میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 25 جولائی، 2018

جولائی 25 الیکشن 2018

 بوڑھا صبح7:45 بجے گھر سے بڑھیا کے ساتھ نکلا ۔ 
سڑکیں سنسان تھیں، بڑے آرام سے گاڑی چلاتا8:16  پر اپنے پرانے محلے میں پہنچا ۔
مجاہد مارکیٹ کی پارکنگ میں کار کھڑا کر کے۔ پولنگ سٹیشن کے طرف روانہ ہوا ۔ جو صرف 25 گز دور سٹریٹ  51 کے گرلز ہائی سکول کی عمارت میں قائم کیا گیا ۔ 
بڑھیا کو  پرانے پڑوسی  عبدالسلام     کی بہو   اپنی  بیٹی کو گود میں اٹھائے ملی، معلوم ہوا کہ نوجوان بدرالاسلام  پولنگ ایجنٹ ہے  اور اندر بیٹھا ہے ۔
محلے کے بوڑھے اپنے خاندان کی چٹیں لینے اور خود ووٹ ڈالنے آئے تھے ، بوڑھے نے بھی موبائل پر الیکشن کمیشن کی طرف سے آئی ہوئی اطلاع  پر سب سے سنسان پولنگ بوتھ سے اپنی اور بڑھیا کی چٹ لی جو کار پارکنگ کے نزدیک تھا ۔   وقت دیکھا 8:20 ہوا تھا ۔ 
سکول کے سامنے کی طرف پی ٹی آئی   اور آزاد امید وار کا  بوتھ تھا ۔تقریباً  پندر ہ ووٹر ز مرد و زن  اپنی اپنی چٹیں لے رہے تھے ۔ آزاد امیدوار کے بوتھ  پر بھی دو افراد کھڑے تھے ۔
بڑھیا کی چٹ اُس کو دی  اور پولنگ سٹیشن   کی طرف اُس کو لے کر بڑھ گیا وہ اپنے حصے میں چلی گئی میں گھوم کر دوسری طرف جانے لگا   ۔ پہلا بوتھ پی ایم ایل این کا تھا ۔ جس پر  تقریباً   12 ووٹرز تھے ، اُس سے آگے جماعت اسلامی کا بوتھ تھا یہاں رش زیادہ تھا ، اُس سے آگے پھر   پی ایم ایل این کا  بوتھ تھا ۔ یہاں بھی آٹھ ووٹرز تھے  ۔ پھر سامنے گیٹ تھا جو مردوں کا پولنگ سٹیشن تھا ۔ 
جس کے دروازے پر ایک پولیس والا تھا اور  اُس نے تلاشی لی ، بوڑھے نے ہاتھ ملا کر شکریہ ادا کیا اور اندر داخل ہو گیا ۔
بائیں ہاتھ پر بنے   کمروں میں پولنگ بوتھ بنے تھے  داخلے کے نشان کے ساتھ  ایک نوجوان فوجی سپاہی  تھا جس کے کالر پر این ایل آئی کے بیج لگے تھے ، اُس نے شناختی کارڈ دیکھ کر پہلے کمرے کی طرف اشارہ کیا ، پہلے کمرے میں داخل ہو    کارڈ دکھایا اُس نے ساتھ والے کمرے میں جانے کا کہا ۔  

ساتھ والے کمرے میں جاکر کارڈ دکھایا  ، تو نوجوان نے پولنگ ایجنٹ کی طرف جانے کا کہا ، واپس مڑا  تو پولنگ ایجنٹوں میں بدرالاسلام  اور اظہر بھٹی بیٹھے دکھائی دیئے ، خوشی ہوئی دونوں سے گلے ملا ، بدر نے تصدیق کی کہ ووٹر  اصلی ہے ۔  
الیکشن کمیشن کے نامزد پولنگ آفیسر نے بیلٹ پیپر اور مہر  دی ۔
بوڑھے نے ایک کونے میں بنے   بوتھ پرگیا ۔ شاہد خاقان عباسی کے نام پر مہر لگا ئی  ۔ بیلٹ پیپر کو فولڈ کیا ، بیلٹ بکس میں ڈالا ، گھڑی میں وقت دیکھا ، 8:27   بس اتنا وقت لگا ۔

اور سب سے ہاتھ ملایا کونے میں بیٹھے ہوئے ، بلوچ رجمنٹ سے ہاتھ ملایا  جس کا جواب اُس نے بے دلی سے دیا ۔
بوڑھے نے اُس کی کالر کو دیکھتے ہوئے پوچھا
" بلوچ رجمنٹ "  ؟
" جی " اُس نے اُکتائے لہجے میں جواب دیا ، بوڑھا سب کو سلام کرکے واپس نکل آیا۔

کوریڈور میں  ، کھڑے سپاہی سے ہاتھ ملایا اور پوچھا ،
" نوجوان، کون سی این ایل آئی  ہے  ؟"
اُس کے چہرے پر حیرت کی ایک لہر آئی ۔ آٹومیٹک جواب دیا :
" سر فرسٹ این ایل آئی "
"ہیروز کی یونٹ ،
میں توپخانہ ،  شاباش ۔ خوشی ہوئی مل کر"
"شکریہ سر " نوجوان  بولا
بوڑھے نے اُس کا کندھا تھپتھپایا اور گیٹ کی طرف بڑھ گیا ۔ گھوم کر سٹریٹ 51 کی طرف آیا ، بڑھیا محلے کے 5 عورتوں سے گپ لگا رہی تھی ۔ مجھے دیکھا ۔
"بہت جلدی ، ووٹ ڈال آئے " وہ بولی ۔
" جی لوگ سو کراُٹھیں گے تو رش ہو گا " میں بولا 

" اب کیا کریں؟ " بڑھیا نے پوچھا 
" گھر چلیں " میں کہا ۔
" عالی کی طرف چلیں " بڑھیا نے رائے دی ۔
" لودھی صبح کیسے اُٹھ سکتے ہیں ؟ خوا مخواہ تنگ کریں گے " میں نے جواب دیا
" بات تو ٹھیک ہے ، چلیں سیور لیتے ہوئے گھر چلتے ہیں " بڑھا نے کہا 

دونوں بلیو ایریا کی طرف راونہ ہوگئے ، وہاں پہنچے تو معلوم ہوا ساڑھے دس بجے سروس شروع ہو گی اور ابھی تو نو بجے ہیں  ۔ 
چنانچہ اکا دُکا گاڑیوں   کے ساتھ  فیض آباد سے مری روڈ کی طرف مڑے اور سنسان سڑک پر ہوتے ہوئے ۔ ٹھیک 9:45 پر ڈی ایچ اے -1 میں داخل ہوا ۔
7:45 سے لے کر 9:45 ، کل  53 کلو میٹر کا سفر    اور شاید یہ بوڑھے کی زندگی کا آخری  سفر تھا جو اُس نے
پاکستان کے حسین مستقبل کے لئے کیا ۔ 




خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔