میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 9 مئی، 2018

بزنس کارڈ ۔ ہراسمنٹ وارننگ !

وہ اپنی کار میں پیٹرول ڈلوا رہی تھی ۔ کہ ایک نوجوان اُس کے پاس آیا اور اُس  کی طرف جھک کر اپنا تعارف کروایا ،
" میڈم میں ایک پینٹر ہوں اور پورٹریٹ بناتا ہوں ۔ آپ میرا  بزنس کارڈ رکھ لیں کسی سہیلی کو یا جاننے والے کو اگر پینٹنگ بنوانے کی  ضرورت ہو تو میرا نمبر اُسے دے دیں "
خاتون نے کارڈ لے لیا ، اور سامنے ڈیش بورڈ پر رکھ کر بولی ،
" یقیناً اگر کسی کو ضرورت پڑی تو میں آپ کی مدد کر سکتی ہوں "
یہ کہہ کر وہ رقم ادا کرکے ، اپنی گاڑی کا شیشہ اوپر کرنے کے بعد روانہ ہوگئی ۔ اچٹتی نظروں سے اُس نے نوجوان کو ایک دوسری کار کی پسنجر سیٹ پر بیٹھتے دیکھا ، پیٹرول پمپ سے نکلتے ، خاتون نے  ، بیک مرر میں ، اُسی کار کو اپنے پیچھے آتے دیکھا وہ اِس اتفاق سمجھی ۔ لیکن تھوڑی دور جاکر اُسے یک دم سانس رکتا محسوس ہوا اور غشی سی آنے لگی ۔ اُس نے بلا ارادہ کار کا شیشہ کھولا تو سانسیں بحال ہوئی ۔
ایک انجانا خطرے نے اُس کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی پھیلا دی ،
بیک مرر میں ، وہ  کارنظر آرہی تھی اُس نے گاڑی کو ریس دی اور  اگلے پیٹرول پمپ میں گاڑی موڑ دی  ۔
پیٹرول پمپ میں داخل ہوتے ہی اُس نے زور زور سے ہارن بجانا شروع کیا ۔ اور پھر بے ہوش ہوگئی ۔
اُسے پولیس نے ہسپتال پہنچایا ، تفتیش پر معلوم ہوا کہ ، اُسے جو وزیٹنگ کار ڈ  دیا گیا تھا اُس پر ۔ 

 
لگا ہوا تھا  ،
Burundanga is the popular name for scopolamine, a drug that is used in medicine to treat nausea and motion sickness, among other conditions. But its side effects include drowsiness, a loss of inhibition and memory lapses.


 یورپ کے کلبوں میں اِس کا ستعمال عورتوں کو گھیرنےکے لئے2012سے جاری ہے ۔ لیکن وہاں سے آنے والے    حرامی پاکستانیوں نے اِس کا استعمال  شروع کر دیا  ۔ ابھی تک کوئی اعداد وشمار نہیں ۔ لیکن وٹس ایپ پر ، ڈی ایچ اے لاہور کی ایک خاتون نے بالا واقعہ   آگاہی کے لئے  بھیجا ہے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔