میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 14 جولائی، 2018

ماروں گھٹنا پھونکے آنکھ !

 مہاجر زادہ صاحب !
خدا کے لئے بتائیے یہ سب کیا ہے ؟
کراچی سے خیبر تک انسانی خون بہہ رہا ہے مگر انصاف دینے والا ڈیم بنا رہا ہے اور قاتل کو پکڑنے والا مذمت کے بین بجا رہا ہے!

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
نوجوان :
فوج میں اگر آپ کو مکینیکل ٹرانسپورٹ آفیسر کا کورس کروایا جائے ، تو کورس سے واپسی کے بعد آپ کو اینیمل ٹرانسپورٹ آفیسر لگا دیا جائے گا ۔
 یہی وجہ ہے کہ ہم فوجی " جیک آف آل " ہوتے ہیں ۔
 لہذا پنگا نہ لینا ۔
 بچپن کا کوئی جرم ڈھونڈھ لیا جائے گا !
 اگر کوئی نہ ملا تو جے آئی ٹی بنا کر سڑک پر سکول کے سامنے ننگے پھرنے کے الزام میں گرفتار کروا دیا جائے گا ۔
آپ بے شک چلاتے رہیں ، کہ میری ماں کا قصور تھا ، جب مجھے نہلاتی تو میں پانی کے ڈر سے سڑک پر بھاگ جاتا تھا ۔
 یہ اور بات کہ سڑک کے دوسری طرف لڑکیوں کا سکول تھا  اور میری عمر صرف دو سال تھی  !

اب رہی بات عدل  و انصاف کی ، تو ججوں کی بنیاد وکیلوں سے اُٹھتی ہے ۔ آپ کا معلوم نہیں  ، مہاجرزادہ  کا کافی تجربہ ہے ۔ آپ صرف ایک بار مظلوم صورت بنا کراُس علاقے میں چلے جائیں جہاں کالا کوٹ پہننے والی مخلوق ،  بنچوں پر ، تھڑوں پر یا ایک بازو ٹوٹی ہوئی کرسی پر  بیٹھتی ہے ۔  
پھر باقی رہے نام اللہ کا !


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔