میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 26 جولائی، 2018

الیکشن میں دھاندلی کیسے ہوتی ہے ؟


1. جب الیکشن کا عمل مکمل ہو جاتا ہے تو ووٹوں کی گنتی کی جاتی ہے
2. ہر امیدوار کے حاصل کردہ ووٹوں کی فہرست تیار کی جاتی ہے اسے فارم 45 کہا جاتا ہے ، اس پر ایجنٹوں کے دستخط کروا لئے جاتے ہیں
3. تمام امیدواروں کے نمایندگوں کو اس فارم کی کاپی دی جاتی ہے اور اس پر دستخط لئے جاتے ہیں
4. اس کا ریکارڈ الیکشن کمشن کے مرکزی دفتر میں بھیج دیا جاتا ہے ، اور میڈیا پر اس کا اعلان کر دیا جاتا ہے ، اسے منصفانہ الیکشن کہتے ہیں۔

اب یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ الیکشن میں دھاندلی کیسے ہوتی ہے؟

1. الیکشن کا عمل مکمل ہونے کے بعد ووٹوں گنتی کی تفصیل کو ایک سادہ کاغذ پر کاپی کر کے امیدواروں کے ایجنٹوں کو دے دیا جاتا ہے۔
2. پھر ایجنٹوں کو کمرے سے باہر نکال دیا جاتا ہے ۔
3. اس کے بعد فارم 45 سرکاری ہدایت کے مطابق تیار کیا جاتا ہے ، جسے اقتدار میں لانا ہوتا ہے اس کے ووٹوں کی تعداد درج کر دی جاتی ہے۔
4. میڈیا پر اس کی کامیابی کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔
5. امیدوار جب اس کو عدالت میں چیلنج کرتا ہے ، تو عدالت اس سے فارم- 45 کی اصل کاپی مانگتی ہے ۔  جو اس کے پاس موجود نہیں ہوتی۔

اس طرح اس کا مقدمہ کھڈے لائن لگا کے مسترد کر دیا جاتا ہے ، اور دھاندلی ثابت نہیں ہوتی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 فارم -45 ، جو بھرا نہ جاسکا

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔