تم فوجی ہو ؟ ملک کے لئے مرنا ہو گا!


ایک آرمی آفیسر کی بیوی کا خط ،جو وٹس ایپ کے  مختلف فورمز  میں گردش کر رہا تھا ۔ میں نے پڑھا مجھے افسوس ہوا ۔
پہلے خط  پڑھیں اور پھر ایک پرانے فوجی ، دو فوجی بچوں کے باپ  کی طرف سے اِس  پر رائے :
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
   A write up by an Army officer’s wife,
Saadia Zulfiqar:
“I’m upset, I’m angry!! This is what we risk when our husbands serve in the army. Look at the face of the boy who lost his father today. Look at the faces of the Col’s family. 

Nothing is more precious than the life of your loved ones. This is our life everyday of the week, every week of the year, and every year of our lives. Is the pay a soldier gets worth losing his life. He misses the birth of his children, their first steps, their first words, their birthday parties, their school recitals. the wife alone dealing with scraped knees, broken wrists. The parents waiting for visits , the siblings timing vacations wondering if they will be able to meet him after two years. The ever present threat of the dreaded call and the ring of the door bell in an other wise routine day. This is the reality for us army families. 
This hyperbole of “khalai Makhlooq” is all BS. And coming from people who have nothing at stake here in this country burns me up. Every one who has lost a loved one in the line of duty in these years is asking this question from these politicians; that our brother, husband, father, son has done his duty by paying the ultimate price....... what have you done?????”

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
جب میرا بیٹا ، فوج کے لئے سلیکٹ ہوا تو پاکستان ملٹری اکیڈمی  جانے سے پہلے میں نے اُس کے ماں سے پوچھا ،
" بیٹے کو جانے دو گی یا روک لو گی ۔ کیوں کہ فوجیوں کی مائیں اور بہنیں نہیں ہوتیں ۔ تم خنجر چلے کسی  یہ ۔ ۔ ۔ ۔  ! کی مثال ہو ایسا نہ ہو کہ ساری زندگی پریشانی  میں گذارو !"
 بو لی،" میں نے آپ کے  ساتھ کیا   زندگی پریشانی میں گذاری  ؟    میری طرف سے اجازت ہے "
میں نے  بیوی  سے کہا ،" ٹھیک ہے پھر اِسے سٹرک آف سٹرینتھ کر دو ۔ اور بھول جاؤ "
بیٹے سے مخاطب ہوا ،" مانی ، آج سے ہمارا رشتہ ختم ہو رہا ہے ، اب تمھاری کامیابیوں اور ناکامیوں کے متعلق تمام معلومات ، تمھارے کمانڈنے آفیسر سے مجھے ملنا چاھئیے ۔ تمھاری طرف سے ماں کو نہیں ۔"
پھر اُس کا اور میرا بیٹا اُس مخلوق میں شامل ہوگیا ، جو شہید یا غازی بن کر لوٹتے ہیں ۔ جن کی میت کو کندھا دیتے ہوئے،  بین کرنا اُن کو اپنے  خاندان تک محدود کرنا ہے، کیوں کہ فوجی کا خاندان اُس کا وطن ہوتا ہے ، جس میں رہنے والے  عوام کی حفاظت کے لئے وہ ٹریننگ سنٹر میں قدم رکھتا ہے ۔ ٹریننگ کے دوران  چار فٹ ضرب چار فٹ کا سو گز دور لگے ٹارگٹ پر  لگی 4 انچ ضرب 6 انچ کی سفید چندی  اُس کا واحددشمن ہوتی ہے ،جس کا اُس نے نشانہ لگانا ہوتا ہے ، یہ دشمن اُس کے وطن کی حدوں سے باہر ہوتا ہے تو اُس کی بندوق نیچے رہتی ہے ، لیکن جو ں ہی وہ  سرحد عبور کرکے اُس کی طرف آتا ہے  ، اُس کی بندوق  اُس کے کندھے پر ٹک جاتی ہے اُسے  یہ بھی معلوم ہے کہ اُس کی طرف بڑھنے والا  ،
چار فٹ ضرب چار فٹ کا ساکت ٹارگٹ نہیں ، بلکہ کم و بیش اُسی کی طرح ماہر نشانہ باز ہے ، جنگی امور کی چالبازیوں اور پینتروں پر دسترس رکھتا ہے  اور دونوں میں سے جو پہل کرے گا ، وہ جیت جائے گا ۔ 
ہار اور جیت  ایک فوجی  کا مقدر ہوتی ہے۔   جیت پر خوشی کے نعرے بجائے جاتے ہیں۔
بہادری سے ہارنے والا   بندوقوں کی سلامی اور بگل کی آواز کے ساتھ سپردِ خاک کیا جاتا ہے ۔ لیکن ہار کو گلے میں ماتم کا ہار بنا کر نہیں لٹکایا جاتا ۔
ایک  فوجی ،  سیاست دانوں کی چالاکیوں ، بیوروکریٹس کی رشہ دوانیوں اور ملاؤں کے حیلہ و جوازات پر ذرا بھی دھیان نہیں دیتا ۔
کون کیا کر رہا ہے؟  اُسے بالکل غرض نہیں ۔
کون اسپ، تازی ہے ؟اور کون ٹم ٹم کی دلدل ۔
اُسے صرف اپنے کمانڈنگ آفیسر کے ملنے والے احکامات کی عملداری سے سروکار ہوتا ہے ۔ وہ اپنے کام کو پورا کرنے میں مگن ہوتا ہے ، اُسے دوسرے کے پھٹے میں ٹانگ اڑانے کی فرصت نہیں ۔

 اُس کی بیوی اِس لئے نہیں اُس سے شادی کرتی کی وہ گھر جھولی بھر کر پیسے لاتا اور نہ اِسے یہ خواہش ہوتی ہے کہ اُسے ہر مہینے نہ سہی سال میں ایک بار  پکنک ٹور پر کسی دوسرے ملک لے جائے ۔
اُسے اِس بات سے بھی غرض نہیں  ہوتی ، کہ اُس کی چھوٹی بہن کے شوہر نے  نوکری کے دوسرے سال کارخرید لی اور  اُس کا شوہر میجر بن کر بھی قسطوں کی موٹر سائیکل پر اُسے اتوار کے اتوار بازار لے جاتا ہے ۔ 
بس وہ یہی دعا کرتی رہتی ہے کہ ہر صبح  اُس کا شوہر  اُس کے ہاتھ سے ٹوپی  لے کر  پہن کرمسکراتا ہوا گھر سے باہر جائے  اورو فخر سے یہ گنگنائے :

میں وردی نہیں پہنتی، لیکن میں فوج میں ہوں، کیوں کہ میں اس کی بیوی ہوں 
میں اس عہدے پر ہوں جو دکھائی نہیں دیتا، میرے کندھوں پر کوئی رینک نہیں 
میں سلیوٹ نہیں کرتی، لیکن فوج کی دنیا میں میرا مسکن ہے 
میں احکام کی زنجیر میں نہیں،لیکن میرا شوہر اس کی اہم کڑی ہے 
 میں فوجی احکام کا حصہ ہوں، کیوں کہ میرا شوہر ان کا پابند ہے 
میرے ہاتھ میں کوئی ہتھیار نہیں، لیکن میری دعائیں میرا سہارا ہیں 
میری زندگی اتنی ہی جانگسل ہے، کیوں کہ میں پیچھے رہتی ہوں 
میرا شوہر، جذبہ حریت سے بھرپور، بہادر اور قابل فخر، انسان ہے 
تپتے صحرا ہوں، ریگستان ہوں، برفیلے میدان یا کھاری سمندر 
ملک کی خدمت کے لئے اس کا بلاوہ، کسی کی سمجھ میں نہیں آسکتا
میرا شوہر، قربانی دیتا ہے اپنی جان کی، میں اور میرے بچے بھی 
میں سرحدوں سے دور، امیدوں کے ہمراہ، اپنے پر آشوب مستقبل کی 
میں محبت کرتی ہوں اپنے شوہر سے، جس کی زندگی سپاہیانہ ہے 
لیکن میں، فوج کے عہدوں میں نمایا ں ہوں، کیوں کہ میں فوجی کی بیوی ہوں 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مجھے یوں لگا کہ سیاست فوجی آفیسروں کی بیویوں میں سرایت کرتی جا رہی ہے  یا فوجی آفیسر کی بیوی کے نام پر یہ خاتون مستقبل کا  کو ئی سیاست دان تیار کر رہی ہے ۔کیوں ایک فوجی کی بیوی  کبھی ایسا نہیں سوچی جیسا اِس خاتون نے لکھا، اور افسوس کی بات کہ  فوجیوں نے اِس بگولوں کی طرح گردش دی ، یہ سب فوجی نہیں بلکہ سیاسی ذہنوں کے چلے ہوئے کارتوسوں  کا کارنامہ ہے ۔
بھئی اگر آپ کو اپنے شوہروں  کے مرنے کا اتنا ہی شوق ہے ، تو اپنے شوہروں کو کہیں فوج چھوڑیں  ، پراپرٹی دیلر بن جائیں یا کسی مل میں نوکری کرنا شروع کر دیں !
کرنل سہیل کی تصویر اور اُس کے بچوں کے چہرے پر پھیلے ہوئے غم کو اپنا قلم بیچنے کا ذریعہ نہ بنائیں ۔ اُنہیں معلوم ہے کہ اُن کا باپ  شہادت کےاُس رتبے پر سرفراز ہوا کہ جس کا تصور  کوئی نہیں کر سکتا ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔