میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 17 مئی، 2018

ٹائمنگ غلط ہے !

 کسی نے لکھا اور میں نے پیسٹ کیا : 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ ٭
 یار لوگوں نے پہلے تو ایسا اودھم مچایا جیسے نواز شریف نے خدانخوستہ ایٹمی فارمولا دشمن کے حوالے کر دیا ہو ۔ 
لیکن جب جرنیلوں سمیت سب کا کچا چٹھہ کھلنے لگا، تو نیا چورن لے آئے کہ،
 "بات تو درست ہے لیکن اس کی ٹائمنگ غلط ہے"
 آئیے ماضی کے اُفق پر  دیکھتے ہیں، کہ اس قسم کے کاموں کے لئے کون سی ٹائمنگ ٹھیک ہوسکتی تھی؟
دوستو، کوئی ہمیں بتانا پسند کرےگا کہ 1956 کے آئین کے نفاذ کے بعد جب ملک ایک درست سمت میں چل پڑا تھا تو ایسے وقت میں انکل ایوب کا میرے عزیز ہموطنو کا نعرہ لگاکرحکومت سنبھالنا ایک صحیح اقدام تھا؟؟؟؟
'پہلے اپنے ہی ملک کی بحریہ اور فضائیہ کو بے خبری میں رکھ کر آپریشن جبرالٹر لانچ کرنا مناسب تھا یا پھر یہ واویلا جائز تھا کہ بزدل دشمن نے غلط وقت کا انتخاب کرکے رات کی تاریکی میں ہم پر حملہ کردیا٬ اب پتہ نہیں ہمارے ٹائمنگ غلط تھے یا بھارت کے جوابی حملے والے،
'جو ادارہ غداری اور حب الوطنی جیسے سرٹیفیکیٹ بانٹنے کے جملہ حقوقِ اپنے نام محفوظ رکھتا ہے ۔ ملکی تاریخ کے ایک نازک موڑ پر اس حساس ادارے کی قیادت کو ایک عیاش جرنل یحییٰ خان کے حوالے کرنا کیا ٹھیک وقت پر صحیح فیصلہ تھا ؟؟؟
 زرداری، رحمان ملک، شیری رحمان ، حامد میر اور دیگر جیالے یہ بتانا پسند کریں گے، کہ جب ہم مشرقی پاکستان میں جنگ ہار رہے تھے تو ایسے میں ذولفقار علی بھٹو کا سلامتی کونسل کے اجلاس میں پولینڈ کی جنگ بندی کی قراداد کو رعونت سے پھاڑ ڈالنا بر وقت اور حقیقت پسندی والا اقدام تھا ؟؟؟
15 دسمبر 1971 کو بھٹو صاحب جنگ بندی کی قراداد کو پھاڑ کر اجلاس سے یہ کہتے ہوئے غصے میں اٹھ آئے، کہ 

"میں ایک لمحے کے لئے بھی یہاں نہیں ٹھہروں گا ، ہم جاکر لڑیں گے ،اور ایک نیا پاکستان بنائیں گے۔" 
اور پھر 16 دسمبر کو محب وطن جرنیلوں نے واقعی ایک نیا پاکستان بنا لیا - "


ہے کوئی جو جرنل یحییٰ ، جرنل نیازی اور ٹکاخان کی قبروں پر جاکر وقت کے انتخاب کی وجہ پوچھ سکے ؟؟؟؟ 
ٹھیک تو چھوڑیں کیا آپ نے غلط کام کو بھی درست وقت پر سر انجام دیا ہے ،
جب واجپائی، خود مینار پاکستان کے سائے میں اپنی تازہ غزل سنانے چلے آئے تو اس وقت کارگل کی مہم جوئی کے ٹائمنگ درست تھے؟؟؟


 پاکستان کی تقدیر کو بدلنے والے سی پیک منصوبے کے افتتاح کرنے کے لئے جب چین کے صدر پاکستان کے خصوصی دورے پر اسلام آباد آرہےتھے، تو کیا !! اس وقت پاشا اور ظہیر الاسلام کا ڈگڈگی بجا کر اپنے بندروں کو نچانا ٹھیک وقت پر صحیح اقدام تھا؟؟ 
باوجود اس کے کہ چینی سفیر نے خود بنی گالا جاکر صادق امین خان سے کنسرٹ ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی ۔ لیکن، لیکن جواب میں اس خاندانی بد تہذیب کا اس کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آنا بہتر اور جائز رویہ تھا؟؟؟؟ 
سی پیک کا پہلا قافلہ جس وقت برہان کے انٹر چینج سے گزر رہا تھا عین اسی لمحے جی روڈ پر تیلی خٹک سے ڈانس پارٹی کروانا معقول فعل تھا، اور کیا ایسے نیک کام کےلئے اس مناسبت وقت کا انتخاب پاکستان کی ترقی کے لئے کیا گیا تھا؟؟
 کلبھوشن آپ کے قبضے میں تھا لیکن ٹھیک ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کے موقع پر اس پنڈورا باکس کو کھولنا عالمی سطح پر اپنی تنہائی کو دور کرنے کے لیے تھا ؟؟ 
جب ملک ایک درست سمت میں جارہا تھا ایسے میں ایک منتخب وزیراعظم کو بغیر ثبوت اور ٹرائل کے گھر بھجوانا ملکی استحکام کے لئے تھا ؟؟؟؟٬
 کیا یہ نہیں ہوسکتاتھا کہ پہلے اس کا کیس کسی ٹرائل کورٹ کے حوالے کرتے اور پھر ثبوت اور سزا کے بعد نااہل کروانے کے لئے شب برات کے کسی مبارک لمحے کا انتظار کرتے؟؟؟ 
آئینی ترمیم کے بعد ایک شخص کو اس وقت پارٹی سربراہی کے لئے نا اہل قرار دینا جب وہ پارٹی الیکشن میں اپنے امیدواران کے کاغذات جمع کروا چکی تھی۔۔
 کیا ! 'اس مبارک لمحے کے انتخاب کیلئے واٹس ایپ پر استخارہ کیا گیا تھا ؟؟؟
کیا یہ کام کاغذات نامزدگی جمع کرانے سے پہلے یا سینٹ الیکشن کے بعد نہیں ہو سکتا تھا؟
یا ملک کی سب سے بڑی پارٹی کے امیدواروں کو آزاد قرار دیکر لوٹا کریسی کے ذریعے جمہوریت کا استحکام مقصود تھا؟؟؟ 

اب جبکہ چین اور روس سمیت پوری دنیا آپ سے کہہ رہی ہے کہ دہشت گردی کے اس سانپ (نان سٹیٹ ایکٹرز)کو کٹورے میں بند کر لو!!!!
 اگلے ماہ آپ کو FATF میں پھر اس ایشو پر دنیا کو جواب دینا ہے!
تو کیا! اس اجلاس سے پہلے اس نان ایشو پر بحث کرنا ٹھیک ہے،!!! یا یہ مناسب ہے کہ اجلاس کے فیصلے کے بعد ہی لیلتہ القدر کی بابرکت رات کا انتظار کیا جائے؟  

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔