میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 29 مئی، 2018

میں نے سمجھا تھا پکوڑوں سے درخشاں ہے حیات




 مجھ سے پہلی سی افطاری میرے محبوب نہ مانگ
میں نے سمجھا تھا پکوڑوں سے درخشاں ہے حیات

حاصل ہیں اگر انگور تو مہنگائی کا جھگڑا کیا ہے
آلو بخارے سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات

بریانی جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے
یوں نہ تھا فقط میں نے چاہا تھا یوں ہو جائے

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں تربوز کچا نکلنے کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں لذت کام و دہن کے سوا

ان گنت ترکیبوں سے پکائے گے جانوروں کے جسم
سیخوں پر چڑھے ہوئے کوئلوں پر جلائے گے
 
جابجا بکتے ہوئے کوچہ بازار میں سجائے ہوئے
مسالہ میں لتھڑے ہوئے، تیل میں نہائے ہوئے
 
 نان، نکلے ہوئے دہکتے ہوئے تندوروں سے
خوشبو نکلتی ہوئی مہکتے ہوئے خربوزوں سے

لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے
اب بھی دلکش ہے تیرا دسترخوان مگر کیجے

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں کھانے پینے کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں لذت کام و دہن کے سوا

مجھ سے پہلی سی افطاری میرے محبوب نہ مانگ 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔