میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 17 مئی، 2018

سٹیٹ اور نان سٹیٹ ایکٹرز۔

 اگرہم لارنس آف عریبیا  کو  سٹیٹ ایکٹر کہیں اور ایک تاریخی  کردار ابو جند ل  کو نان سٹیٹ ایکٹر ، تو ہمارے سامنے   ، پوشیدہ چالوں اور لڑائیوں  کی تصویر واضح ہو جاتی ہے ۔
دوسری جنگِ عظیم کے بعد  دونوں متحارب فوجوں کے  سٹیٹ ایکٹر ز پرہالی ووڈ  نے بے شمار فلمیں ، اُنہیں خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے بنائیں  اور ساتھ ہی چند معرکتہ الآرا فلمیں نان سٹیٹ ایکٹرز پر بھی بنائیں جن کی کامیابی  کا فائدہ اُن کے اپنے  ملک کو پہنچا ۔
نان سٹیٹ ایکٹرز کا  1948  میں برصغیر میں کوہ ہندوکش سے نکلنے والا پہلا جمِ غفیر نہیں تھا جس کو سرینگر کے پاس بھارتی فوجوں نے روکا ، اگر اِس میں پنجاب سے سٹیٹ ایکٹرز بھی شامل ہوجاتے تو  کشمیر میں بہتا ہوا خون   1948  سے رُک جاتا ۔ 
لیکن اُس وقت پاکستان میں سٹیٹ ایکٹرز کا رواج ہی نہیں تھا  ، بلکہ نان سٹیٹ ایکٹرز کی کامیابیوں کوسٹیٹ ایکٹرز کے  کھاتوں میں اُس وقت قلمی طوائفوں سے ڈلوایا جاتا ؛ جو جھوٹ کو سچ بنانے میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے ۔ 
مشرقی پاکستان میں ہندوستان سے بھیجے جانے والے سٹیٹ اور نان سٹیٹ ایکٹروں نے وہ دھمال ڈالی ،   جو دسہرہ  کے تہوار تہوارِ گنیش  تک پہنچ گئی ۔جس کے جواب میں ابدر اور الشمس کے نان سٹیٹ ایکٹرز میدان میں کود پڑے  ۔

1987 روسو افغان وار میں  ، نان سٹیٹ ایکٹرز کا اتنا ہی ہاتھ ہے جتنا آٹے میں نمک کا ہوتا ہے ،  زید حامد اور دیگر اُسی قبیل کے  بھان متی کے کنبے میں شامل تھے  سٹیٹ ایکٹرز میں کرنل امام اور دیگر کئی گمنام غازی و مجاہد تھے ، جنہوں نے افغانئ مجاہدین کو روس سے لڑنے کی تربیت دی ۔ 
1987 میں افغان وار سے جہاد میں تبدیل ہو اجس کے فاتح افغان تھے ، یو ں طالبان کا وہ گرو ہ سامنے آیا  جس کی قیادت مُلّا عمر کے ہاتھ میں آگئی  ۔
مغربی ممالک ، افغان وار تک تو حق میں تھے جس کے جیتنے کے لئے اُنہوں نے ڈالر  پانی کی طرح بہایا ، جس سے بالٹیاں بھر بھر کر  پاکستان  میں میز کے دوسری طرف بیٹھے نقشوں پر رنگینیاں بکھیرنے والوں نے بھی اپنی ٹینکیاں بھریں ۔
1985 میں افغان وار  میں پاکستان سے شامل ہونے والے نان سٹیٹ ایکٹر   کا رخ ، میز کے اِس طرف بیٹھے ہوئے ، گز بھر لمبی داڑھیوں والے ایکٹروں  نے  ، مغربی پہاڑوں سے  شمالی  پہاڑوں کی طرف کر دیا ، جہاں  آزاد کشمیر سے مقبوضہ کشمیر میں گھسنے والے نان سٹیٹ ایکٹروں کی تربیت   شروع کی اور یوں  ، جہادیوں کو ایک نیا راستہ دکھا دیا ۔ 
جواباً    زہدان  کے راستوں سے ہندوستان کے نان ایکٹرز  پاکستان میں گھُسنا شروع ہوگئے ، انسانی خون،خود کش بمباروں نے  اتنا ارزاں کر دیا کہ پاکستان بوکھلا گیا ۔  کیوں کہ خود پاکستان کے مارشلائی صدر دسمبر 2003  پر خود کش  حملہ ہوا ۔
مارشلائی صدر نے خود فخریہ انداز میں  حملہ آوروں کی بذریعہ جیو فینسنگ گرفتاری کی پوری  تفصیل بتا دی ۔   باقیوں کا تو معلوم نہیں  مہاجرزادہ کے لیے حیرانی کا ایک شدید جھٹکا تھا  ،کہ جن کو نہیں معلوم تھا اُن کو بھی معلوم ہوگیا ، کہ موبائل ایک نہایت خطرناک   احمق رازدان ہے جو ، موبائل رکھنے والے کا مکمل راز افشاء کر سکتا ہے ۔ 

نان سٹیٹ ایکٹرز ۔ پاکستان پر خود کش حملے !
لہذا اُس کے بعد خودکش حملہ آوروں کے آپریٹرز  نے مردہ اشاروں کی زبان کو  دوبارہ زندہ کیا ۔ 
کہا جاتا ہے ، کہ افغان وار اور افغان جہاد کے نان سٹیٹ ایکٹرز   کو تھرڈ پارٹی انشورنس کی سہولت نہ دی جس کی وجہ ہے ، اِن کو سیکنڈ پارٹیوں نے بھرتی کرنا شروع کردیا ۔ جن میں ڈاکو ، بھتہ خور اور خودکش حملہ آورآپریٹرز تھے ۔  جن نان سٹیٹ ایکٹروں نے خوفِ خدا سے بھرتی ہونے سے انکار کیا اُنہیں کشمیر جہاد کی طرف ہانک دیا ۔
نان سٹیٹ ایکٹرز کی اصطلاح کے بارے میں پہلی معلومات  ،   بے نظیر بھٹو کی  27 دسمبر 2007 کو شہادت کے بعد پیپلز پارٹی کے رحمان ملک کے منہ سے   گونجی  ۔ جب عوام کو معلوم ہوا کہ نان سٹیٹ ایکٹرز کون ہوتے ہیں اور اِن سے کیا کیا کام لئے جاسکتے ہیں؟ ۔ اور نان سٹیٹ  ایکٹرز مے مربّی و پالن ہار  میں کون کون  شامل ہوتے ہیں  ؟
بادی ء النظر میں ساون ، سدھیر ، مظہر شاہ   ، مصطفیٰ قریشی اور سلطان راہی کو نان سٹیٹ ایکٹرز میں شمار کیا جاسکتا ہے ۔ جو ماضی کا رابن ہڈ اور موجودہ زمانے کا ملک ریاض بھی ہو سکتا ہے ۔ طریق کار دونوں کا مختلف لیکن نتیجہ ایک ہوتا ہے اور وہ یہ کہ لالچی انسانوں کا جمع شدہ پیسہ نکلوانا ۔ یا اُن سے قبضہ چھڑ وانا ۔
نان سٹیٹ ایکٹرز کی اس نصف صدی کے سب سے  بڑی کاروائی  9/11  ہے اور دوسری کہا جاتا ہے کہ ممبئی کا  26/11 ہے ۔ جس میں 150 افراد ہلاک ہوئے ۔ جبکہ پاکستان میں ہونے والے 63  خود کش حملوں میں
پہلا خود کش حملہ  ،     19 نومبر 1995میں اسلام آباد میں قائم مصر کے سفارتخانے میں ہوا۔ مصری حملہ آور نے بارود سے بھرا ٹرک سفارتخانے کے احاطے میں اڑا دیا جس کے نتیجے میں چودہ افراد ہلاک ہوئے۔ جو یقیناً نان سٹیٹ ایکٹرز کی کاروائی تھی ۔
پاکستان میں 1995 سے اب تک  نا ن سٹیٹ ایکٹرز کی اِس کاروائی میں ہزاروں  افراد شہید ہوئے ۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔