میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 22 جولائی، 2018

جسٹس شوکت صدیقی کے فیصلے !

1.  مشرف کو مُلک میں 2007 میں ایمر جنسی کا نفاذ کرنے پر گرفتار کرنے کا حُکم دیا جبکہ بہادر کمانڈو گرفتاری کے ڈر سے کمرہ عدالت سے بھاگ گیا!
2. 2011 میں سی ڈی اے حکام کو عدالتی حُکم نہ ماننے کے جُرم میں جیل بھجوا دیا!
3. فیس بُک پر توہین آمیز خاکوں کے کیس کی سماعت کرتے ہوۓ پورے مُلک میں فیس بُک کو بند کرنے کا حُکم دیا جس پر فیس بُک حُکام کو مجبور ہوکر پاکستانی حکام کیساتھ تعاون کرنا پڑا اور گستاخانہ مواد ہٹانے کی یقین دہانی کرائی.
4. عمران خان کے دھرنے کو غیر قانونی قرار دے کر اسے ہٹانے کے احکامات جاری کئے!
5. آرمی پریڈ گراؤنڈ کو speech corner. کے نام سے منسوب کرکے جلسے اور تقریروں کے لئے مختص کردیا تاکہ دھرنہ یا جلوس کیوجہ سے اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہریوں کو مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے.
6.  تحریک لبّیک کے فیض آباد دھرنے میں آرمی چیف کے ضامن بننے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ فوج کو سیاسی معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا چاہئے. 

7. مشرف کو گرفتار کرکے پاکستان لانے اور عدالت کے سامنے روبرو پیش کرنے کا حُکم دیا. 

8. زلفی بخاری کا نام واچ لسٹ میں سے نکالنے پر ذمے داران سے جواب طلب کیا اور برہمی کا اظہار کیا کہ قانون سب کے لئے ایک جیسا ہونا چاہئے. 

9. مُلک کی تاریخ میں پہلی بار شوکت صدیقی نے اپنے آپکو سرِ عام احتساب کے لئے پیش کردیا اور کہا کہ مُجھ پر لگنے والے الزامات کا اوپن ٹرائل کیا جاۓ تاکہ سب کو پتہ چل سکے کہ مُجھ پر کیا الزامات ہیں یا میں نے کیا کرپشن کی ہے. 

10. پرائیویٹ سکول مافیا کیخلاف ایکشن لیتے ہوۓ انکو چھٹیوں کے دوران بھاری فیسیں لینے سے منع کیا تو چیف جسٹس ثاقب نے صدیقی صاحب کے اس فیصلے کو منسوخ کردیا. 

11. چیف جسٹس ثاقب نثار کے misconduct اور اختیارات سے تجاوز کرنے بارے درخواستوں کو قبول کیا!

12.عدلیہ کو غیر سیاسی کردار ادا کرنے کی نصیحت کی اور اپنی تقریروں میں انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے پر زور دیا. 

13. خفیہ ایجینسیوں کی عدالتی معاملات میں مداخلت کی مخالفت کی اور اسکے خلاف بھرپور آواز اُٹھائی! 

14. آئینی اداروں کو اپنی اپنی حدود کے اندر رہ کر آئین کے مطابق کام کرنے کا حکم دیا. 

15.راولپنڈی اور اسلام آباد کے مصروف اور قابل ترین وکیل ہونے کے باوجود منصف کے فرائض انجام دینے کو ایک عظیم فریضہ سمجھا! 

16. بار کونسل کے سیکریٹری, صدر اور چئیر مین جیسے بڑے عُہدے رکھنے کے باوجود اُن پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں اور نہ ہی چیف جسٹس ثاقب نثار کی طرح انہوں نے اپنے ضمیر کا سودا کرکے پی سی او کے تحت کسی ڈکٹیٹر سے حلف لیا! 
 

17: ختم نبوت کے حلف نامے میں ترمیم کی بابت راجا ظفر الحق کی رپورٹ کو سامنے لا کر تین منافقوں کو بے نقاب کیا اور عوام کو اس قبیح فعل کے حقائق بتاۓ.

18.سول سروس میں آرمی کا ڈائریکٹ کوٹہ ختم کرنے کا حُکم دیا تاکہ پولیس, اور انتظامیہ جیسے اہم عہدوں میں سے فوج کی براہِ راست مداخلت کو روکا جاسکے.
 
جسٹس شوکت صدیقی پر لگنے والے الزامات آخر ہیں کیا؟  

1. وہ  سی ڈی اے  حکام جن کو شوکت صدیقی نے عدالت کا حکم نا ماننے پر جیل میں ڈالا اُسی سی ڈی اے کے حکام نے بعد میں اُن پر اپنے سرکاری گھر کی آرائش کے لئے دباؤ ڈالنے کا الزام لگایا.

2.  شوکت صدیقی  نے فیض آباد دھرنے میں خلائی مخلوق کے کردار کو تنقید کا نشانہ بنا کر اپنے اختیارات سے تجاوز کیا.

3.  شوکت صدیقی  نے اسلام آباد بار کونسل میں تقریر کرتے ہوۓ غیر جانب داری کا مظاہرہ کیا! 

ایک واحد شخص جو سب سے اُلجھ کر حق کی بات کررہا ہے  جس کی محض اس جہ سے کردارکشی کی جارہی ہے کہ وہ   مُلک کی بہتری اور بھلائی کی بات کررہا ہے. جسٹس شوکت صدیقی صاحب موجودہ دور کے سب سے قابل اور ایماندار جج ہیں جنکے فیصلے پڑھ کر واقعی اُنکے مُلک و مِلّت کیساتھ خلوس کا گمان ہوتا ہے........ 


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔