میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 5 مئی، 2018

کواٹر ماسٹر کا گردہ مِشن

 1983 میں اِس ناچیز نے شیخوپورہ بنگلے میں ، ضیاء الحق اور اُس کے جرنیلی ساتھیوں کادو دن  کے کھانے کا انتظام و انتصرام کیا تھا ۔ ناشتے میں صرف  25 ڈشیں تھی اور سب سے ، مشکل ڈش بکرے کے 10کلو گردوں کی تھی جس کے لئے ، ناچیز ٹولنٹن مارکیٹ میں مارا مارا پھرا -

 کسی  درون خانہ رازدانِ قصائیاں ، نے بتایا ، کہ گوجرانوالہ جاؤ۔ وہاں سے  آپ کی مراد مل جائے گے ۔
 لاہور سے گجرانوالہ زقند لگائی وہاں بھی نایاب ، پھر ڈپٹی کمشنر کی مدد لی ، تو ہوٹلوں نے صدر کے نام پر گردوں کے دَر کھول دیئے ۔ 
 یہ فاتح،  ماژندران سے ہفتِ اقلیم لے کر ،کامیابی سے " گردہ مشن " مکمل کر کے شیخو پورہ پہنچا ۔ جہاں کمانڈنگ آفیسر نے پیٹھ تھپکی اور کہا، 
   " کواٹر ماسٹر یو آر گریٹ "  
فیس بُک پر پیش کی جانے والی ایک  ثنا اللہ احسن کی ایک تحریر ، جس نے  اِس بوڑھے کے ذہن کو تحت الشعور میں لمبا غوطہ لگوایا  اور بالا گوہر،  نکلوا کر لانے والا  یہ جملہ تھا ۔" اس مضمون میں مصنف نے ایوب خان اور ضیا الحق کی جو عادات اور خوراک بتائی ہے وہ انتہائی سادہ ہے۔ اس کو آپ کھابے یا کھانے پینے کا حریص نہیں کہہ سکتے" ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭  
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔