میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 10 جولائی، 2018

خطاط مسجد نبویﷺ - استاد شفیق الزماں

  27 سال سے مسجد نبویﷺ میں خطاطی کے فرائض انجام دینے والا پاکستان کا گوہرِ نایاب جہدِ مسلسل کی داستان ، استاد شفیق الزمان جانئے مسجد نبویﷺ کے درو دیوار اور گنبدوں میں خطاطی کے رموز و اسرار اسلامی فن خطاطی ایک ایسا فن ہے جس کی پذیرائی تمام دنیا میں کی جاتی ہے۔
  ایران،ترکی، مصر، سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک میں اس فن کی ترویج و ترقی کے لئے نہ صرف کئی ادارے قائم ہیں بلکہ حکومتی سطح پر بھی اس کی بھرپور سرپرستی کی جاتی ہے۔ پاکستان بھی اس فن میں پیچھے نہیں اور یہاں سے بھی کئی مایہ ناز خطاط دنیا میں اپنے فن کی دھاک بٹھا چکے ہیں لیکن صد افسوس کہ اس ملک میں اس عظیم فن کے فنکاروں کی قدر دانی کرنے والا کوئی نہیں۔ اور وہ بھی  اسلامی خطاطی جیسے فن کو اپنے خون جگر سے پروان چڑھانے والے افراد کو کوئی  جانتا تک نہیں۔ ایسی ہی ایک مثال استاد شفیق الزماں کی ہے جو آجکل مسجد نبوی کے خطاط ہیں۔ 

آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ سن 1991 میں مسجد نبوی کے خطاط کے انتخاب کے لئے پوری دنیا سے خطاط مدعو کئے گئے اور ان کے درمیان مقابلہ رکھا گیا۔ کیسی سرفرازی و خوش نصیبی کی بات ہے کہ ان تمام میں مقابلہ جیتنے والے پاکستان کے شفیق الزمان ٹھہرے۔ اور جب سے آج تک جناب مسجد نبوی میں خطاطی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ استاد شفیق الزمان اس مقام تک کیسے پہنچے۔ آئیے ذرا مختصراً  ان کی جدوجہد کا جائزہ لیتے ہیں۔
 استاد شفیق الزمان 1956 میں چکلالہ ( راولپنڈی) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد پاکستان ائر فورس میں ملازم تھے۔ بچپن سے ہی آپ کو فنون نقاشی ، مصوری و خطاطی سے دلچسپی تھی۔ دو سال بعد آپ کے والد کا تبادلہ کراچی ہوگیا۔ ابتدائی تعلیم کراچی سے حاصل کی۔ بعد ازاں ذاتی محنت سے فن خطاطی، نقاشی اور مصوری میں ترقی کی منازل طے کرتے گئے۔ 1979 میں علم کی پیاس ان کو مدینہ منورہ لے گئی۔
مدینہ منورہ میں عالم اسلام کے عظیم خطاطوں کے کام کا گہرائ سے مطالعہ کیا۔ آپ اس نتیجے پر پہنچے کہ بیسویں صدی کے خطاطوں میں سب سے معیاری کام استاد حامد الآمدی کا ہے۔ آپ نے استاد حامد کے کام کو اپنا آئیڈیل بنا لیا اور ان کی روش کے مطابق کام کرنے لگے۔ مسلسل محنت، مشاہدے اور تجربے کی بنیاد پر آپ نے انتہائی کم وقت میں حیرت انگیز ترقی کی۔ یہ بات انتہائی حیرت انگیز ہے کہ استاد شفیق نے کبھی بھی کسی استاد کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ نہ کیا۔ بلکہ حامد الآمدی کے انداز کو اپناتے ہوئے یہ بلند مقام حاصل کیا۔

 سعودی عرب میں قیام کے دوران استاد شفیق الزمان کو کئی اعزازات حاصل ہوئے۔
 1986 میں سعودی عرب میں اسلامی خطاطی کی قومی نمائش میں اول انعام حاصل کیا۔
 پاکستان میں 1987 کی ادارہ قومی ثقافت (ICIPICH) کی قومی نمائش منعقدہ لاہور میں آپ کے فن پارے کو دوسرا انعام ملا۔ 
اس کے بعد استنبول میں واقع اسلامی ورثہ کے تحفظ کے کمیشن کی جانب سے منعقدہ تیسرے عالمی مقابلہ خطاطی 1992 میں خط ثلث جلی میں تمام دنیا کے خطاطوں میں دوسرا انعام پایا۔
 استاد شفیق الزمان اور اہل پاکستان کے لئے سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ 1991 سے اب تک ماشااللہ وہ مسجد نبوی ﷺ میں اپنے فن کا نذرانہ پیش کررہے ہیں۔ وہ حضرات جنہیں مسجد نبوی کی زیارت کا شرف حاصل ہوا ہے اس حقیقت سے واقف ہیں کہ مسجد تعمیراتی لحاظ سے تین حصوں میں منقسم ہے۔
 ایک ترکی عہد کی سرخ رنگ کی تعمیر، ، دوسری شاہ سعود کی تعمیر اور تیسری شاہ فہد کی جدید اور عظیم الشان تعمیر۔
 مسجد نبوی کے تمام مقدس مقامات بشمول روضہ رسول ﷺ، ریاض الجنہ، اصحاب صفہ کا چبوترا، ، منبر رسولﷺ اور دیگر مقامات مقدسہ ترکی تعمیر کے اندر موجود ہیں۔
 مسجد کے اس حصے کی تعمیر سلطان عبدالمجیدخان کے دور 1848-1860 کے دوران ہوئی۔ ترکوں نے اس مسجد کی تعمیر میں کس قدر خلوص و احترام کا مظاہرہ کیا اس کا اندازہ اس بات سے لگالیجئے کہ دوران تعمیر اس بات کا اہتمام کیا گیا کہ ہر معمار حافظ قران ہو۔ اس کی بنیاد اس طرح رکھی گئی، کہ اپنا کام شروع کرنے سے پہلے ہر معمار غسل ادا کرتا، دو نوافل پڑھ کر سرکار دو عالم ﷺ پر درود بھیجتا اور پھر پتھر اپنے مقام پر رکھتا۔
 اس دور میں گو کہ تعمیراتی صنعت آج کی طرح ترقی یافتہ نہ تھی لیکن ترکوں نے مسجد کے استحکام اور مضبوطی کے لئے کوئی کسر نہ چھوڑی۔ مسجد کے تمام ستونوں پر مرکب دھات پگھلا کرڈالی گئ تاکہ حرم مصطفوی ﷺ کے دروبام پر گردش زمانہ اثر انداز نہ ہو۔ مسجد کے حسن و جمال کے لئے بھی ترکوں نے انتہائی کوشش کی۔ اس دور کے عظیم ترک خطاط استاد عبداللہ زہدی آفندی کو سطان عبدالمجید خان نے اپنے محل میں مدعو کیا اور مسجد نبی میں خطاطی کرنے کے لئے ھدایت کی۔ سلطان خود بھی فن خطاطی اور اس کے رموز سے آگاہ تھے۔ سلطان نے مسجد میں خطاطی کے لئے 7500 قرش ماہانہ پر استاد عبداللہ کو مامور کیا۔مسجد کے اس حصے میں 260 گنبد ہیں اور اکثر گنبدوں کا محیط تقریباً  15 میٹر ہے۔ ہر گنبد کے اندر خط ثلث میں خطاطی کی گئی ہے۔
عبداللہ زہدی نے برس ہا برس مدینہ میں رہ کر تمام گنبدوں کے علاوہ دیواروں اور درازوں پر ایسا خوبصورت و نفیس کام کیا کہ ڈیڑھ صدی گزر جانے کا باوجود آج بھی نیا معلوم ہوتا ہے۔ جب یہ کام برسوں کی تکمیل کے بعد پایہ تکمیل کو پہنچا تو اس کو دیکھنے والے اس قدر مسحور ہوئے کہ انہوں نے یہ ماننے سے انکار کردیا کہ ایسا کام کوئی انسان بھی کرسکتا ہے۔ لوگ یہی کہتے تھے کہ یہ کام فرشتوں نے کیا ہے۔ البتہ تقریباً ڈیڑھ صدی گزر جانے کے بعدبعض گنبدوں پر خطاطی مدھم پڑ گئی تھی نیز مختلف وقتوں میں متاثرہ آیات پر مختلف خطاطوں نے اپنے قلم سے درستگی کی کوشش کی جن سے اصل حسن برقرار نہ رہ سکا۔

 1991 میں سعودی تعمیراتی کمپنی دلّہ ( DALLAH) کی جانب سے ایک ایسے مقابلے کا انعقاد کیا گیا جس میں ایک ایسے خطاط کا انتخاب کرنا تھا جو نہ صرف متاثرہ حصوں کو درست کرسکے اور عبداللہ زہدی کے قلم سے قلم ملاسکے بلکہ کئی گنبدوں میں بالکل نئی خطاطی کرسکے۔ اس مقابلے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئ۔ جس کی سربراہی استاد حامد الآمدی مرحوم کے مدینہ منورہ میں مقیم شاگرد خطاط احمد ضیاالدین ابراہیم تھے۔ اس مقابلے ،یں بالاتفاق استاد شفیق الزمان کا انتخاب عمل میں آیا۔

 پاکستانیوں کے لئے یہ کس قدر قابل فخر اور اعزاز کی بات ہے کہ دنیا بھر سے درجنوں نامور اور اپنے فن کے ماہرترین خطاطوں میں ایک پاکستانی کا انتخاب اس عظیم الشان اور مقدس کام کے لئے کیا گیا۔ یہ طے کیا گیا کہ اس کام کو استاد شفیق سے بہتر کوئی سرانجام نہیں دے سکتا۔ 
 یہ کام 1991 سے جاری ہے اور اب تک کئی ہزار فٹ خطاطی کی جاچکی ہے۔ اس دوران 1991 سے 1994 تک استاد شفیق الزماں نے پرانے کام کی ترمیم و تجدید کی۔ جبکہ 1994 سے استاد نئے سرے سے گنبدوں میں خطاطی کررہے ہیں۔ اب تک آپ 48 گنبدوں میں بالکل نئی خطاطی کرچکے ہیں۔ استاد شفیق الزمان نے اپنی مہارت اور اجتہادی ذوق سے کام لے کر پرانے کام سے بہتر معیار کا کام پیش کیا ہے۔ پرانی خطاطی میں آپ کو یہ کمزوری نظر آئی کہ گنبدوں میں قرانی آیات کو جہاں چاہا جگہ کے حساب سے روک دیا گیا تھا مگر اب آپ یہ اہتمام کررہے ہیں کہ گنبد خواہ بڑا ہو یا چھوٹا اس کو آیات کے اختتام پر ہی مکمل کیا جارہا ہے۔ اختیار کردہ قرانی آیات چھوٹی بڑی ہیں اس طرح گنبد بھی چھوٹے بڑے ہیں ۔مگر استاد شفیق الزمان ان میں خطاطی اس مہارت سے کررہے ہیں کہ دیکھنے میں یکسانیت اور پڑھنے میں تواتر برقرار رہے۔ کہیں سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ گنبد میں خطاطی بہت گنجان ہوگئی ہے یا کہیں سے جگہ خالی رہ گئی ہے۔ یہ کام انتہائ دقیق اور فن خطاطی میں بے پناہ صلاحیت کا متقاضی تھا ۔جسے الحمدللہ استاد شفیق الزمان بخوبی انتہائی مہارت سے سرانجام دے رہے ہیں۔ اس کام میں کتنی محنت درکار ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگالیجئے کہ ساری رات کی محنت کے بعد محض ایک میٹر کی طوالت کی خطاطی گنبد پر منتقل ہوتی ہے۔
  پہلے ایک مخصوص کاغذ پر استاد شفیق خطاطی کرتے ہیں۔ پھر اس کی سوزنگ کی جاتی ہے یعنی الفاظ کے کناروں پر سوئی سے سوراخ کئے جاتے ہیں۔ پھر مسجد کے متعلقہ حصے پر یہ خطاطی منتقل کی جاتی ہے اور بالآخر برش اور جرمنی کے ساختہ مخصوص رنگوں سے یہ کام مکمل کیا جاتا ہے۔
 مسجد نبوی ﷺ میں ہر تعمیراتی کام رات کو کیا جاتا ہے۔ مدینہ منورہ میں نو تعمیر شدہ مسجد احسان میں بھی استاد شفیق الزمان نے خط ثلث،جلی اور خط کوفی میں اپنے فن کے جوہر دکھائے ہیں۔ کراچی ائرپورٹ کے ٹرمینل 3کی مسجد بخاری میں بھی آپ کا کام خوبصورت خط ثلث جلی میں موجود ہے۔ 
کچھ عرصہ قبل ہی استاد شفیق الزمان نے مسجد نبوی ﷺ کے قدیم اور جدید دروازوں کے ناموں کی خطاطی مکمل کی ہے۔ استاد شفیق ہر سال پاکستان آتے ہیں۔ یہاں ان کی موجودگی سے شائقین خطاطی بھرپور استفادہ اٹھاتے ہیں۔


 قحط الرجال کے اس دور میں اہل پاکستان میں استاد شفیق الزمان جیسا خطاط اور دیگر فنون میں ماہر فنکار موجود ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ اہل وطن اب تک ان کی خدمات سے خاطر خواہ فائدہ نہ اٹھا سکے۔ فائدہ اٹھانا تو درکنار ہمارا میڈیا جو ہر چھوٹے بڑے بھارتی اداکار و اداکارہ کی سالگرہ اور برسی پر ان کے ڈانس اور گانے دکھانے کو اپنا فرض سمجھتا ہے،کو کبھی یہ توفیق نہ ہو سکی کہ استاد شفیق الزمان جیسے یکتہءِ زمانہ شخصیت کے کام اور فن پر کوئی رپورٹ یا دستاویزی فلم پیش کرسکیں۔ گو کہ استاد کا فن اور خدمات کسی تعارف یا پذیرائی کا محتاج نہیں کہ جس کے کام کو نبی کریم ﷺ کی قبولیت حاصل ہو وہ بھلا کہاں کسی دوسرے کی تعریف کا محتاج ہو !
  سچ سچ بتائے گا کہ آپ میں سے کتنے لوگ پاکستان کے اس عظیم الشان سپوت کو جانتے ہیں۔ میری متعلقہ حکومتی اداروں سے اپیل ہے کہ پاکستان میں استاد شفیق الزمان کے نام پر ایک ایسی اکیڈمی یا ادارہ قائم کیا جائے جہاں فن خطاطی، مصوری و نقاشی کی ترویج و تربیت کا اہتمام کیا جاسکے ۔ جہاں نو آموز خطاطوں کی تربیت کا اہتمام ہو تاکہ پاکستان سے مزید استاد شفیق الزمان جیسے گوھر نایاب پیدا ہوسکیں۔ ہر پڑھنے والے سے گزارش ہے کہ اس تحریر کو شئیر کریں تاکہ یہ پیغام پاکستان میں خاص و عوام تک پہنچ سکے۔ اور شاید ہمارا لبرل  میڈیا بھی کچھ سنجیدہ سوچ اپنا سکے۔

 نوٹ: اس تحریر میں شامل استاد شفیق الزماں صاحب کے کام اور حالات زندگی کی تفصیلات استاد صاحب نے مہیا فرمائی ہیں۔ استاد کے فن اور زندگی پر کراچی کے راشد شیخ صاحب نے ایک کتاب میں تعارف کروایا ہے۔

(تحریر ثناء اللہ خان احسن ) 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭مزید پڑھیں ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

دو ( 2) اسلام ۔ غلام جیلانی برق




خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔