میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 5 جون، 2018

ٹی وی اینکر اور چرواہا

 
  ٹی وی اینکر: جناب آپ بکرے کو کیا کھلاتے ہیں۔
چرواہا:   کالےکویاسفیدکو ؟
اینکر: سفیدکو؟
چرواہا:   گھاس۔
اینکر: اورکالےکو؟
چرواہا:   اس کو بھی گھاس۔
اینکر: ان کوباندھتےکہاںہو؟
چرواہا:   کالےکویاسفیدکو؟
اینکر: سفیدکو؟
چرواہا:   بڑےکمرےمیں۔
اینکر: اورکالےکو؟
چرواہا:   اس کو بھی بڑے کمرے میں۔
اینکر: ان کو نہلاتے کیسے ہو؟
چرواہا:   کالے کو یا سفید کو؟
اینکر: سفید کو؟
چرواہا:    پانی سے۔
اینکر: اور کالے کو؟
چرواہا:   اس کو بھی پانی سے۔
اینکر (غصے سے):  منحوس آدمی جب دونوں کے ساتھ ایک جیسا کرتے ہو تو باربار مجھ سے پوچھتے کیوں ہو کہ کالے کو یا سفید کو؟
چرواہا:    کیونکہ سفیدبکرا میراہے ۔
ٹی وی اینکر: اورکالا؟
چرواہا:   وه بھی میرا ہے۔


ٹی وی اینکرجس طرح لوگوں کو فضول سوالات سےزچ کرتےہیں، چرواہے  نے اس کا بدلہ لے لیا۔
 
 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔