میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 19 جولائی، 2018

طوائف کا بیٹا !

  پرویز خٹک نے اپنے کارکنوں سے خطاب میں کہا ِ
" تحریک انصاف کے جھنڈے کے علاوہ دوسرا جھنڈا جو لگا رہے ہیں ، آپ ان کے گھروں پہ جا کر ان سے کہہ دیں کہ یہ جھنڈا لگانے سے بہتر ہے کہ آپ اپنے گھر کی خواتین کا دلال بن کر ان کا چکلہ و رنڈی خانہ چلائے؛

 بے غیرتو! تم نے خٹک قوم کی غیرت خراب کی ہے اس سے بہتر ہے کہ اپنی بیویوں کو چلانا شروع کردو!
 میں جس کے ہاتھ میں پیپلزپارٹی کا جھنڈا دیکھتا ہوں تو سمجھ جاتا ہوں کہ یہ ضرور کسی طوائف کا بیٹا ہوگا ۔ "
 پرویز خٹک صاحب کو شاید بھول گیا ہوگا کہ ایک وقت وہ بھی  پیپلز پارٹی  کا جھنڈا اٹھائے ، پیپلز پارٹی کے جیالے کے طور مرحومہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے۔
کیا پرویز خٹک نے اپنا خاندانی نسب عوام کو بتانے کی کوشش کی ہے ؟



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔